Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

18مارچ ایم کیوایم کے 31ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک خصوصی تحریر ’’ آؤ پھول اگائیں ‘‘...تحریر : جاوید کاظمی

 Posted on: 3/18/2015   Views:602
بشکریہ جنگ
 ہمارے گاؤں میں جب بھی کوئی ناگہانی پیش آتی ہے تو تمام گاؤں والے فضلو چا چا سے رجوع کرنے ان کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں ۔ہمارے گاؤں کے ایک قدیمی ہر دل عزیز کردار کے مالک جناب فضلو چا چا ہے جن کا عمل و کردار واقعتا لائق تحسین ہے وہ بڑے دل نشین لفظوں میں ایسی عمدہ نصیحت کرتے ہیں کہ جی خوش ہوجاتا ہے ۔ ہم نے جب سے آنکھ کھولی تو فضلو چا چا کو کسی نہ کسی کے کام آتے ہی دیکھا ہے وہ واقعتا بڑے اچھے انسان ہے ۔آج کل پورے گاؤں نے ان کے گھر ڈیرہ ڈال رکھا ہے ۔ ایک گیا تو ایک آیا ہم بھی کسی سے پیچھے رہنے والے تھوڑی تھے جھٹ سے ایک روز فضلو چاچا کے گھر جا پہنچے ۔فضلو چاچا کا گھر ہر ایک کے لئے کھلا ہی رہتا تھا ۔ ہم جب وہاں پہنچے تو فضلو چاچا حسبِ معمول اپنی پرانی کھاٹ پر بیٹھے پیالہ ہاتھوں میں تھامے قہوے کے پھیکے اور بے مزہ گھونٹوں کو بڑے اطمنان کے ساتھ اپنے حلق میں انڈیل رہے تھے ۔میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو بڑے پیار سے کہاں آجاؤ ۔آجاؤمیاں یہ بھی تمہارا ہی گھر ہے ۔میں نے شکریہ ادا کیا اور ان کے کمرے میں ایک طرف رکھی بانس کی بنی ہوئی کرسی پر برا جماں ہوگیا ۔ اپنی سانسیں درست کرنے کے بعد میں نے فضلو چاچا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے کیا نصیحت ہے ؟ فضلو چاچانے بے خودی کے انداز میں پیالے کا آخری گھونٹ پیتے ہوئے کہا کہ جو سب کیلئے وہ تمہا رے لئے ۔اس جملے کی ادایگی کے بعد کمرے میں کچھ ساعتوں تک خا مو شی نے ڈیرے جم لئے تھے پھر اچانک فضلو چچا نے کمرے میں پھیلی ہو ئی خا مو شی کا قفل توڑتے ہو ئے کہا ارئے میا ں ہم نے اپنے پو رے گا ؤں والو ں کو نصیحت کر دی ہے۔حیرت ہے کہ تمہیں اس کی خبر کیو ں نہیں ہو ئی؟میں نے کہا کہ ہا ں مجھے اڑتی اڑاتی کچھ گن سن ضرور ملی تھی لیکن میں نے سوچا کہ میں خو د جا کر فضلو چاچا سے اس کی تصدیق کر و نگا۔سو اس لئے حاضر ہووا ہوں فضلو چاچا نے قہوے کا خالی پیالہ جو ابھی تک انکے ہاتھوں میں تھما ہوا تھا ایک طرف رکھتے ہوئے کہاکہ میاں دیکھو ! یہ بن بلایا کہرٹ موسم ہے نہ اس کی پرواہ مت کرو ۔۔۔اور اپنے کام میں جت جاوبس !میں نے فضلو چاچا سے پوچھا کون سا کام ؟؟فضلو چاچانے پھر ایک بار مجھے حیرت زدہ نگاہوں سے ٹٹولا پھر بے خودی کے انداز میں اپنے کاندھے اُچکائے اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑائے جس کا مطلب میں نہیں سمجھ سکا تھا ۔۔۔ پھر پل بھر کی خاموشی کے بعد وہ مجھ سے مخاطب ہوئے میں نے گاؤں کے تمام بوڑھوں ، بچوں ،جوانوں حتی کے عورتوں اور بچیوں کو یہ نصیحت کردی ہے کہ وہ اس موسم کو ذرا بھی خاطر میں نہ لائیں ۔۔۔اس سے ہر گز رنجیدہ نہ ہوں ۔۔۔