Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دباؤ ڈالنے کے معاملے پرسپریم کورٹ میں سماعت کا خیرمقدم کرتاہوں۔ الطاف حسین


خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دباؤ ڈالنے کے معاملے پرسپریم کورٹ میں سماعت کا خیرمقدم کرتاہوں۔ الطاف حسین
 Posted on: 5/1/2024 1

 
خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دباؤ ڈالنے کے معاملے پرسپریم کورٹ میں سماعت کا خیرمقدم کرتاہوں۔ الطاف حسین

 اگر سپریم کورٹ نے اس سنگین معاملے پر حق اورسچ کی بنیادپر جراتمندانہ فیصلہ کیاتوپاکستان بچ جائے گا
اس سے ملک میں آئین اورقانون کی حکمرانی قائم ہوجائے گی

 اگرسپریم کورٹ کے جج دباؤمیں آگئے اور جراتمندانہ فیصلہ نہیں کیاتو ملک کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی

سپریم کورٹ اپنے فیصلے کے ذریعے عدلیہ کی آزادی وخودمختاری کے آگے ایسی مضبوط دیوار کھڑی کردے کہ آئندہ فوج ، آئی ایس آئی یاکوئی بھی ادارہ عدلیہ پر دباؤ نہ ڈال سکے،

 فوج اپنے آئینی دائر ے میں رہے، سویلئنزکواپناکام کرنے دے

 سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بیان کردہ حقائق میرے مؤقف کی سچائی کاکھلا ثبوت ہیں۔ الطا ف حسین

ٹک ٹاک پر فکری نشست کے دوران اظہارخیال

  رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفےٰ عزیزآبادی ، ڈپٹی کنوینرز شاہد رضا ، ریحان عبادت، رابطہ کمیٹی کے ایڈوائزر ڈاکٹرندیم احسان ، اراکین رابطہ کمیٹی ارشدحسین،عاطف شمیم ، حسان بٹ اورایم کیوایم برطانیہ کے آرگنائزر سہیل خانزادہ  اورتمام شرکاء کی جناب الطاف حسین کوسپریم کورٹ کی سماعت پر مبارکباد

لندن … یکم مئی 2024ئ
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے آئی ایس آئی اوردیگرسرکاری ایجنسیوں کی جانب سے ججوں پر دباؤ ڈالنے اورانہیں بلیک میل کرنے کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی شکایات پر سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی کھلی سماعت کابھرپورخیرمقدم کیاہے اور کہاہے کہ اگر سپریم کورٹ نے اس انتہائی سنگین معاملے پرکسی دباؤ میں آئے بغیر سماعت کی اورحق اورسچ کی بنیادپر جراتمندانہ فیصلہ کیا تو پاکستان بچ جائے گا اورملک میں حقیقی معنوں میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے گی لیکن اگرسپریم کورٹ کے جج صاحبان بھی فوج اورآئی ایس آئی کے دباؤمیں آگئے اور انہوں نے حق اورسچ کی بنیاد پر اس معاملے میں کوئی جراتمندانہ فیصلہ نہیں کیا توپاکستان میں آئین کی حکمرانی اور ملک کے مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ 

انہوں نے یہ بات منگل کی شب ٹک ٹاک پراپنی 44  ویں فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے 46سال قبل جب مہاجروں کے حقوق کے لئے آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO)  قائم کی، پھر1984ء میں ایم کیوایم قائم کی ،میں اس وقت سے بتارہاتھاکہ آئی ایس آئی اور فوج کی دیگرایجنسیاں فسادات کراتی ہیں، سازش کرکے عوام کوآپس میں لڑاتی ہیں، سیاسی جماعتوں کوتوڑتی ہیں، ان میں گروپ بناتی ہیں تویہ حقائق بیان کرنے پر مجھے فوج کامخالف کہاگیا، مجھے ملک دشمن، انڈین ایجنٹ کہاگیا، پنجاب اورسرحدکے عوام کومیرے خلاف بھڑکایاگیا،میری ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیاگیا، لیکن آج 46 سال بعدملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جج صاحبان ریمارکس دیتے ہوئے خود کہہ رہے ہیں کہ آئی ایس آئی اور فوج کی ایجنسیاں اپنی مرضی کے فیصلے کرانے کیلئے ججوں پر دباؤ ڈالتی ہیں،عدالتی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں، ججوں کو قتل کی دھمکیاں دیتی ہیں،ان کے رشتہ داروں کو اغواکرتی ہیں ، ان پر تشدد کرتی ہیں، ان کے گھروں پر حملے کرتی ہیں، انہیں بلیک میل کرنے کے لئے ان کے گھروں اور بیڈ رومز میں خفیہ کیمرے لگاتی ہیں، انہیں دھمکیاں دیتی ہیں، ان کے فون ٹیپ کرتی ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ، لاہورہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ، بلوچستان ہائیکورٹ اورسندھ ہائیکورٹ ،سپریم کورٹ کوبھیجی گئی اپنی درخواستوں میں ججوں پر من پسند فیصلے کرانے کیلئے دباؤ کی تفصیلات بیان کررہی ہیں اورفریادیں کررہی ہیں۔

جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اس معاملے میں سپریم کورٹ اورہائیکورٹس کے ججوں کے ساتھ ہوں ، ملک بھرکے عوام بھی ان کاساتھ دیں اور دعا کریںکہ اللہ تعالیٰ سپریم کورٹ کے ججوں کواتنی ہمت دے کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی شکایت پر آئین وقانون کے تحت جراتمندانہ فیصلہ کریں اور اپنے فیصلے کے ذریعے عدلیہ کی آزادی وخودمختاری کے آگے ایسی مضبوط دیوار کھڑی کردیں کہ آئندہ فوج، آئی ایس آئی یا کوئی خفیہ ایجنسی یاکوئی بھی حکومتی ادارہ عدلیہ پرکسی قسم کا دباؤ نہ ڈال سکے، فوج اپنے آئینی دائرہ کار میں رہے، فوج کاکام سیمنٹ، ریتی، بجری ، مشروبات، سیرئیل اورگوشت بیچنا ، پیٹرول پمپس اور شادی ہالزچلانا، زراعت، رئیل اسٹیٹ، ڈیفنس ہاؤسنگ اسکیمیں اورطرح طرح کے کاروبارکرنا نہیں،فوج کاروبار کرنے کے بجائے سرحدوں کے دفاع تک محدود رہے، فوج اپناکام کرے اور جو سویلئنزکے کام ہیں وہ سویلئنزکو کرنے دیں۔ 

جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری دعاہے کہ پاکستان میں فوج کی سیاست میں مداخلت کاسلسلہ بندہو،ملک میں آئین کی بالادستی اورقانون کی حکمرانی ہو، جمہوریت کاراج ہو،عدلیہ آزاد ہو، ملک آئی ایم ایف ، ورلڈبینک کے قرضوں اور غیرملکی خیرات وامداد سے آزاد ہو کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج سپریم کورٹ میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں کے دباؤ کے معاملے پر ہونے والی سماعت اور اس دوران بیان کئے جانے والے حقائق دراصل میرے دیرینہ مؤقف کی سچائی کاکھلا ثبوت ہیں، یہ جہاں میری محنت اورجدوجہد ہے وہاں اس جدوجہد میں جانیں دینے والے میرے شہیدوں، اسیروں اور لاپتہ ساتھیوں کی قربانیاں شامل ہیں،یہ میرے ان وفاپرست ساتھیوں، ماؤں، بہنوں ، بزرگوں اور نوجوانوں کی کامیابی ہے جو تمام تر ریاستی مظالم اور مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہے اور انہوں نے الطاف حسین کاساتھ نہیں چھوڑا۔ 

اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفےٰ عزیزآبادی ، ڈپٹی کنوینرز شاہد رضا، ریحان عبادت، سابق کنوینراوررابطہ کمیٹی کے ایڈوائزر ڈاکٹرندیم احسان، رابطہ کمیٹی کے ارکان ارشدحسین،عاطف شمیم ، حسان بٹ اورایم کیوایم برطانیہ کے سینٹرل آرگنائزر سہیل خانزادہ اورتمام شرکاء نے بھی اظہارخیال کیا۔انہوں نے سپریم کورٹ میں خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دباؤڈالنے کے معاملے کی کھلی سماعت پر جناب الطاف حسین کو مبارکبادپیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ آپ کے نظریہ اور مؤقف کی جیت ہے کہ آج سپریم کورٹ اورہائیکورٹس کے جج بھی اس حقیقت کوبیان کررہے ہیں جوآپ بر سوں سے بیان کرتے آئے ہیں۔ ایم کیوایم کے ارکان نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ جناب الطاف حسین پر عائد پابندی کوبھی ختم کیا جائے ۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اورتمام گرفتار شدگان کی رہائی کامطالبہ کیا۔ 
٭٭٭٭٭



6/23/2024 1:46:44 PM