Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کا جرم ..تحریر : شعورحسین

 Posted on: 2/3/2015 1   Views:411
کالم: کراچی کا جرم تحریر : شعورحسین شکریہ: روزنامہ جنگ
پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ہر روز لاشیں اٹھانے پر مجبور ہے حکمراں جماعت مسلسل دعوے کررہی ہے کہ موجودہ آپریشن کے آغاز پر وزیر اعظم نے پولیس ،رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادروں کو فری ہینڈ دیا تھا اورتمام جماعتوں نے اسکی حمایت کی تھی اس بیان سے کسی کو اختلاف نہیں لیکن اسی اجلاس میں یہ تہ ہواتھا کہ اس آپریشن کے کپتان وزیراعلیٰ سندھ ہونگے اور اسکے ساتھ ساتھ زیادتیوں کے ازالے کیلئے اعلیٰ اختیارتی نگراں کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی اب اگر اس آپریشن کے دوران ظلم زیادتیاں ہونگی تو اسکا تدارک کون کریگا کیونکہ نگراں کمیٹی کا وجود ہی نہیں ہے تو زیادتوں کا ذمہ دار وہی ہوگا جو اس آپریشن کا کپتاں ہے۔اب اگر سندھ دوسری بڑی سیاسی جماعت اپنے کارکنوں کے لاپتہ ہونے اور تشدد کے بعد قتل ہونے کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ سندھ پر عائد کررہی ہے تو حکومت کو ناگوار کیوں گذررہا ہے اگر کامیابی کا سہرا حکومت اپنے سر باندھ رہی ہے تو پھر ظلم و زیادتی کا جواب بھی دے کیوں کہ اب تک وہ کمیٹی تشکیل نہ پاسکی جو اس آپریشن کی سمت کو درست رکھنے کی ذمہ دار تھی مذکورہ کمیٹی کا قیام حکومت کی ذمہ داری تھی یہاں یہ امر بھی واضح رہے کے وفاقی حکومت نے بھی اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے۔جب جب ایم کیو ایم اپنے کارکنان کی ماوائے عدالت قتل کی بات کرتی ہے تو حکومتی ترجمان لیاری میں ہونے والے واقعات کا تذکرہ کرکے کہتے ہیں وہاں بھی لوگ مارے جارہے ہیں اسے المیے سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے بے گناہ لیاری میں قتل ہو یا شہر کے کسی اور حصے میں حکومت تقابلی جائزہ پیش کر کے اگر یہ سمجھتی ہے کہ اسکی ذمہ داری پوری ہوچکی ہے تو یہ اسکی بھول ہے ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کو برخاست کیا گیا آتھا تو اسپر عائد ہونے والی فردِ جرم کا پہلا نقطہ ماوارائے عدالت قتل ہی تھا جسے بعد ازاں عدالتِ عظمیٰ نے درست قرار دیتے ہوئے بینظیر حکومت کی بر طرفی کو جائز قرار دیا تھا۔ ایم کیوایم کے ۳۶ کارکنان مختلف طریقوں سے اب تک قتل کئے جاچکے ہیں اور آپریشن کے کپتان کے سر پر جوں بھی نہ رینگی اور عدالتی تحقیقات کے دعوے کئے گئے لیکن ہنوز کوئی تحقیقات فیصلہ کن ثابت نہ ہوسکی اور ہوتی بھی کیسے کیوں نکہ عدالتی کمیشن کا صرف اعلان ہی ہوا اور وجود میں نہ آسکا اس صورتحال میں اگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تنقید کی ذد میں نہیں آئینگے تو پھر کون آئیگا حکومت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے ایسے میں اعلیٰ عدلیہ کو اپنے اختیار سماعت کے حق کو استعمال کرنا چاہیے بصورتِ دیگر حیدر عباس رضوی کا وہ خدشہ حقیقت کاروپ دھار سکتا ہے کہ ابھی تک قائد تحریک الطاف حسین اور ایم کیو ایم اس طوفان کو روکے ہوئے ہے جو کارکنان کے سینوں پرورش پا رہا ہے اگر یہ حالات برقرار رہے تہ پھر خورو پودوں کی طرح معاملات عوام اور کارکنان اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور پھر حالات جو رخ اختیار کرینگے اسکا ادراک شاید حکومت کو نہیں ۔ دوسری جانب شہر میں فراہمی و نکاسی آب کی ابتر ہوتی صورتحال حکومت کی نااہلی کا نوحہ پڑہ رہی ہے وہیں بجلی کا بحران اور بدعنوانی پر عوام ماتم کررہے ہیں پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور سندھ کا دارلحکومت ٹریفک کے نظام سے محروم ہوچکا ہے پھر جمہوریت کے علمبردار بلدیاتی انتخابات کرانے منہ چرارہے ہیں۔ سہولیات کے حوالے سے حکومت کی عدم توجہی اور امن وامان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کہیں اس سازش کا حصہ تو نہیں جس نے بینظیر بھٹو مرحومہ کے آخری دورِ حکومت میں جنم لیا تھا کے کراچی کو دو حصوں میں منقسم کرکے دو مختلف انتظامی ڈویژن میں بانٹ دیا جائے اگر اس بدامنی اور عدم ترقی کا مقصد اس قسم کے مکرو عزائم کا حصول ہے تو بڑے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔آج وزیر اعظم کراچی تشریف لا رہے ہیں انکی کوشش ہونی چاہیے کے کراچی آپریشن کی سمیت کا جائزہ لیں اور صرف الزامات کی بنیاد سادہ لباس میں ملبوس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی کاروائیاں بند کراکے انھیں قانون کے دائرے میں لایا جائے ساتھ ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں انکے ازالے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں اور کراچی شہری مسائل کے لئے کسی بڑے پیکج کا اعلان کرکے کراچی کے شہریوں کے زخموں پر مر ہم رکھیں۔ پیپلز پارٹی گذشتہ سات سالوں سے بلا شرکتِ غیرے سندھ پر حکمراں ہے اور عوام دوست ہونے کی دعویدار بھی تو بلدیاتی انتخابات کیوں نہ کراسکی جمہوریت پسند اپنے آپ کہتے کہتے نہ تھکتے لیکن عوام کو اقتدار میں شامل کرنے سے گریزاں ہیں کیونکہ اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنے سے صوبے وسائل پر حکمراں اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے یہی وجہ ہے کہ سندھ کے شہر ہوں یا دیہات وہ پسماندگی کا شکار ہیں سندھ کے دیہی علاقوں کے سادہ لوح عوام کو لسانی نسلی تعصب کا جھانسہ دے انکے حقوق پر زیادہ دیر اپنی حکومت قائم رکھنا اب مشکل ہوگا کیونکہ دیگر صوبے اپنے عوام کے مسائل کے حل کیلئے بہتر انداز میں کام کررہے ہیں اور مقابلے کا یہ رجحان روٹی کپڑا اور مکان کے فرسودہ نعرے کو بہا کر لے جائیگا۔