Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سیاسی کھچڑی تحریر : ارشد حسین

 Posted on: 3/31/2013   Views:1324
(سیاسی کھچڑی)
تحریر : ارشد حسین
ووٹ ایک امانت ہے اسے استعمال کرنا ہر شہر ی کا نہ صرف حق ہے بلکہ اسکا قومی فریضہ بھی، الیکشن 2013ء کی زور و شور سے انتخابی مہم چل رہی ہے اور سیاسی ومذہبی جماعتیں ایک طرف ایک دوسرے کی مخالفت میں بھی پیش پیش ہیں جبکہ دوسری جانب انہی جماعتوں کا آپس میں سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور یہ بھی دیکھا جارہاہے کہ جو لو گ اپنی اپنی سیاسی ومذہبی جماعتیں چھو ڑ کر دوسری جماعتوں میں شامل ہوئے مگر پارٹی ٹکٹ نہ دیئے جانے پر مایوس ہوکر وہ آزا دامیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں کیونکہ وہ دوبارہ اس جماعت میں واپس جانے سے قاصر ہیں ،ایسے لوگوں کے کیلئے یہ محا و را کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ’’ دھوبی کا کتانہ گھر کا نہ گھاٹ کا ‘‘ یہاں ایک بات اور ثابت ہوئی کہ جتنے بھی رہنماء اپنی جماعتیں چھوڑ کر دوسری جماعتوں کی جانب جانے والے صرف اسی امید کے ساتھ ان جماعتوں کا رخ کر رہے ہیں کہ انہیں وہاں پارٹی ٹکٹ مل جائے۔ جو قوم پرست رہنماء ایک ہوتے نظر آرہے تھے ان میں بھی اختلافات واضح دکھائی دے رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے مقابلے میں انتخابا ت میں حصہ لیتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں جیساکہ ایاز پلیجو اور ڈاکٹر قادر مگھسی میں ہوا ، جبکہ آج بڑی بڑی پارٹیاں ٹو ٹ پھوٹ کا شکا ر ہیں محض پارٹی ٹکٹ میں بندر بانٹ کا مظاہر ہ کئے جانے پر، حتیٰ کہ پارٹی کارکنان ایک دوسرے کو تشدد کانشانہ بھی بنارہے ہیں ۔ جبکہ تحریک انصاف جسکا دعویٰ ہے کہ وہ ایک سیکولر ،جمہوری جماعت ہے اور وہ نوجوانوں کو پارٹی ٹکٹ دے کر ایونوں میں بھیجے گی اور ملک میں تبدیلی لائے گی ، اس جماعت میں پارٹی الیکشن ،جلسے اور پارٹی ٹکٹ کے معاملے پر کہیں کرسیاں اپنے ساتھ لیجائی گئی ،کھانے پر دھکم پیل ،کہیں آپس میں دست وگریباں کے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہوئے ، جو جماعت اپنے پارٹی کارکنان کو نظم ضبط نہیں سکھا سکتی وہ جماعت ملک میں نظم وضبط کیسے لاسکتی ہے اورکس طرح ترقی و خوشحالی لاسکتی ہے اور جس جماعت میں کرپشن میں ملوث لوگ موجود ہوں وہ ملک سے کر پشن کا کیسے خاتمہ کر سکتی ہے ۔اسی طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا بھی یہی ہال ہے کہ یہ جماعتیں بھی بری طرح بدنظمی کا شکار ہیں اور ان جماعتوں میں بھی پارٹی ٹکٹ کے معاملے پر ، ناراضگی ، اختلافاتات اور پارٹی چھوڑنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ،حتیٰ کہ انہی جماعتوں کے راہنماء بطو ر آزا د امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ، عوام کے سامنے ایسی حیر ت انگیز خبر یں بھی آرہی ہیں کہ جسے سن کر وہ دنگ رہے گئے ہیں اور سوچنے پر مجبو ر ہیں کہ انسان اقتدار کے عوض میں اتنا بھی گر سکتا ہے کہ وہ کسی شخص کا کر دار اور غیر اخلاقی حرکات جو اس کا ماضی کا حصہ بناہوا ہو اس تک کو بھول جائے ۔جیسا کہ موجودہ انتخابات کے سلسلے میں ایک مذہبی جماعت کی جانب سے دیکھنے میں آیا ہے جو خود کو ملک کی ایماندار مذہبی جماعت بھی کہلا تی ہے۔
