Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

خوداحتسابی کیاہم قیادت پر اندھا اعتمادکرتے ہیں؟ تحریر:۔ قاسم علی رضا


خوداحتسابی کیاہم قیادت پر اندھا اعتمادکرتے ہیں؟ تحریر:۔ قاسم علی رضا
 Posted on: 8/26/2020
خوداحتسابی
کیاہم قیادت پر اندھا اعتمادکرتے ہیں؟
تحریر:۔ قاسم علی رضا
قائد تحریک جناب الطاف حسین گزشتہ 45 برسوں سے اپنے کارکنان کی فکری ، نظریاتی اوراخلاقی بنیادوں پر تربیت کرتے چلے آرہے ہیں، تحریک کے سینئراراکین یقینا اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں گے جہاں جناب الطاف حسین دیگر اہم موضوعات پر فکری نشستوںمیں اظہارخیال کرتے رہے ہیں وہیں خوداحتسابی کے عمل پر بھی زوردیتے رہے ہیں۔آج ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا تاکہ ہم بھٹکنے سے محفوظ رہیں کیونکہ وفاپرست ساتھیوں کی جانب سے کہاجاتارہا ہے کہ ''ہم قیادت یعنی قائدتحریک الطاف حسین پر مکمل اوراندھا اعتماد کرتے ہیں'' لہٰذا آج ہم تمام وفاپرست ساتھیوں کو اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے اوراپنا اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کیا ہم قیادت پر مکمل اوراندھااعتماد کرتے ہیں؟ ہمیں سرجوڑ کربیٹھنا ہوگا اورغوروفکر کرنی ہوگی کہ ہم جوزبانی دعوے کرتے ہیں کیاہماراطرز عمل ہمارے ان دعوؤں کے عین مطابق ہے ؟  ہمارے قول وفعل میں کہیںتضاد تو نہیںہے؟ قیادت پر اندھا اعتماد اس بات کامتقاضی ہے کہ اگر قائد تحریک جناب الطاف حسین ہم سے آگ میں کودنے کیلئے کہیں تو سرتسلیم خم کرنے اورآگ میں کودنے میں لمحہ بھرکی بھی تاخیرنہ کی جائے۔ اگرقائد تحریک جناب الطاف حسین کہیں کہ منزل کے حصول کیلئے فلاں راستہ مختصرضرور ہے لیکن اسے اختیارکرنے میں قوم کے شدیدجانی ومالی نقصان کا اندیشہ ہے جبکہ فلاں راستہ بہت طویل ہے لیکن اس راہ پرچلنے سے جانی ومالی نقصان کا اندیشہ کم ہے لہٰذا 
اسی راستے کواختیارکیاجائے تو کیاہم قیادت پر مکمل اوراندھااعتماد کرتے ہوئے طویل راستے پرگامزن ہونے کیلئے ذہنی وجسمانی طورپرتیار ہوں گے یا قائد تحریک جناب الطاف حسین کو ''سمجھانے'' کی کوشش کریں گے کہ فلاں راستے درست نہیں ہے اورفلاں راستہ درست ہے ؟یقینا قیادت پر اندھے اعتماد کا تقاضا یہی ہے کہ قیادت کی جانب سے اگر رائے مانگی جارہی ہے تو اپنی اپنی رائے دی جائے اور اگر ہدایت دی جارہی ہے تو اگرمگراورچونکہ چناچہ کی بحث میں الجھے بغیر ہدایت پر حرف بہ حرف عمل کیاجائے ۔آج اگر قیادت کی جانب سے کہاجارہا ہے کہ سندھی بولنے والے سندھیوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنی ہے تو اردوبولنے والے سندھیوں کو پریشانی کیوں لاحق ہے ؟
قائد تحریک جناب الطاف حسین ہمیں فکری نشستوںمیں بتاتے چلے آرہے ہیں کہ نظریہ کبھی جامد نہیں ہوتا، حقیقت پسندی اورعملیت پسندی کومدنظررکھتے ہوئے وقت اورحالات کے ساتھ ساتھ نظریہ کی روح برقراررکھتے ہوئے اس میںکمی بیشی اورترمیم کی جانی چاہیے تاکہ نظریہ جدیدحالات سے ہم آہنگ رہے اورفرسودگی کاشکارنہ ہوجائے۔
ایم کیوایم سے قبل پاکستان میں برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجروں کو ہندوستانی پکاراجاتا تھا۔مکڑ ، تلیر،مٹروا، بھیااورپناہ گیرجیسے توہین آمیز القابات دیے جاتے تھے ، ان حالات میں قائد تحریک جناب الطاف حسین نے نوجوانی میں اپنی تعلیم، آرام ، سکون اوربہتر مستقبل قربان کرکے گمنام قوم کومہاجرنظریہ دیا، ہندوستان سے ہجرت کرنے والے 
