ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کا صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی بحری جہاز Honour 25 کے عملے کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس
جہاز کا عملہ 21 اپریل 2026 سے سومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال تھا، مہینوں سے مدد کی درخواستوں کے باوجود حکومت پاکستان نے مدد نہیں کی اور آج اُنہیں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
عملے کے ارکان کو جہاں صومالی قزاقوں نے قتل کیا ہے وہیں اس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے
لندن ۔۔۔ 29 ستمبر 2026ء:
ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں بحری جہاز آنر 25 کے سیکنڈ آفیسر سید کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود احمد انصاری اور آئلر رفیع اللہ خان کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ رابطہ کمیٹی شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتی ہے اور میتوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔
صومالی قزاقوں کی جانب سے جہاز کے عملے کو کئی ماہ تک یرغمال بنائے رکھا گیا اور تاوان طلب کیا گیا تھا۔ مغوی عملے کے ارکان اور ان کی فیملیز اس سلسلے میں حکومتِ پاکستان سے مسلسل اپیلیں کررہی تھیں، ایم کیو ایم نے بھی عملے کی جان بچانے کے لئے اس سنگین معاملے کی جانب حکومتِ پاکستان کی توجہ دلائی تھی، مگر وفاقی حکومت اور متعلقہ حکام نے عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی فریاد پر توجہ نہیں دی اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔
بلآخر حکمرانوں کی بے حسی اور مُجرمانہ عفلت کے نتیجے میں آج اس پورے عملے کو شہید کردیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں عملے کے ارکان کو جہاں صومالی قزاقوں نے قتل کیا ہے وہیں اس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے ان کی بحفاظت بازیابی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ بانی و قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ان کی رابطہ کمیٹی کے ارکان مقتولین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ الّٰلہ تعالیٰ شہداء کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