حیدرآباد میں ایم کیوایم کے کارکنان اپنے مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں حیدرآباد جیل کے احاطے میں قائم خصوصی عدالت میں حاضرہوئے تھے، جیسے ہی وہ عدالت سے باہر نکلے تووہاں پہلے سے کئی ویگو ڈالے موجود تھے، جن میں سوار نقاب پوش سادہ لباس افراد نے ایم کیوایم کے کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردیں اورسات کارکنوں کو اغوا کرکے جبری لاپتہ کردیا ہے۔ اس سے پہلے ایم کیوایم کے سابق رکن اسمبلی نثارپہنور، ان کے بیٹے محسن پہنور، فیصل مجیب اورکئی کارکنوں کوکراچی سے گرفتارکرکے لاپتہ کیا ہوا ہے جنہیں کئی ماہ گزرجانے کے باوجود اب تک کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ آخر پاکستان میں آئین کہاں ہے؟ قانون کہاں ہے؟ عدالتیں کہاں ہیں؟ آئین وقانون کی بالادستی کہاں ہے؟
میں حیدرآباد میں ایم کیوایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتا ہوں اورفوجی حکومت اور موجودہ حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ ایم کیوایم کے تمام کارکنوں کوفی الفور رہا کیا جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹا ک پر 406 ویں فکری نشست سے خطاب
22 مئی 2026ء