Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگرعدالتیں آزادہوتیں تو پاکستان میں کبھی فوجی مارشل لاء نہیں لگتا۔الطاف حسین


  اگرعدالتیں آزادہوتیں تو پاکستان میں کبھی فوجی مارشل لاء نہیں لگتا۔الطاف حسین
 Posted on: 11/21/2021

 اگرعدالتیں آزادہوتیں تو پاکستان میں کبھی فوجی مارشل لاء نہیں لگتا۔الطاف حسین
 دعوے کئے جارہے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ ہمیشہ سے آزاد ہے جو حیران کن ہیں
  بدقسمتی سے ملک میں لوئرکورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک عدالتیں نہ کل آزادتھیں ، نہ آج آزاد ہیں  
اگر عدالتیں آزاد ہیں تو پھر ملک میں چارمرتبہ مارشل لاء کیسے لگے؟
 ملک میں جو چارمارشل لاء لگے انہیں کیا ایم کیوایم نے جائز قراردیاتھا یا ملک کی
 سپریم کورٹ نے جائز قرار دیا تھا ؟ 
 اگر کوئی سچاعوامی لیڈر واقعتاعوام کے ووٹوںسے اقتدارمیںآتااور نظام بدلنے پر یقین رکھتا توملک سے فرسودہ جاگیردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ ہوچکاہوتا
پاکستان سے فرسودہ نظام کاخاتمہ ہوجاتاتوعدالتیں آزادوخودمختارہوتیں، لوگوں
کو فوری انصاف میسر آجاتا اور ملک سے کرپشن کاخاتمہ ہوجاتا
 پاکستان کی فوج سرحدوں کے دفاع پر توجہ دینے کے بجائے ہرطرح کاکاروبار کررہی ہے اور ملک کے سیاہ وسفید کی مالک بنی ہوئی ہے
ملک کی عدالتیں،بیوروکریسی اور میڈیاسب ہی فوج کے ڈنڈے اوربوٹ تلے دبے ہوئے ہیں
فوج سیاسی ومذہبی جماعتوں کوبنانے ، سیاسی جماعتوں کو توڑنے اوران میں گروپ بنانے کی ذمہ دار ہے
 فوج ہی نے ایم کیوایم جیسی ایک سچی عوامی جماعت کوریاستی طاقت سے ختم
 کرنے کی کوشش کی ، اس کوکمزورکرنے کے لئے اس میں گروپ بنائے 
 ظلم جب سے حدسے گزرجاتاہے تومظلوموں کاصبربھی جواب دے جاتاہے،
میرے وفاپرست ساتھیوں اورتمام مظلوموں نے تہیہ کرلیاہے کہ وہ ظلم پر خاموش نہیں رہیںگے اور کسی بھی ظلم کے آگے سرنہیں جھکائیںگے
 خدااس قوم کی حالت نہیں بدلتاجو اپنی حالت بدلنے کے لئے تیار نہ ہو
جوقومیں قربانیاں دیتی ہیں وہ منزل پاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد کرتاہے
 ہفتہ کی شام کراچی کے ایک علاقے میں متعلقہ سیکٹرکے کارکنوں سے فون پرخطاب
 یہ کراچی میں پانچ سال کے بعد کارکنوں سے قائدتحریک الطاف حسین کادوسراخطاب ہے

 لندن  ۔۔۔21    نومبر 2021ئ
ایم کیوایم کے بانی و قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں عدالتیں کبھی آزاد نہیں رہیں، اگرعدالتیں آزادہوتیں تو پاکستان میں کبھی مارشل لاء نہیں لگتا اورفوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے صرف سرحدوںکادفاع کرنے پر توجہ دیتی۔ پاکستان کی فوج آج ہرطرح کاکاروبار کررہی ہے ملک کے سیاہ وسفید کی مالک بنی ہوئی ہے۔ فوج سیاسی ومذہبی جماعتوں کوبنانے ، سیاسی جماعتوںکو توڑنے اوران میں گروپ بنانے کی ذمہ دار ہے۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار ہفتہ کی شام کراچی کے ایک علاقے میں متعلقہ سیکٹرکے کارکنوںسے فون پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ کراچی میں پانچ سال کے بعد کارکنوںسے ان کادوسراخطاب ہے ، اس سے پہلے جناب الطاف حسین نے دوروز قبل ایک اورعلاقے میںکارکنوںسے خطاب کیاتھا۔ 
