Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی عملے کے افراد کی شہات ایک بڑاسانحہ ہے۔الطاف حسین


 صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی عملے کے افراد کی شہات ایک بڑاسانحہ ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 9/29/2026

صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی عملے کے افراد کی شہات ایک بڑاسانحہ ہے۔الطاف حسین 
ریاست پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے تاوان کاانتظام کرتی لیکن اس نے ایسانہیں کیا
جو پاکستانی مغوی شہیدہوئے ہیں ان کاخون وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے
کراچی کے شہری،وفاپرست ساتھی اورہمدرد غمزدہ فیملیزکاغم بانٹیں، شہیدوں کی تجہیزوتکفین کے انتظامات میں حصہ لیں۔
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پرہنگامی خطاب
…………………………………………………………………………
صومالی قزاقوں کی جانب سے ہائی جیک کئے گئے تیل بردارجہاز کے یرغمال عملے کے شہیدوزخمی ہونے کاواقعہ ایک بڑاسانحہ ہے ا ورمیں اس سانحہ میں شہیدوزخمی ہونے والوں کی فیملیز کے ایک ایک فرد سے   دلی تعزیت کااظہارکرتاہوں۔ اس سانحے پرمیں ان کے ساتھ ہوں۔
تیل لے جانے والاجہاز جس کانام ”آنر“  HONOUR  تھا۔جس پرسوار عملے کی تعداد17 تھی۔ جہاز کے عملے میں 17میں سے 10 افراد کاتعلق پاکستان سے تھا جبکہ عملے کے باقی سات ارکان کاتعلق انڈونیشیا، انڈیا،سری لنکااوربرماسے تھا۔یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جارہاتھا۔ 24  اپریل 2026ء کوجب یہ جہازصومالیہ کے سمندری علاقے میں پہنچاتو صومالی قزاقوں نے اس جہازکو ہائی جیک کرلیا۔ صومالی قزاقوں کی جانب سے حکومت سے یرغمالیوں کی رہائی کے لئے تاوان مانگا گیا تھا۔ لیکن حکومت پاکستان نے سنی ان سنی کردی۔ جہاز کے پاکستانی عملے کے ارکان کی فیملیز نے حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے فریادیں کیں کہ ان کے پیاروں کی بازیابی کے لئے کوششیں کی جائیں۔ افسوس کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ 
آج مورخہ 29ستمبر 2026ء کویہ افسوسناک اطلاع ملی کہ بحری قزاقوں اورصومالیہ کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اورقزاقوں نے جاتے جاتے اندھادھند فائرنگ کرکے بہت سارے مغویوں کوشہیدوزخمی کردیا۔ بحری قزاقوں کی فائرنگ سے جہاز کے عملے کے پانچ ارکان شہید اورچار شدیدزخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں تین پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈانجینئر محمودانصاری، بوائلرآپریٹر رفیع اللہ شامل ہیں جبکہ ایک انڈین اورایک میانمار کاشہری ہے۔
یہ ایک بہت بڑاسانحہ ہے اورمیں اس سانحے پر بہت دکھی اورغمزدہ ہوں۔ میں سوال کرتاہوں کہ اگرکسی ملک کاکوئی جہازہائی جیک کرلیاجائے تواس ملک کی وزارت بحری امور، پورٹس اینڈشپنگ اور وزارت خارجہ حرکت میں آتی ہے، جودوسرے ملک کی حکومتوں اورسفارتخانوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی میری ٹائم فورسزاوردیگرمتعلقہ اداروں سے رابطے کرتی ہیں اورسفارتی سطح پر تمام تروسائل اورتعلقات استعمال کرکے اپنے یرغمالی شہریوں کی بازیابی کے لئے کوششیں کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان کوبھی چاہیے تھاکہ وہ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک کئے گئے جہازکے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لئے تمام تر حکومتی اورسفارتی سطح پر فوری اقدامات کر تی،قزاقوں سے رابطے کرتی،ان پر سفارتی دباؤ ڈلواتی، اپنے شہریوں کی جان بچانے کے لئے تاوان کی ادائیگی کاانتظام کرتی۔