Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

خواتین کا مقام اور ناروا سلوک


خواتین کا مقام اور ناروا سلوک
 Posted on: 6/30/2023
''خواتین کا مقام اور ناروا سلوک ''

میں نے اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ سوچا کہ میں اپنے اس بیان کے ذریعہ زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ جو دوسرے یاتیسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیاجاتا ہے اور انہیں کسی بھی شعبہ میں انتہائی نمایاں کارکردگی کے باوجود مَردوں کے برابر نہ تو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی درجہ دیا جاتا ہے، اس کے بارے میں اپنا مؤقف ان کے سامنے رکھ سکوں۔
میں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاپر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے شکوے اور شکایات سنیں اور سنتا رہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ کھیل کے میدانوں جس میں کرکٹ، فٹ بال ، ہاکی جیسے بڑے کھیلوں سمیت ملازمتوں ، بیورو کریسی ، پولیس ، مسلح افواج ودیگر شعبہ جات اور محکموں میں انتہائی محنت ولگن سے کام کرنے اورانتہائی ایمانداری کے ساتھ اپنے اپنے شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کے باوجود وہ مقام ''Position'' ، ''Credit '' یا ''Reward'' نہیں دیاجاتاجو درجہ ومقام ، عزت ومرتبہ ، مَردوں کو دیاجاتا ہے تو ایسی نمایاں کارکردگی کرنے والی خواتین کو میرا یہ مشورہ ہے کہ انہیں ہمارے ملک میں جاری فرسودہ ( Obsolete) سیاسی کلچر(Political Culture) کاجائزہ لینا چاہیے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں 75 سال گزرجانے کے باوجود ''جاگیردارانہ '' ،  '' وڈیرانہ'' ، ''سردارانہ نظام'' اورکرپشن کے ذریعے سرمایہ دار بننے والا ''سرمایہ دارانہ نظام ''، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے جاری ہے جہاںخواتین کو بہت ہی کمتر(Inferior) ، کمزور اور بے حیثیت حتیٰ کہ انسان تک نہیں سمجھا جاتا اور انہیں صرف مَردوں کی خدمت کرنے ، بچوں کی پرورش کرنے اور تمام گھریلو کام کاج کرنے کے ساتھ ساتھ مَردوں کے مقاصد ومفادات اور خواہشات کی تکمیل کرنے والی مخلوق سمجھاجاتا ہے اور بہت سے مقامات پر تو عام انتخابات میں خواتین کو ووٹ دینے کے عمل کو بھی حرام سمجھاجاتا ہے ۔بعض ممالک میں ایسے فرسودہ نظام میں خواتین کو لونڈی یا غلام (کنیز) سمجھا جاتا ہے ۔ 
مزید برآں پاکستان میں روزمرہ یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ فلاں فلاں جگہ شک وشبہے کی بنیاد پر عورت کے منہ پر تیزاب پھینک دیا گیااور مزید اسی طرح یہ خبریں بھی عام ہیں کہ صوبہ سندھ میں جوان لڑکا اورلڑکی اپنی باہمی رضامندی سے اگر چھپ کر شرعی نکاح کرلیں یا کورٹ میرج کرلیں تو ان پر کاروکاری کاالزام لگاکر دونوں کو سرعام قتل کردیاجاتا ہے ۔ اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً صوبہ KPK میںخواتین کو ''غیرت ''کے نام پر قتل تک کردیا جاتا ہے ۔ 
میں سمجھتا ہوں کہ خواتین کو فی الحال صبروتحمل سے کام لیتے ہوئے اپنی سوچ وفکر میں بھی اور دیگر خواتین کی سوچ وفکر تبدیل کرنے کی جدوجہد بھی کرنی چاہیے اورانہیں ان لوگوں کاساتھ دینا چاہیے جو خواتین کو مَردوں کے برابر عملی طورپردرجہ اور حصہ دیناچاہتے ہوں اور ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، سردارانہ وکرپٹ سرمایہ دارانہ نظام کو واقعتا ختم کرکے ایک روشن خیال معاشرے کا قیام چاہتے ہوں ،جو خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے ہرامتیازی سلوک کا خاتمہ چاہتے ہوں ۔ اس کیلئے خواتین کو اپنے اپنے گھروں میں خواتین کے اجتماعات منعقد کرکے آپس میں ''Study circles''یعنی فکری نشستوں کا انعقاد کرکے خواتین میں شعوری بیداری کی کوششیں کرنی چاہیے ۔ اس راہ میں انہیں بے پناہ مشکلات ، رکاوٹوں، تنقید ، طعنے تشنے پر مبنی القابات کا سامنا کرناپڑے گا حتیٰ کہ ان کی زندگیوں کو خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں مگر انہیں یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ اچھے اور نیک مقصد کیلئے آوازاٹھانے اور جدوجہد کرنے میں آگ وخون کے دریا عبورکرنے پڑتے ہیں ۔ مجھے اس بات کا پوری طرح احساس ہے کہ ہمارے ملک میں خواتین کے جائز حقوق کیلئے جدوجہد کرنا انتہائی مشکل ضرور ہے مگرناممکن ہرگز نہیں ۔ ہمیں اس امرکو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تیسری دنیا (Third world countries) کے بیشتر ممالک میں مَردوں کی سبقت اور اجارہ داری(Man dominating society) کاکلچر پایاجاتا ہے ۔ اس سے نجات کاواحد حل مثبت سوچ وفکرکے ساتھ جدوجہد اور صرف جدوجہد کرنے کا عمل ہی ہے ۔
Struggle and only struggle with positive thinking

الطاف حسین
30، جون2023ء (لندن)

3/4/2024 11:15:24 AM