Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نیشنل ایکشن پلان

 Posted on: 8/5/2016 1   Views:111
گزشتہدنوں لاڑکانہ میں رینجرز جیسے بااثر ادارے کے افسر و جوانوں نے ایک مطلوب ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا، اسکی اطلاع ملتے ہی علاقے کے ایک بااثر شخص نے اپنی زاتی فوج کے ساتھ رینجرز کا گھیراؤ کر لیا، نہ صرف ان اہلکاروں کو مارا پیٹا گیا بلکہ ان کا اسلحہ چهین کر انہیں تھانے میں بند کردیا گیا.
-
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی رینجرز کے اعلیٰ حکام نے اپنے جوانوں کو حراست سے نکلوایا اور احتجاج کر کے کراچی کا رخ کیا . . . . اس واقعہ نے . . . مجھے . . . بہت کچھ سوچنے پر . . . . مجبور کر دیا ہے.
-
فرض کریں کہ یہ واقعہ لاڑکانہ میں نہیں کراچی میں ہوتا ہے، بہادر رینجرز اہلکار "را ایجنٹس" کے مرکز 90 پر چھاپہ مارتے ہیں، بلکہ رہنے دیں اس سے آگے تو فرض بھی نہیں ہورہا ہے. ......
-
چلیے کسی اور علاقے کو فرض کرتے ہیں، فرض کریں کہ کورنگی کے ایک گھر میں رینجرز چھاپہ مار کر سوئے ہوئے کسی معصوم بیگناہ لڑکے کو گرفتار کر کے لئے جارہی ہوتی اس کے بھائی، باپ، یا محلے میں رہنے والے اس کے دوست رینجرز کا راستہ روکتے، احتجاج یا سوال کرتے کہ ہمارے دوست، بھائی، بیٹے کو کہاں لے جارہے ہو؟
-
فرض کریں کہ رینجرز کے کسی افسر کا بهائی کو مارتا ہاتھ دوسرا بھائی پکڑ لیتا، یا ماں بہن کی گالیاں دیتے سپاہی کو دھکا دے کر پیچھے کردیتا تو ان جوانوں کا ردعمل کیا ہوتا، کیا وہ اس بیگناہ لڑکے کو چھوڑ دیتے؟ کیا وہ وہاں سے واپس آجاتے؟
-
جی نہیں
ایسا ہرگز نہیں ہوتا. ..........
-
ان غیر مسلح جوش میں بھرے بهائی، دوست یا باپ کی ایسی گستاخی ناقابل معافی جرم ہوتی، اس جرم کی پاداش میں ان سب کو بھی انکے بهائی، دوست کے ساتھ ہی موبائل میں دھکیل دیا جاتا، جسمانی تشدد تو بونس ہوتا،
-
اگر صاحب کا وقار زیادہ مجروح ہوتا تو پوائنٹ بلینک رینج پر فائرنگ بھی کی جا سکتی ہے، پورے ملک کا میڈیا، تمام اینکرز اچهل اچهل کر، منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے اس ایک سیاسی جماعت کی دھجیاں بکھیر رہے ہوتے جس کے ہمدردوں کے هاتهوں ایک مقدس ادارے کی عزت و وقار کو خطرہ لاحق ہوا تھا.
-
اگر اس دوران
صاحب لوگوں کی فائرنگ کے نتیجے میں
دو چار افراد ہلاک بھی ہو جاتے تو ان کو بھی
دہشت گرد، ٹارگٹ کلرز یا را ایجنٹ ثابت کردیا جاتا.
"تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا " :'(
-
جو آج لاڑکانہ واقعہ پر ستو پی کے ٹھنڈے کمرے میں سوئے ہوئے ہیں وہ تمام کے تمام اپنی سو فیصدی توانائی اس سیاسی جماعت کے ملک دشمن و دہشت گرد ہونے پر لگا رہے ہوتے.
یہ کیسا مذاق ہے کہ ایک طرف تو آپ ہمارے گھر میں گھس کر ہمارے بھائی بیٹوں کو لے جائیں اور لاپتہ کردیں، پهر ایک دن کسی ندی نالے سے مسخ شدہ لاش برآمد ہو اور ہم احتجاج بھی نہ کرسکیں.
-
اور دوسری جانب صاحب اختیار آپ کے ہاتھ سے ملزم چهین کر اسکو فرار کروادے، آپ کو اپنے محافظوں کے ہاتھوں پٹوائے، آپ کا اسلحہ چھین کر آپ کو تھانے میں ڈلوائے اور ان سب سے آپ کا وقار بهی نہ مجروح ہو بلکہ آپ پاؤں پٹختے ابو کو بولونگا، کہہ کر واپس آجائیں.
نہ کسی اینکر پرسن کے پیٹ میں درد ہو نہ ہی کوئی احتجاج ہو ، زولفقار مرزا ہو یا اسد کهرل سب آپ کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیں مگر کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا.
-
بهائی صاحب! دہشت گردوں کو پیدا کرنے والے، ان کو پروان چڑھانے والے، ان کے سہولت کار ان کو راہ دکھانے والے کوئی اور نہیں یہ آپ اور آپ کا تعصب ہے یہ قومیتوں کے درمیان روا رکھے جانے والا امتیاز ہے جو معاشرے میں بےچینی کو جنم دیتی ہے.
-
نیشنل ایکشن پلان تو
کب کا دفن ہو چکا اب دیکھنا یہ ہے کہ
اس کے ساتھ اور کیا کیا دفن ہوگا.