Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جماعت کے عزائم ) تحریر :ارشد حسین)

 Posted on: 5/8/2013 1   Views:1010
(جماعت کے عزائم ) [email protected] تحریر :ارشد حسین  گذشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے لوئر دیر کے علاقے چکدرہ سے سرکاری ادارے کے اہلکاروں کی جانب سے ایک مشکو ک گاڑی پر چھاپہ مارا گیا جس میں سے ہزاروں کی تعداد میں بیلٹ پیپر برآمد ہوئے۔ جہاں یہ حیرت انگیز خبر یقیناًملک بھر کے عوام کیلئے تشوش کا سبب بنی وہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان اورملک کے انتہائی اہم اداروں کیلئے بھی لمحہ فکر یہ بنا ہوا ہے، یہ بیلٹ پیپر کسی شہری یا دہشت گرد سے نہیں بلکہ ہمارے ہی اسلامی جمہوری پاکستان کی ایک مذہبی اورایماندارجماعت یعنی جماعت اسلامی کے کارکنان کی گاڑی سے برآمد ہوئے جبکہ ملک میں عام انتخابات کا دور دورہ ہے تو یہ بات بھی وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں بیلٹ پیپر کا پکڑا جانا الیکشن میں دھاندلی کامنصوبہ تھا ، سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی جیسی مذہبی جماعت کو کیا ضرور ت پڑی تھی کہ ایسا شرمناک کام کر ے جو نہ صرف اس جماعت کیلئے بلکہ ملک کے لئے بھی بدنامی کا باعث بنے۔ایسی حرکت سے یقیناًمولانا موودی ، قاضی حسین احمد، پروفیسر غفور احمد اور جماعت اسلامی کے دیگر لبر ل اور اعتدال پسند رہنماء جو اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں کیا ان کی ارواح کو تکلیف نہیں پہنچی ہوگی ۔ آج عوام بھی جماعت اسلامی کے کارکنان کی جانب سے ایسی بھونڈی اوراوچھی حرکت کے باعث شرمندگی کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ عام انتخابات پر رپورٹنگ کی غر ض سے یورپین ممالک کی مبصرین پر مشتمل مختلف ٹیمیں بھی اس وقت ملک میں موجود ہیں جب اس جماعت کی گھناؤنی حرکت یورپین ٹیموں کے علم میں آئی ہوگی تو کیا یہ مبصرین چپ ساد لیں گے اور اپنے اپنے ممالک میں اس پاک دامن اور مذہب کی دعویدار جماعت کے بارے میں اپنے میڈیا کے ذریعے اس خبر کو عام نہیں کریں گے، یقیناًیورپی یونین کے مبصرین کے لئے پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے یہ سب سے بڑی خبر بن کر ان کے سامنے آئی ہوگی ویسے بھی ان کا کام تو اسی روز سے ہی شروع ہوگیا تھا جس روز وہ پاکستان میں تشریف لائے تھے، اب ان سے اس خبر کو نشر و شائع کرنے سے روکا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ ان کا تعلق غیر ممالک سے ہے اگر ملک کا مسئلہ ہوتا تو شاید بات رفع دفا ع ہوجاتی ، سیانوں نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ کمان سے نکلاتیر اور زبان سے نکلے الفاظ کبھی واپس نہیں آتے ایسے ہی اسی طرح کی خبر یں بھی اخبارات کی زینت بنے سے کوئی نہیں روک سکتا بشرطیکہ قلم کی حرمت کا پاس رکھا جائے۔ خیر اللہ مالک ہے اللہ ہی پاکستان کی عزت کو بچانے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ان یورپین ارکان کے دل میں کوئی نیکی ڈال دے کے ملک کی آبروبچ سکے ،کاش جماعت اسلامی کے کارکنان محض چند ووٹوں کی خاطر یہ حرکت نہ کرتے ۔ ابھی بیلٹ پیپر کی برآمدگی کے معاملے کو صرف چند گھنٹے ہی گزر ے ہونگے کے اسی جماعت کے سربراہ قابل احترا م جناب منور حسن صاحب کو ناجانے کیا سوجھیس کہ انہوں نے کراچی میں ایک کارنر مٹنگ میں گفتگو کر تے ہوئے ایسے جملے کہہ دیئے جو شرکا ء میٹنگ بھی دنگ رہے گئے ،ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان لبرل ازم کیلئے نہیں بنایاگیا ‘‘۔۔۔ ان کایہ بھی فرماناہے کہ ’’ لبرل ازم کامطلب امریکہ کی غلامی ہے۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ محترم کو اس بات کا ذکر کرنے کی کیا ضرور ت پیش آئی وہ تو انتخابی مہم کے سلسلے میں اپنے لوگوں سے ووٹ کے طالب تھے ۔۔۔ دوسرے ان کوپاکستان کے بارے میں یہ بات کسی صورت بھی زیب نہیں دیتی ہے ،کیونکہ ان کی جماعت نے توپاکستان کے قیام ہی کی مخالفت کی تھی۔۔۔پاکستان کو ’’ ناپاکستان ‘‘ اور قائداعظم کو ’’ کافراعظم ‘‘ کہاتھا۔ اور جماعت اسلامی کے ہر  2 رہنما ء وکارکن اور اس جماعت سے عقیدت رکھنے والے ہر فرد کا حافضہ اتنا بھی کمزور نہ ہوگا کہ وہ اس بات سے لا علم ہوں ۔۔۔ اب ذکر نکل ہی آیا ہے تو عوام جماعت اسلامی کے سربراہ محترم منور حسن صاحب سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ احترام انسانیت اور لبرل ازم کیاہے۔۔۔؟ کیالبرل ازم امریکہ کی غلامی کانام ہے۔۔۔؟ اور ہر مسلمان کا الحمد اللہ مکمل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہیں اور ان کافرمان ہے کہ ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کاقتل ہے، سرکاردوعالم ؐ رحمت اللعالمین ہیں ،انہوں نے احترام انسانیت کادرس دیا کہ ایک معصوم کاقتل پوری انسانیت کاقتل ہے، نبی کریم ؐ کی تعلیمات تویہ ہیں کہ ہرمظلوم کی مددکرو، ہر ایک کااحترام کرو چاہے کوئی بھی انسان ہو،چاہے اس کا فقہ، مسلک یامذہب کوئی بھی ہو،یہی تعلیم صحابہ کرامؓ اوربزرگان دین کی بھی ہے ، یہی بات ایم کیوایم سمیت تمام لبر ل اور اعتدال پسند جماعتیں کرر ہی ہیں تو احترام انسانیت کی بات کرنے میں امریکہ کا کیا لین دین ہے اور اس کا ذکر کیونکر کیا گیا ؟ یہاں تواحترام انسانیت کی بات کرکے نبی کریمؐ، صحابہ کرام ؓ اوربزرگان دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ محترم وبزرگ احترام انسانیت اورمذہبی رواداری جیسی سنت نبوی کوامریکہ کی غلامی سے تشیبح دے رہے ہیں جو یقیناًشاتم رسول اورانسانیت کے دشمن ہونے کے زمرے میں ہیں ،اللہ تعالیٰ منور حسن صاحب کی اس نادانستہ غلطی کو معاف فرامائے ۔مذکورہ میٹنگ میں محترم نے چلتے چلتے اپنے کارکنان کو اشاروں میں کچھ ایسی باتیں اور کہہ دی جو تقریباً ہر ذی شعور کے ذہن میں رچ بس گئی ،اپنے کارکنوں سے انہوں نے جماعت کے کارکنوں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ الیکشن والے دن صبح سویرے اپنی ’’ تسبیح‘‘ کے ساتھ باہر نکل جائیں ، ہما رے ایک دوست جو بہت قریبی ہیں اور ان کا تعق بھی جماعت اسلام سے بہت پرانا ہے ہم نے ان سے تسبیح لیکر نکلنے کے ان اشاروں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتا یا کہ آپ بھی سمجھ دار ہیں کہ الیکشن والے دن تسبیح کی کیا ضرورت ہے سیدھا سادہ مطلب ہے جدید ہتھیا ر اور ان کے کارتوس ساتھ لانا تاکہ دہشت گردی کا بازار گرم کیا جاسکے اور الیکشن میں دھاندلی کی جائے ۔  *****
7مئی 2013ء  Back to Conversion Tool
Back to Home Page