بانیان پاکستان اوران کی اولادوں کو ''مہاجر''شناخت دی،مذہبی جماعتوں ، مسلک، فرقہ واریت اور ذات برادری میں بٹے ہوئے اوربکھرے ہوئے طبقہ کو مہاجر نظریہ کے پلیٹ فارم پر متحد کیا اور ایک بھرپورعوامی طاقت میں تبدیل کردیا۔ آج ہم سب اپنی مہاجرشناخت پرفخرکررہے ہیں تو یہ شناخت کس کی مرہون منت ہے ؟ آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اورمہاجرقومی موومنٹ کے بانی کون ہیں؟ کیااے پی ایم ایس او اورایم کیوایم کی بنیاد مہاجرنظریہ پرنہیں رکھی گئی تھی ؟ کیا اس دوران بھی قائد تحریک جناب الطاف حسین نے سائیں جی ایم سید سے ملاقاتیں کرکے سندھ میں اتحاد ومحبت کی فضاء قائم کرنے کیلئے اپنی حتی الامکان کاوشیں نہیں کیں؟ کیا ان کاوشوںکو ناکام بنانے کیلئے کراچی اورحیدرآباد میں سرکاری ایجنسیوںکی سرپرستی میں لسانی اورفرقہ وارانہ فسادات نہیں کرائے گئے ؟
قائدتحریک جناب الطاف حسین نے ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کیلئے غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت کا تصورپیش کیا جوکہ پاکستان میں ناممکن سمجھاجاتا تھا کیونکہ پاکستان میں الیکشن لڑنا صرف دولت مندوں کا حق سمجھاجاتا تھا، انتخابات میں کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے تھے اورغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اورباصلاحیت افراد الیکشن میں حصہ لینے کا تصورتک نہیں کرسکتے تھے ۔ یہ ایک روایت بن چکی تھی جوکہ برسہابرس سے چلی آرہی تھی لیکن روایت شکن قیادت جناب الطاف حسین نے سندھ کے شہری علاقوں میں دن رات انتھک محنت کرکے غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کو عام انتخابات اوربلدیاتی انتخابات میں کامیاب کرایا ، انہیں سینیٹ ، قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی اوربلدیاتی ایوانوں میںجاگیرداروں، وڈیروں اورسرمایہ داروں کے برابر بٹھاکر ناممکن کو ممکن کردکھایا اورمہاجرقومی موومنٹ ،ملک کی سب سے بڑی تیسری اورصوبہ سندھ کی سب سے بڑی دوسری جماعت بن کرابھری۔ غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت کے عملی تصورکو ملک بھرمیں پذیرائی ملنے لگی ، ملک بھرکے عوام ایم کیوایم کی طرز سیاست کو سراہنے لگے اور ایم کیوایم میں شمولیت کیلئے رابطے کرنے لگے تو قائد تحریک جناب الطاف حسین نے اپنے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد 1997ء میں مہاجرقومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کردیا۔ کیااس تبدیلی کے بعدایم کیوایم کی تاریخ سے  ' 'لفظ '' مہاجرمتروک ہوگیا؟ کیا یہ کھلی سچائی اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ نظریہ دینے والا اپنے نظریہ سے کبھی انحراف نہیں کرسکتا؟ 
مہاجرحقوق کی جدوجہد پرفوجی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی بی ٹیم جماعت اسلامی کی جانب سے ایم کیوایم پر لسانی سیاست کادھبہ لگایاگیا اور جب ایم کیوایم ، متحدہ قومی موومنٹ بن گئی تو یہی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حواری قائد تحریک جناب الطاف حسین پر بہتان تراشی کرنے لگے کہ ایم کیوایم نے مہاجرلفظ فراموش کردیااورمہاجروں کے حقوق کی جدوجہد ترک کردی۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ مہاجرنظریہ کو جدیدحالات سے ہم آہنگ کرکے ایم کیوایم کا دائرہ ملک گیرسطح پر پھیلایاگیا تو اقتدارمافیا کے ایوانوں میں بھونچال آگیا کہ اگر ایم کیوایم کاراستہ نہ روکاگیا تو اقتدار مافیا اوراس کے حواری جاگیرداروں ، وڈیروں ، سرداروں اورسرمایہ داروں کی بقاء خطرہ میں پڑجائے گی لہٰذا ایم کیوایم کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کیاجاتارہا لیکن قیادت پر اندھے اعتماداوریقین نے ایم کیوایم اورمہاجروں کے اتحادکے خلاف ہرمنفی پروپیگنڈے اورسازش کوناکام بنادیا۔ 
