Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھی اورمہاجر کی باتیں حقوق کے لئے نہیں بلکہ سندھیوں اورمہاجروں کوآپس میں لڑانے کے لئے کی جارہی ہیں۔الطاف حسین


 سندھی اورمہاجر کی باتیں حقوق کے لئے نہیں بلکہ سندھیوں اورمہاجروں کوآپس میں لڑانے کے لئے کی جارہی ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 12/18/2021

سندھی اورمہاجر کی باتیں حقوق کے لئے نہیں بلکہ سندھیوں اورمہاجروں کوآپس میں لڑانے کے لئے کی جارہی ہیں۔الطاف حسین
 وقت کا تقاضہ ہے کہ سندھی اورمہاجر علاقائی اورلسانی تفریق کو بالائے طاق رکھ کر سندھ دھرتی کی آزادی کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں
 اگر کوئی لڑائی جھگڑے کی بات کرے تو پیار محبت سے اس مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کریں او رلڑائی جھگڑے کی آگ پر تیل نہ ڈالیں
 سازش کے تحت سندھ اوربلوچستان کوسی پیک کاحصہ بناکر چائناکوبیچ دیا گیا ہے
 آج مہاجروں کے چیمپئن وہ لوگ بن رہے ہیں جنہوں نے مہاجرتحریک اور مہاجروں کے حقوق سے غداری کی
مہاجروں سے کہتاہوں کہ مہاجرآپ کی شناخت ہے لیکن وطنی اعتبار سے آپ سندھی ہیں
سندھی لفظ ''مہاجر''پرمت الجھیں اورسندھ کی آزادی کے عظیم مفادکوپیش نظر رکھیں 
 مہاجروں کوواپس انڈیا نہیں جاناہے، خدارا مہاجروں کوگلے لگائیں اورایک ہوجائیں
سندھ کی آزادی میراایمان اوردین ودھرم ہے، اگرمیں اس سے منکرہوں تو
 اپنے مذہب کا منکرہوں
 اگرکراچی کووفاق کاحصہ بنایاگیا توہم ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف میدان عمل میں آکربڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرینگے
 پیپلزپارٹی سندھ کے دشمنوں اور فوج کے دلالوں کی جماعت ہے، سندھ کے عوام کواس سے نجات حاصل کرناچاہیے پیپلزپارٹی فوج کی ایماپر ایسے متعصبانہ اقدامات کررہی ہے جس سے سندھ 
کے مستقل باشندوں کے درمیان نفرتیں پیداہوں
 مرادعلی شاہ اپنی زبان کوقابومیں رکھیں اورسندھ میں نفرت کی آگ نہ بھڑکائیں
میں لعل شہباز قلندر، شاہ لطیف بھٹائی   اور سائیں جی ایم سید کی قسم کھاکرکہتا
ہوں کہ میں سندھیوں اور مہاجروں میں لڑائی نہیں ہونے دوں گا
 قائدتحریک الطاف حسین کاسندھ کے عوام سے انتہائی اہم اورفکرانگیزخطاب 


لندن  …  18  دسمبر 2021ئ
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سندھ میں سندھی اورمہاجر کی جوباتیں آج کل کی جارہی ہیں وہ حقوق کے لئے نہیں بلکہ سندھ کوتقسیم کرنے اور سندھی بولنے والوں اور اردو بولنے والوں کوآپس میں لڑانے کے لئے کی جارہی ہیں تاکہ وہ اس پر غورہی نہ کرسکیں کہ سندھ کے کتنے ساحل چائنا کو فروخت کردیے گئے ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ والے آپس میں مزے کرتے رہیں اور سندھ دھرتی ماں کے مستقل باشندے آپس میں لڑتے رہیں اورسندھ کے اصل دشمنوں سے غافل رہیں ۔ انہوں نے سندھیوں اورمہاجروں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ آپ علاقائی اورلسانی تفریق کو بالائے طاق رکھ کر سندھ دھرتی کی آزادی کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اور اگر کوئی لڑائی جھگڑے کی بات کرے توآپ پیار محبت سے اس مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کریں او رلڑآئی جھگڑے کی آگ پر تیل نہ ڈالیں۔ 
