Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی میں قیام امن کی کوشش یاایک سازش - لمحہء فکریہ ( مصطفےٰ عزیزآبادی)

 Posted on: 9/3/2013 1   Views:711
کراچی میں امن وامان کی جوابترصورتحال ہے اس سے کسی کوانکارنہیں اوراس کوبہتربنانے کیلئے کسی کوفرارنہیں لیکن اگرمقصد واقعتاامن وامان بہتربناناہوتواس کیلئے اقدامات بھی سنجیدگی، غیرجانبداری اورنیک نیتی کاتقاضہ کرتے ہیں ۔سابق وزیراعظم اوررخصت ہوتے ہوئے صدرمملکت کی نسبت موجودہ وزیراعظم میاں نوازشریف کراچی پہنچے ہیں اورکراچی میں قیام امن کے مسئلے پر اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاسوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات بھی کررہے ہیں۔ لیکن ایسالگتاہے کہ وزیراعظم صاحب کے اردگرد کچھ سیاسی یاغیرسیاسی عناصر کراچی کے حوالے سے انہیں دوبارہ 1992ء کے منظرنامے میں لیجاناچاہتے ہیں اورجس طرح1992ء میں اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اوران کی سرپرستی کرنے والے سندھ کے بڑے بڑے72 پتھاریداروں جنہیں 72بڑی مچھلیاں کہاگیاتھاان کے خلاف آپریشن شروع کیاگیاتھا لیکن سب جانتے ہیں کہ اس آپریشن کارخ ایم کیوایم کی جانب موڑ دیاگیاتھا۔اب بھی ایساہی معلوم ہورہاہے اورکراچی میں تمام ترجرائم کوایم کیوایم کے سرتھوپا جارہاہے اور دہشت گردی اورجرائم کی وارداتوں کے خلاف ایکشن کے نام پر ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔
ایم کیوایم نے پہلی بار1987ء میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا۔ اس کے بعد1988ء، 1990ء، 1993ء اور 1997ء۔ یہ وہ دور ہے جب ایم کیوایم نے کبھی پیپلزپارٹی اورکبھی میاں نوازشریف کی مسلم لیگ کی مخلوط حکومت میں شمولیت اختیارکی۔ اس دوران ایم کیوایم کوبدنام کرنے کیلئے اس کے خلاف مختلف نوعیت کے الزامات لگائے گئے ۔۔۔کبھی پنجابی پختونوں سے لڑائی جھگڑوں کے الزامات ۔۔۔کہیں بھی کوئی واقعہ ہواس کاالزام ایم کیوایم پر لگایاجاتارہا لیکن بھتہ خوری کے الزامات شاذونادرہی لگائے گئے۔ایم کیوایم کے بارے میں یہ شکایات ضرورآئیں کہ زکوٰۃ کیلئے پہلے سے رقم لکھ کررسید دی گئی،قربانی کی کھال زبردستی اٹھاکرلے گئے۔ایم کیوایم نے ان شکایات کافوری سدباب کیااورجہاں شکایت ملی اورتنظیم کاجوفردبھی ایسے عمل کامرتکب پایاگیااسکے خلاف تنظیمی کارروائی کی گئی۔۔۔ایم کیوایم نے توبارہایہ اعلانات کئے کہ جہاں عوام کوایم کیوایم کے کارکنوں کے حوالے سے کوئی شکایت ہوفوراً نائن زیروپر رابطہ کریں تاکہ ایسے لوگوں کے خلاف تنظیمی سطح پر کارروائی کی جائے۔ یہ بات درست ہے کہ ایم کیوایم میں سب فرشتے نہیں ہیں۔۔۔ایم کیوایم کے بعض لوگوں سے بھی غلطیاں ہوئیں ، ایم کیوایم نے انہیں تسلیم کرتے ہوئے اصلاح احوال اورخوداحتسابی کاعمل کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس طرح آج کراچی میں تاجروں، دکانداروں،صنعتکاروں اوردیگر اہل ثروت افرادسے کھلے عام بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔۔۔ انہیں جس طرح پرچیوں میں باقاعدہ فون نمبر دیے جارہے ہیں۔۔۔ بھتہ نہ دینے والے تاجروں اور صنعتکاروں کی دکانوں،کاروباری مراکزاورگھروں پر دستی بموں سے حملے کئے جارہے ہیں۔۔۔کراچی میں جس بڑے پیمانے پر بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہورہی ہیں ۔۔۔جس طرح بڑے پیمانے پر اسٹریٹ کرائمزہورہے ہیں۔۔۔جس طرح آج کراچی میں چھوٹے بڑے تاجر، دکاندار اور صنعتکارآج ان جرائم کے خلاف جلوس نکال رہے ہیں کیااس طرح کی صورتحال اس سے قبل تھی؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تاجروں، صنعتکاروں اورکاروباری حضرات سے کھلے عام بھتہ وصول کرنا۔۔۔ انہیں پرچیاں دینا۔۔۔ بھتہ نہ دینے پرانہیں دستی بموں کانشانہ بنایاجانا۔۔۔حتیٰ کہ انہیں قتل تک کردینے کے یہ واقعات اسی وقت سے شروع ہوئے ہیں جب سے پیپلزپارٹی کی حکومت آئی ہے ۔ کیاکبھی ایم کیوایم کے دورمیں تاجربرادری کے ساتھ ایسے واقعات ہوئے؟۔۔۔کیاایم کیوایم کے دورمیں تاجروں نے کبھی اس طرح سڑکوں پر آکراحتجاج کیا؟۔۔۔ہاں کراچی میں مجرمانہ غنڈہ گردی اوردہشت گردی کے واقعات اس وقت ضرور ہوئے جب حقیقی دہشت گردوں کو19جون 1992ء کوسرکاری ٹرکوں میں بٹھا کر لایاگیااورکراچی کے مختلف علاقوں میں انکے قبضے کرائے گئے ۔لیکن جوصورتحال آج ہے ایسی صورتحال کبھی نہ تھی۔بدقسمتی سے آج کرمنلز کاایک طبقہ کراچی کوٹیک اوور کرچکاہے۔ ان کی پناہ گاہیں، پولیس وقانون نافذ کرنے والے اداروں اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کومعلوم ہیں ۔ جو پولیس والے ان کے علاقوں میں جانے کی کوشش کرتے ہیں،انہیں یاتوقتل کردیا جاتا ہے یاپھرفوراً مداخلت ہوتی اوران کرمنلز کے خلاف آپریشن بندکرادیاجاتاہے جیساکہ گزشتہ سال لیاری میں کیاگیا۔ اگرصورتحال یہ ہوگی توپھرشہرمیں امن کس طرح ہوسکتاہے؟
آج اکثرکہاجاتاہے کہ کراچی میں ماضی میں آپریشن میں حصہ لینے والے ایک ایک پولیس والے کوچن چن کرقتل کردیاگیا۔ جب معصوم لوگوں کوگھروں سے اٹھاکرلے جایاجائے گااورعدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے سرکاری حراست میں انسانیت سوزتشددکانشانہ بناکرانہیں ماورائے عدالت قتل کردیاجائے گایاجعلی پولیس مقابلوں میں بیدردی سے قتل کردیاجائے گا تو پھر کیا ہوگا ؟ پھرلوگوں میں اپنی بقاء کیلئے کچھ اورسوچ پیدانہیں ہوگی توکیاہوگا؟۔۔۔پھرلوگ جواب میں تشددکاراستہ اختیارنہیں کریں گے توکیا ہوگا ؟ ۔۔۔کیا لوگوں کو ریاستی تشدد کا نشانہ بناکرآپ انہیں بغاوت کے راستے پرنہیں ڈال رہے؟۔۔۔ لگ رہاہے کہ آج پھر وہی کچھ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس کامطلب ہے کہ ارباب اختیار تلے بیٹھے ہیں کہ مہاجروں کو پاکستان کی سرزمین سے مٹانا ہے ۔۔۔ ایم کیوایم کوختم کرناہے ۔۔۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سندھ میں گورنرایم کیوایم کاہے تو سب جانتے ہیں کہ گورنرکے پاس کتنے اختیارات ہیں ۔ایم کیوایم نے لڑائی اور تصادم سے ہرقیمت پر گریز کیا لیکن حیرت ہے کہ اسے اس کاصلہ اس طرح دیاجارہاہے۔
