Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

محترمہ صفیہ اکبر ، وفاداری کی انتہاء کی علامت ہیں ، قائد تحریک الطاف حسین


محترمہ صفیہ اکبر ، وفاداری کی انتہاء کی علامت ہیں ، قائد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 5/30/2021
محترمہ صفیہ اکبر ، وفاداری کی انتہاء کی علامت ہیں ، قائد تحریک الطاف حسین
محترمہ صفیہ اکبر وفاداری (Loyalty) کی علامت کے طورپر
 ہمیشہ زندہ رہیں گی، الطاف حسین
 مرحومہ زندگی کی آخری سانس تک تحریک ، نظریہ ، مشن، مقصد اور نظریہ کے خالق
 کی وفادار رہیں،الطاف حسین
 تمام ساتھی وفاداری کی معراج کیلئے محترمہ صفیہ اکبر کی تقلید کریں اور آخری سانس تک وفاداررہیں،الطاف حسین
 دنیا بھرمیں سیاسی ، جغرافیائی اور علاقائی سطح پر فیصلے ہونے والے ہیں،الطاف حسین
 ایک ایک فوجی جرنیل کو مظلوموں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا، الطاف حسین
 میںنے اپنی پوری زندگی میں کسی کو قتل کرناتو کجا کبھی زخمی تک نہیں کیا اور نہ ایسا عمل کرنے کی ہدایت دی، الطاف حسین
الطاف حسین ، پاکستان کا واحد سیاسی رہنماء ہے جس نے فوجی جنرل شاہی کے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام 
کے خلاف علم بلند کیا، الطاف حسین
محترمہ صفیہ اکبر کی پہلی برسی کے موقع پر انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میںمنعقدہ تعزیتی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ محترمہ صفیہ اکبر ، وفاداری کی انتہاء کی علامت ہیں اور وہ وفاداری (Loyalty) کی علامت کے طورپر ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کی سینئررکن اور شعبہ خواتین انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کی انچارج محترمہ صفیہ اکبر کی پہلی برسی کے موقع پر انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں منعقدہ تعزیتی اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے دنیابھرمیں دیکھاگیا۔ تعزیتی اجلاس میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر طارق جاوید، اراکین رابطہ کمیٹی ، ایم کیوایم برطانیہ کے ذمہ داران اور شعبہ خواتین کی اراکین کے علاوہ صفیہ اکبرمرحومہ کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے محترمہ صفیہ اکبر کی تنظیمی خدمات کوسراہا اورمرحومہ کو زبردست خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ انسان فانی ہے اور دنیامیں ہرکسی کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن جو لوگ کسی نظریہ اورنظریہ کے خالق سے وابستہ ہوکر عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کیلئے قربانیاں دیتے ہیں وہ لوگ مرنے کے بعد بھی اپنے اچھے کاموں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں اورذہنوںمیں زندہ رہتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ لفظ Loyalty کے آٹھ کیریکٹر ہیں لیکن اپنے مشن ومقصد،کاز اور نظریہ پرثابت قدم رہتے ہوئے اس لفظ کے معنی پر پورا اترناآسان بات نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں مختلف عناصر پائے جاتے ہیں مثلاً پانی، لوہا، مرکری، سونا وغیرہ ، ان عناصر کی سائنسی علامات ہوتی ہیں ، اسی طرح چرند ،پرند اوررینگنے والے جانداروں کی بھی پہچان کیلئے ان کے نام ہوتے 
