Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں پاکستان کانہیں کرپٹ سسٹم کامخالف ہوں، الطاف حسین


 میں پاکستان کانہیں کرپٹ سسٹم کامخالف ہوں، الطاف حسین
 Posted on: 7/21/2022

 میں پاکستان کانہیں کرپٹ سسٹم کامخالف ہوں، الطاف حسین
میں ایساپاکستان چاہتاہوں جہاں کرپشن کی اجازت نہ فوج کے جرنیل کو ہونہ کسی کلر ک کو
 میں فوج کے خلاف کبھی نہیں تھا، میں ان چند جرنیلوں کے خلاف تھاجوسیاست میں مداخلت کرتے ہیں
 میں ایماندار جرنیلوں، افسروں ،نان کمیشنڈافسروںاور سپاہیوں کادل سے احترام کرتاہوں
ایک مائنڈسیٹ بنادیاگیاہے کہ جس کاتعلق پنجاب سے ہوگاوہی پاکستان کاوفادار ہوگاباقی سب کی حب الوطنی مشکوک ہے اورجواپنے حقو ق کی بات کرے وہ غدارہے

کیاکوئی ایک ایساواقعہ بتایاجاسکتاہے کہ ایم کیوایم نے کسی ایک پنجابی یاپختون آبادی پر لشکرکشی کی ہو؟ 
 ہمارے ہزاروں کارکنوںکوماورائے عدالت قتل کیاگیا، کیا ہم نے آج تک کسی ایک فوجی کوبھی قتل کیا؟
ملک میں صحیح جمہوریت آنی چاہیے، فیوڈل ازم ختم ہونا چاہیے 
ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کا پنجاب کے عوام اور فوجی جرنیلوں،افسران اورسپاہیوں کے نام خصوصی خطاب
لندن  …  21  جولائی 2022 ئ
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں پاکستان کانہیں بلکہ کرپٹ سسٹم کامخالف ہوں، میں ایساپاکستان چاہتاہوں جہاں کرپشن کی اجازت نہ فوج کے جرنیل کو ہونہ کسی کلر ک کو، میں فوج کے خلاف کبھی نہیں تھا، میں ان چند جرنیلوں کے خلاف تھاجوسیاست میں مداخلت کرتے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہاربدھ کوپنجاب کے عوام اورفوج کے جرنیلوں،افسران اورسپاہیوں کے نام خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں اہل پنجاب اور مسلح افواج کومخاطب کرتے ہوئے ایم کیوایم کے بارے میں پھیلائے گئے پروپیگنڈوں کادلائل کے ساتھ تفصیل سے جواب دیا اوراس حوالے سے وڈیوزاورتصاویر کی مدد سے بھرپوراندازمیں ایم کیوایم اور مہاجر قوم کامقدمہ پیش کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب سب سے بڑاصوبہ ہے جس کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور حقائق یہ ہیں کہ ملک کی آرمی، نیوی، بحریہ ، مسلح افواج کی تمام ایجنسیوںاورسول وملٹری بیوروکریسی میں پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی تعدادسب سے زیادہ ہے۔تمام اہم سول وعسکری سرکاری پوزیشن پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں جبکہ مہاجر، سندھی ،بلوچ اورپختون نظرنہیں آتے۔ملک میں ایک مائنڈسیٹ بنادیاگیاہے اوربرین واشنگ کے ذریعے پنجاب سے تعلق رکھنے والوںکویہ بتادیا گیا ہے کہ جس کاتعلق پنجاب سے ہوگاوہی پاکستان کاوفادار ہوگاباقی پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر، سرائیکی ، کشمیری ،گلگتی ،  بلتستانی سب کی حب الوطنی مشکوک ہے اورجواپنے حقو ق کی بات کرے وہ غدارہے۔ حتیٰ کہ مہاجرجن کے آباؤاجداد نے یہ جانتے بوجھتے کہ ان کے علاقے پاکستان میں شامل نہیں ہوں گے، انہوں نے قیام پاکستان کے لئے 22لاکھ جانوںکی قربانیاں دیںان تک کوغداراوررا کا ایجنٹ قرار دیدیاگیاحالانکہ ہمارے بزرگوںنے توقائداعظم کی اپیل پر پاکستان ہجرت کرکے پاکستان کا ڈھانچہ کھڑاکیامگربعد میںانہیں چن چن کرسرکاری ملازمتوںسے بیدخل کردیاگیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جی ایم سیدنے سندھ اسمبلی میں قراردادپاکستان کے حق میں ووٹ دیا مگر جب انہوں نے سندھ کے حق کی بات کی توانہیں غدارقراردیدیاگیااورآج تک غدارکہا جاتا ہے۔اسی طرح بلوچوں نے اپنے حق کی بات کی توانہیں غدارقراردیدیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لئے دومرتبہ ریفرنڈم ہوالیکن آزادی کی حمایت کرنے والوں میں سے کسی کو غدار قرار نہیں دیاگیا، اسی طرح کینیڈامیں کیوبک صوبے کی آزادی کی بات ہوتی ہے لیکن وہاں کسی کو غدار قرار نہیں دیاجاتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں بدقسمتی سے دلائل کے بجائے گولی سے بات کی جاتی ہے ، سابقہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں نے اپنے حقوق کی بات کی توانہیںحقوق دینے کے 