پاکستان کے سیاسی نظام کے حوالے سے جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرپاکستان میں کوئی سچاعوامی لیڈرعوام کے ووٹوںسے منتخب ہونے کے بعد اقتدارمیں آتا اوروہ واقعتا ملک کانظام بدلنے پر یقین رکھتا توملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ ہوچکاہوتا، پاکستان کی عدالتیں، آزادوخودمختارہوتیں، لوگوںکوآسانی سے فوری انصاف میسرآجاتا، ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہوجاتا، ملک کی معاشی صورتحال بد سے بدترنہ ہوتی بلکہ ملک معاشی طورپر مضبوط سے مضبوط ہوتا ، روپے کی قیمت مضبوط ہوتی اورملک معاشی طورپردیوالیہ ہونے کے قریب نہ ہوتا۔ انہوںنے کہا کہ آج پاکستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، روپے کی قدر آج بنگلہ دیش اورملائشیا سے بھی نیچے گرچکی ہے ، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے،غریب ،غریب سے غریب ترہوگیاہے، غریب فاقہ کشی سے دوچار ہیںاورانہیں تین وقت کی روٹی تک میسرنہیںہے۔ کراچی اورسندھ کے دیگرشہری اور دیہی علاقو ںکی صورتحال پہلے سے بھی زیادہ ابترہوگئی ہے، اسی طرح بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت  بلتستان اورپاکستانی مقبوضہ کشمیر کے عوام  بھی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں جس پر عام انسان سوائے رونے کے اورکچھ نہیںکرسکتا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج دعوے کئے جارہے ہیںکہ پاکستان کی عدلیہ ہمیشہ سے آزاد ہے جو کہ حیران کن ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بدقسمتی سے ملک میں لوئرکورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک عدالتیں نہ کل آزادتھیں ، نہ آج آزاد ہیں۔ اگرعدالتیں آزادہوتیں تو پاکستان میں کبھی فوجی مارشل لاء نہیں لگتا۔ اگر عدالتیں آزاد ہیں تو پھر ملک میں چارمرتبہ مارشل لاکیسے لگے؟اوراگرجومارشل لاء لگے انہیں کیا ایم کیوایم نے جائز قراردیاتھا یا ملک کی سپریم کورٹ نے جائزقراردیاتھا؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرپاکستان کی عدالتیں آزاد اورخودمختارہوتیںاور آئین وقانون کے تحت فیصلے دے رہی ہوتیں توملک میں مارشل لاء نہیں لگتے اورفوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرنے کے بجائے صرف سرحدوںکادفاع کرنے پر توجہ دیتی۔ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے صورتحال یہ ہے کہ فوج سرحدوںکے دفاع پرتوجہ دینے کے بجائے کاروبار میںمصروف ہے، آج ایگریکلچر سے لیکرکنسٹرکشن تک کونسا ایسا شعبہ ہے جس میں فوج مصروف نہ ہو، سیمنٹ سے لیکرسیریئل تک کونسی ایسی مصنوعات ہیں جس کے لئے فوج نے کارخانے قائم نہ کررکھے ہوں، فوج مشروبات بنارہی ہے، گوشت تک فروخت کررہی ہے، پیٹرول پمپ اورشادی ہال چلارہی ہے۔ کیا فوج کا یہ کام ہوتا ہے؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے بارے میںکہاجاتاہے کہ دنیاکے ہرملک کی فوج ہوتی ہے لیکن دنیامیں پاکستان واحدملک ہے جس کی فوج کے پاس ملک ہے،یعنی پاکستان کی فوج ملک کے سیاہ وسفید کی مالک بنی ہوئی ہے۔ فوج سیاسی ومذہبی جماعتوں کوبنانے ، سیاسی جماعتوںکو توڑنے اوران میں گروپ بنانے کی ذمہ دار ہے۔طالبان، القاعدہ، داعش، لشکرطیبہ اورایسے ہی عسکری جہادی گروپ ایم کیوایم نے نہیں فوج نے بنائے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج ہی نے گلیوںسے جنم لینے والی ایم کیوایم جیسی ایک سچی عوامی جماعت کوریاستی طاقت سے ختم کرنے کی کوشش کی ، اس کوکمزورکرنے کے لئے اس میں گروپ بنائے ۔ ایم کیوایم ملک کی واحد جماعت ہے اوررہے گی جس نے ملک میں پہلی مرتبہ غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے اورباصلاحیت نوجوانوںکوعوام کے ووٹوںسے منتخب کرکے انہیں بلدیاتی اداروں میں بھیجا، صوبائی وقومی اسمبلی اورسینیٹ میںبھیجا۔ایم کیوایم نے غریبوں اورمڈل کلاس عوام کے حقوق کی صرف بات نہیں کی بلکہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والوںکو عملاً نمائندگی دے کر ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کاانقلاب برپاکیا۔ یہ عوامی انقلاب فوج ، جاگیرداروں، وڈیروں اوربڑے بڑے سرمایہ داروں کو پسندنہیں آیا اورسب نے ملکر ایم کیوایم کوکچلنے کی سازشیں شروع کردیںتاکہ غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی کے انقلاب کاپیغام ملک کے کونے کونے میں نہ پہنچے اور وڈیرے، جاگیردار، بڑے بڑے سرمایہ دار، فوج اوراس کی ایجنسیوں کے کرپٹ جرنیل ،عدلیہ کے بڑے بڑے کرپٹ ججزاورکرپٹ بیوروکریٹ ملک کے خزانے پر ڈاکے ڈالتے رہیںاوراپنے خاندانوںکے ساتھ پوری دنیا میں عیش وعشرت کی زندگی گزارسکیں۔  
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروںکے ساتھ فوج، اسٹیبلشمنٹ ،بیوروکریسی ، عدالتوںاورحکمراں طبقہ کاجو طرزعمل رہاہے وہ انتہائی متعصبانہ ہے۔ملک کی عدالتیں،بیوروکریسی اور میڈیاسب ہی فوج کے ڈنڈے اوربوٹ تلے دبے ہوئے ہیں۔ وہ سچ کوسچ نہ بیان کرسکتے ہیں اورنہ ہی لکھ سکتے ہیںاورجو کوئی سچ بولے تووہ غائب کردیاجاتاہے، سب کی زبانیں طاقت اورجبر کے ہتھکنڈوں کے ذریعے خاموش کرائی جارہی ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے ایم کیوایم کوختم کرنے کے لئے ایم کیوایم کے لوگوںکوخرید کر حقیقی گروپ بنایا، انہیں پیسہ اوراسلحہ دیکرانہیں ہرطرح کالائسنس دیا، اس کے بعد فوج ہی نے ایم کیوایم میں عظیم طارق گروپ بنایا،پھر حقیقی کی طرح مختلف چھوٹے چھوٹے گروپ بنائے، ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن جاری رہا، ہمارے 25ہزار ساتھی شہید کردیے گئے ،ہزاروں گرفتار کئے گئے، سینکڑوں آج تک لاپتہ ہیں، سینکڑوںآج بھی جیلوںمیں جھوٹے مقدمات میں اسیرہیں۔ ریاستی مظالم کے خلاف آوازاٹھانے پر لاہورہائیکورٹ کے ذریعے میری تقریر، تصویر حتیٰ کہ نام لینے تک پر پابندی عائد کردی گئی جوآج تک عائد ہے۔ ریاستی مظالم کے خلاف ہم نے پرامن احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی مگر کسی نے ہمار ی داد رسی نہ کی،کسی حکومتی شخص نے بھوک ہڑتالی  کیمپ پرآکر ہماری فریاد نہ سنی لیکن اس ظلم وبربریت اور بے حسی پر مردہ باد کہا گیاتو ہم پرمزید ظلم وستم کے پہاڑ توڑدیے گئے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے ایم کیوایم کوکمزورکرنے کے لئے حقیقی کی طرح پی ایس پی بنائی، پھر پی آئی بی ٹولہ بنایا، بہادرآباد ٹولہ بنایااورریاست کی سطح پر پوری کوشش کی گئی کہ مہاجروںکوتتر بتر کردیاجائے اوران کی ایک آواز نہ رہ سکے۔ انہوں نے کہاکہ یقینا ان مظالم سے مہاجر عوام مصائب کا شکار ہوئے اوران میں مایوسی پیداہوئی ۔ظالم یہ سمجھ رہے تھے کہ ہزاروںمہاجرنوجوانوںکو ماورائے عدالت قتل کرکے، انہیں گرفتار اور لاپتہ کرکے اور مہاجروں پر ظلم ڈھاکرمہاجروں کی آواز دبادی جائے گی لیکن ظلم جب سے حدسے گزرجاتاہے تومظلوموں کاصبربھی جواب دے جاتاہے، میرے وفاپرست ساتھیوں نے بھی اب یہ تہیہ کرلیاہے کہ وہ ظلم پر خاموش نہیں رہیںگے، جس طرح بلوچ سرمچار 1948ء سے آج تک بلوچستان کی آزاد ی وخودمختار ی کے لئے جانیں دے رہے ہیں،اسی طرح تمام مظلوموں  خصوصاً غریب سندھیوں اور مہاجروںنے بھی یہ فیصلہ کرلیاہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے میدان عمل میں آکر اسی طرح سر سے کفن باندھے رہیںگے اورکسی بھی ظلم کے آگے سرنہیں جھکائیںگے تاکہ ہماری آنے والی نسلوںکوایک باعزت زندگی میسرآجائے،وہ آزادی کی صورت میںہماری قربانیوں کاپھل کھاسکیں اورپھر ہماری قوم کو طعنے دینے والااورہماری ماؤںبہنوںکو بے عزت اوررسوا کرنے والا کوئی نہ ہو ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہمیں ڈراورخوف کونکالناہوگاکیونکہ بزدلی سے بزدلی جنم لیتی ہے اوربہادری سے بہادری اورجرات جنم لیتی ہے۔ قوم کے ہرفردکویہ بات اچھی طرح سمجھ لیناچاہیے کہ جوقومیں قربانیاں دیتی ہیں وہ منزل پاتی ہیں، دنیامیں کسی بھی محروم ومظلوم قوم کو پلیٹ میں رکھ کرکوئی حقو ق نہیں دیتابلکہ حقوق چھینے جاتے ہیں۔جو قومیںقربانیاںدیتی ہیں اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ بھی قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے کہ خدااس قوم کی حالت نہیں بدلتاجو اپنی حالت بدلنے کے لئے خود تیار نہ ہو۔ جناب الطاف حسین نے کارکنوں کوشاباش پیش کرتے ہوئے کہاکہ اگرمیں سامنے ہوتاتو آپ کوسینے سے لگاکرشاباش دیتااورپیارکرتا۔ انشاء اللہ وہ دن آئے گاجب تمام دوریاں ختم ہوجائیں گی اور ہم آپس میں ملیںگے ۔ اجلاس میں موجود کارکنوں نے بھی جناب الطا ف حسین سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آپ سے گفتگو کرکے آج ہماری توانائیاںبھی بڑھ گئی ہیں اورچاہے کیسے ہی حالات ہوں،ہم آپ کی قیادت میں جدوجہد جاری رکھیںگے۔ 

٭٭٭٭٭ 



12/5/2021 2:26:47 PM