Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

خو شگو ارصبح ... تحر یر : عشرت علی خان

 Posted on: 3/18/2015   Views:471
تقسیم ہندکے وقت ایک علا قے سے دو سر ے علا قے میں آنے والے نہ تو پنا ہ گیر تھے، نہ اُردو اسپیکنگ اور نہ ہی ہندوستا نی اس لئے کہ اس وقت یہ سا را علا قہ جہا ں پاکستا ن، ہندو ستا ن اور بنگلہ دیش قا ئم ہیں سب کا سب ہندو ستا ن کہلا تا تھا لہذا نہ تو کسی نے کسی جگہ پنا ہ لی نہ کو ئی ہندو ستا نیت سے مستشنی نہ تھا اور نہ ہی اُردو سے کیوں کہ بر صغیر کے ہر علا قے کے لو گو ں اور خا ص طو ر پر مسلما نو ں کی زبا ن تو اُردو ہی تھی البتہ معرو ضی حا لا ت کے تحت اُس وقت کے لو گو ں نے ہجر ت کی تھی ایک علا قے سے دو سر ے علا قے کی طر ف اقلیتی مسلم علا قوں سے اکثر یتی مسلم علا قوں کی طر ف لیکن یہی جذبا تی ہجر ت بعد میں گلے کی ہڈی بن گئی اور اکثر یتی مسلم علا قوں کے لوگوں نے دوسرے علاقوں سے آئے لو گو ں کی راہ میں کا نٹے بچھا نا شروع کر دیئے ان کی دانش، ان کی حُب الو طنی، ان کے جذبے کو دبا نا شروع کر دیا اور با قا عدہ سوال اُٹھا نے لگے اور ان کے سو الو ں کو سن کر آئے ہو ئے لو گ سو چنے لگے ،
کو ن ہیں ؟ کیا ہیں ؟پتہ کیا ہے ؟ ادھر کیو ں آئے ؟ ہم ہیں اس ملک میں آبا د سوا لو ں کی طرح  تب مجبو راً حا لا ت کی ستم ظریفی کا شکا ر ہو نے والو ں نے اپنے لئے با عزت راستہ ڈھو نڈنا شروع کیا اس لئے کہ اب اس نئے ملک کو چھو ڑ کر جا نے کا ارا دہ کسی کا بھی نہیں تھا ۔یہ نیا ملک ان کی لا تعدا د قر با نیو ں کے بعد بنا تھا اس کے لئے انہو ں نے اپنی جا ن ،اپنا ما ل، اپنی عزت اپنی آبر و دا ؤ پر لگا ئی تھی وہ اچھی طر ح جا نتے تھے کہ، اُجڑ ے ہیں کئی شہر تو یہ ملک بسا ہے  یہ ملک جو چھو ڑا تو کدھر جا ؤ گے لو گو  حا لا ت نے ہم لو گو ں پہ بہت ظلم کئے ہیں  ہم تم کو سنا ئیں گے تو ڈر جا ؤ گے لو گو  لہذا ،اس ملک، انہی صو بو ں اور ان ہی شہر وں میں بسنے کے لئے ایک تنظیم کی بنیا د رکھی گئی اس خو ش گو ار صبح کا آغا ز 18، مارچ ، 1984ء کو ہو ا ،پھر یہ ہو ا کہ یہ تنظیم بے سہا را مظلو م اور اپنی دھر تی چھو ڑ کر یہاں بسنے والوں کی تنظیم بن گئی ۔ہجر ت کر کے آنے والو ں نے اسے اُمیدکی آخری کرن سمجھا ۔وہ لو گ جو بگولوں کی صورت یہا ں وہا ں پھر رہے تھے ،زمین پر پڑے پتھر وں کی طر ح ٹھو کروں میں تھے آخر آہستہ آہستہ اپنی شنا خت پا نے لگے ۔کیو نکہ انہیں یہ با ت اچھی طرح معلو م تھی کہ جب وہ اپنے علا قوں میں تھے تو وہا ں غیر بھی اپنے اپنے لگتے تھے لیکن جب وہ محبتو ں کی تلا ش میں یہا ں آئے تو جنہیں اپنا سمجھا تھا اُن کا سلو ک غیر وں جیسا ہو نے لگا ۔متحدہ قو می موومنٹ نے بے شنا خت لو گو ں کو نہ صر ف یہ کہ شنا خت دی بلکہ یہاں کے اصل با شندوں کو بھی اپنی تنظیم میں جگہ دیکر پا کستا ن اور قیا م پا کستا ن کی اصل روح کو پر وان چڑھایا ۔