Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نئی نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جارہی ہے ،پاکستان بنانے والوںکو غدار قراردیا گیا۔الطاف حسین


 نئی نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جارہی ہے ،پاکستان بنانے والوں کو غدار قراردیا گیا۔الطاف حسین
 Posted on: 4/9/2021 1
نئی نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جارہی ہے ،پاکستان بنانے والوں کو غدار قراردیا گیا۔الطاف حسین 
پاکستان بنانے والوں کو یاتو قتل کردیا گیایاپھر انہیں غداری کے سرٹیفیکٹ دیے گئے 
قائداعظم کی سگی بہن محترمہ فاطمہ جناح کوجنرل ایوب خان نے انڈین ایجنٹ کہا
  پنجاب میں کتوں کے جسم پر فاطمہ جناح لکھاگیا، فاطمہ جناح کا انتخابی نشان ''لالٹین''
 کتوں کے گلے میں لٹکاکر ان کی توہین کی گئی
جو صحافی اور دانشور جھوٹ لکھ کرقوم کو گمراہ کررہے ہیں وہ دانش خور اور قلم فروش ہیں
 ایم کیوایم نے کوئی جزیرہ نہیں خریدا، کوئی محل نہیں بنایا، بیرون ملک پاپاجونز کی فرنچائز نہیں بنائیں
 آئندہ خطاب میں وہ حقائق بتاؤں گا جنہیں سن کر عوام اپنے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے
ایم کیوایم کے بانی وقائدالطاف حسین کاسوشل میڈیاکے ذریعے عوام سے خطاب

لندن ۔۔۔9، اپریل2021ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ نئی نسل کو مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جارہی ہے اور پاکستان کا ساتھ دینے والوںکو غدار قراردیا جارہا ہے، جو صحافی اور دانشور جھوٹ لکھ کرقوم کو گمراہ کررہے ہیں وہ دانش خور اور قلم فروش ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ خطاب میں، میں تاریخی حقائق کوایسے ثبوت وشواہد کے ساتھ ثابت کروں گاکہ پاکستان زندہ باد بولنے والے خود بولیں گے کہ پاکستان ایک ایسا وجود ہے کہ جس کو ختم کیے بغیر دنیا سے برائیوںکا کورونا وائرس ختم نہیں ہوگا ۔
ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے گزشتہ روز براہ راست ہنگامی وڈیو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کا یہ خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھرمیں دیکھا گیا۔اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کو 73 برس گزر چکے ہیںلیکن پاکستان جس مقصد کیلئے بنایاگیا تھا وہ مقصد آج تک حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی فوجی قیادتیں اور ان کے سائنسداں غوری ، غزنوی اوردیگر مختلف ناموں کے میزائل بناتے ہیں اور کہاجاتا ہے کہ یہ میزائل اتنی دور تلک مار کرے گا لیکن پاکستان کے یہ میزائل چلنے والے نہیں بلکہ پھس ہونے والے ناکارہ میزائل ہیں ۔ قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ اگر یہ میزائل واقعتا چلنے والے ہیں تو انہیں کس دن کیلئے بناکر رکھا گیا ہے ؟جناب الطاف حسین نے مسئلہ کشمیر کا تذکرہ کیے بغیرکہا کہ اگر دوافراد یادوٹیموں کے درمیان یہ مقابلہ ہو کہ فلاں مقام پر موجود کوئی چیز کون پہلے حاصل کرتا ہے تو جو فرد یا ٹیم تیزدوڑے گی اور جس میں طاقت ہوگی وہ پہلے وہ چیز حاصل کرلے گا، اگر کوئی فردیا ٹیم اس کھیل میں کسی قسم کی بے ایمانی کرے تو ہارنے والا فردیاٹیم اس بے ایمانی پر احتجاج کرے گی ، جب اس کے احتجاج کو نہیں مانا جائے گا اورہارنے والا فردیاٹیم ہمت وحوصلے کا مظاہرہ کرکے بے ایمانی سے چھینی گئی چیز واپس حاصل کرلے گی ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تک میرے جسم میں سانس باقی ہے میں قوم کو حقائق سے آگاہ کرتا رہوں گاکیونکہ پاکستان میں نوجوان نسل خصوصاً Millennials کومسخ شدہ تاریخ پڑھائی جارہی ہے ، نئی نسل جو 14 سے 20 کے نوجوان بچے ہیں ، اگر ان سے پاکستان بنانے والوں کا نام پوچھا جائے تو وہ صرف ایک یا دو نام بتائیں گے کہ 1938 یا1939ء میں حضرت علامہ اقبال صاحب نے پاکستان کاخواب دیکھا تھا اورپاکستان انکے خواب کی تعبیر ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی مسخ شدہ تاریخ میں خواب دیکھنے والے کو تو یادرکھاگیا لیکن جن اکابرین نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا اورقیام پاکستان کیلئے قربانیاں دیں ، نئی نسل کو ان کے بارے میں ایک فیصد بھی معلوم نہیں ہوگا۔ نئی نسل کے زیادہ تر نوجوانوں کو اتناہی معلوم ہوگا کہ علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے اس خواب کی تکمیل کی۔ آپ نئی نسل سے پوچھیں گے کہ سرسید احمد خان ، مولانا محمدعلی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر ، بی اماں، مولاناحسرت موہانی ، اے کے فضل الحق (شیربنگال) اورشیخ مجیب الرحمان کون تھے؟ اور قیام پاکستان میں ان کا عملی کردار تھایانہیں ؟پاکستان بنانے میں ایک اور شخصیت کا کردار تھا جنہیں جی ایم سید کہاجاتا ہے ، کیانوجوان نسل کو ان کے بارے میں علم ہے ؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر جی ایم سید اپنا کردار ادا نہ کرتے تو صوبہ سندھ ، پاکستان میں شامل نہیں ہوتالیکن یہ حقائق کتنے لوگوں کو معلوم ہیں؟ پاکستان بنانے والوں کو یاتو قتل کردیا گیایاپھر ان سب کو غداری کے سرٹیفیکٹ ہی نہیں دیے گئے بلکہ آج تک غدار کہاجاتا ہے ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں قائداعظم کااس طرح ساتھ دیاکہ اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کی، صبح شام قائد اعظم کے ساتھ لکھنے پڑھنے یا اجتماع میں تقاریر کا معاملہ ہو وہ شانہ بشانہ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں شریک رہتی تھیںاورانہیں شادی تک کرنے کا وقت نہیںملا ۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی سگی بہن کو محترمہ فاطمہ جناح کوجنرل ایوب خان کے دور میں پنجاب بھرمیں رسوا کیاگیا، پنجاب کے کئی شہروں میں کتوں کے جسم پر فاطمہ جناح لکھاگیا اور محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان ''لالٹین'' کتوں کے گلے میں لٹکاکرپھرایاجاتارہااوراس طرح مادرملت کی توہین کی گئی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے تاریخی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ایک لیکچر میں طلباء کو بتایاتھا کہ قرارداد لاہور سرظفراللہ خان نے تحریر کی تھی جوکہ قادیانی تھے ، اس پر کیپٹل ٹاک شو کے میزبان حامد میر جوکہ ایک بڑے بلاگر، دانشوراورکالم نگار بھی ہیں ، انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ قرارداد لاہور سرظفراللہ خان نے نہیں لکھی تھی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اس حوالے سے مزید تحقیق کی لیکن کہیں مجھے یہ نہیں ملا کہ قرارداد لاہور سرظفراللہ خان نے نہیں لکھی ۔ مناسب ہوگا کہ حامد میرصاحب اپنے اگلے کالم میں اس کی وضاحت کردیں ، جہاں تک سرظفراللہ خان کا تعلق ہے تو میں نے تاریخ بتائی تھی ان کی تعریف نہیں کی تھی مگر محترم کالم نگارحامد میر کی خدمت میں بڑے ادب سے آداب عرض کہہ کریہ ناچیز ان سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہے کہ آپ اپنے کالم میں حلفیہ اورقسمیہ میرے اس سوال کا جواب لکھ دیں کہ کیا پاکستان کے فوجی جرنیلوں، فوجی افسران، حوالداروں، نائب حوالداروں، صوبیداروں، نائب صوبیداروں، نائیک ، لاس نائیک اور سپاہیوںنے کلمہ گو مسلمان بنگالی ماؤں، بہنوں، بیٹیوںکی عصمتیں نہیں لوٹیں؟انہوںنے مزید کہاکہ جب حامد میر کو گولیاںمارکر شدید زخمی کیاگیا تھا تو سب سے پہلا مذمتی اوردعائیہ بیان میرا ہی تھا، حامد میرصاحب آپ اتنا سچ بولیں کہ اس کی پاداش میں سقراط کی طرح زہر کا پیالہ وہ خود پی لیں یافوج انہیں پلاکر یا گولی مار کرشہید کردے تو رہتی دنیا تک ان کا نام رہے گا کہ کسی بھی نتیجے کی پرواہ کیے بغیر سچ بولنے والا ایک صحافی تھا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک اور صحافی ہے جو اپنے پروگرام میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے بچوں کے قتل عام، ایم کیوایم کے جلسوں میں دھماکے کرنے، ایم کیوایم کے ارکان سندھ اسمبلی کو قتل اور قتل وغارتگری کرنے والے کو شاعر وادیب قراردیتا ہے ، اگر وہ سمجھتا ہے کہ میں حقائق بیان کرنے کا عمل بند کردوں گا تو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔سب اچھی طرح جانتے ہیں اور ایم کیوایم کی 43 سالہ جدوجہد میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ الطاف حسین ، اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں 100 فیصد لوگ ایم کیوایم اور ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کا نام جانتے ہیں چاہے انہوںنے الطاف حسین کو دیکھا ہو یانہ دیکھا ہو۔