Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اوورسیز میں رہنے والے پاکستانیوں سے دردمندانہ اپیل


اوورسیز میں رہنے والے پاکستانیوں سے دردمندانہ اپیل
 Posted on: 7/2/2023 1
اوورسیز میں رہنے والے پاکستانیوں سے دردمندانہ اپیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لندن: 2 جولائی2023 میں آج اپنے اس ٹوئٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ایک اہم مسئلے پر روشنی ڈال رہا ہوں اور اس حوالے سےبیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مفاد میں ان سے ایک دردمندانہ اپیل بھی کرناچاہتاہوں۔  آپ سب اس امرسے بخوبی واقف ہیں کہ اوورسیز میں رہنے والے پاکستانی اپنے وطن اور گھربار سے دور دیارغیر میں محنت ومشقت کرتے ہیں ، ملازمت کے عمومی دورانیے یعنی 8گھنٹوں سے زائد اوورٹائم اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اپنا اوراپنے بال بچوں کا بہتراور پائیدار مستقبل بناسکیں اور ان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں رہنے والے اپنے خاندان والوں کی بھی بہتر سے بہتر معاونت کرسکیں۔ میرے ذاتی مشاہدے میں یہ افسوسناک باتیں بھی آتی رہی ہیں اور بیرون ملک رہنے والے چند افراد نے بھی مجھے بتایا ہے کہ” ہم تباہ ہوگئے، بربادہوگئے “ جب میں نے ان کی تباہی وبربادی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ فلاں فلاں حکمرانوں نے ، کنسٹرکشن کاکام کرنے والی کمپنیوں کے وفود نے ، سرمایہ کاری کرنے والی انجمنوں کے وفود نے جب اس اوورسیزملک کا دورہ کیاجہاں ہم ملازمت کی غرض سے قیام پذیرہیں تو انہوں نے ہمیں سب سے پہلا درس یہ دیا کہ اگر آپ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے تو یہ نہ صرف آپ کی پاکستان کیلئے بڑی خدمت ہوگی بلکہ آپ کی سرمایہ کاری کے عمل سے پاکستان کی معیشت بھی بہترہوگی۔ دوسری بات یہ بتائی گئی کہ اگرآج آپ پاکستان میں کوئی پلاٹ خریدلیں یا کسی بننے والی بلڈنگ میں کوئی فلیٹ خرید لیں یا پاکستان کے فلاں فلاں شہر میں ایک نئی رہائشی اسکیم آئی ہے جہاں کی زمین آج آپ حضرات کو جس قیمت پر دی جارہی ہے اس زمین کی قیمت آئندہ دو سے پانچ سالوں میں کئی گنا زیادہ بڑھ جائے گی اورآپ کو آپکی لگائی گئی رقم کاکئی گنازیادہ منافع ملے گا۔ یاپھر فلاں فلاں بنک نے ڈالراکاؤنٹ یا فارن کرنسی اکاؤنٹ میں انویسٹمنٹ کا پروگرام نکالا ہے اس میں ڈالرز جمع کرانے والوں کو دس سے پندرہ فیصد منافع ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ بیرون ملک رہنے والے افراد یہ چکنی چپڑی باتیں سن کراپنی زندگی بھر کی کمائی پاکستان میں ان اسکیموں میں لگا ڈالتے ہیں اور جب وہ سرمایہ کاری کیلئے خریدی گئی زمین ، فلیٹ یا ڈالراکاؤنٹ اسکیم سے متعلق دستاویزات بمعہ تمام اسٹیمپ شدہ دستاویزی ثبوت لیکر پاکستان پہنچتے ہیں اور اپنی خریدی ہوئی زمین یا مکان یا بنک میں جمع کرائی گئی رقم (ڈالرز کی شکل میں) کے حساب کتا ب کو دیکھنے جاتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کی خریدی ہوئی زمین پر قبضہ کرکے کسی اور نے اپنا مکان تعمیر کرلیا ہے یا کسی بلڈنگ میں خریدے گئے فلیٹ پر کسی اور نے قبضہ کرلیا ہے یا جس بنک میں ڈالرز اکاؤنٹ کی شکل میں رقم جمع کرائی تھی وہ بنک ڈیفالٹ کرگیا ہے یا اس بنک نے ڈالرز اکاؤنٹ ہی بند کردیا ہے ۔ اسی طرح انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جن جن سرمایہ کار انجمنوں یا کمپنیوں) Investement companies or agencies ( میں یا ڈالر اکاؤنٹس میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی ان سرمایہ کار کمپنیوں کے مالکان وعملے کے بڑے بڑے عہدیداران تو کمپنی بند کرکے پاکستان سے فرار ہوچکے ہیں اور جن بینکوں میں انہوں نے ڈالراکاؤنٹس کھولے تھے وہ بینک اکاؤنٹس ہی منجمد (Ceased) کردیے گئے ہیں تو انکے پاس سوائے پچھتانے ، افسوس کرنے یا رونے دھونے کے اورکچھ باقی نہیں بچتا۔ اس طرح کے واقعات آئے دن دیکھنے میں آتے رہتے ہیں۔  میں اوورسیزپاکستانیوں کودرپیش اس سنگین مسئلے اوران کے کرب کواچھی طرح سمجھ سکتاہوں کیونکہ 80ء اور 90ء کی دہائی میں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ کراچی کے بھی سینکڑوں خاندانوں نے تھوڑے سے مالی فائدے کے لئے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی حتیٰ کہ اپنی بیٹیوں کازیور اورمکانات کے کاغذات تک مختلف انویسٹمنٹ کمپنیوں میں لگا دیے تھے لیکن وہ سرمایہ کارکمپنیاں ان کاپیسہ لیکررفوچکر ہوگئیں اوران کے فراڈ کاشکار سینکڑوں خاندانوں کے پاس رونے دھونے اورافسوس کرنے کے سواکچھ نہ بچاتھا۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض مولوی حضرات کی تشکیل کردہ سرمایہ کار کمپنی غالباً الائنس انویسٹمنٹ کمپنی تھی جن کے عہدیداروں کی لمبی لمبی داڑھیاں تھیں، وہ پانچ وقت کے نمازی تھے اور انکے ماتھوں پر سجدے کے نشان بھی تھے ، ایسے لوگوں نے بھی معصوم اور سادہ لوح عوام کو سود سے پاک شرعی منافع کا لالچ دیکر لوٹ لیا اور شہریوں کے اربوں روپے لوٹ کر فرارہوگئے۔ 1/2
10.4K
Views
2/2 میں اپنے اوورسیز پاکستانی بھائیوں کواپنے مشاہدے کی روشنی میں یہ بتاناچاہتاہوں کہ جب آپ کے ساتھ کسی رہائشی اسکیم یاکسی مالیاتی ادارے میں سرمایہ لگانے کے نام پر کوئی فراڈ ہوتوایسی  صورتحال میں بعض لوگ آپ کو عدالت سے رجوع کرنےکا مشورہ دیں گے تو میں یہ کہوں گاکہ آپ حضرات کو مجھ سے زیادہ معلوم ہوگا کہ ہماری عدالتوں میں فیصلےکس طرح کئے جاتے ہیں۔ انصاف کے نام پر ظالم کےحق میں اور مظلوم کے خلاف فیصلے دینا بدقسمتی سے پاکستان کی عدالتوں میں معمول بن چکا ہے اور یہ سب کالے کاروبار اور دھندے ان نامعلوم قوتوں اور اداروں کی ناک کے نیچے کئے جاتے ہیں جو ملک کے منتخب وزرائے اعظم اور صدور کو بھی ان کے مناصب سے علیحدہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ انویسٹمنٹ کے نام پر فراڈ کرنے والے یہ عناصر ،عدالتوں کے کرپٹ ججز اورنامعلوم قوتوں کے بااثر لوگ سب ملکر ایک'' مافیا ''کے طورپرکام کرتے ہیں۔ اوورسیزپاکستانیوں کو سرمایہ کاری کیلئے سنہرے خواب دکھانے والی 99 فیصد سرمایہ کارکمپنیاں یاانجمنیں (Investment companies/organisations ) جب نامعلوم افراد یا اداروں کی زیرنگرانی وتحفظ میں فراڈ کا یہ کام کرتی ہوں توپھر آپ کوانصاف کہاں مل سکتاہے ۔اگر یہ عدالتیں اور تمام سابقہ حکومتیں عوام کو منافع کالالچ دیکر لوٹنے والی فراڈ سرمایہ کارکمپنیوں کےخلاف کارروائی کرنے میں مخلص ہوتیں تو وہ 80ء اور 90ء کی دہائی میں کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں کے سینکڑوں خاندانوں کے اربوں اور کھربا کھرب روپےلوٹ کر فرار ہونے والی فراڈی سرمایہ کار کمپنیوں اور ان کےمالکان کےخلاف اب تک قانونی کارروائی کرچکی ہوتیں اور اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سے محروم ہونے والوں کو ان کی لوٹی ہوئی رقوم واپس دلواچکی ہوتیں۔ لہٰذا میری بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں سے ایک مرتبہ پھر دردمندانہ اپیل ہے کہ آپ حضرات ان حکمرانوں کے بڑے بڑے دعوؤں اوران کی یقین دہانیوں میں ہرگز نہ آئیں کیونکہ جنہیں اپنے منصب  پرقائم رہنےکا خود یقین نہیں ہوتا کہ وہ کب اپنی کرسی سے اٹھاکر باہر نکالے جاسکتے ہیں وہ آپ سے کیے گئے دعوؤں کو کیونکر ممکن بناسکتے ہیں اور آپ کے لگائے گئے سرمائے کو کس طرح تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ لہٰذا بیرون ملک رہنے والے حضرات جہاں مقیم ہیں وہیں پر سرمایہ کاری کرنے کاکوئی الگ پروگرام بنائیں اور خدارا  !  اپنا سرمایہ یعنی جمع شدہ رقم پاکستان بھیج کر اسے ضائع ہونے سے محفوظ رکھیں تاکہ آپ کو بعد میں یہ کہنا نہ پڑے کہ  ''ہائے ہم تباہ ہوگئے ، ہم برباد ہوگئے''۔ شکریہ آپ کا خیرخواہ الطاف حسین (لندن)  2، جولائی2023
3,657
Views


3/4/2024 11:15:25 PM