بجائے ان کے خلاف طاقت استعمال کی گئی ، نتیجہ یہ ہواکہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا،مگرہماری نئی نسل کویہ نہیں بتایاجاتاکہ پاکستان کیسے ٹوٹا۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم نے بنگلہ دیش کوایک آزادملک کی حیثیت سے تسلیم کرلیاتوپھرسندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان جولسانی بنیادپر صوبے ہیں ،انہیں اپنے معاملات چلانے کے لئے خودمختاری کیوں حاصل نہیں ہے؟ تمام قوموںکوان کاحق کیوں نہیں دیا جاتا؟ فاٹامیںآج تک تباہی میں کیوں مبتلاہے؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب کے غریب ومتوسط طبقہ کاحق بھی کوئی سندھی، بلوچ، مہاجر یا پختون غصب نہیں کرتابلکہ پنجابیوں کے حقوق بھی پنجاب کا جاگیردارطبقہ غصب 
کرتاہے ،غریب پنجابی کابیٹا غریب ہی رہاجبکہ فائدے میں پنجاب کے وہ جاگیردار، زمیندار، پیرفقیراور گدہ نشین رہے جنہوں نے برصغیرکی آزادی کی تحریک میں انگریزوںکاساتھ دیااوراس کے عوض بڑی بڑی جاگیریں حاصل کیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف پروپیگنڈہ کیاگیاکہ وہ پنجابیوںپختونوں کی دشمن جماعت ہے،انہوںنے اس الزام کی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ الطاف حسین کی اپنی گلی میں پٹھان پنجابی اورسندھی خاندان رہتے تھے ،انہیں آج تک کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ پنجاب اورپختونخوا والے اپنے ان رشتہ داروںسے جوایم کیوایم کے قیام سے پہلے کراچی میں رہ رہے ہیں،ان سے 
پوچھیں کہ جب ایم کیوایم ملک کی تیسری بڑی جماعت بنی توکیاانہیں مہاجراکثریتی علاقوںسے نکالا گیا؟ یاان کے گھروالوںسے کوئی زیادتی کی گئی؟کیاکوئی ایک ایساواقعہ بتایاجاسکتاہے کہ ایم کیوایم نے کسی ایک پنجابی یاپختون آبادی پر لشکرکشی کی ہو؟ جیسا کہ فوج کی ایک ایجنسی کے منصوبے کے تحت مسلح پختونوں کے ذریعے 14دسمبر1986ء کومہاجرعلاقوںعلی گڑھ کالونی اورقصبہ کالونی پرلشکرکشی کرائی گئی،وہاں حملہ کرکے مہاجروںکاقتل عام کیاگیا، گھروں کولوٹ مارکرکے آگ لگادی گئی اورخواتین کی آبرو ریزی کی گئی۔ اسی طرح 1987ء میںآئی ایس آئی نے '' پنجابی پختون اتحاد'' نامی جرائم پیشہ افراد کی تنظیم بنائی اورسرکاری 
سرپرستی میںان کے جرائم پیشہ افراد کے ذریعے گرین ٹاؤن، ماڈل کالونی، جلال آباد ناظم آبادخواجہ اجمیرنگری اوردیگر علاقوںپر مسلح حملے کرائے گئے ،قتل عام کیاگیااورگھروںکو آگ لگائی گئی۔ کیاان حملوں کے جواب میں ایم کیوایم نے کسی پنجابی پختون بستی پرکوئی حملہ کیا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سندھیوں، سرائیکیوں،کشمیریوں ،کسی بھی قومیت کے خلاف نہیں، ایم کیوایم نے توپنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سندھیوںکواپنے علاقوںسے منتخب کرواکرانہیں بلدیات، قومی وصوبائی اسمبلیوںاورسینیٹ میں بھیجا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پرسیاسی مخالفین کے 
قتل اوربوری بند لاشوں کاشرمناک بہتان لگایاجاتاہے، یہ بہتان فوج کی بی ٹیم جماعت اسلامی کی جانب سے شدومد سے لگایاجاتارہاہے۔ اگر ایسا ہوتاتوکیاکراچی میں کوئی سیاسی مخالف رہ سکتاتھا؟ اگر اس الزام میں کوئی صداقت ہوتی توکیا ایم کیوایم سے غداری کرنے والے آفاق احمدیا عامرخان یاان جیسے کسی شخص کوماراگیا؟ بلکہ جب عامرخان نے شہیدوں کے اہل خانہ سے معافی مانگی تو ہم نے عامر خان کوایم کیوایم میں واپس لیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ بوری بندلاشیں بھی سرکاری ایجنسیوں کی کارستانی تھی جیسے جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں عوام میںخوف میںمبتلا کرنے کے لئے ہتھوڑا گروپ لوگوںکومارتاتھا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم 