جناب الطا ف حسین نے ان خیالات کااظہارہفتہ کی شام لندن سے سندھ کے عوام سے اپنے انتہائی اہم اورفکرانگیزخطاب میں کیا۔ ان کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے براہ راست نشر کیاگیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان عملاً دیوالیہ اورکنگال ہوچکاہے،ملکی معیشت تباہ ہے ،امریکہ ، برطانیہ، آئی ایم ایف اوردیگراداروں کی طرف سے اب اس طرح امدادنہیں مل رہی ہے۔ ملک میں بجلی، گیس ،تیل ، پیٹرول کابحران ہے۔ انہوں نے کہاکہ سازش کے تحت سندھ اوربلوچستان کوسی پیک کاحصہ بناکراسے چائناکوبیچ دیا گیا ہے ۔نوجوان اس سازش کوسمجھ چکے ہیں کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ انہیں کس طرح کچلتی ہے، انہیں کس طرح لڑاتی ہے ، فسادات کراتی ہے اورایک ہی جغرافیہ میں رہنے والے ایک دوسرے کے دشمن بنادیے جاتے ہیں ۔لڑاؤ اورحکومت کرو، لڑاؤ قبضہ کرو، سندھ کی چپہ چپہ کی زمین کوبیچ دو اورسندھ کے مستقل باشندوں کوآپس میں لڑاتے رہو۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج مہاجروں کے چیمپئن وہ لوگ بن رہے ہیں جنہوں نے مہاجرتحریک اورمہاجروں کے حقوق سے غداری کی،جنہوں نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہوکر مہاجر شناخت سے انکارکیا، جس قائدنے انہیں مہاجرنظریہ دیا، جس نے مہاجروں کوایک پرچم تلے متحد کیا، اس سے غداری کی اور قوم کی پیٹھ میں چھراگھونپا۔ جنہوں نے 22اگست کوتحریک کے بانی سے لاتعلقی کا اعلان کیا اورجس قائدکواپناباپ کہتے تھے اسی کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کرکے اس کوآرٹیکل 6کے تحت سزادینے کامطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال کیاکہ فاروق ستار، خالدمقبول، عامرخان، آفاق احمداورمصطفےٰ کمال کو شہرت کیاان کے خاندان کے وسیلے سے ملی یاتحریک کی بدولت؟اگران کے سر پر میراہاتھ نہ ہوتا تو کیا یہ ایوانوں کی رکنیت یاشہرت حاصل کرسکتے تھے؟مصطفےٰ کمال کومیئربننے سے پہلے کتنے لوگ جانتے تھے؟ ان لوگوں نے دراصل اپنے مفادات کے لئے فوج کے جرنیلوں کے ہاتھوں مہاجرقوم کاسوداکرلیا۔ مہاجروں کی قانونی بستیاں گرائی جاتی رہیں لیکن فوج کاساتھ دیتے رہے اور مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہے، مہاجر نوجوانوں کوماورائے عدالت قتل کیاجاتارہاہے، انہیں غائب کیا جاتا رہا اوریہ فوج کوزندہ باد کہتے رہے ، انہیں آج بھی مہاجروں سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ یہ صرف فوج کے بنائے گئے منصوبہ کے تحت مہاجرچورن بیچ رہے ہیں تاکہ سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان نفرت پید ا کی جائے ،انہیں آپس میں لڑایا جاسکے اورفوج نے سندھ کوچائنا کے ہاتھوں بیچنے کاعمل شروع کر رکھا ہے اس مقصد کوحاصل کیا جاسکے ۔ پوری تاریخ ایسے غداروںسے بھری پڑی ہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھی عوام مہاجروں سے نفرت نہیں کرتے ، اگر ایسا ہوتاتو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کو سندھی عوام سندھ میں خوش آمدید نہیں کہتے ۔ اہل پنجاب نے تومہاجروں کے قافلوں کوسندھ کی طرف دھکیل دیاتھا لیکن سندھیوں نے مہاجروں کو گلے لگایا اور جب جنر ل ایوب خان کے زمانے میں محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دینے پر جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب خان کی سربراہی میں صوبہ سرحد سے پٹھانوں کو کراچی لایاگیااورجشن فتح کے جلوسوں کی آڑ میں مہاجروں کوکافر کہہ کرمہاجربستیوں پر حملے کرائے گئے اورمہاجروں کاقتل عام کیاگیاتوسندھی عوام نے حملہ آوروں کا ساتھ نہیں دیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ نے بھٹوکوسیاست میں متعارف کرایا اور بھٹو کے ذریعے سندھ میں لسانی بل اور کوٹہ سسٹم جیسے اقدامات کروائے تاکہ اس کے ذریعے مہاجروں کو کچلا جاسکے۔ 
