Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

۱۱جون، تیری تدبیر سے وابستہ قوم کی تقدیر ہے۔۔۔ تحریر: ہما صدیقی

 Posted on: 6/11/2015   Views:783
۱۱جون، تیری تدبیر سے وابستہ قوم کی تقدیر ہے۔۔۔   تحریر: ہما صدیقی شکریہ :نوائے وقت آج ۱۱ جون ۲۰۱۵ء کو اے پی ایم ایس او کا 37واں یومِ تاسیس ہر سال کی طرح اس سال بھی روایتی جوش و جذبے، پرعزم ارادوں اور اس امید کے ساتھ اے پی ایم ایس او کے بانئ اور ایم کیوا یم کے قائد الطاف حسین کی فکر انگیز قیادت کے زیر سایہ منایا جارہا ہے کہ حق پرستی کا یہ کارواں نوجوان نسل کی ہمرکابی کے ساتھ آنے والے دنوں میں اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لے گا۔ نوجوان نسل، خصوصاً طلباء کسی بھی قوم کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ریڑھ کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان طلباء کے ہاتھ میں کتاب اور قلم دے کر ان کی صیحح رہنمائی کی جائے تو اس ملک کی تقدیر کو بدلنے سے کوئی نہَں روک سکتا۔ یہی وہ عظیم فکر و فلسفہ اور ملک میں تبدیلی کی روشن خیال سوچ ہے جو ایم کیوا یم کے قائد الطاف حسین نے اس ملک کی غالب آبادی یعنی نوجوان نسل کو آج سے 37برس قبل جامعہ کراچی میں حق پرستی کا علم اٹھا کر تفویض کی تھی۔ جس کے جواب میں اے پی ایم ایس او نے ’’علم سب کے لیے‘‘ کا نعرہ لگا کر ثابت کردیا تھا کہ دراصل تعلیم ہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس کو حاصل کرکے نوجوان نسل اس ملک کی نہ صرف بگڑی تقدیر سنوار سکتے ہیں بلکہ ملک پر مسلط جاگیر دارانہ اور وڈیرانہ نظام کی زنجیروں کو بھی توڑ سکتے ہیں۔ اے پی ایم ایس او کے بانی و چیئرمین ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کا نظریہ دے کر باخبر کردیا کہ اس ملک پر حکمرانی کے حق دار پاکستان کے 98فی صد عوام ہیں ناں کہ دو فی صد اشرافیہ جس نے قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد سے ملکی دولت، اختیارات، مفادات اور سیاست میں ہر جائز و ناجائز طریقے کو استعمال کرکے اس ملک کی پاک سرحدوں کو تباہی و بربادی کے اس خطرناک دوراہے پر لاکھڑا کردیا جس سے واپسی کا راستہ صرف اس ہی صورت ممکن ہوسکتا ہے جب اس ملک کی جڑوں میں پھیلے ہوئے دو فی صد مراعاتی یافتہ طبقے کے زہر کو ’’نقبِ انقلاب‘‘ کے ذریعے نکال کر پھینک دیا جائے۔ لہذا ۱۱جون کا دن ملک کی تاریخ کا ایک ایسا تاریخ ساز دن ہے جو اگر ایک طرف مظلموں کے لیے امید صبح نو کا پیغام لاتا ہے تو دوسری طرف نوجوان نسل کے لیے فکرِ نو کا آغاز کرتا ہے۔ اپنے حق کے لیے لڑنے کے لیے علم کے ہتھیار سے آراستہ ہونے کی ترغیب فراہم کرتا ہے۔ ۱۱جون کا دن دراصل قوم کو اس انقلاب آفریں فلسفے، نظریے اور فہم و فراست سے بھرے تدبر کی یاد دلاتا ہے جس پر چل کر اس ملک کے مظلوم و محکوم عوام کو ملک کی واحد غریب و متوسط طبقے کی جماعت کا مضبوط پلیٹ فارم میسر آسکا جس نے پہلی مرتبہ کھل کر اس ملک کے جاگیر دارانہ اور وڈیرانہ نظام کی نا صرف مخالفت کی بلکہ اس نظام کی سرپرستیکرنے والے جاگیر داروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو TUFF TIMEبھی دیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو یقیناًاس ضمن میں یہ فخریہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے جب وہ جامعہ کراچی کے طالب علم تھے، معاشرے میں نوجوان نسل کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور حق تلفیوں کو محسوس کرکے نہ صرف اس زیادتی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی بلکہ عملی قدم کے طور پر ۱۱جون 1978ء کو ایک طلباء تنظیم کی بنیاد رکھ کر حق پرستانہ جدوجہد کاآغاز کردیا اور یہ وہی طلباء تنظیم اے پی ایم ایس او تھی جس نے کچھ ہی برسوں بعد اپنے بطن سے اس ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کو جنم دے کر ایک بے مثال تاریخ رقم کردی۔ لہذا اے پی ایم ایس او کے بانی متحرم اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی سیاسی جدوجہد کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ الطاف حسین ایک اعلیٰ پایۂ کے انسان، ایک عظیم فکروفلسفے کے حامل، ایک لاجواب مقرر، محقیق، دانش ور ایک کہنہ مشق مستقبل بین، اعلیٰ انسانی قدروں اور انصاف پسندی کا نظریہ رکھنے والے، علم و ادب کے دلدادہْ اخلاقیات اور سماجیات کا عملی درس دینے والے اور خصوصاً بطور ایک نڈر سیاست داں کے، اس صدی کے ایسے کرشماتی لیڈر ثابت ہوئے ہیں جن کا قد اور مرتبے کی بلندی کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس ملک سے مخلص ہوں، صاحبِ نظر اور باشعور ہوں حق اور باطل کا فرق سمجھتے والے ہوں۔ جناب الطاف حسینکے لافانی کردار اور ان کی جدوجہد لازوال کا ادراک رکھنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ کیا اس ضمن میں اس سچائی کو جھٹلایا جاسکتا ہے کہ یہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے مضبوط ارادوں، بے لوث قیادت اور اعلیٰ درجے کی صداقت کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنی 37سالہ سماجی، اخلاقی اور سیاسی خون ریز جدوجہد کے دوران ہر قسم کی قربانیوں، جبر و تشدد، قید و بند کی صعوبتوں کے علاوہ غدارِ وطن جیسے قابلِ مذمت الزامات کے علاوہ سیاسی تاریخ کی طویل ترین جلاوطنی کا سامنا بھی کیا لیکن حق کی آواز کو دبنے نہ دیا۔ سیاسی سفر کے ہر دور، ہر مشکل پڑاؤ پر شہیدوں کے خون کی لاج رکھی۔ کبھی اصولوں پر سودا نہیں کیا بلکہ پوری قوت کے ساتھ ملک کے وسائل، دولت اور اقتدار پر قابض جابرانہ، ظلمانہ اور مفادانہ دو فی صد اشرافیہ کے خلاف ڈٹ کر اعلانِ جنگ کیا۔ ملک کی باطل اور مخالف قوتوں کے ناپاک ارادوں سے قوم کو وقتاً فوقتاً آگاہ کرتے رہے۔ پاکستان کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرکے مٹی کا حق ادا کرتے رہے، وہ وطن کی مٹی جس کو چومنے کی خواہش وہ آج بھی دل میں بسائے بیٹھے ہیں۔ لہذا الطاف حسین کی شخصیت کے بارے میں کیا جاتا ہے کہ وہ صرف ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روشن خیال سوچ، ایک دعوتِ فکر دینے والے فلسفے، ایک حقیقت پسند نظریے کا نام ہے جو اس ملک میں آنے والے دنوں کے لیے تبدیلی کا اسقارہ بنے گا۔ اس دعوے کی مضبوط و مستحکم دلیل یہ ہے کہ ایم کیوا یم کے قائد نے اپنا ماضی، حال اور مستقبل کو صرف اور صرف اس ملک میں موجود بنیاد ی حقوق تک سے محروم ومظلوم عوام کے نام کردیا ہے۔۱۱جون کے ان تاریخی اور انقلابی دن کی مناسبت سے قابلِ عمل پیغام یہی ہے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اگر ہم اپنے مستقبل کو محفوظ کرنا جاہتے ہیں، پاکستان کو ترقی اور خوش حالی کے راستے پر مضبوطی اور استحکامیت کے ساتھ سفر کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، اقوامِ عالم کے سامنے سراٹھاکر فخر سے جینا چاہتے ہیں، حقیقی معنوں میں جمہوریت اور آزادی کی فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں تو ہمیں اس عظیم فکر و فلسفے اور نظریے پر چلنا ہوگا جس نے نہ صرف اپنی قوم کو عزت سے جینا سیکھایا بلکہ ملک کے 98فی صد عوام کے لیے بھی جدوجہد کا وصف اپنایا۔ لہذا آج اگر ہم اس ملک میں حق و انصاف، امن و امان، ترقی و خوش حالی کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں موجود برسوں سے قائم جاگیر دارانہ اور وڈیرانہ نظام حکومت کے تحت ہونے والی نیم جمہوری حکومت کے بجائے حقیقی معنوں میں جمہوری نظام کا فروغ ممکن بنانا چاہتے ہیں تو ۱۱جون کو پیش کردہ نظریہ کی بنیاد پر پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے جناب الطاف حسین کی قیادت اور ایم کیوا یم کی تحریک پر اعتماد بنائے رکھنا ہوگا۔ ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ جہاں تلک ظلم کی سیاہ رات چلے ہمیں تو خواہش دار و رسن نے پالا ہے جو نہ گھبرائے موت سے ہمارے ساتھ چلے