یہ مذہبی جماعت ایک ایسی جماعت کے سربراہ جو ملکی و غیر ملکی ڈسکو سینٹر میں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں شریک رہا ہو اور ساتھ ساتھ بغیر نکاح کے عورتوں کے ساتھ ناجائز مراسم میں بھی ملوث رہا ہو اور ان عورتوں سے اس کی اولاد بھی دنیا میںآجائے اور اس کی جانب سے مسلسل انکار کیا جاتا رہے پھر DNA کی رپورٹ کے مطابق یہ بھی ثابت ہو جا ئے کے مذکورہ اولاد اسی مرد کی ہے، اس حقیقت کے بعد بھی وہ شخص ہڈد ھرمی کا مظاہر ہ کرے ۔ جبکہ واضح ثبوت مل جانے کے باوجود اس کی خیر اخلاقی سرگرمیوں کو جائز قرا ر دے رہی ہے،تمام ترثبو ت ملنے کے باوجود بھی یہ مذہبی جماعت ایسے شخص کے قصیدے پڑھے تو یقیناوہ قصیدے پڑھ کر اس کے جرائم میں شریک ہونے کا عمل کررہی ہے ۔ عوام کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ کیا اس نام نہاد مذہبی جماعت کو اسلام کا ترجمان قرار دیا جا سکتا ہے۔۔۔؟صورتحال یہ ہے کہ اس مذہبی جماعت کے امیر نے اس شخص کے کالے کرتوت پر پر داہ اور اسے تحفظ فراہم کرنے کیلئے غلط کو صیح اور صیح کو غلط تک قر ار دے رہے ہیں ۔ لہٰذا ہر ذی شعور شخص اپنے دین اسلام اور ایک انسانی ضمیر کے ترازو میں اس بات کو تول کر فیصلہ کرے کہ جس شخص کا ماضی ایسی گھنا ؤنی سرگرمیاں سے بھری ہوئی ہیں ایسے انسان کی حمایت کرنے پر کیا یہ مذہبی جماعت اس کے جرم میں برابر کی شریک نہیں ہے۔۔۔۔۔؟جبکہ اسوقت جس سیاسی رہنماء کے ساتھ انتخابی سیٹ ایڈ جسٹیمنٹ کیا جار ہاہے اسی مذہبی جماعت کے طلبہ تنظیم کے کارندوں نے پنجاب یونیورسٹی میں نہ صرف اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ کئی گھنٹے تک یر غمال بھی بنائے رکھا ۔ ان تمام تلخ حقائق کے باوجود عوام خود فیصلہ کریں کے جو خود ناجائز تعلقات میں ملوث رہا ہو او رمذہب کی اڑ میں اپنے مطلب کیلئے حدیث شریف کو بھی اپنے مقاصد کیلئے ادھوری پڑ ھ کر عوام کے سامنے پیش کر ے ایسے منافقوں کو ووٹ دینا کیا درست عمل ہوگا جبکہ ایک ٹی وی پر گرام میں بیٹھ کر سفید جھوٹ بولا جائے کہ کسی جماعت کے ساتھ سیٹ ایڈ جسٹمنٹ نہیں کر رہے اور تناتنہا انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اس زیادہ منافقت اور کیا ہوسکتی ہے ۔ موجودہ سیاسی صورتحال پر عوام بھی یہ فیصلہ کرنے میں قاصر ہیں کہ وہ کس کو ووٹ دیں کیونکہ ایک سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے، ادھر ملک بھر میں دہشت گردی کا سلسلہ بھی ایک مسئلہ بنا ہوا ہے کہ کہیں بم دھماکہ تو کسی جگہ فائرنگ کے واقعات اور ان میں انگنت انسانی جانوں کا نقصان بھی کسی سے ڈھکہ چھپانہیں اوپر سے چیف الیکشن کمیشنر آف پاکستان بھی خود مطمئن نظر نہیں آتے کہ الیکشن ہوگا بھی یا نہیں معینی خیز ہے ۔
*****