Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایماندار سیاستدان تحریر ۔ ارشد حسین

 Posted on: 10/10/2013   Views:553
ایماندار سیاستدان
 تحریر ۔ ارشد حسین  ایک سرکاری ادار ے میں چند افسران اپنے فرائض انجام دے رہے تھے ایک دن علم ہو اکہ ان میں ایک ایماندار، سچا اور ادارے سے مخلص افسر ہے باقی ادارے کو دیمک کی مانند چاٹ رہے ہیں کیونکہ یہ لوک رشوت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہتے تھے۔ ایماندار ا فسران غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اور رشوت کے لین دین والے افسران کو ایسی حرکات کرنے سے روکنے کی کوشش کر تا تھا جس کی وجہ سے غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث افسران پہلے تواس ایماندار افسر کو دھمکیاں دیتے رہے کہ تم اپنا کام کرو اور ہمیں ہمارا کام کرنے دو ورنہ ہم تمہارا ٹرانسفر کر ادیں گے اور مختلف الزامات عائد کر تے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے جس پر ایماندار افسر نے ان کی ایک نہ سنی اور وہ تمام غیر قانونی سرگرمیوں اور رشوت ستانی میں ملوث افسران اور ورکرز کی آنکھ میں آنکھ ڈال کراور سینہ تان کر ان کے خلاف باقاعدہ ڈٹ گیا ااور ان کی جانب سے دی گئی کسی بھی دھمکی کی پروا کیے بغیر اس جدوجہد میں لگ گیا کہ وہ مذکورہ ادارے کو ان جیسے مفاد پرست رشوت ستانی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر سے نجات دلائے گاتاکہ ادارہ کو دیگر ترقی یافتہ اداروں میں شامل کر سکے ۔ اس ایماندار اور سچے افسر کی جانب سے حق داروں کو حق دلانے کے جذبے اور ایمانداری کو دیکھ کر ادارے کے دیگر افسران اور ورکرز بھی اس کے ہمراہ ہو گئے یوں اس کی جدوجہد نہ صرف تیزسے تیزتر ہوگئی بلکہ ادارے کے ان افسران جور شوت ستانی ، بدعنوانی ، غیر قانونی اور ناجائز کاموں پر عمل پیرا تھے کی راتوں کی نیندیں اور دن کا سکون غارت ہو تا دکھائی دے رہا تھا کیونکہ ایماندار افسر اور اسکے ساتھ ادارے کے دیگر ورکرز کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک اس بات کی غمازی کررہی تھی کہ اب وہ قت دورنہیں جب اس ادارے کے لٹیرے افسران اوران کے ساتھ شامل ہونے والے ورکرز کو ادارے سے باہر نکال کھڑا کر دیا جائیگا ، لہٰذا اس صورتحال کو بھاپنتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کر لیا کہ کسی بھی صورت اس ایماندارافسر کے خلاف مہم چلائی جائے اور ادارے میں یہ ثابت کیا جائے کہ جس نے ایمانداری کا لباد ہ اوڑھا ہوا ہے وہ دراصل خود کرپٹ اور بے ایمان افسر ہے حتی کہ اسکے کریکٹر کو بھی مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہوا بھی کچھ اسطرح کہ کرپٹ اور بدا عنوان افسران نے پہلے تو ادارے کے کچھ ورکروں کے چھوٹے موٹے کام کرواکراپنی جانب راغب کیا اور انہی کے ذریعے ایماندار افسر کے خلاف باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ مہم چلائی جس میں اس کیخلاف انگنت بہتان تراشیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ صورتحال یہ تھی کہ ادارے کی جو چھوٹی چھوٹی تنظمیں تھیں وہ بھی ایماندار افسر کے خلاف ہو گئیں حتیٰ کہ یہ بھی بہتان تراشیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے لگ گئیں۔ جبکہ اس ادارے کو چار چارچاند لگانے میں اس ایماندار افسر اور ان کے ساتھ دیگر ورکرز کاا ہم کر دار رہا یہی وجہ تھی کہ نہ صرف پورے ادارے میں اس افسر کی دھوم تھی بلکہ دوسرے اداروں کے ورکرز کی بھی یہی خواہش ہونے لگی کہ کاش یہی ایماندار افسر ان کے اداروں کے حقوق سے محروم اور ظلم و زیادتیوں کے شکار ورکرز کے حقوق کے حصول کیلئے بھی جد وجہد کرے۔ آہستہ آہستہ صورتحال کچھ اس طرح کر دی گئی کہ غیر قانونی سر گرمیوں اور بد عنوانی میں ملوث افسران ایماندار افسر کے خلاف بہتان تراشی کے ساتھ ساتھ نہ صرف اسے تشددکا نشانہ بنانے لگے بلکہ اسکو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے منظم ہوگئے بالآخر یہ سازشی عناصر اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوئے اور ایماندار افسر کوادارے سے نکال باہر کھڑ اکیا۔ اس افسرکا ادارے سے باہر نکلنا تھا تاکہ ادارے کا بھٹہ بیٹھ گیا ۔ تباہی بر بادی اس کا مقدر بن گیا تمام ورکرز بے یار مددگار ہونے لگے اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو گیا کیونکہ کرپٹ اور بد عنوانی میں ملوث