ہیں ، اگر انسانوں کی مثال لیں تو ہرانسان کی اپنی پہچان ہوتی ہے۔ دنیا میں پائے جانے والے عناصر، چرند، پرنداور انسانوںکوجب ان کی علامت یاپہچان سے پکارا جاتا ہے تو ان عناصر یاجانداروں کی امیج ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ہم سب محترمہ صفیہ اکبر کی پہلی برسی کے موقع پر یہاں جمع ہیں ، محترمہ صفیہ اکبر ایک سال قبل انتقال کرگئیں لیکن نئی نسل کو معلوم ہوناچاہیے کہ محترمہ صفیہ اکبر کا صرف پہچان کے لحاظ سے نام صفیہ اکبر اور خوبیوں کے لحاظ سے محترمہ صفیہ اکبر وفاداری کی علامت کے طورپر ہمیشہ زندہ رہیں گی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ محترمہ صفیہ اکبر نے جس دن سے ایم کیوایم میں شمولیت اختیار کی ، اس زمانے میں بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم میں غداریاں کروائیں ، لالچی اورمفاد پرست عناصر نے بڑی تعداد میں تحریک ، نظریہ اور مشن ومقصد کو چھوڑ دیا لیکن محترمہ صفیہ اکبر اپنی زندگی کی آخری سانس تک تحریک ، نظریہ ، مشن، مقصد اور نظریہ کے خالق کی وفادار رہیں ۔ وہ1992ء سے نہ صرف روزانہ50 میل کا طویل سفر طے کرکے سیکریٹریٹ آیا کرتی تھیں بلکہ کڑے سے کڑے وقت میں بھی ہفتہ میں ایک دن لازمی ساتھیوں کیلئے کھانا پکاکرلایاکرتی تھیں، سردی ، گرمی، بارش، برفباری جیسے موسم بھی انٹرنیشنل سیکریٹریٹ آنے کیلئے ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جن لوگوںکی علامت وفاداری بن جائے تو ایسے لوگ موسم کی شدت اور راہ کی رکاوٹوں کی کبھی پرواہ نہیں کرتے اور اپنا تحریکی سفر جاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محترمہ صفیہ اکبر کا تذکرہ آتے ہی سیکریٹریٹ کے 
ساتھیوں کا مرحومہ سے ایک ماں اورایک بہن کی حیثیت میں مذاق کرنا ، ساتھیوں کے مذاق پر 
ان کا مخصوص اندازمیں جواب دینا جس سے چاروں طرف قہقہے گونجنے لگتے تھے،محترمہ صفیہ اکبر کا نظم پڑھنے ، نعتیں پڑھنے، بولنے ، ناراض ہونے اور نخرے دکھانے کا انوکھاانداز آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے اورمرحومہ کے انوکھے انداز ہمیشہ یادگاررہیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کچھ انسانوں کے نام ایسے ہوتے ہیں جوانکے دنیا سے رخصت ہوجانے کے باوجود ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیںاور محترمہ صفیہ اکبرنام ،ان کے عمل وکردار، نظریے سے ٹھوس لگاؤ، عقیدت ومحبت اورپیار کے باعث تحریک میں قربانیوں کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اورقربانیوں کی تاریخ سے محترمہ صفیہ اکبر کا نام کوئی نہیں نکال سکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ محترمہ صفیہ اکبر کی روح اس تعزیتی اجلاس میں موجود ہے اور وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے کہہ رہی ہیں '' میں ان الفاظ کے قابل نہیں ہوں، شکریہ بھائی''۔انہوں نے کہاکہ محترمہ صفیہ اکبر ہم سب آپ کی عقیدت ، محبت، پیار، وفاداری ، تحریک سے لگاؤ، رات دن کی محنت، نہ تھکنے والے سفراور کھاناپکاکر لانے کے عمل کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے گلوگیر آواز میں کہاکہ سردیوںکے موسم میں محترمہ صفیہ اکبر بے حد لذیز اور ذائقے دار پائے بناکرلایاکرتی تھیں اور میرا حصہ الگ نکال کر سب کو تاکید کیاکرتی تھیں کہ یہ ہم نے الطاف بھائی کیلئے نکالاہے ، کوئی ہاتھ نہ لگائے ۔ اب میں کس سے کہوں گا کہ صفیہ باجی جیسے مزیدار پائے بناکرکھلاؤ۔انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہاکہ محترمہ صفیہ اکبرسے میرا روحانی رشتہ قائم ہے ، ان کے دنیا سے رخصت ہونے بعد بھی یہ روحانی رشتہ قائم رہے گا کیونکہ روحانی رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے، جب محترمہ صفیہ اکبر کا انتقال ہوا تو میں لندن میں کورونا وائرس کی وباء اوراپنی صحت 
