Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نیا جال لائے پرانے شکاری( تحریر۔۔۔قاسم علی رضا )

 Posted on: 10/24/2013   Views:545
نیا جال لائے پرانے شکاری تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ  پاکستانی دنیا کے کسی بھی خطے میں آباد ہوں وہ محب وطن، محنتی ، جفاکش ،تعلیم یافتہ، باشعور اور حوصلہ مند ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے دل بھی وطن عزیز کیلئے دھڑکتے ہیں، وہ پاکستان کو زندگی کے ہرشعبہ میں ترقی کرتادیکھنا چاہتے ہیں ،پاکستان کوتعلیم یافتہ اورملکی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔لیکن کیا صرف پاکستا ن کے حکمرانوں کی چکنی چپڑی باتوں ، کھوکھلے نعروں اورپاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم محب وطن پاکستانیوں کے محض چاہنے سے وطن عزیز کو غیرملکی قرضوں، امداداور خیرات سے نجات دلاکراس کے پیروں پر کھڑا کیاجاسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ سرورکائنات حضرت محمدمصطفی ؐکا فرمان ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتاہے ، ہمارے حکمرانوں کے رویوں اور عمل وکردار نے پاکستانی قوم کے اعتماد کو بری طرح مجروح کردیا ہے ۔ ماضی میں میاں نواز شریف نے پاکستان کی معیشت کی بہتری کیلئے ’’قرض اتارو۔۔۔ملک سنوارو‘‘ کا نعرہ لگایا، سرکاری وسائل سے اس نعرے کی اشتہاری مہم چلائی ۔پھرکیا تھا ہرپاکستانی اپنی بساط کے مطابق پاکستان سنوارنے کی جدوجہد میں مصروف ہوگیا ۔ ملکی معیشت کی بہتری کاخواب دکھانے کیلئے حکمرانوں کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو فارن کرنسی اکاؤنٹ میں زرمبادلہ جمع کرانے کی اپیل کی گئی جس پر دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں نے اعتماد کااظہار کرتے ہوئے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور اپنے خون پسینے کی کمائی زرمبادلہ کی صورت پاکستان بھیجی لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا اور ہمارے حکمرانوں کے قول وفعل میں تضاد، پوری دنیا کے سامنے آشکارہوگیا۔ اب ایک مرتبہ نیا جال لائے پرانے شکاری، کے مصداق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں سے قومی معیشت کی بہتری کیلئے تعاون کی اپیل کی جارہی ہے ۔گزشتہ دنوں وزیراعظم محمد نوا ز شریف نے اپنے امریکی دورے کے دوران واشنگٹن میں پاکستانی بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ، معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کیلئے ترغیبات کے پیکج کاجلد اعلان کرے گی ،انہوں نے گڈانی توانائی پارک کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ پاکستانی نژاد امریکیوں کو آگے بڑھنا چاہیے ، پاکستان میں سرمایہ کاری کرکے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنا تمام سرمایہ ، ایک ایک پائی سمیٹ کر پاکستان لے آئیں ، اپنے وطن میں سرمایہ کاری کریں اورملک کی معیشت کو مضبوط ومستحکم بنانے میں تعاون کریں۔کیا ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانی نہیں جانتے کہ وزیراعظم کے صاحبزادے کس ملک میں کاروبار کررہے ہیں؟موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کا سرمایہ کس ملک میں جمع ہے ؟ قوم کو تلقین کرنے سے پہلے حکمراں،اپنا کاروبار اور سرمایہ پاکستان منتقل کرنے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں؟کیا یہ کھلی منافقت نہیں ہے کہ ہمارے حکمراں خود اپنے ملک میں سرمایہ کاری سے اجتناب کررہے ہیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو تلقین فرمارہے ہیں کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ قوم نے ہمیشہ پاکستان کو مضبوط ومستحکم بنانے کیلئے قربانیاں دی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستانیوں کو ایسے حکمراں اور سیاستداں میسر آئے ہیں جوکہ حکمرانی کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھنے کے بجائے ایک کاروبار سمجھتے ہیں ، انتخابات میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کرکے اربوں کماتے ہیں ، قرضے لیکرمعاف کراتے ہیں ، قومی خزانے کے دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں اورپھر لوٹی گئی قومی دولت بیرون ملک لے جاتے ہیں جس کا نتیجہ پاکستان کے 98 فیصد عوام کوغربت، مہنگائی ، بے روزگاری اور معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ؐ کے اسوہ حسنہ پر چلتے ہوئے محض دوسروں کو تلقین نہ کریں بلکہ اپنے درس پر خود بھی عمل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ رفاقتوں کے نئے خواب خوشنما ہیں مگر گزرچکا ہے تیرے اعتبار کا موسم