Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

انتظامی یونٹس یا مہاجرصوبہ ۔۔۔۔۔تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ

 Posted on: 9/24/2014   Views:607

تحریر۔۔۔قاسم علی رضاؔ 
صوبہ سندھ کی تقسیم کے خلاف پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اور تحریک انصاف سمیت 15 جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس میں سندھ کی تقسیم کی مخالفت میں قرارداد منظورکرتے ہوئے کہاگیاکہ’’ ہم سندھ کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے ، انتظامی یونٹس کا شوشہ سندھ کے خلاف سازش ہے ، انتظامی یونٹس سمیت کسی بھی نام پر کمپرومائز نہیں کریں گے اورہم سندھ کی تقسیم روکنے کیلئے آخری حد تک جائیں گے‘‘ ۔ یہ بلند وبانگ دعوے کرنے والے بھول گئے کہ ان جماعتوں میں کوئی ایک بھی جماعت سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت کہلانے کی حقدار نہیں ہے لہٰذا ان جماعتوں کو آئینی ، قانونی اور اخلاقی حق نہیں کہ وہ سندھ کے شہری عوام اوران کی نمائندہ جماعت کے مطالبے کو ضد، اورہٹ دھرمی کے تحت رد کریں۔ برصغیرکی تاریخ بہت دردناک ہے جب برصغیرکے مسلم اقلیتی علاقوں میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں مسلمانوں کیلئے آزاد وطن پاکستان کے قیام کی تحریک چل رہی تھی تو قیام پاکستان کی مخالفت میں اٹھنے والی آواز مسلم اکثریتی علاقوں سے بھی اٹھ رہی تھی اور آج پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے وہاں یونینسٹ پارٹی کے تحت پاکستان کے قیام کی شدید مخالفت کی گئی لیکن بانیان پاکستان کی اولادوں نے 20 لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کرکے آزاد وطن پاکستان حاصل کرلیاتھا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بانیان پاکستان کی اولادیں صوبہ سندھ میں انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت پر خاموشی اختیارکرلیں گے جن کے خون میں جدوجہد اور ذہن ودل میں آزادی کی شمع روشن ہو وہ ’’بادمخالف‘‘ کی کبھی پرواہ نہیں کرتے ۔ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین نے مہاجروں میں پائے جانے والے احساس محرومی اور قدیم سندھیوں میں پائے جانے والے تحفظات کے خاتمے کیلئے ایک قابل عمل تجویز پیش کی کہ سندھ کانام ختم کیے بغیر بھی سندھ میں ساؤتھ سندھ، ایسٹ سندھ، ویسٹ سندھ یا سینٹرل سندھ کے نام سے مزید صوبے بنائے جاسکتے ہیں جس سے سندھ کی تقسیم بھی نہیں ہوگی اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جاسکیں گے ۔ اس کے باوجود نام نہاد اے پی سی میں اکثر عوامی حمایت سے محروم جماعتوں کی جانب سے مہذبانہ انداز میں مسئلہ حل کرنے کے بجائے ضد اور ہٹ دھرمی کی روش اپنائے رکھی۔ اگر صوبہ سندھ میں انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر یہ روش اختیارکی جاتی رہی تو پھر مہاجروں کو بھی حق ہے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے سخت مؤقف اختیار کریں اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کریں ۔ 
قابل غوربات یہ ہے کہ اگر ملک کے تین صوبوں میں نئے صوبوں کا قیام عمل میں لانا درست ہے تو یہی بات صوبہ سندھ کیلئے کیوں ناپسندیدہ قراردی جاتی ہے اور شہری سندھ کے عوام کی جانب سے صوبے مین نئے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے پر نام نہاد وفاق پرست اور سندھی قوم پرستوں کے منہ سے جھاگ کیوں نکلنے لگتا ہے ؟ کیا صوبہ سندھ (نعوذباللہ ) کوئی آسمانی چیز ہے جسے انتظامی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ 
حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو دنیا بھر میں جغرافیہ تبدیل ہوتارہتا ہے ،جغرافیے کی تبدیلی سے نئے نئے ممالک معرض وجود میں آتے رہے ہیں اورممالک کے اندر نئے نئے صوبے بھی بنتے رہتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 196 آزادممالک ہیں جن میں 182 اقوام متحدہ کے ارکان ہیں۔ چند سال پہلے تک دنیا کے ممالک کی یہ تعداد نہیں تھی جو آج ہے اسی طرح جب یہ ممالک آزادہوئے اوروہاں جتنی صوبوں کی تعداد تھی آج ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے ۔ یہ المیہ ہے کہ پاکستان جب آزادملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا اس وقت پاکستان کے پانچ صوبے تھے ، سابقہ مشرقی پاکستان صوبہ حکمرانوں کی ہوس اقتدار ، ناانصافیوں ، زیادتیوں اورمظالم کے لامتناہی سلسلہ کے باعث الگ ہوکر آزادملک بنگلہ دیش بن گیا۔ ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ صوبہ سندھ میں بھی انتظامی بنیادوں پرمزید صوبوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہری سندھ کے عوام کے دیرینہ مسائل حل کیے جاسکیں ، شہری سندھ کے عوام کے ساتھ تعصب اور عصبیت کا سلسلہ ختم ہوسکے اور سندھ کی حکومت میں اردوبولنے والوں یعنی مہاجروں کو بھی وزارت اعلیٰ کے منصب تک رسائی کا حق مل سکے ۔ 
