Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سچ بولنا جرم ہے تحریر : شہناز لودھی

 Posted on: 8/3/2016 1   Views:130
  سوچ پر پابندی آج کل پاکستان میں ایک نیا ٹرینڈ چل رہا ہے سوچنے پر پابندی اور بولنےپر پابندی اپنی سوچ کو کسی کے سامنے ظاہر کرنے کی پابندی مگر افسوس کا مقام ہے یہ پابندیاں صرف اور صرف کراچی میں رہنے والے مہاجروں پر ہی لاگو ہیں اسکی ایک نہیں ڈھیروں مثالیں موجود ہیں پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری موصوف نے اپنے ایک بیان میں کیا کچھ نہیں کہا پاکستان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف اور تو اور یہاں تک کہہ دیا کے فاٹا سے کشمیر تک ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے یہ سب سن کر میڈیا ہکا بکا رہ گیا کے اب کیا کہیں میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں یہاں تک کے پیمرا نے بھی خاموشی میں ہی اپنی عافیت جانی اور انکے اس بیان کو گول کردیا گیا -ان کے بیانات سے کچھ عرصے پہلے پاکستان میں تبدیلی کے دعویدار عمران خان جن کو ابھی سب اچھا ہی ملا ہے انھوں نے اسلام آباد کو تقریبا' چار ماھ تک بند رکھا اپنے دھرنوں کی وجہ سے موصوف نے اپنے دھرنوں میں فوجی جرنیلوں کے خلاف اور پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ایسے ایسے الفاظ استعمال کیئے جن کو سن کر لگتا تھا کے بس اب عمران خان پر پابندی لگ ہی جائے گی مگر جناب یہ کیا ہوا پی ٹی وی پر حملہ بھی ہوا قانون بھی توڑے گئے آئین بھی پامال ہوا مگر موصوف پر نہ کوئی غداری کا کیس بنا اور نہ کسی قسم کی دقت کا سامنا کرنا پڑا ماضی میں اگر دیکھا جائے تو خواجہ آصف پی ایم ایل این کے رہنما انھوں نے بھی پاک فوج کے خلاف بیانات دیئے اور یہاں تک کہہ دیا کے وہ انڈین ٹینک پر بیٹھ کر آئیں گے مگر پھر بھی اُن پر نہ کوئی مقدمہ اور نہ کوئی سنوائی اب آتے ہیں کراچی کی جانب الطاف حسین بھائی ایک ایسا نام جو کسی تعارف کا محتاج نہیں کراچی میں اتنے آپریشنز ہوئے مگر اسکے باوجود کراچی کی عوام الطاف حسین بھائی کو اپنا لیڈر اپنا قائد مانتی ہے اور انکی آواز پر لبیک کہتی ہے کچھ عرصے پہلے قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے ہمیشہ کی طرح اپنے خطاب میں سچ اور حق گو ہونے کا فرض ادا کیا خطاب میں نہ توانڈین ٹینک کا ذکر تھا اور نہ ہی جرنیلوں کا پیشاب نکل جائے گا اور نہ اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات تھی بات صرف اتنی تھی کے قائد تحریک نے پاک فوج میں کچھ کالی بھیڑوں کا ذکر کیا تھا اور پاک فوج میں بھی احتساب ہونا چاہیئےبس یہ اتنا سا سچ پاکستان کے آزاد میڈیا کو برداشت نہ ہوا اور پیمرا بھی اٹھ جاگ گئی نیند سے اور لگا دی پابندی الطاف حسین بھائی کے خطاب پر اسکے بعد ایک کے بعد ایک ستم شروع ہوئے قائد تحریک کا خطاب سننے والوں پر سہولت کار کا کیس بنایا جانے لگا ارے جناب یہ سہولت کار کیا ہوتا ہے خطاب تو کروڑوں لوگوں نے سنا تھا کس کس پر کیس کروگے کس کس کو جیل میں بند کروگے جو لوگ پاکستان کے خلاف بولتے رہے انکو ہر قسم کی آزادی ہے وہ پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹ رہے ہیں مگر ان پر کوئی کیس نہیں قائد تحریک کو سچ بولنے کی سزا دی جارہی ہے ان کے خطاب نشر کرنے پر باپندی لگادی گئی کیا اس طرح کرنے سے عوام کو سچ کا علم نہیں ہوگا کب تک آخر سچ کو چھپاؤگے اتفاق دیکھئے الطاف حسین بھائی کے خطاب نشر کرنے پر پابندی کے کچھ ہی دنوں کے بعد جنرل راحیل شریف صاحب نے کچھ آرمی کے افسران کو کرپشن میں ملوث ہونے پر معطل بھی کیا تھا جناب اگر یہی بات الطاف حسین بھائی نے کہہ دی تھی تو ناراض ہونے کے بجائے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے تھا کے آپ نے اس مسئلے کی جانب توجہ دلائی اسکا شکریہ مگر افسوس صد افسوس پاکستان