افسران کا مکمل طور پر اس ادارے پر قبضہ تھا وروہ اپنی من مانی کررہے تھے جو ادارہ ترقی کی جانب گامزن تھا وہ تقریبا تاریکی میں ڈوب گیا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال اس ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کے ساتھ پیدا کی جارہی ہے اور انہیں بھی ایک سازش اور منصوبہ بندی کے تحت نہ صرف دیوار سے بلکہ سیاسی میدان سے باہر نکالنے کا گھناؤنا عمل کیا جارہاہے ۔ ایم کیوایم کو اس کی ایمانداری ، دیانتداری کی سزادی جاری ہے کیونکہ جب جب ایم کیوایم کو مو قع ملا اس نے عوام کی خدمت کی ۔ کراچی حیدر آباد، سمیت سندھ بلکہ ملک بھر کے عوام چاہے وہ سیلاب ، بارش و طوفان یا پھر ملک میںآنے والے زلزلے کے متاثرین ہوں بلارنگ ،نسل و زبان ان کی دل کھول کر خدمت کی جبکہ متحدہ نے ملک کی بقاء و خوشحال ، ترقی اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ حقوق سے محروم و محکوم عوام کے حقوق کے حصول کیلئے ہر سطح پر نہ صرف آواز بلند کی بلکہ عوام کے مسائل بھی حل کئے۔ جس طرح سے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف مورچہ لگا یا ہوا ہے جس میں میڈیا کے چند ضمیر فروش بھی شامل ہیں اور وہ قلم کی حرمت کو بری طرح پامال کرتے ہوئے الطاف حسین کے خلاف عالمی سازشوں میں بھی مصروف دکھائی دے رہے ہیں ۔اس سے واضح ہو تاہے کہ وہ متحدہ کے وجود کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسکی وجہ شاید یہی ہے کہ اس جماعت نے ماضی میں ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مسلسل حکمرانی کے سلسلے کو نہ صرف روکا بلکہ ہمیشہ کیلئے انہیں اقتدار سے محروم کر دیا ہے جوملک کی دولت کو لوٹتی رہی۔ جس طرح ملک کی چھوٹی بڑی سیاسی ومذہبی جماعتیں متحدہ کی مخالفت کررہی ہیں اور اسے دہشتگرد قاتل قرار دیکر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش رہی ہیں کیا ان کا یہ عمل درست ہے ؟ جبکہ عوام بخوبی وقف ہیں کہ ماضی میں یہی جماعتیں ایک دوسرے کو مغلظات اور بہتان تراشی عائد کر تی رہی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہو تاہے کہ ان جماعتوں اور چند ضمیر فروش صحافیوں کی جانب سے اگر یہ روایت ڈالی جارہی ہے تو آج متحدہ تو کل دوسری جماعت بھی نشانہ بن سکتی ہے اور یہ سلسلہ یقیناًملک کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے لہٰذا متحدہ کو دیوار سے لگانے اور اسے سیاسی میدان سے باہر کرنے والے اچھی طرح سوچ سمجھ لیں کہ ان کا یہ اقدام ملک کو کس طرف لے جارہاہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک کے سچے اور خیر خواہ سیاست داں کے ساتھ متعصبانہ روئیے پر نہ صرف پچھتانا پڑے بلکہ ان کے اس عمل سے سرکاری ادارے کی مانند خد انخواستہ ملک کا بھٹہ بھی نہ بیٹھ جائے کیونکہ واحدسیاسی جماعت ایم کیوایم اور اسکے قائد الطاف حسین ہی ملک کے خیرخواہ اور ایماندار سیاست دان دکھائی دے رہے ہیں جو اس ملک کو نہ صرف خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ اسے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر ناچا ہتے ہیں جبکہ انہوں نے مورثی سیاست سے بھی اپنی جماعت کو دور رکھا ہواہے ا اور نہ ہی وہ خود کسی عہدے پر فائز ہونا چاہتے ہیں جن کی مثال انہوں نے کسی بھی انتخابات میں حصہ نہ لیکر قائم کی ہے جبکہ اپنے کسی رشتہ دار کو بھی نہ وزیر، ایم این اے، ایم پی اے ، سینیٹر، ناظم یا کسی اہم منصب پر پہچانے کی بات کی ۔ ان کے اس عمل سے واضح ہو تاہے کہ اگر ملک کا کوئی خیر خواہ یا اس میں ایماندار سیاسی جماعت یا لیڈر ہے تو صرف ایم کیوایم اور اس کے قائد الطاف حسین ہی ہیں۔