Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جہاں ہمیں مسلسل ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہو اور عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہاہو ،وہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ایسے ملک سے آزادی حاصل کریں۔ الطاف حسین


 جہاں ہمیں مسلسل ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہو اور عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہاہو ،وہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ایسے ملک سے آزادی حاصل کریں۔ الطاف حسین
 Posted on: 12/21/2021

جہاں ہمیں مسلسل ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہو اور عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہاہو ،وہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ایسے ملک سے آزادی حاصل کریں۔ الطاف حسین
 کیایہ ظلم نہیں کہ ہم اپنے شہدا کادن نہیں مناسکتے،ہم اپنے پیاروں کی 
یادگاراور شہدا قبرستان میں فاتحہ خوانی تک نہیں کرسکتے
جہاں کوئی سننے والانہ ہو اس ملک کوزندہ باد کیسے کہاجاسکتا ہے
 اگرکسی ملک میں کسی مخصوص طبقہ آبادی یا کسی مخصوص نسلی یالسانی گروہ کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیاجائے تووہ طبقہ آبادی کیا کرے گا؟
 ہتھیارڈالنے والی فوج دوسال بعد واپس آگئی لیکن پاکستان کوبچانے کیلئے قربانیاں دینے والے مہاجر 49سال گزرنے کے باوجود ریڈکراس کیمپوں میں پڑے ہیں
مہاجروں کے پاس اب ایک ہی حل رہ گیاہے کہ وہ اس ملک سے آزادی حاصل کریں اور ''ڈیموکریٹک ری پبلک آف سندھ '' کیلئے جدوجہد کریں
 ایم کیوایم امریکہ کے زیراہتمام شکاگومیںمنعقدہ یوم شہدا کے اجتماع سے خطاب

لندن  …  21  دسمبر 2021ئ
 ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جس ملک میں ہمیں مسلسل ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہو ، حکمراں بے حس بنے ہوئے ہوںاور عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہاہو ، جہاں کوئی سننے والانہ ہوتوہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتاکہ ہم ایسے ملک سے آزادی حاصل کریں۔ جناب الطاف حسین نے یہ بات ایم کیوایم امریکہ کے زیراہتمام شکاگومیںمنعقدہ یوم شہدا کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں بڑی تعدادمیں ایم کیوایم کے کارکنوں ،ہمدردوں، خواتین اورمقامی صحافیوں نے شرکت کی ۔
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ اکثرلوگ سوال کرتے ہیںکہ ایم کیوایم احتجاج کا راستہ کیوں اختیار کرتی ہے؟ انہوں نے کہاکہ اگر آپ کسی بلی کوبھی ایک کمرے میں بندکرکے ماریں توپہلے وہ اپنے آپ کوبچانے کی کوشش کرے گی لیکن ایک وقت آئے گاکہ وہ بھی مارنے والے کواپنے پنجے مارے گی، اسی طرح آپ کسی بچے کو مسلسل ماریںگے توپہلے تووہ برداشت کرے گالیکن ایک وقت آئے گاکہ وہ بھی ردعمل کااظہارکرے گا۔ جناب الطاف حسین نے حاظرین سے سوال کیا کہ اگرکوئی بغیراجازت آپ کے گھرمیں داخل ہونے کی کوشش کرے توآپ کیاکریںگے؟ اگر پولیس بغیرسرچ وارنٹ کے آپ کے گھرمیں داخل ہو اورگھرکے کسی فرد کواٹھاکر لے جائے اورغائب کردے توآپ کیاکریںگے؟اگرحراست میںتشددکے نتیجے میں کسی کاقتل ہوجائے توامریکہ میں کیاہوتاہے؟