کو ایک اچھے سچے بہادر لیڈر کی کوئی ضرورت نہیں یہاں صرف وہ لوگ کامیاب ہیں جو پاکستان کو لوٹ رہے ہیں صرف ایک بہادر قائد جو پاکستان کی بقاء کی بات کرتا ہے جو کرپشن میں ملوث ہونے پر اپنے ہی لوگوں کا احتساب کرتا ہے جو حق بولتا ہے اس پر پابندی لگانا تعصب کی مثال ہے تعصب میں اندھے لوگوں ابھی بھی وقت ہے اپنی آنکھیں اور کان کھول لو عقل پر پڑے پردے ہٹادو اور سوچو جو انسان اپنی قوم کی خاطر دکھ جھیل رہا ہے اور پھر بھی احتساب اپنے ہی لوگوں کا کرتا ہے وہ کتنا مخلص ہے جس نے قوم کے حقوق کے لیئے قوم کا سودا نہیں کیا
تو جناب یہ تھی میری سوچ اس پر پابندی کوئی نہیں لگا سکتا میرے بولنے پر پابندی کوئی نہیں لگا سکتا مگر کراچی میں یہ سب ہونا ممکن ہے ایم کیو ایم کے کارکنان کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اٹھا کر لے جارہے ہیں اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ایم کیو ایم چھوڑ دو تو زندگی مل جائے گی اگر ایم کیو ایم کو نہیں چھوڑا تو موت ملے گی یا پھر الزامات کی لمبی فہرست ایسے ایسے کیس بنائے جائیں گے کسی بھی کیس میں ضمانت نہ ممکن ہو جو لوگ اپنے ضمیر کو سلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ لوگ خیابانِ سحر سے بازیاب ہوجاتے ہیں اور جو لوگ اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتے حالات کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے وہ لوگ کیسیز بھگت رہے ہیں یا ان پراتنا تشدد کیا جاتا ہے کے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور انکی مسخ شدہ لاش کسی کچرہ کنڈی یا کسی نالے سے ملتی ہے تو یہ ہوتی ہے سوچ پر پابندی اور کسی دوسرے انسان کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیئے لالچ دینا اور لالچ بری بلا ہے جو لوگ چند سکوں کے عوض اپنی سوچ کو دوسروں کا غلام بنا رہے ہیں وہ لوگ عنقریب بہت پچھتائیں گے کیونکہ غلامی کی سو سالہ زندگی سے آذادی کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے جس پاکستان کا خواب ہمارے اجداد نے دیکھا تھا یہ وہ پاکستان نہیں ہے یہاں میڈیا غلام ہے اینکرز غلام ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے غلام ہیں فیصلے کرنے والے جج غلام ہیں پیمرا غلام ہے اور اب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کراچی کے لوگوں کو غلام بنانے کی تیاری کی جارہی ہے کمال گروپ کو اس وقت سامنے لایا گیا جب کراچی کے عوام نے اپنے لیئے میئر کو نامزد کیا جو انکے مسائل حل کرتا مگر اسٹیبلشمنٹ کو اور غدارِ مہاجر قوم کو یہ سب برداشت نہیں تھا کیونکہ ابھوں نے تو مہاجر قوم کو غلام بنانے کی تیاری کی ہوئی تھیاب جب کراچی کے منتخب میئر کے کام کرنے کا ٹائم آیا تو انکو بھی جھوٹے کیس میں پھنسا دیا گیا کمال گروپ جسکی نمود ونمائش تو ہے مگر آنے والے وقت میں یہی لوگ یرغمال بنے ہوئے ہوں گے اور اپنی مرضی سے سانس بھی نہ لے سکیں گے مہاجر قوم سے التجا ہے خدارا کسی کے یرغمال نہ بنیں اپنے قائد کا ساتھ دیں جو سچ اور حق بولنے کا عادی ہے اپنی آنےوالی نسلوں کو کمال جیسے غداروں کا غلام بنانے کے بجائے حق اور سچ کا کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے قائد پر یقین رکھیں انشاءاللہ فتح مہاجر قوم کا مقدر بنے گی جیسا کے ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں آفاق احمد کی غداری نے مہاجر قوم کو پیچھے دھکیل دیا تھا مگر کراچی کے غیور عوام نے اپنے قائد کا ساتھ دیا اور اب بھی صرف چہرہ بدلا ہے ہمیں توڑنے کی سوچ وہی پرانی ہے ہمیں اپنے اتحاد سے ان لوگوں کو جواب دینا ہے اپنی سوچ کو ثابت رکھنا ہے اپنے قدموں کو ڈگمگانے سے بچانا ہے اپنی آنے والی نسلوں بقاء کے لیئے ہم متحد ہیں تو ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا جیت مہاجر قوم کا مقدر ہے انشاءاللہ