یہ بتا یا کہ اس ملک میں بسنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں چا ہے ان کا کو ئی بھی مذہب ہو فرقہ ہو ،رنگ ہو یا نسل ہو ۔یہ سب لو گ صر ف اور صرف پا کستا نی ہیں اور ان کی سو چ پا کستا نی ہی ہو نا چا ہیے اس سے الگ ہٹ کر سو چنا حما قت ہے ۔یہ دھر تی ہما ری ہے ،یہ ملک ہما را ہے ،ہم سب کا ہے اور اسی لئے متحدہ کی یہ خو اہش ہے کہ  چا ہتے ہیں کہ پھو لے پھلے یہ چمن  شا داب ہو ں اس کے کو ہ و دامن  پھو ل کھل جا ئیں ہر سو چمن در چمن  یہ سلا مت رہے تا قیا مت رہے  متحدہ قو می مو ومنٹ کا یو م تا سیس اس بات کی یا د دلا تا ہے کہ در میا نے طبقے کی یہ نما ئندہ تنظیم اس ملک ،اس وطن اور یہاں کے رہنے وا لو ں سے سچا پیا ر کر تی ہے وہ اس ملک میں حقیقی جمہو ریت کی خو اہا ں ہے ۔وہ اس ملک سے و ڈیرہ شا ہی اور جا گیر دا را نہ نظا م کا خا تمہ چا ہتی ہے ۔وہ چا ہتی ہے کہ اس ملک کے غریب عوا م امن و  سکو ن سے زندگی گزا ریں انہیں آنے والی کل کا کھٹکا نہ ہو ، انہیں رو ٹی کپڑا اور مکا ن کے علا وہ صحت اور تعلیم ملتی رہے ۔اس ملک میں انصا ف ہر کسی کو با کفایت اور با آسا نی ملتا رہے ،یہاں ٹیلنٹ کی قدردانی ہو ،یہ نہ ہو کہ پیسوں اور سفا رش کی بنیا د پر حق دا رکا حق ما ردیا جا ئے ۔ متحدہ قو می مو و منٹ کا یوم تا سیس اس با ت کا بھی احسا س دلا تا ہے کہ اگر لو گ جذبہ ایما نی، قا ئد کی محبت ،مقصد کی سچا ئی کو سامنے رکھ کر جدو جہد کر یں تو اپنے مقا صد میں کامیا ب ہو سکتے ہیں ۔اس دن کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہو ئے تما م لو گو ں کو اس با ت کا اعا دہ کرنا چا ہئیے کہ وہ اپنے نصب العین کے حصو ل کے لئے تن من دھن کے ساتھ کا م کر یں گے تا کہ ایک خو ش حا ل ،پُر امن اور غیر متعصب معاشرے کے قیا م کو ممکن بنا یا جا سکے ۔ آج کا دن اُسی خو شگو ار صبح کا احسا س دلا تا ہے جس صبح کی تمنا اس وطن میں بسنے والے ہر غریب کو ہے ،ہر مفلس کو ہے بلکہ ہر اُس شخص کو ہے جو بے یا ر ومدد گا ر ہے جس کا کو ئی والی وارث نہیں متحدہ اس کو سپو رٹ کر نا چا ہتی ہے اُس کی پشتی با ن بننا چا ہتی ہے اس کی سہو لت کا ر بننا چا ہتی ہے تا کہ خو شگو ار صبح کی خو شگو اری ہر چہر ے پر نظر آئے ۔کیو نکہ متحدہ کا منشو ر ہی یہی ہے کہ و ہ محرو مو ں کو معزز ،مفلسوں کو محترم ،مجبو روں کو معتبر اور مظلو موں کو منظم کر ے ۔نا انصا فی جہا لت اور تعصب کے خلا ف آواز بلند کر نا فلسفہ الطا ف ہے ،خو ش حا لی، امن، بھائی چا رہ پیغا مِ الطا ف ہے ،مظلو مو ں ،مجبو روں اور محرومو ں کی داد رسی نظر یہ الطا ف ہے ۔متحدہ قو می مو ومنٹ ان با تو ں کو سا منے رکھ کر جدو جہد کر رہی ہے کو شش کر رہی ہے ۔اب لو گ متحدہ کی ان ہی کا وشو ں اور کو ششوں کو دیکھ کر سو چنے لگے ہیں کہ آنے والا کل ان کا ہو گا ۔آنے والی خو شگو ار صبحیں ان کی ہو ں گی بس یہ متحدہ کا فلسفہ بھی ہے فکر بھی اور سو چ بھی ۔جناب الطاف حسین کوایم کیو ایم کا 31 واں یومِ تاسیس مبارک ہو۔