Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اپنوں کے زخم پر نمک اور کشمیریوں کے زخم پر مرہم

 Posted on: 8/5/2016 1   Views:148
اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کے بھارت کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کو روکنے کیلیے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ کر انسانی حقوق کو پامال کرہا ہے۔ کشمری عوام کی خواہشات اور امنگوں کو بھارت طاقت کے بلبوتے پر کچل رہا ہے ۔ ہر وہ شخص جو درد انساسیت رکھتا ہے اسے بھارت کے اس غیرانسانی عمل کی مذمت کرنی چاہیے نہ صرف بلکہ اس پر اپنی آواز کو بھی بلند کرنا چاہیے ۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں اگر انسانیت کا قتل اور تذلیل ہو ، انسانی حقوق کی پامالی ہو تو ہمیں تمام مفادات کسی بھی قسم کی مذہبی ، نسلی ، عقائد کی تفریق سے بالاتر ہوکر اس عمل کی مذمت کرنی چاہیے اوراس انسانیت سوز عمل کی روک تھام کے لیے اپنا کردار بخوبی ادا کرنا چاہیے۔ 
وہ کہتے ہیں نہ کہ معاشرتی تبدیلی یا نظام کی تبدیلی سے پہلے انسان کو خود پہلے اپنی اصلاح کرنی چاہیے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کے جس معاشرتی اور فرسودہ نظام کی تبدیلی کا وہ خواہش مند ہے ، کیا  وہ خود معاشرے کی ان تمام برائیوں سے پاک ہے کہ جس کے خلاف وہ لڑنے کا اعادہ کیے ہوئے ہے ۔ معاشرے میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم اور حقوق سے محروم طبقات کے لیے آواز ضرور اٹھائیے انکے لیے جدوجہد کیجیے مگر! حق کا الم تھامنے سے پہلے ایک نگاہ اپنے گریبان میں بھی دوڑائیے کہ آیا کہیں خود کے ہاتھ کسی کے ناحق خون سے تو نہیں رنگے ، خود کسی مظلوم پر مظالم ڈھانے میں ملوث تو نہیں ۔ اگر ایسا ہے تو آپکی ہر آواز بےمعنی اور منافقت پر مبنی ہوگی آپکی ہر کوشش ناکام ہوگی کیونکہ پھر لوگ آپ سے سوالات کریں گے کے معاشرتی تبدیلی کا بیڑہ اٹھانے سے پہلے اپنی ذاتی زندگی میں تبدیلی لائیے ۔ لہٰذا یہ طے ہے کے اپنوں کے زخم پر نمک چھڑک کر دوسروں کے زخم پر مرہم رکھنے سےکوئی پارسہ اور خدائی فوجدار نہیں بن سکتا ۔ اگر دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے تو پہلے اپنوں کو دییے گئے زخموں کا مداوا کیجیے ، انکی محرومیوں کا ازالہ کیجیے ۔ جب اپنوں کے زخم بھر جائیں تو پھر دنیا کے کسی بھی کونے میں انسانیت کے قتل کے خلاف آپکی آواز مزید طاقتور اور موثر ثابت ہوگی ۔ پھر آپ سے کوئی آپکی ذات سے متعلق سوال نہیں کریگا اور نہ ہی آپکی جدوجہد میں کوئی رکاوٹ بننے کی کوئی کوشش کرے گا ۔
بدقسمتی سے پاکستان بھی کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا ہے ۔ ملک میں سیاسی کارکنان اور رہنماوٴں کے بڑھتے ہوئے ماورائے عدالت قتل اور دوران حراست ان پر وحشیانہ تشدد انسانیت کی تذلیل کے لیے کافی ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان اور انٹرنیشنل انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
