Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کے عوام سے نفرت کیوں؟ تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ

 Posted on: 8/19/2013   Views:513

کراچی کے عوام سے نفرت کیوں؟ تحریر:۔ قاسم علی رضاؔ  مورخہ 14، اگست 2013ء کو روزنامہ جنگ میں جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن کا مضمون شائع ہوا جسے پڑھ کر کراچی کے عوام کے بارے میں جماعت اسلامی کی ازلی نفرت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔کچھ لوگ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ عوام الناس میں ان کی اوقات ’’مستردکردہ‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں ہے لیکن سچ بولنے اور سچائی کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں کہ ’’بات تو سچ ہے ،مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ دہشت گردی ، غنڈہ گردی اور قتل وغارتگری میں بین الاقوامی شہرت رکھنے والی نام نہاد جماعت اسلامی کے امیرمحترم سید منورحسن نے اپنی حالیہ تحریر میں عوام الناس میں جماعت اسلامی اور جماعتیوں کی اوقات کی حقیقت سے صریحاً انحراف کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر چاند پرتھوکنے کی کوشش کی ہے حالانکہ ان محترمین کو بخوبی تجربہ ہے کہ اس عمل کی غلاظت کس گندگی پر جاکر ٹھہرتی ہے۔بزرگو ں کا قول ہے کہ اگر انسان کو کسی بری عادت کا چسکا پڑ جائے تو وہ آسانی سے نہیں جاتا اور لگتا ہے کہ جماعتی محترمین کو بھی چاند پر تھوکنے اور اس کے انجام کی عادت کاچسکا پڑ چکاہے اور وہ بڑے مزے لے لے کر یہ عمل دہرانے اور اس کے انجام کوانجوائے کرنا پسند کرتے ہیں۔ سید منورحسن کی نظر میں کراچی کے عوام کے مینڈیٹ کا کتنا احترام ہے اس کا اندازہ ان کی تحریر سے لگایا جاسکتا ہے ، وہ روزنامہ جنگ میں اپنے ایک مضمون میں فرماتے ہیں کہ’’زرداری حکومت کی طرح نواز حکومت میں بھی مفاہمت کے نام پردہشت گردوں کوسینے سے لگایا جارہا ہے اوران کی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کیلئے ان کی خیرخواہی اور بھلائی کے گن گائے جارہے ہیں۔کراچی کے تناظر میں دہشت گردوں کو آستین کے سانپوں کی طرح پالنے کے جونتائج پیپلزپارٹی کی حکومت کوملے تھے، انہی نتائج کے حصول کیلئے ن لیگ کی حکومت بھی اس تجربے کو دہرانا چاہتی ہے اور محسو س ہوتا ہے کہ جن سے ڈکٹیشن لیتے ہیں انہوں نے کانوں میں یہ بات پھونک دی ہے کہ ایم کیوایم کو حکومت میں وافر حصہ دیا جائے‘‘ گزشتہ کئی عام انتخابات میں پاکستان بالخصوص سندھ کے عوام جماعت اسلامی کو یکسرمسترد کرتے چلے آرہے ہیں، حالیہ انتخابات میں اپنی عبرتناک شکست کو دیکھتے ہوئے جماعت اسلامی نے عام انتخابات کا بائیکاٹ کا اعلان کرکے واویلا مچایا کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی جارہی ہے گویا کہ اس سے قبل پاکستان کے عوام اس نام نہاد جماعت اسلامی کو اپنی نمائندگی کا حق دیتے چلے آرہے تھے ۔حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی اب صرف اپنے گنتی کے ارکان کے گھروں تک محدود ہوکررہ گئی ہے اور عوامی سطح پر جماعت اسلامی اور اس کے رہنماؤں کو جن القابات سے نواز ا جاتا ہے اسے دائرہ تحریر میں لانا کسی بھی طور مناسب نہیں ہوگا۔ راقم ،سید منور حسن اور ان کی جماعت سے سیاسی ونظریاتی اختلاف رکھنے کے باوجود جماعت اسلامی کو حاصل اس معمولی میندیٹ کا بھی احترام کرتا ہے یہ الگ بات ہے کہ جماعت اسلامی اس مینڈیٹ کے سہارے کونسلر کا الیکشن بھی جیت نہیں سکتی ، اسی طرح جماعت اسلامی کو بھی سندھ کے شہری عوام کے مینڈیٹ کااحترام کرنا چاہئے اورعوام کی منتخب کردہ نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے خلاف زہرافشانی سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے باشعور عوام کو منافقت اور دروغ گوئی کے ذریعے بہکانے کے عمل سے جماعت اسلامی کو ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔کراچی کے عوام نے ایک مرتبہ پھرایم کیوایم پراپنے اعتماد کی مہرثبت کی ہے اور ایم کیوایم کو اپنی نمائندگی کا حق دیا ہے، اگر وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے مینڈیٹ کا احترام کیاجاتا ہے تو اس عمل سے جماعت اسلامی کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں؟