بلکہ وہ اس موس�ؤ خزا ں میں موسم بہار کی آمدکی تیاریوں میں خود کو مصروف کرلیں ۔ میں نے فضلو چاچا کی باتوں کے درمیا ن لقمہ دیا وہ کیسے؟انہوں نے کہا کہ ایک طرف تمام لو گ اس گھوسٹ موسم کی سختیوں ، مصائب و وحشتوں کو خاطر میں نہیں لائیں گے تو وہ پریشان نہیں ہوں گے ۔نہ بد حواس نہ غمگین ہوں گے۔دوسر ے وہ خود کو ایک ایسے کام میں مصروف کرلیں گے جو انہیں کل کی ایک اچھی نیک اور روشن آس و امید کے بر آنے کے نیک مشن و مقصد کی تکمیل کیلئے رغبت دلائے رکھے گا ۔فضلو چاچا نے بڑے پر جوش لیکن بڑی دانائی کے لہجے میں کہا ’’ آج کیسا ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔لیکن آنے والا کل ضرور با مقصد اور بامعنی ہونا چاہئے ‘‘۔ کیوں میاں ؟ فضلو چاچا نے ہنکارا بھرتے ہوئے مجھے مخاطب کیا ۔میں نے سر کو جنبش دی اور سوچنے لگے جیسے اُلجھی گتھی کو سلجھا رہا ہوں ۔فضلو چاچا نے مجھے اس کیفیت میں دیکھا تو بولے کیوں میاں کہاں کھو گئے ؟ میں نے گہری سوچ لئے سر اُٹھایا اور ان سے مخاطب ہوا کہ فضلو چاچا موسم بہار کی آمد کی تیاریاں ہمیں کیسے کرنی ہوں گی ؟ فضلو چاچا نے میرے سوال پر چونکتے ہوئے کہا کیوں اس میں کون سے قباحت ہے؟ میں نے کہا کہ میری سمجھ اتنی وسیع نہیں ہے جو آپکی باتوں کا احاطہ کر سکے ۔فضلو چاچا زور سے ہنسنے لگے یہاں تک کے انہیں بری طرح کھانسی نے آ گھیرا ور وہ کھانستے کھانستے تقریباً لب دم ہو رہے تھے تب میں نے جلدی سے اُٹھ کر انکی پیٹ کو ہاتھوں سے سہلایا ۔فضلو چاچا نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کوکہا اس ووقت وہ اپنی کھانسی پر قابو پا چکے تھے فضلو چاچا نے اپنے پاس پڑے رومال سے اپنا پسینا پونچھا پھر اسے ایک طرف رکھتے ہوئے مجھ سے گویا ہوئے ۔میاں موسم بہار کا اندازہ تم کیسے لگاتے ہو؟ وہ مجھے نہیں معلوم میں تو یہ جانتا ہوں کہ موسم بہار میں تازہ و رنگ برنگے پھول پیدا ہوتے ہیں بس یہی میرا فلسفہ ہے ۔اب تم جو ٹھہرے بابو لوگ تمہاری باتیں تو چاند کی مخلوق ہی سمجھتی ہو گی۔ہم ٹھہرے پرانے وقتوں کے نکمے لوگ لیکن ہم نے تواپنے پرکھوں سے جو سیکھا ہے اس پرابھی تک قائم ہیں ۔میں نے شرمندہ ہوتے ہوئے فضلو چاچا کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور ان سے معافی کاطلبگارہوا فضلو چاچا نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔ میں نے فضلو چاچا سے کہا کہ میں آپ کی اس نصیحت کو ایک مشن و مقصدکے طورپر پو خلوص دل کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کرتا ہوں اور اسی جملے کے ساتھ میں نے فضلو چاچا سے جانے کی اجازت طلب کی اور انکے گھر سے باہر نکل آیا ۔۔۔راستے میں میں یہ سوچ رہا تھا کہ موسم بہار کی آمد کی تیاریوں کی ابتداء کیسے کی جائے ؟؟میں نے اپنے گھر جانے کیلئے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جس پر بہت کم آمد و رفت رہتی تھی چونکہ یہ راستہ قدر سناٹے دار تھا میں نے جان بوجھ کر اس راستے کا انتخاب اس لیے کیا تھا تاکہ میری سوچوں اور خیالات کو یکسوئی حاصل ہو سکے میں چلتا رہا ۔۔۔