انہوںنے دریافت کیاکہ آصف علی زرداری سیاست میں پہلے آئے یا الطاف حسین آئے ؟ پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں کبھی پیپلزپارٹی نمبر ون جماعت رہی تو کبھی نمبرٹواسی طرح کبھی مسلم لیگ نمبرون جماعت رہی تو کبھی نمبرٹو جماعت رہی جبکہ جمہوری طریقے سے انتخابات میں حصہ لیکر سینیٹ ، قومی وصوبائی اسمبلی کے ایوانوںمیں منتخب نمائندگان اور ووٹرز کی تعداد کے لحاظ سے ملکی اور عالمی میڈیا نے ایم کیوایم کو ملک کی تیسری سب سے بڑی جماعت لکھاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 8، اکتوبر2005ء میں خیبرپختونخوا، کشمیر اور پنجاب میں قیامت خیز زلزلہ آیا تو ایم کیوایم نے 6 ماہ تک رات دن زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں ، ملک بھرسے اربوں روپے مالیت کی امداد جمع کی ، ملک کا کوئی شہر ، قصبہ اور گاؤں ایسا نہیں تھا جہاں سے امدادی سامان ٹرکوں میں بھر کر کشمیر نہ بھیجاگیا ہو۔کشمیر میں سہیلی سرکارکی درگاہ کے قریب ایم کیوایم کاطبی امدادی کیمپ لگارہا۔ ایم کیوایم کی ان امدادی سرگرمیوں کی گواہی دینے والے فوجی افسران ا بھی زندہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایم کیوایم نے کوئی جزیرہ نہیں خریدا، کوئی محل نہیں بنایا،جنرل عاصم سلیم باجوہ کی طرح'' باپ ''کی حمایت سے کماکرپاپاجونز کی فرنچائز نہیں بنائیں۔ انہوںنے کہاکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ جس نے بھی پاکستان کا ساتھ دیا وہ غدار کہلایاگیا، آئندہ خطاب میں آپ کو وہ حقائق بتاؤں گا جنہیں سن کر آپ اپنے کانوں کو ہاتھ لگائیں گے اور آپ کو یقین نہیں آئے گا لیکن میں ان حقائق کو ثابت کرکے دکھاؤں گا ، اگر ثابت نہ کرسکا تو آپ الطاف حسین کو خداحافظ کہہ دیجئے گا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹو ، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور فضل الرحمان قائد ہوسکتے ہیں لیکن میرے بارے میں سینئر صحافی کہتے ہیں کہ یہ قائد اوربانی کیاہوتا ہے ؟ انہوں نے کہاکہ ایسے دانشوران جو اپنی دانش حاصل کرکے قلم کی حرمت فروخت کررہے ہیں وہ دراصل دانشور سے دانش خور بن گئے ہیں ۔ اگر دانش خور صحافیوں، دانشوروں اورجسم فروشی کرنے والی طوائفوں کی ایمانداری اوردیانتداری کاموازنہ کیاجائے تو ایمانداری اوردیانتداری میں طوائف پہلے نمبر پر آئے گی ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین جیسے لیڈر یونیورسٹیوں میں پیدا نہیں ہوتے ، قدرت نے الطاف حسین کو وہ مقام اور عزت عطا کی کہ بزرگوں، ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں ، معصوم بچوں اورنوجوانوںکے دلوںمیں الطاف حسین کی ایسی محبت پیدا کردی ہے کہ ہرکسی کے دل پر الطاف حسین کا نام لکھا ہوا ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آئندہ خطاب میں، میں تاریخی حقائق کوایسے ثبوت وشواہد کے ساتھ ثابت کروں گاکہ پاکستان زندہ باد بولنے والے خود بولیں گے کہ پاکستان ایک ایسا وجود ہے کہ جس کو ختم کیے بغیر دنیا سے برائیوںکا کورونا وائرس ختم نہیں ہوگا ، میں یہ بھی ثابت کردوں گا کہ دنیا میں عالمی وبا(Pandemic)، خرابیوں، کلاشنکوفوں ، برائیوں اور دہشت گردی کا موجد اوراس کو پھیلانے والا پاکستان ہے ۔ جناب الطاف حسین نے دنیا بھرمیں مقیم وفاپرست کارکنوں اورہمدردوں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ میرا یوٹیوب چینل Revelations with Altaf Hussain  نہ صرف خود سبسکرائب کریں بلکہ اپنے گھروالوں ، دوست احباب اور رشتہ داروں سے بھی سبسکرائب کرائیں۔
٭٭ ٭٭٭

9/21/2021 3:39:14 AM