کے باعث ان کی تدفین میں شرکت کے قابل نہیں تھا لیکن مجھے اللہ تعالیٰ نے ہمت دی ، میں نہ صرف مرحومہ کی تدفین میں شریک ہوا بلکہ اپنے ہاتھوں سے ان کی قبرمیں مٹی بھی ڈالی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ محترمہ صفیہ اکبر سچی عاشق رسول ۖ تھیں اورمجھے یقین ہے کہ محترمہ صفیہ اکبر محشر میں بھی سرکاردوعالم ۖ سے میری شفاعت کیلئے فریاد کریں گی ۔ جناب الطاف حسین نے دنیا بھر میں مقیم وفاپرست ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ وفاداری ، محترمہ صفیہ اکبر کی علامت اور انکی پہچان ہے لہٰذا آپ تمام ساتھی بھی ایسی ہی علامت بنیں، وفاداری کی معراج کیلئے محترمہ صفیہ اکبر کی تقلید کریں اور آخری سانس تک تحریک اورنظریہ کے وفاداررہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے عالمی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھرمیں سیاسی ، جغرافیائی اور علاقائی سطح پر فیصلے ہونے والے ہیں، اب مظلوموںکو ان کے صبروبرداشت کا صلہ ملنے کا وقت آیاچاہتا ہے اور ظالموں کے انجام کا وقت بھی قریب ہے ، ایک ایک فوجی جرنیل کو مظلوموں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ آج محترمہ صفیہ اکبرکی برسی کے موقع پر میں سب کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ جب میرے ساتھیوں کو بیدردی سے قتل کیاگیا، انہیں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناگیا، انکے جسم سے کھالیں اتاری گئیں اور انہیں جلایاگیا تو دل میں آتا تھا کہ ایسے سفاک اورظالم قاتلوںکو میں خود سزا دوں لیکن میں نے اپنی پوری زندگی میں کسی کو قتل کرناتو کجا کبھی زخمی تک نہیں کیا اور نہ ایسا عمل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوںنے مزیدکہاکہ اگر الطاف حسین کسی کوقتل کرنے کی ہدایت دینے والا ہوتا تو آج آفاق اورعامرسمیت 
تحریک کے بڑے بڑے غدار زندہ نہ ہوتے ۔انہوںنے دریافت کیاکہ تحریک سے کھل 
کرغداری کرنے والوں میں کسی ایک کابھی قتل ہوا؟ ایم کیوایم اورالطاف حسین پر جھوٹے الزامات فوج کا پروپیگنڈہ ہے کیونکہ الطاف حسین ، پاکستان کا واحد سیاسی رہنماء ہے جس نے فوجی جنرل شاہی کے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف علم بلند کیا اورپاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت متعارف کرائی ، ملک سے چوری چکاری، رشوت ستانی ،کمیشن کی سیاست کے بجائے عوام کی عملی خدمت کی ۔ ایم کیوایم کے کردار وعمل سے متاثر ہوکر پورے ملک سے وفود آنے لگے اور غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت پورے ملک میں متعارف کرانے کی درخواستیں کرنے لگے جس پر ایم کیوایم کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیاگیا لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی نے ایم کیوایم کے لوگوںکو صوبہ پنجاب، سرحد(KPK)، بلوچستان اور سندھ بھرمیں قتل کیااورسازشیں کرکے سندھیوں، بلوچوں، پختونوں،پنجابیوں اوردیگرمظلوموں کو ایم کیوایم اورالطاف حسین کے قریب نہیں آنے دیا۔ جناب الطاف حسین نے پاکستان کی تمام مظلوم قوموںکو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دنیابھرمیں جغرافیائی تبدیلیاںہونے والی ہیں بہتر ہے کہ ہرصوبے کے رہنے والے اپنے اپنے معاملات طے کرلیں۔ آخرمیں جناب الطاف حسین نے محترمہ صفیہ اکبرکے ایصال ثواب کیلئے خشوع وخضوع کے ساتھ فاتحہ خوانی کرائی اوراجتماعی دعا بھی کی۔
٭٭٭٭٭


6/19/2021 1:55:16 PM