نوازشریف صاحب کی جماعت نے ماضی میں بھی ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا۔۔۔سندھ میں گورنرراج نافذ کیا ۔۔۔ اورمہاجروں کوریاستی مظالم کانشانہ بنایا۔آج پھر ایسی ہی سازشیں کی جارہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ 1992ء کی طرح یہ آپریشن بھی ایم کیوایم کے خلاف کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔۔۔یہ آپریشن دراصل ایم کیوایم کوملک بھر میں پھیلنے سے روکنے کیلئے ہے۔۔۔ ایک جماعت جوجاگیرداروں اوروڈیروں سے پاک ہے اس کوختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ملک پر جاگیرداروں کاقبضہ برقرار رہے۔۔۔ہاری اورکسان ان کے غلام رہیں۔۔۔اورملک پر جاگیرداروں، وڈیروں کی حکمرانی رہے۔ایم کیوایم نے اس سسٹم کونہ پہلے قبول کیاہے اورنہ ہی اب کرے گی۔۔۔ہم مہاجروں کوان کے حقوق دلانے سے دستبردارنہیں ہوسکتے ۔۔۔ یہ اس طبقہ آبادی کے خلاف پھرسازش ہے جس کوباربار ریاستی آپریشن سے ختم نہیں کیا جاسکا ۔ ۔۔۔ہماراایمان کہ اللہ تعالیٰ اوپربیٹھاہے۔۔۔ وہی بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔ ہم مہاجروں کے آباؤاجداد کے بنائے ہوئے وطن پر اپنے حق سے نہ انکارکرسکتے ہیں اورنہ ہی اس حق سے دستبردارہوسکتے ہیں۔۔۔ہم مرناپسند کریں گے لیکن غلامی اورتیسرے درجے کے شہری کی زندگی گزارناقبول نہیں کریں گے۔
آج پھروہی روش اختیارکی جارہی ہے کہ ہر واقعہ ۔۔۔ہرچیز کاالزام ایم کیوایم کے سرپر ڈال دیاجائے ۔۔۔کراچی میں آج جوصورتحال ہے اورجس طرح یہاں کے تاجراورسرمایہ داراپناسرمایہ ملائیشیا، بنگلہ دیش اوردیگرممالک منتقل کررہے ہیں اس کاالزام بھی ایم کیوایم کے سرتھوپاجارہاہے ۔یہ سراسرزیادتی ہے ۔آپ کراچی والوں کوکراچی کانظم ونسق چلانے کاحق اوراختیاردیں۔۔۔اگروہ صورتحال کوٹھیک نہ کریں توپھرکہیے۔۔۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کراچی کی پولیس اورانتظامیہ مقامی نہیں ہے ۔۔۔ایک انسپکٹر سے لیکر آئی
جی اور ایک کلرک سے لیکرچیف سیکریٹری تک سب غیرمقامی ہیں جنہیں شہرکے مفاد سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔آپ پولیس وانتظامیہ میں مقامی لوگوں کوبھرتی کریں۔
ایک طرف توکہاجاتاہے کہ سندھ میں بسنے والے اردوبولنے والے سندھی ہیں لیکن اگرآپ سندھ سیکریٹریٹ چلے جائیں توآپ کووہاں ڈھونڈنے سے بھی مہاجرنہیں ملے گا۔یہ ناانصافیاں اورحق تلفیاں جاری رہیں گی تواتحادویکجہتی کیسے پیداہوگی؟ یہ سلسلہ اب بند ہوناچاہیے اگریہ سلسلہ بندنہیں کیاجائے گااورمختلف بہانوں سے کسی طبقہ آبادی کوریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی جائے گی توایساعمل کسی بھی طرح ملک کے مفادمیں نہیں ۔