جمہوری اقدار اور اصول وضوابط کے مطابق صوبے میں جس جماعت کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو اور سندھ اسمبلی کے ایوان میں جس جماعت کے نمائندے واضح اکثریت رکھتے ہوں اس جماعت کو حکومت کرنے کا موقع ملتا ہے تاہم ماضی میں کئی مرتبہ ایسے مواقع بھی آئے جب سندھ اسمبلی میں مہاجرنمائندوں کو اکثریت حاصل تھی لیکن سندھ کی وزارت اعلیٰ کامنصب مہاجروں کے شجرممنوعہ تسلیم کیا گیاحتیٰ کہ جب 90ء کی دہائی میں جام صادق علی مرحوم سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اور انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہونا پڑا تو ان کی غیرموجودگی میں مہاجر سینئر وزیرطارق جاوید کو 14 دن کیلئے وزیراعلیٰ سندھ بننے کا موقع ملا اور ان ایام میں نام نہاد وفاق پرست اور سندھی قوم پرستوں کی جانب سے جس طرح آسمان سر پراٹھایا گیا وہ پورے ملک کے عوام کے سامنے عیاں ہے ۔ آج کے دن تک زبانی جمع خرچ کرکے یہ تو کہاجاتا ہے کہ اردوبولنے والے سندھ دھرتی کے بیٹے ہیں، سندھی دانشوروں ، کالم نگاروں اور قوم پرستوں کی جانب سے یہ مشورے دیئے گئے کہ وہ خود کوسندھی کہیں اوراپنے آپ کو’’مہاجر ‘‘کہنا چھوڑ دیں اور جب بھی سندھ کے شہری علاقوں میں وسائل کی تقسیم کا مرحلہ آیا مہاجروں کے سیاسی ، سماجی، تعلیمی اورمعاشی قتل عام کی نت نئی تاریخ دہرائی جاتی رہی ۔یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ اردوبولنے والے مہاجروں کو آج تک سندھی تسلیم ہی نہیں کیاجاتا۔ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں میں مہاجر طلباء کو داخلے نہیں دیئے جاتے ، دیہی سندھ تو کجا شہری سندھ کے محکموں میں بھی مہاجروں کو ملازمت نہیں دی جاتی ، مہاجروں کے اکثریتی شہر کراچی میں قائم سندھ سیکریٹریٹ میں اردوبولنے والا مہاجر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتااورہرادوارحکومت میں سندھ کے شہری علاقوں کودانستہ نظراندازکرکے مہاجروں کے احساس محرومی میں اضافہ کیاجاتا ہے اور یہ تک فراموش کردیا جاتا ہے کہ پاکستان کا معاشی حب ،کراچی پورے ملک کو پال رہا ہے اور تعصب اورعصبیت کامظاہرہ کرکے کماؤ پوت شہر کے باسیوں کو زندگی کے ہرشعبہ میں محروم رکھاجارہا ہے ۔ 
آج بھی چند مخصوص خاندان سندھ پر اپنی حکمرانی برقراررکھنا چاہتے ہیں تاکہ کراچی کے وسائل کودونوں ہاتھوں سے لوٹا جاسکے یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے بلند وبانگ دعوے کرنے والی یہ جماعتیں مقامی حکومتوں کے نظام کے قیام سے خوف زدہ ہیں اورنہیں چاہتیں کہ شہری علاقوں کے فنڈز عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جائیں ۔ انصافیوں کے مسلسل عمل کے باعث شہری سندھ کے عوام اپنے لئے علیحدہ انتظامی یونٹس کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سندھ کی 26 متوازی تقسیم کی جائے اور بانیان پاکستان کی اولادوں کو نسل پرست، متعصب اور ظالم حکمرانوں کی غلامی سے نجات حاصل ہوتاہم شہری سندھ کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ آج بھی عوام کے جذبات کو قابو میں رکھے ہوئے اور جناب الطاف حسین کی جانب سے سندھ کا نام برقراررکھتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کامطالبہ کیاگیا ہے ۔ اگر سیاسی ، سماجی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے مہاجروں سے تعصب کا سلسلہ اسی طرح برقراررکھا گیا ،مہاجروں کے جائز مطالبے کو رعونت سے نظرانداز کیاجاتا رہا ، مہاجروں کو کچلنے کیلئے دھونس دھمکی اور طاقت کے استعمال کاسلسلہ بند نہ کیا گیااور خلوص نیت سے شہری سندھ کے عوام کو درپیش مسائل حل نہ کیے گئے تو یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ جن کے اجداد نامساعد حالات اور ظلم وستم کا بہادری سے سامنا کرتے ہوئے برصغیرکے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلاسکتے ہیں انکی اولادیں اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ’’مہاجرصوبہ‘‘ بھی بناسکتی ہیں۔ 

*****