 اگر قائد تحریک جناب الطاف حسین آج اپنی قوم سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے اورآنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے سندھ دھرتی کواپنا وطن تسلیم کرلو، اپنی مہاجرشناخت ساتھ رکھتے ہوئے سندھی بن جاؤ ، اپنے آپ کوسندھی کہلواؤ ، سندھی بولنے والے سندھیوں اور اردوبولنے والے سندھیوں کااتحادسندھ دھرتی کی آزادی کی ضمانت ثابت ہوگا تونظریہ کے خالق کی جانب سے اپنے نظریے کو زمانے کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے اس عمل پران کے مخالفین کی چیخ وپکار،واویلا اورمنفی پروپیگنڈے قابل فہم ہے لیکن قیادت پراندھا اورمکمل اعتماد کادعویٰ کرنے والے بعض وفاپرستوں کوکیوںپریشانی لاحق ہے ؟ اگر قائد تحریک جناب الطاف حسین مہاجرقوم کو'' غیر فرزندزمین'' کے طعنے سے نجات دلارہے ہیں اور سندھ دھرتی پر لسانی فسادات کی گھناؤنی سازش کو اپنی فہم وفراست اوردوراندیشی سے ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں تو اس میں سوال کی گنجائش کہاں پیداہورہی ہے ؟ 
اگرپاکستان ہمارے بزرگوں نے بنایاتھا اورکسی کے پیٹ میں پاکستانیت کامروڑ اٹھ رہا ہے توکوئی اس سچائی پر غورکیوں نہیں کرتا کہ سائیں جی ایم سید نے صوبہ سندھ کاووٹ دیکرقیام پاکستان کی راہ ہموارکی تھی پھرکیاوجہ ہے کہ سائیں جی ایم سید، قیام پاکستان کے حق میں سندھ کاووٹ استعمال کرنے کواپنی فاش غلطی قراردیتے رہے اور اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے کیلئے آخری سانس تک سندھو دیش کی آزادی کیلئے جدوجہد کرتے رہے ۔آج سندھو دیش کے حامی قوم پرست رہنماؤں اورکارکنوں کی جانب سے قائدتحریک جناب الطاف حسین کو ''قائد سندھ'' تسلیم کرلیاگیا ہے ، مہاجرقوم کو سندھ دھرتی کی تاریخی قوم قراردیکر مہاجروں کو سندھ دھرتی کابیٹا تسلیم کیاجارہا ہے تو یہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ولولہ انگیز اور دوراندیش قیادت کی ہی مرہون منت ہے ۔منزل کے حصول کیلئے قائد تحریک جناب الطاف حسین نے ایک اہم سنگ میل عبورکرلیا ہے ۔سندھ دھرتی کی آزادی کی جدوجہد کیلئے سندھی اوراردوبولنے والے سندھیوں کے اتحاد سے فوجی اسٹیبلشمنٹ اورپنجابی اشرافیہ کی نیندیں غارت ہوچکی ہیں اور وہ بعض سندھی اور اردوبولنے والے اپنے ایجنٹوںکے ذریعے کبھی کراچی کووفاق کے ماتحت کرنے ،کبھی کراچی صوبہ اورکبھی مہاجرصوبہ کاشوشہ چھوڑکرسندھ کے مستقل باشندوں کے اتحاد کوکمزورکرنے کی سازش کررہی ہے، سندھ دھرتی پر پنجاب کاتسلط برقراررکھنے اورسندھ کو پنجاب کی کالونی بنانے کیلئے سندھ دھرتی میں لسانی فسادات کی آگ بھڑکاناچاہتی ہے تاکہ سندھ دھرتی کی آزادی کیلئے شہری اوردیہی سندھ سے اٹھنے والی مشترکہ لہر کو کمزور کیاجاسکے۔کیااردوبولنے والے سندھی شعوری طورپراتنے کمزور ہیں کہ وہ اس سازش کے پس پردہ گھناؤنے عزائم کو سمجھنے سے قاصر ہیں؟ کیااتنی چھوٹی سی بات انکی عقل میں نہیں سماسکتی کہ سابقہ مشرقی پاکستان ایک صوبہ تھا ، یہ صوبہ علیحدہ وطن بنگلہ دیش کیوں بن گیا؟ بلوچستان میںآزاد بلوچستان کی تحریک کیوںچل رہی ہے اورصوبہ سندھ میں آزادسندھودیش کے نعرے کیوں بلندہورہے ہیں۔