جناب الطاف حسین نے سوال کیاکہ چندماہ قبل امریکہ میں پولیس والوں نے ایک سیاہ فام باشندے جارج فلوئیڈ کوحراست میں سفاکانہ تشددکرکے قتل کردیا، اس سفاکانہ قتل کے خلاف پورے امریکہ میں عوام نے بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے لیکن کیاان مظاہروںکوروکنے کے لئے پولیس نے مظاہرین پرگولیاں چلائیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ کے جو حامی وہائٹ ہاؤس میں گھس گئے تھے پولیس نے ان میں سے کتنے افراد کوپکڑکرماورائے عدالت قتل کیا؟عراق جنگ کے خلاف امریکہ، برطانیہ اوراتحادی ممالک میں بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے گئے، ان ممالک میں کتنے مظاہرین پر وہاں کی سیکوریٹی فورسز نے گولیاں چلائیں؟کتنے لوگوںکو ماورائے عدالت قتل کیا؟ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرکسی ملک میں کسی مخصوص طبقہ آبادی یا کسی مخصوص نسلی یالسانی گروہ کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کیاجائے تووہ طبقہ آبادی کیا کرے گا؟وہ اس سلوک کے خلاف آوازاٹھائے گا، پرامن احتجاج کرے گا، پولیس ،رینجرزیافوج انہیں پکڑنے کے لئے گھرپرچھاپہ ماریںتوان کے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں ہوگاکہ وہ نہتے لوگ خود کوپولیس رینجرزفوج کے حوالے کردیں کیونکہ ریاستی ادارے جدید وخودکارہتھیاروںسے مسلح ہوتے ہیںاورنہتے شہری ان کامقابلہ نہیں کرسکتے۔ گھروالوںکے پاس یہی راستہ رہ جاتاہے کہ وہ گرفتاری یاجبری گمشدگی کے خلاف انصاف کے لئے عدالت میں پٹیشن دائرکرے۔ اگر نچلی عدالت سے اسے انصاف نہ ملے تووہ اعلیٰ عدالت یاسپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرے۔ اگرسپریم کورٹ بھی انصاف نہ دے تووہ بے چارے کیاکریں؟
انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے سینکڑوںکارکنوںکوماورائے عدالت قتل کردیاگیا، بہت سے کارکنوںکوجیلوں سے نکال کرہتھکڑیاں لگے ہوئے ماورائے عدالت قتل کیا گیا ۔اس قتل میںملوث کتنے رینجرزاورپولیس والوںکو سزادی گئی؟انہوں نے کہا کہ گرفتارکرنے کے بعد تشددکرکے ماورائے عدالت قتل کردینا، لاشیں مسخ کرکے پھینک دینا، نوجوانوںکوجعلی پولیس مقابلوں میں قتل کردینامہاجروں کے ساتھ روز کامعمول ہے، یہ وحشیانہ مظالم کرنے والوںکوکب سزادی گئی؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کچھ عرصہ قبل ایک مذہبی تنظیم تحریک لبیک نے اسلام آباد میں دھرنادیا، اسلام آباد سمیت پورے پنجاب میں سرکاری ونجی املاک پر حملے کئے ، اربوں روپوں کی املاک کوآگ لگائی ،کئی پولیس والوںکوقتل اورزخمی کیا، دہشت گردی کابازارگرم کیالیکن کیاان میں سے کسی کوسزا دی گئی؟ فوج نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کے ساتھ باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا،جولوگ حراست میں لئے گئے تھے ان کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے بجائے انہیں رہاکیاگیا، فوج کے جرنیل نے رہاکئے جانے والوںمیں رقوم کے لفافے تقسیم کئے ، ڈیڑھ ماہ قبل تحریک لبیک نے دوبارہ دھرنادیا، پولیس والوںپر حملے کئے ، دودرجن سے زائد پولیس والوںکو اغواکیا، انہیں تشدد کرکے ہلاک اورزخمی کردیا، اربوں روپوں کی املاک کوتباہ کردیا، کیا فوج نے ان کے خلاف کوئی ایکشن کیا؟