Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سانحہ سہراب گوٹھ ....تحریر محمد عمیر

 Posted on: 10/31/2014   Views:444
               8 اگست 1986 ؁ء کو پاکستا ن کی تاریخ کا ایک کامیاب جلسہ شہر کراچی کے سب سے بڑے گراؤنڈ نشتر پارک نمائش پر منعقد ہوا۔ اس کامیاب جلسے کے کامیاب انعقاد کے بعد اعوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ظالم چوہدریوں ، وڈیروں اور جاگیرداروں کے محلوں میں ایک شور سا برپا ہوگیا۔ یہ جلسہ ایک طلبہ تنظیم کی پیدا کی ہوئی سیاسی جماعت مہاجر قومی موومنٹ نے منعقد کیا تھا۔ اس جلسے کے دوران شدید بارش ہوئی ۔ لیکن اپنے قائد سے پیار کرنے والے یہ لوگ اپنی جگہوں سے نہیں گئے بلکہ فرشی نشستوں پر براجمان ہو کر بیٹھ گئے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں لاکھوں مہاجروں کے مجمع سے الطاف حسین نے انکی تہذیب کو یاد دلاتے ہوئے انکو دو منٹ کی خاموشی اختیار کراوئی ۔ یہ دو منٹ کی خاموشی نے ہی ثابت کر دیا کہ خداوند کریم کی طرف سے الطاف حسین کو قائدانہ صلاحتیں دی گئی ہیں اور یہ آج تک ثابت ہوتا چلا آیا ہے۔
               8اگست کے کامیاب جلسے کے بعد نظریہ الطاف حسین ملک کے کونے کونے میں پھیلنا شروع ہوگیا۔ یہ نظریہ صرف یہی تھا کہ بانیان  پاکستان کی اولادیں اب ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہونگی اور اپنے حقوق کے لئے جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے سامنے سیسہ پلائیدیوار ثابت ہونگی۔ پاکستان کی آزادی کے بعد بانیان پاکستان کو ایک واحد امید الطاف حسین سے ہی وابستہ ہوگئی۔ جامعہ کراچی کی یہ طلبہ تنظیم اب ایک سیاسی جماعت بن گئی تھی۔ لیکن اس وقت نہ تو حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کا حصہ تھی۔                حیدرآباد کی حق پرست عوام کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔ مہاجر قومی موومنٹ نے 31اکتوبر 1986کو پکا قلعہ کے مقام پر ایک  جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد حیدرآباد کی حق پرست عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پورے حیدرآباد میں اس جلسے کی شیان شان طریقے سے تیاریاں کی جارہی تھیں۔ بروز جمعہ 31اکتوبر 1986کو بعد نماز جمعہ قافلے کراچی سے حیدرآباد کی جانب رواں دواں ہوئے۔ عوام کی خواہشات کے مطابق انکو قافلوں کی صورت میں حیدرآباد جانے کی اجازت مل گئی۔ کراچی کے نوجوان خواتین، بچے اور بوڑے بڑی تعداد میں تیار ہوکر قافلوں کی صورت میں روانہ ہونا شروع ہوئے۔ فلک شگاف نعروں کے ساتھ قافلے رواں دواں تھے۔ نعرہ مہاجر کی صدا ہوا میں  گونج رہی تھی۔ اسی لمحے سہراب گوٹھ کے مقام پر پہنچتے ہی بلڈنگوں کی چھتوں ، کھڑکیوں سے اس قافلے پر جدید ہتھیاروں سے دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کر دی گئی۔ جس میں کئی بے گناہ شہید اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ حکومت وقت کے لوگ یہ بتاتے ہیں کہ یہ دراصل اُس آپریشن کا رد عمل تھا جو سہراب گوٹھ میں ڈرگ مافیاء کے خلاف کیاگیا تھا۔ جس میں سندھ پولیس کا ایک SHOغضنفر بھی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔یہ قافلہ جناب الطاف حسین کی ولولہ انگیز تقریر سننے کے لئے بے تاب تھا۔ اسلئے زخمیوں اور میتوں کے ہمراہ قافلے حیدرآباد کی جانب رواں دواں رہے۔ ابھی زخمیوں اور شہداء کے جسموں سے خون رک نہیں پائے تھے کہ حیدرآباد میں داخل ہوگئے۔ حیدرآباد میں داخل ہونے کے بعد پٹھان اور سندھی بستیوں کی جانب سے ان قافلوں پر شدید فائرنگ کی گئی ۔ پہلے ہی زخمیوں اور میتوں کو لے جانے والے قافلوں میں اب زخمیوں اور میتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ اس کڑے امتحان کے باوجود بھی زندہ بچنے والے لوگ کسی نہ کسی طرح جلسہ گاہ تک پہنچ گئے۔ جنون الطاف کے یہ متوالے اپنے قائد کی تقریر سن کر واپس آئے۔جناب الطاف حسین کے علم میں یہ بات لائی گئی تھی کہ کراچی سے آنے والے قافلوں پر سہراب گوٹھ کے مقام پر قیامت صغرٰی برپا ہوچکی ہے۔ ان واقعات کا ذکر اپنی تقاریر میں جناب الطاف حسین نے نہیں کیا کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ لاکھوں کا یہ مجمع غم و غصے کی حالات میں بے قابو ہوجائیگا اور فسادات شروع ہوجائینگے۔ لیکن انہوں نے اپنی تقریر میں امن کی خاطر خود بھی کڑوا گھونٹ پیاء اور صبر کی تلقین کا درس دیا ۔                ان تمام باتوں کے باوجود حیدرآباد سے واپسی پر جناب الطاف کو گھگھرپھاٹک کے مقام پر ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات بنائے گئے ۔ ساتھ ساتھ حکومت وقت کی ستم ظریفی قابل دید یہ ہوئی کہ سہراب گوٹھ واقعہ میں ملوث ڈرگ مافیاء و دیگر جرائم پیشہ افراد کے مقدمات نہ صرف ختم کر دئیے گئے بلکہ سرپرستی کا عندیہ بھی دیا گیا۔شاید یہی وجہ ہے کہ سہراب گوٹھ آج تک ڈرگ ولینڈ مافیاء اور جرائم پیشہ افراد کی جنت اور نوگو ایریا بنا ہوا ہے۔