کے جولوگ الطاف حسین سے غداری کرلیںایجنسیاں انہیں اپنی گود میں لے لیتی ہیں اورالطاف حسین پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ کونسا اصول ہے کہ الطاف حسین براہے اوراس کی جماعت کے جولوگ اسے چھوڑدیںوہ فرشتے، پاک صاف اورگنگانہائے ہوئے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ الزام کہ ایم کیوایم فوج کی مخالف ہے اوراس نے فوجیوںکوماراہے ، سراسرجھوٹ ،غلط اورحقائق کے منافی ہے۔انہوںنے کہاکہ 19جون 1992ء سے فوج ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کررہی ہے ، ہمارے ہزاروں کارکنوںکوماورائے عدالت قتل کیاگیا، کیااس کے جواب میں ہم نے آج تک کسی ایک فوجی کوبھی قتل کیا؟ 
انہوںنے کہاکہ میں فوج کاکبھی مخالف نہیں رہا، میں نے تو جنرل یحییٰ کے زمانے میں فوجی کیڈٹ اسکیم میں حصہ لیا1971ء کی جنگ کے دوران بلوچ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کرکے ایک سپاہی کی حیثیت سے بلوچستان کے علاقے سونمیانی میں ملک کے دفاع میں حصہ لیا۔میراجذبہ تویہ تھاکہ میں وطن کی سرحدوں کی حفاظت کروںاور دس بھارتی فوجیوں کو مار کر شہادت حاصل کروں۔ میں فوج کے خلاف نہیں بلکہ ان کرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں جو سیاست میں مداخلت کرتے ہیں۔ میں فوج کے خلاف نہیں بلکہ سیاست میں فوج کی مداخلت کامخالف تھا اورآج بھی اس کے خلاف آوازاٹھارہاہوں۔میرامؤقف ہے کہ فوج سیاست 
اورکاروبار میں پڑنے کے بجائے ملک کی سرحدوں کے دفاع پر توجہ دے۔ میں نے کرپٹ جرنیلوں کے خلاف آوازاٹھائی تومجھے ملک دشمن قرار دیدیاگیا ۔کہاجاتاہے کہ الطاف حسین نے 22  اگست کو '' پاکستان مردہ باد '' کانعرہ لگایالیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ میں نے اسی روز اپنے اس بیان پر معذرت کرلی تھی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کانہیں سسٹم کامخالف ہوں، میراکہنایہ ہے کہ پاکستان سے فیوڈل ازم کامکمل خاتمہ کیاجائے اورچھوٹے چھوڑے ہاریوںاورکسانومیںزمین کی تقسیم کی جائے،اس سے ملک کی معیشت میں بہتری ہوگی اورجاگیرداروںکی جاگیرداری اوراس غنڈہ گردی اوربدمعاشی کاخاتمہ ہوگاکہ وہی آئیںگے، 
نانا،دادا،اوران کے بعدبیٹا، نواسہ یا پوتاہی اسمبلیوںمیں آئے گااورغریب پنجابی اسمبلیوں کاممبرنہیں بنے گا۔دوفیصد مراعات یافتہ طبقہ کے کرپٹ سیاستدانوں، کرپٹ جرنیلوںاور الطاف حسین کی یہی جنگ ہے۔میں ایساپاکستان چاہتاہوں جہاں کرپشن کی اجازت نہ فوج کے جرنیل کو ہونہ کسی کلرک کو ۔ کرپشن کرنے پر سزااگرکسی کلرک کوہوتوجرنیل کے لئے بھی سزاہو ۔ میں ایماندار جرنیلوں، افسروں ،نان کمیشنڈافسروں اورسپاہیوں کادل سے احترام کرتاہوں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں صحیح جمہوریت آنی چاہیے اور فیوڈل ازم ختم ہوناچاہیے کیونکہ فیوڈل ازم جمہوریت کی ضد ہے ۔ فیوڈل ازم اورپاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اورپی ٹی آئی کے جلسوں جلوسوںاورمظاہروں میں آرمی چیف اورفوج کے خلاف نعرے لگا ئے گئے لیکن ان میں سے کسی ایک کوبھی ہاتھ نہیں لگایا گیا ۔ اگردوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے یہی باتیں کرتے تو انہیں لاپتہ اورماورائے عدالت قتل کردیا جاتا ہے۔ پنجاب کے صحافیوں کے ساتھ حراست میں اسپیشل سلوک کیاجاتاہے لیکن دوسری قوموں کے صحافی تنقید کریںتو انہیںلاپتہ اورقتل کیاجاتاہے۔یہ دہرامعیاردوسری قومیتوںمیں کیاسوچ پیداکرے گا؟ یہ سلسلہ بند ہوناچاہیے ۔
٭٭٭٭٭

 



10/4/2022 3:08:46 AM