 ملکی وبین الاقوامی حالات وواقعات کا تجزیہ کرکے مستقبل میں جھانکنے والے دوراندیش جناب الطاف حسین اچھی طرح جانتے ہیں کہ مظلوم بلوچوں، اردواورسندھی بولنے والے سندھیوںاوردیگرمظلوموں کے مقابل فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے جس کے پاس مظلوموں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے ریاستی وسائل بھی ہیں، 
گولہ باردود بھی ہے ، گمراہ کن پروپیگنڈوں کیلئے میڈیابھی ہے ، من پسند فیصلے مسلط کرنے کیلئے عدلیہ بھی ہے اور من پسند قانون بنانے کیلئے زرخرید پارلیمنٹرین بھی ہیں جبکہ مظلوم بلوچوں، سندھیوں اوردیگرمظلوموں کے پاس صرف اورصرف اتحاد کی طاقت ہے ۔اسی لئے جناب الطاف حسین سندھ دھرتی کے مستقل باشندوں کے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت اورکامیابی کی ضمانت قراردے رہے ہیں۔ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہم سب کو اپنا اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ قیادت پر اندھا اعتماد کے دعوے اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کے فیصلہ پر تنقیدکرنا کیاہمارے قول وفعل میں تضاد نہیں ہے ۔آخر قائد تحریک جناب الطاف حسین کب تک ہمیں یہ یقین دلاتے رہیں گے کہ وہ نظریہ کے خالق ہیں اور نظریہ دینے والا اپنے نظریہ سے کبھی بے وفائی نہیں کرسکتا۔ جناب الطاف حسین اچھی طرح جانتے ہیں کہ جونظریہ جامد ہوتا ہے اور حالات کے جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا وہ نظریہ دیرپانہیں ہوسکتالہٰذا اپنی مہاجرشناخت کو جتوئی 
،چانڈیو، سرکی، برفت، مگسی، خاصخیلی، میمن، عباسی اوردیگر کی طرح شناخت سمجھ کر خود کوسندھی تسلیم کرلو تاکہ سندھ دھرتی کی وحدت اور دھرتی کے بیٹوں کے خلاف سازشوں کا مل جل کر مقابلہ کیاجاسکے ۔ قیادت یعنی قائد تحریک جناب الطاف حسین پر اندھا اعتماد کا تقاضا ہے کہ قیادت کی جانب سے جو کچھ بھی کہاجارہا ہے اس کی روح کو سمجھیں، جوکہاجارہا ہے اور جتنا کہاجارہا ہے اس پر عمل کریں ۔اپنے آپ کو منفی اورگمراہ پروپیگنڈوں سے محفوظ رکھیں تاکہ وسوسوں کا شکار ہوکر قدم قدم پربھٹکنے سے بچاجاسکے ۔
یادرکھیں کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین اپنی جدوجہد کے پہلے دن سے آج کے دن تک اپنے نظریے اوراپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں اور گزشتہ روزمورخہ 25 اگست2020ء کی شب اوورسیز یونٹوں کے ذمہ داران اورکارکنان سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے دوٹوک ، واضح اورواشگاف مؤقف کودہرایا ہے کہ اگر حقوق کی جدوجہد میں تمام ساتھی بھی انہیں چھوڑ کرچلے جائیں اور وہ تنہا رہ جائیں تب بھی وہ باطل قوتوں کے سامنے نہ تو سجدہ ریز ہوں گے اورنہ ہی اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹیں گے ۔ جناب الطاف حسین کا یہ مؤقف وفاپرست ساتھیوں کیلئے دعوت فکر ہے کہ ان کٹھن، کڑے ، مشکل اورآزمائشی حالات میں ایسا مؤقف رکھنے والا حسینیت  کا پیروکارہی ہوسکتا ہے جواصولوں پر سودے بازی یاسمجھوتہ نہیں کرسکتا…لہٰذا …
''اپنے رہبر پہ رکھنا یقیں…تم نہ بھٹکوگے رستہ کہیں''
٭٭٭٭٭


8/6/2021 5:24:12 AM