جناب الطاف حسین نے مہاجروںکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جس دھرتی سے جینا مرنا ، کھانا، پینا وابستہ ہوجائے وہ دھرتی ماں بن جاتی ہے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا مرنے کے بعد مہاجروں کی لاشیں دفن ہونے کے لئے پنجاب، سرحد یا بلوچستان جاتی ہیں؟ کیا مہاجروںکواب واپس انڈیا جانا ہے ؟ انہوں نے کہاکہ اب ہمیں سندھ سے کہیں اور نہیں جاناہے ، ہمارا جینامرنااسی دھرتی سے وابستہ ہے ، اب سندھ ہی ہماراوطن ہے، ہمیں اسی دھرتی کے مفاد اوربقاء کے لئے جدوجہد کرنا ہے ۔انہوں نے مہاجروں سے مزید کہاکہ مہاجرآپ کی شناخت ہے لیکن چونکہ سندھ آپ کا وطن ہے لہٰذا وطنی اعتبار سے آپ سندھی ہیں اورچاہے کتنے ہی برس کسی بھی ملک میں رہ لیں لیکن واپسی پر آپ کی شناخت یہی ہے۔ 
 جناب الطاف حسین نے سندھی عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرکوئی '' مہاجر قوم '' کالفظ کہے تو آپ اس پر برامت منائیں، اعتراض نہ کریں کیونکہ پوری دنیا یہی کہتی ہے ، لہٰذاان چھوٹے چھوٹے الفاظ میں مت الجھیں اورسندھ کی آزادی کے عظیم مفادکوپیش نظر رکھیں، مہاجروںکوواپس انڈیا نہیں جاناہے، خدارا مہاجروں کوگلے لگائیں اورایک ہوجائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی قوم جزوواحدپر مشتمل نہیںہوتی بلکہ مختلف اجزاء کامجموعہ ہوتی ہے ، جس طرح زمین مختلف کیمیائی عناصرچاندی، سونا، پیتل، تابنااوردیگرعناصر کواپنے دامن میں لئے ہوتی ہے اسی طرح کسی ایک جغرافیہ میں بسنے والی کوئی قوم بھی مختلف عناصر کامجموعہ ہوتی ہے۔ ہرجزو کی اپنی اپنی شناخت ہوتی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جس طرح سندھی قوم میں خاصخیلی، کھوسو، پنہور،برفت، چانڈیو اور دیگر قبائل ہیں اور سب کی اپنی اپنی شناخت ہے اسی طرح مہاجرقوم بھی مختلف ذیلی اجزا کا مجموعہ ہے جن کی اپنی اپنی علاقائی شناختیں ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب ذیلی شناختیں ایک دائرے میں متحد ہوجاتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سائیں جی ایم سید بھی عرب سے ہجرت کرکے آئے تھے لیکن انہوں نے سندھ کواپنا وطن بنالیا اوراس کی آزاد ی کے لئے پوری زندگی جدوجہد کی۔ الطاف حسین بھی ہندوستان سے آیا لیکن آج سندھ کی آزادی کے لئے چٹان کی طرح کھڑاہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا میں سندھی عوام سے ہاتھ جوڑ کرکہتاہوںکہ سندھ کی آزادی میراایمان اوردین ودھرم ہے، اگرمیں اس سے منکرہوں تو اپنے مذہب کا منکرہوں۔ انہوں نے سندھیوں اورمہاجروں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ آپ علاقائی اورلسانی تفریق کو بالائے طاق رکھ کرسندھ دھرتی کی آزادی کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اور اگر کوئی لڑائی جھگڑے کی بات کرے توآپ پیار محبت سے اس مسئلے کوحل کرنے کی کوشش کریں او رلڑآئی جھگڑے کی آگ پر تیل نہ ڈالیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ رسول اکرمۖ  کی حدیث مبارکہ ہے کہ اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت نہیں ہے ، عصبیت یہ ہے کہ تمہاری قوم کے لوگ کسی دوسری قوم پر ظلم کریںاورتم اس ظلم میں اپنی قوم کے ظالموں کاساتھ دو۔ جیسے آج شاؤنسٹ پنجابی اینکرز اور تجزیہ نگار مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں اور پشتونوںپر ڈھائے جانے والے مظالم میں پنجابی فوج کاساتھ دیتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ کاہرفرداس نتیجے پر پہنچ چکاہے کہ سندھ کو پاکستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے اس کے جائزحقوق نہیں مل سکتے، سندھ کی آزادی اب سندھ کے بچے بچے کاخواب ہے جس کی تکمیل کے لئے سندھ کا ہر سچا بیٹا جدوجہد کررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں سندھ میں آباد پنجابیوں، پختونوں کشمیریوں سے کوئی نفرت نہیں، ہم انہیں ''ڈیموکریٹک ری پبلک آف سندھ'' سے نکالنا نہیں چاہتے ،لیکن انہیں بھی سندھ میں رہتے ہوئے سندھ کے حق اورمفادکے لئے آواز اٹھانی ہوگی، یہ نہیں ہوسکتاکہ آپ سندھ میںرہیں، سندھ میں کمائیں، کھائیں لیکن سندھ میںرہ کرپنجاب کی ایجنٹی کریں۔ اگر آپ کاجینا مرنابھی سندھ سے وابستہ ہوگا اورآپ سندھ کے مفاد کے لئے عمل کریں گے توہم آپ کوبھی سندھی اورسندھ دھرتی کاحصہ تصور کریںگے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سندھ کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں،کوئی کہتاہے کہ کراچی کووفاق کاحصہ بنادیاجائے، کوئی کہتا ہے کراچی کواسلام آباد میں شامل کردیا جائے ، انہوں نے خبردار کیاکہ اگرایساعمل کیا گیا توہم سب کوایسے کسی بھی اقدام کے خلاف میدان عمل میں آکربڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کی موجودگی میں ایساہرگزنہیں ہوگا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت سندھیوںکی نہیں بلکہ سندھ کے دشمنوں  اور فوج کے دلالوں کی حکومت ہے، سندھ کے عوام کواس سے نجات حاصل کرناچاہیے۔ پیپلزپارٹی فوج کی ایماپر ایسے متعصبانہ اقدامات کررہی ہے جس سے سندھ کے مستقل باشندوں کے درمیان نفرتیں پیداہوں۔ پیپلزپارٹی نے جومتنازعہ بلدیاتی نظام پیش کیاہے، کہاجارہاہے کہ اس کی وجہ سے سندھ میں لڑائی ہورہی ہے، دراصل یہ لڑائی نہیں بلکہ یہ فوج کے اشارے پر کی جانے والی سازش ہے، اسی سازش کے تحت ایک طرف کراچی صوبہ کی بات کی جارہی ہے تودوسری طرف بلاول زرداری اوروزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیںکہ ہم مہاجروں کے وجود کوختم کردیںگے۔ انہوں نے ان دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ مرادعلی شاہ اپنی زبان کوقابومیں رکھیں اورسندھ میں نفرت کی آگ نہ بھڑکائیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج اپنے ایجنٹوں کے ذریعے چاہے جتنابھی ذورلگالے، میں لعل شہباز قلندر، شاہ لطیف بھٹائی   اور سائیں جی ایم سید کی قسم کھاکرکہتاہوں کہ میں سندھیوں اور مہاجروں میں لڑائی نہیں ہونے دوں گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی سندھ کی دعویداربنتی ہے لیکن سندھ کی باتیں کرنے والی پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے سندھ کی زمینیں فوج کے جرنیلوں کو دیدی ہیں، سندھ کے گیس، تیل ،کوئلے اور تمام وسائل پرفوج اور پنجاب کاکنٹرول ہے۔ ہم سندھ کی ایک ایک گز زمین بھی قابضین سے واپس لیںگے اورسندھ کو پنجاب کی غلامی سے نجات دلائیںگے۔ 
جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کااختتام شاہ لطیف   کے اس شعر پر کیاکہ اے مولاسائیں، ہم بچھڑے  ہووں کواس طرح ملادے کہ ہم ایک ہوجائیں۔ 

٭٭٭٭٭


1/17/2022 4:54:19 PM