آخر کب تک جماعت اسلامی کراچی کے عوام سے اپنی ازلی نفرت کا اظہارکرتی رہے گی ۔منورحسن اور دیگر جماعتی رہنماؤں کی کراچی دشمنی کا یہ حال ہے کہ جب تک وہ کراچی کے عوام کے نمائندوں کے خلاف دل کی بھڑاس نہیں نکالتے ،خود پر کھانا پینا حرام تصور کرتے ہیں ، جماعت اسلامی کی مذہب کی آڑ میں تجارت اور بہتان تراشی کی سیاست کا محور ہی ایم کیوایم کی مخالفت کرنا ہے اور اسی مخالفت کے باعث  2 جماعت اسلامی کا دانا پانی جاری ہے ۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے والے سید منور حسن میں کیا اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ قوم کو بتاسکیں کہ آج دنیا بھر میں جن دہشت گردوں نے قتل وغارتگری کا بازار گرم کررکھا ہے اس القاعدہ کی قیادت جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیوں کیاکرتی تھی؟ اور جماعت اسلامی آج تک خود کش حملوں کی مذمت کرنے میں کیوں تذبذب کا شکار ہے ؟پاکستان کی مساجد ، امام بارگاہیں ، جی ایچ کیو، واہ فیکٹری، کامرہ ائیربیس، مہران ائیربیس اور دیگر سرکاری تنصیبات پر حملے کرنے والے کیا پاکستان کے دشمن نہیں ہیں؟ ان دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور ان کے گھناؤنے عمل کی مذمت نہ کرنے والے کس طرح پاکستان کے دوست ہوسکتے ہیں؟ پاکستان کے باشعور عوام اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جماعت اسلامی ہی وہ جماعت تھی جس نے قیام پاکستان کی مخالفت کی اور آج بھی یہ جماعت پاکستان دشمن عزائم رکھتی ہے۔ اسی طرح ملک بھرکے عوام یہ بھی جانتے ہیں جماعت اسلامی کے بانی نے قائداعظم کو کافراعظم اور پاکستان کو ناپاکستان قراردیا تھا،انہی کی نظر میں الیکشن میں حصہ لینا کتوں کی دوڑ میں حصہ لینے کے مترادف قراردیا گیا۔ منورحسن قوم کو بتائیں کہ اگر کراچی کے عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے کی پاداش میں ایم کیوایم پر بہتان تراشی کرنا درست ہے تو پھرالقاعدہ کے نامی گرامی دہشت گرد کس جماعت کے رہنماؤں کے گھروں سے گرفتارکئے گئے تھے ؟ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کلاشنکوف کلچر کس جماعت نے متعارف کرایا؟ ایک آمر کی گود میں پرورش پاکر جماعت اسلامی نے پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو کس طرح نقصان پہنچایا؟جس جماعت اور اس کے رہنماؤں کے دامن عالمی دہشت گردی اورقتل وغارتگری سے آلودہ ہوں انہیں دوسروں پر بہتان تراشی کرناقطعی زیب نہیں دیتا۔کراچی کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے جماعت اسلامی کی اقتدارسے محرومی اور عوام الناس میں ’’اوقات‘‘ کے باعث سید منورحسن اور دیگر جماعتی رہنماؤں کی ذہنی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں لیکن ایسی بھی کیا ذہنی پسماندگی کہ انسان اپنا ذہنی توازن ہی کھوبیٹھے اور عوام الناس اور ان کی نمائندہ جماعت کے خلاف بے سروپا باتیں کرنا شروع کردے۔کسی مذہبی جماعت کا امیر بننے کے ساتھ ساتھ انسان کو اخلاقیات کا دامن بھی تھامنا چاہئے اور انگارے چبانے سے پرہیز کرنا چاہئے تاکہ جگ ہنسائی نہ ہو۔ اب سید منورحسن خود فیصلہ کریں کہ انہوں نے کراچی کے عوام کے بارے میں اپنے جن پراگندہ خیالات کا اظہارکیا ہے کہ اس سے کراچی کے عوام کیا انہیں اچھے الفاظ سے یاد کریں گے؟اگر ان حقائق کے باوجود جماعتی رہنماؤں کو چاند پرتھوکنے کا سلسلہ جاری رکھنا ہے تو بڑے شوق سے رکھے اور اس عمل کے انجام کو انجوائے بھی کرے ۔کیونکہ عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے ۔