بلکہ فوج نے ان کے ساتھ ایک بارپھر معاہدہ کیااورتحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی سمیت تمام گرفتارشدگان کورہاکردیا۔ اسی طرح طالبان نے مساجد، امام بارگاہوں ، بزرگان دین کے مزارات پرخودکش دھماکے کئے ، فوجی تنصیبات پر حملے کئے ، ہزاروں افراد کوہلاک کردیا، فوجیوںکواغواکرکے ان کے سرتن سے جداکرنے کے بعد ان کے سروں سے فٹبال کھیلی ، اے پی ایس کے بچوںاوراساتذہ کاوحشیانہ قتل کیا لیکن اتنی بڑی قتل وغارتگری اوردہشت گردی کرنے والے طالبان کے ساتھ فوج نے معاہدہ کیااوران کے گرفتارشدگان کوبھی رہاکردیا۔ جبکہ دوسری جانب یوم شہداپر یادگارشہدا جانے والے ایم کیوایم کے کارکنوںاورشہدا کے لواحقین پر رینجرز اورپولیس نے بیدردی سے تشدد کیا، درجنوںلوگوںکوگرفتارکیاجن میں خواتین بھی شامل تھیںجبکہ وہ صرف یادگارپر فاتحہ پڑھنے کے لئے جانا چاہتے تھے۔ ان گرفتارشدگان پر حراست میں بہیمانہ تشدد کیاگیا، ان کی رہائی کے لئے ان کے گھر والوں سے لاکھوں روپے وصول کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ کیایہ ظلم نہیں کہ ہم شہدا کادن نہیں مناسکتے ، ہمارے شہداکے لواحقین اپنے پیاروں کی یادگاراور شہدا قبرستان میں فاتحہ خوانی تک نہیں کرسکتے۔ انہوںنے سوال کیاکہ کیا ہمارے نوجوانوں، ماؤںبہنوں کے پاس ہتھیار تھے کہ انہیں اس طرح تشدد کانشانہ بنایا گیا؟ انہوں نے کہاکہ یہ ظلم ہمارے ساتھ 1947ء سے کیا جارہاہے۔ لہٰذا جس ملک میں ہمیں یوم شہدا تک منانے کی اجازت نہ ہو،جہاں ہمیں مسلسل ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہو ، حکمراں بے حس بنے ہوئے ہوںاور عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہاہو ، جہاں کوئی سننے والانہ ہو اس ملک کوزندہ باد کیسے کہاجاسکتا ہے ،جہاں ہمارے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کیاجارہاہووہاں ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتاکہ ہم ایسے ملک سے آزادی حاصل کریں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنانے کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی، 1971ء میں پاکستان بچانے کے لئے فوج کے ساتھ لاکھوں جانوںکی قربانی دی،انڈین فوج کے سامنے ہتھیارڈالنے والی پاکستانی فوج دوسال بعد واپس آگئی لیکن پاکستان کوبچانے کے لئے اپناسب کچھ قربان کرنے والے مہاجرین مشرقی پاکستان آج 49سال گزرجانے کے باوجود بنگلہ دیش کے ریڈکراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔فوج ان کووطن واپس نہیں لائی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجروں کے پاس اب ایک ہی حل رہ گیاہے کہ وہ اس ظالم ملک سے آزادی حاصل کریں اور ''ڈیموکریٹک ری پبلک آف سندھ '' کے لئے جدوجہد کریں۔ جناب الطاف حسین نے تحریک کے تمام شہداکوخراج عقید ت پیش کیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ تمام شہیدوں کے درجات بلندفرمائے، ان کے لواحقین کوصبرجمیل عطافرمائے، شہدا کے خون کے صدقے قوم کے تمام لوگوں میں قوم سے محبت اورقربانی کاجذبہ پیدا کرے۔ انہوں نے یوم شہدا کے اجتماع کے انعقادپر ایم کیوایم امریکہ اورشکاگوچیپٹر کے تمام ذمہ داروںاورکارکنوںکوخراج تحسین پیش کیا۔ 



1/25/2022 10:32:27 PM