Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

لیبر ڈویثرن کا قیام استحصالی نظام کا خاتمہ... تحریر : صاعقہ ناز

 Posted on: 2/28/2015   Views:351
تحریر : صاعقہ ناز
روزنامہ: جنگ

جب معاشرے میں معاشی، معاشعرتی، سماجی، سیاسی، مذہبی اور نسلی ناانصافیاں عروج پر پہنچ جائیں اور یہ ناانصافیاں ایک مخصوص طبقے کے ساتھ کی جائیں ایسے میں جنم لینے والی تحریکیں کامیابی کا سفر جاری رکھنے کے لیے آگ اور خون کے دریا پار کرتی ہیں ایسا ہی کٹھن اور پر آزمائش سفر جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے طے کیا جو آج تک جاری ہے آج مظلوم و محکوم طبقہ اپنے مسائل کے حل کے لیے الطاف حسین اور ان کے رفقا کو رحمتِ خداوندی سمجھ کر ان کے ساتھ قدم بہ قدم اپنے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ راستے دشوار و کٹھن ضرور ہیں لیکن الطاف حسین کے درس نے، ان کی بے لوث خدمات نے اس محروم و محکوم طبقے کو ایک ایسے انقلاب کی نوید دی ہے جس کے بعد اس ملک میں بھی مزدور اور محنت کش طبقے کے مسائل فوری بنیادوں پر حل ہوسکیں گے۔ پاکستان کے کسی بھی کونے میں محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے آج متحدہ قومی موؤمنٹ ان مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ترقی یافتہ قوموں میں محنت کش اور مزدور طبقے کو ملکی پرقی اور استحکام میں ریڑھ کی ہڈی حاصل ہوتی ہے جس پر یہ نظامِ سلطنت قائم رہتا ہے۔ لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ حق تلفی اسی طبقے کی کی گئی ہے۔ ظلم کی چکی میں پسے ہوئے اس طبقے کو نہ بنیادی حقوق دئیے گئے ، نہ مراعات دینے کا سوچا گیا اور نہ انہیں مملیکتِ خداداد میں عزت و وقار کا مقام عطا ہو سکا لیکن اس طبقے کو آسودگی اور طمانیت کا احساس اس وقت ہوا جب ایک مضبوط پلیٹ فارم سے ان کے حقوق کے لیے آواز حق بلند کی گئی اور یہ پلیٹ فارم ایم کیو ایم کا تھا جس کا قیام ہی مظلوم و محکوم عوام کے حقوق کی فراہمی کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔
قائدِ تحریک الطاف حسین نے محنت کشوں اور مزدوروں کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ایم کیو ایم میں باقاعدہ طور پر 28فروری 1987کو ایک شعبہ کی بنیاد رکھی جسے لیبر ڈویثرن کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد محنت کش، مزدور طبقے کے ہر طرح کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنا ہے۔ ایم کیو ایم میں لیبر ڈویثرن کے قیام سے بلا شبہ مزدور اور محنت کشوں کے مسائل حل ہوئے اور انہیں اپنا مستقبل تابناک نظر آنے لگا اوران کا اعتماد لیبر ڈویثرن پر بڑھتا چلا گیا اور رفتہ رفتہ لیبر ڈویثرن کا دائرہ کار بھی وسیع ہوا اور نیشنل موٹرز سے نکل کر اسٹیل مل اور دیگر اداروں اور محکموں میں پھیلتا گیا لیکن لبیر ڈویثرن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور لوگوں کی داد رسی کے عمل نے اسٹپلیشمنٹ کو بھوکھلا دیا اور انہوں نے ان اداروں میں مزدوروں اور محنت کشوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کردی اور مختلف اداروں سے لاتعداد مزدوروں کو نکلا گیا، کتنوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے کہ وہ مفرور ہوگئے اور کتنے ہی محنت کشوں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے نہ صرف یہ کہ لیبر ڈویثرن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے اس کے عہدیداروں کو بھی کبھی بربریت کا نشانہ بنایا گیا اور کتنے ہی ساتھیوں نے یہ جام شہادت نوش کیا لیکن قائدِ تحریک نے اپنے وطن کے محنت کشوں کی مدد کا جو بیڑا اٹھایا تھا وہ جاری رہا اور کوئی اس جدوجہد سے پیچھے نہ ہٹا اسی دوران ایم کیو ایم پر انتہائی کڑے وقت آتے رہے لیکن کسی بھی شعبے کی کارکردگی متاثر نہ ہوئی۔ شعبہ جات کے کارکنان پر بھی بے انتہا ظلم کئے گئے اور ہر طرح انہیں ان کے کاموں سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن قائدِ تحریک کے یہ وفادار اور جانثار ساتھی نہ ڈرے، نہ رکے بلکہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ 28فروری 1987سے آج تک بلاشبہ لیبر ڈویثرن کی کارکردگی انتہائی بہترین رہی اس نے ہمیشہ ہر پلیٹ فارم پر محنت کشوں کے حقوق اور ان کے لیے مراعات کے لیے آواز بلند کی اور بلا تفریق پر قوم و مسلک سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں اور مزدوروں کی داد رسی کی، آج متحدہ قومی موؤمنٹ میں لیبر ڈویثرن کا انتہائی فعال شعبے کے طور پر کام کررہا ہے اور ملک بھر کے محنت کشوں کے مسائل کا حل اور ان پر ہونے والے ظلم و ناانصافی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان آج جہاں مختلف مسائل کا شکار وہیں اس کے محنت کش اور مزدور بھی انتہائی مصائب و مشکلات کا شکار ہیں آج حلال روزی کمانے والے جن کے لیے حکم ہے کہ ان کی اجرت ان کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کردو وہ آج بھی دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ آج ملک بھر میں اہم صعنتیں، ملیں اور فیکٹریاں بجلی اور گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہورہی ہیں، لوگوں کو اپنی ملیں اور فیکٹریاں بند کرنی پڑرہی ہیں جس کی وجہ سے محنت کش اور مزدور طبقہ مزید مصائب اور مشکلات کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ محنت کش کو نہ روزی میسر ہے نہ روٹی اور نہ علاج معالجے کی بنیادی سہولیات مسیر ہیں نہ تعلیم کا حق ہے، لیکن آج سیاست دانوں اور امراء طبقے کو اس محکوم و مظلوم طبقے کی نہ فکر ہے اور نہ ان کے مسائل کے حل کی کوئی خواہش۔ متحدہ قومی موؤمنٹ اور قائدِ تحریک ان مسائل کے حل کے لیے ہر جگہ آواز بلند کررہے ہیں اور 27سال سے مسلسل مزدوروں اور محنت کش طبقے کے حقوق کے حصول کی جنگ لڑرہے ہیں۔ لیبر ڈویثرن کے قیام سے لے کر آج تک ہر سطح پر ان کے حقوق کے حصول کے لیے متحدہ قومی موؤمنٹ نے بلا خوف و خطر آواز اٹھائی ہے وہ کراچی میں ہونے والا بلدیہ ٹاؤن کا سانحہ ہو یا ملک کے کسی بھی حصے پر محنت کشوں پر ہونے والا ظلم۔ متحدہ قومی موؤمنٹ نے ہمیشہ اس طبقے کی دادرسی کی ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج انہی مظلوموں کی داد رسی کرنے والی انسان دوست تنظیم کو ایک G.I.Tرپورٹ کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل کیا جارہا اور بغیر کسی ثبوت کے صرف ایک شخص کے ذاتی بیان پر متحدہ قومی موؤمنٹ پر اس طرح سے دائرہ تنگ کیا جارہا ہے جیسے کہ اس پر الزام ثابت ہوکر سزا سنادی گئی ہے۔ جب کہ ایم کیو ایم کے قائد خود کہہ چکے ہیں کہ ایسے درندہ صفت لوگوں کو بلدیہ چوک پر پھانسی لگادی جائے۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی ملک کے ہر حصے میں مزدوروں اور محنت کشوں کے مسائل کے حل کے لیے لیبر ڈویثرن کے یونٹ انتہائی فعال کردار ادا کررہے ہیں اور یقیناًیہ الطاف حسین کا عطا کردہ شعور ہے جس کی بدولت آج لیبر ڈویثرن ملک بر کے محنت کشوں اور مزدوروں کے لیے روشنی کی وہ کرن ہے جس کی روشنی میں انہیں اپنا مستقبل محفوظ، روشن اور تابناک نظر آرہا ہے آج ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور ظلم و جبر کے شکار لوگوں کے لیے الطاف حسین ایک مسیحا ہیں جنہوں نے ظلم و جبر کے نظام کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور یقیناًعنقریب ملک سے استحصالی اور جابرانہ نظام کا خاتمہ الطاف حسین کا مشن ہے اور لیبر ڈویثرن کے قیام کا مقصد بھی۔