لیکن افسوس کہ حکومت پاکستان نے ایسانہیں کیا۔ جب مجھ پر پابندی نہیں لگی تھی اورایسے ہی ایک پاکستانی جہازکے عملے کوصومالی قزاقوں نے یرغمال بنالیاتھاتومیں نے یہ سب کوششیں کرکے عملے کی بحفاظت پاکستان واپسی کروائی تھی۔ اگریہ سب کچھ میں کرسکتا تھا توحکومت نے کیوں نہیں کیا؟ یہ وفاقی وصوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں تھی توکس کی ذمہ داری تھی؟ 
ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغوی شہریوں کوچھڑانے کے لئے سرکاری خزانے سے رقم اداکرکے انہیں بحفاظت واپس لیکرآئے لیکن پانچ مہینے تک کسی نے نہیں سنا۔یہ موجودہ حکمرانوں کی بے غیرتی اوربے شرمی ہے کہ اپنے شہریوں کی جانیں بچانے کے لئے ان کے خزانے میں پیسے نہیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے انتہائی لگژری جیٹ گلف اسٹریم G500  خریدنے کے لئے 45سے 50 ملین امریکی ڈالر نکل آئے جولگ بھگ پاکستانی 13سے 14ارب روپے بنتے ہیں۔ جوپاکستانی مغوی شہری شہیدہوئے ہیں ان کاخون وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔ 
یہ موجودہ حکومت کی غفلت اوربے حسی ہے کہ جہازکے مغویوں کی فیملیزنے حکمرانوں سے درخواستیں کیں،کسی نے توجہ نہیں دی۔اتوار 6 ستمبر کو یرغمالی عملے کی مظلوم فیملیزنے مجبورہوکر کراچی میں شاہراہ فیصل پر واقع پاکستان کی وزارت خارجہ کے رابطہ دفتر کے سامنے پلے کارڈزلیکر دریاں بچھاکردھرنا دیدیا کہ وفاقی حکومت ان کے پیاروں کی رہائی کے لئے فوری اقدامات کرے،ان کی فریادسننے کے بجائے پیر7 ستمبر کی صبح سندھ پولیس نے ان فیملیز کوجن میں خواتین، بزرگ، نوجوان شامل تھے، ان کے پلے کارڈزپھاڑے، دریاں پھاڑدیں اوران سب کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا۔ سندھ پولیس اورحکومت کوایسا کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی شرم نہیں آئی۔ یہ سندھ پولیس والے ڈاکو ہیں، ڈاکوؤں کے سردارہیں، وقت آنے پر ان ڈاکوؤں اوران کے سرپرستوں سے حساب لیاجائے گا۔ 
قزاقوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے تینوں شہریوں کاشف عمر، محمودانصاری اور رفیع اللہ کاتعلق کراچی سے ہے لہٰذا میں کراچی کے شہریوں سے خصوصاًوفاپرست ساتھیوں اورہمدردوں سے کہتاہوں کہ وہ ان شہیدوں کے گھرجاکران کی غمزدہ فیملیزکاغم بانٹیں، جہاں جہاں میتیں آئیں توانکی تجہیزوتکفین کے انتظامات میں حصہ لیں اوریزیدی حکمرانوں کی سفاکیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کی مددکریں۔ شہرکے مخیرحضرات بھی ان مظلوم فیملیزکی مددکریں۔زخمیوں کی دیکھ بھال کریں۔اوورسیزمیں رہنے والے بھی اس کارخیرمیں حصہ لیں۔میں تمام شہیدوں کی فیملیزسے کہتاہوں کہ آپ کاجلاوطن بھائی آپ کے خاندان کے ایک ایک فرد سے دلی تعزیت کرتاہے اوردعاکرتاہے کہ اللہ تعالیٰ شہید وں کوشہادت کادرجہ عطافرمائے، ان کواپنی جواررحمت میں جگہ عطافرمائے اورزخمیوں کوشفاعطا فرمائے۔ 
الطاف حسین
29ستمبر2026ء



10/4/2026 8:47:39 AM