چلتا رہا اور میرا ذہن فکر کو استراق بخشتا رہا ابھی میں نے آدھا راستہ طے کیا ہی ہوگا کہ اچانک میرا ذہن کالج کی کلاسوں کی جانب مبذول ہوگیا میں انٹر کا طالب ہوا کرتا تھا خیالات مجھ کو کالج اور اسکے بعدکلاس میں لے گئے کلاس کی ابتداء ہو چکی تھی ، میرے پروفیسرکلاس میں آچکے تھے اور انہوں نے آتے ہی کلاس کا آغاز ایک دلچسپ سوال سے کیا اور پوچھا کہ ’’ ایک باغ اور جنگل میں کیا فرق ہے‘‘؟طلبہ نے مختلف جوابات دئیے مثلاً با غ باقاعدہ منصوبہ بند ی سے تیار ہوتاہے جبکہ جنگل نہیں ہوتا ۔باغ کا مالک یہ فیصلہ کرتاہے کہ اسے کیا درکارہے ؟ اوراسکے لئے اسے باغ میں کیا اُگانا چاہئے وہ اپنی پسند کے بیج بوتا ہے اور اپنی مرضی کی فصل حاصل کرتا ہے جبکہ جنگل میں جڑ ی بوٹیاں اورپودے خود با خود اُگتے ہیں یا ان بیجوں سے جو گزرتے ہوئے لوگ پھینکتے ہیں ۔مالک اپنے باغ کی آبیاری کی فکر کرتاہے اور اسے بیماریوں اور موسمی حالات سے بچانے کیلئے اسکی حفاظت کرتا ہے لیکن جنگل کے لئے پریشان ہونے والااور اسکی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔پروفیسر صاحب نے یہ جوابات سن کر اثبات میں سر ہلایا اور پوچھا اب آپ یہ بتائیے کہ آ پ زندگی کو کیسا دیکھنا پسند کریں گے؟ آپ کے خیال میں آپ کی زندگی جنگل کی مانند ہونی چاہئے یا باغ کی مانند ؟۔۔۔آپ کی زندگی اس جنگل کی مانند ہونی چاہئے جولوگوں کے پھینکے ہوئے بیجو ں سے پروان چڑھتا ہے یا اس باغ کی طرح جس کا ہر پودا اور ہر پھول سوچ سمجھ کر اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے لگایا اور پروان چڑھایا جاتاہے ؟ اگر آپ اپنی موجودہ زندگی میں آنی والی مطلوبہ زندگی کیلئے بیج نہیں بوتے یا ان بیجوں کی آ بیاری اور حفاظت کا بندوبست نہیں کرتے تو آپ کسی صورت وہ زندگی حاصل نہیں کر سکیں گے آپ چاہتے ہیں ۔ایسی صورت میں آپکی زندگی ایک جنگل کی طرح بد نظمی اوربے ترتیبی کا شکار رہے گی لیکن اس کے برعکس اگر آپ اپنی زندگی کی ایک باغ کی مانند حفاظت کریں گے اور اس میں اپنی مرضی کے بیج ڈالیں گے تو مستقبل میں یقیناًآپ اپنی مرضی کی فصل لے سکیں گے ۔مجھے فضلو چاچا کا فلسفہ اب پوری طرح ذہن نشین ہو چکا تھا ۔ ایک ترتیب کیساتھ گاؤں میں پھول اُگانے ہیں جن کے رنگ اور خوشبوگاؤں کے احساسات کو معطر رکھنے کا موجب بنے گی بلکہ گاؤں والے خود بھی پھولوں کی طرح خوشبو دار ہو جائیں گے انہیں آئندہ کو ئی خزاں کا بھیانک موسم پریشان نہ کر سکے گا ۔اب میرا یہی مشن و مقصد ہے اور یہ میں اپنے دوسرے لوگوں میں بھی منتقل کروں گا ۔ آج ایم کیوا یم کا 31واں یو م تاسیس ہے ہم قائد تحریک جناب الطاف حسین سمیت تمام کارکنان ک مبارک باد پیش کرتے ہیں ٹھیک آج سے 31برس قبل محترم قائد تحریک نے بھی ایک وحشت زدہ ماحول میں نئے اور تازہ پھولوں کی آبیاری کی داغ بیل ڈالی تھی جس نے آج ایسے باغ کی شکل اختیار کر لی ہے جو ہر قسم کے رنگ برنگے پھولوں سے پھندا ہے۔