http://nation.com.pk/featured/15-Jul-2016/342-human-rights-violation-so-far پاکستان کشمیریوں پر بھارت کے انسانیت سوز مظالم کے خلاف اپنی بھرپور آواز اٹھا رہا ہے ۔ حالیہ کچھ دن پہلے حزب المجاہدین جسے بھارت ، امریکہ اور کئی یورپی ممالک دہشتگرد تنظیم قرار دے چکے ہیں اس تنظیم کے ایک مجاہد کی موت کو پاکستان  ماورائے عدالت قتل قرار دے کر بھارت سے اسکا حساب مانگ رہا ہے ۔ لیکن خود پاکستان میں بلوچستان کے بلوچ کراچی کے مہاجر سینکڑوں ماورائے عدالت قتل کا حساب مانگ رہے ہیں تو اس پر کوئی لب کشائی پر بھی آمادہ نہیں ۔
یہاں بلوچستان میں اجتماعی قبریں دریافت ہوتی ہیں بلوچ جوانوں کی گولیوں سے چھلنی نعشیں تسلسل کے ساتھ بلوچستان کے مختلف شہروں سے ملتی ہیں ، عقیدے کے بنیاد پر نہتے ہزارہ قوم کے مظلومین کو بم دھماکوں سے کچل دیا جاتا ہے ،محض شیعہ ہونے کی بنیاد پر آج تک ہزاروں انسان دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیے گئے ، کراچی کے بیٹوں کو سرکاری عقوبت خانوں میں درندگی کا نشانہ بناکر انکی نعشیں سڑکوں اور چوراہوں پر پھینک دی جاتی ہیں ۔ مگر کوئی ان سے ہمدردی کے لیے یوم سیاہ نہیں  مناتا ، کوئی کراچی اور بلوچستان کی ماوُں کی گودیں اجاڑنے والوں سے بازپرس نہیں کرتا انکے ناحق خون کا حساب نہیں مانگتا ؟ ہاں اگر یہ ظلم بھارت کشمیریوں پر کرے تو اپنے ملک کی رعایا پر ہونے والے مظالم پر خاموشی کا روزہ رکھنے والوں کی زبانیں بھی چلنے لگ جاتی ہیں ، اور وہ بھارت سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کا حساب مانگتے ہیں ۔ کیا یہ ہے ہمارے ملک کا انصاف اور توازن ؟؟؟ گذشتہ تین سالوں سے جاری کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکنان لاپتہ ہوئے جنکی لاپتہ ہونے کی درخواستیں عدالت میں دائر ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں نہ ہی کوئی بازیاب ہوسکا ۔ کئی کارکنان ماورائے عدالت قتل ہوئے فاروق ستار کے کورڈینیٹر آفتاب احمد کو بھی رینجرز کی حراست میں قتل کیا گیا جب انکی نعش سامنے آئی تو جسم پر اس قسم کے تشدد کے نشانات تھے کہ انسانیت بھی شرماجائے ۔ لیکن اس پر اٹھنے والے سوالات بھی آرمی چیف کے انکوائری کے اعلان کے ساتھ دفن ہوگئے ۔رینجرز اختیارات سے متعلق تو ہر اینکر پروگرام بھی کریگا میٹینگز بھی ہونگی اعلیٰ سطح کے اجلاس بھی ہونگے لیکن رینجرز کے غیر انسانی عمل پر کوئی دو لفظ بولنے پر بھی آمادہ نہیں ۔ ان انسانیت سوزمظالم کے ساتھ بھارتی مظالم پر آواز اٹھانا محض منافقت کے سوا کچھ نہیں ۔ مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے بیان جاری کیا کہ پاکستان کو برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل پر تشویش ہے چلیں ہونی بھی چاہیے لیکن اگر جواب میں بھارت یہ سوال کردے کہ سرتاج عزیز صاحب رینجرز کے ہاتھوں ایم کیو ایم کے کارکن آفتاب احمد کے ماورائے عدالت قتل کا کیا بنا جس پر تشدد رینجرز تشدد تسلیم بھی کرچکی ہے تو کیاجواب دے پائیں گے مشیر خارجہ صاحب اسکا ؟؟ کیا ہزارہ قوم ، بلوچ نوجوانوں ، آفتاب احمد ، خرم ذکی ، اور کراچی کے سینکڑوں ماورائے عدالت قتل ہونے والے سینکڑوں ہی لاپتہ ہونے والوں کا خون کشمیری عوام سے زیادہ سستا ہے ؟؟  کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم پر بےشک آواز اٹھائیے لیکن اپنے ملک میں لگی آگ کو بھی بجھائیے اپنوں کے زخموں پر بھی مرہم رکھیے انکے ساتھ انصاف کیجیے ۔ کشمیر کے زخم بھرنے کے چکر میں اپنوں کے زخم پر مزید نمک مت چھڑکیں بلکہ زخم پر مرہم رکھ کر اسے مزید گہرا ہونے سے بچالیجیے