Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان اب موجودہ وفاق کے ذریعے نہیں چلایاجاسکتا ،سندھ ، بلوچستان ، پختونخوا، گلگت بلتستان کوآزادکردیاجائے ۔الطاف حسین


 پاکستان اب موجودہ وفاق کے ذریعے نہیں چلایاجاسکتا ،سندھ ، بلوچستان ، پختونخوا، گلگت  بلتستان کوآزادکردیاجائے ۔الطاف حسین
 Posted on: 11/12/2021

پاکستان اب موجودہ وفاق کے ذریعے نہیں چلایاجاسکتا ،سندھ ، بلوچستان ، پختونخوا، گلگت  بلتستان کوآزادکردیاجائے ۔الطاف حسین
 اگر جسٹس گلزاراحمد میں ہمت ہے تووہ جنرل راحیل شریف اور جنرل ظہیرالاسلام
 کو بلاکر پوچھیں کہ سانحہ اے پی ایس کیسے ہوا
 فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے موقع پرتحریک لبیک سے معاہدے پر بطورضامن فوج کے کس جرنیل کے دستخط تھے؟
مجرموںکومذاکرات کی ٹیبل پر کون لایاہے،یہ سوال آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف سے کیوں نہیں کرتے؟
ملک پاکستان نہیں بلکہ فوجستان اورپنجابستان ہے، سول ملٹری بیوروکریسی اور
تمام شعبوںمیں صرف پنجاب کی اکثریت ہے ،
 پاکستان کی فوج نیشنل آرمی نہیں بلکہ صرف پنجاب کی فوج ہے، فوج میں 95 فیصد پنجاب سے تعلق رکھنے والے افسران وجوان ہیں، 
 سندھ ہماری دھرتی ماں ہے، چاہے کتناہی ظلم کرلیاجائے، ہم سندھ دھرتی کو
فوج کے قبضہ سے آزاد کرائیںگے
 اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم سے بیوفائی کرنے والے بعض نام والوں کو دوبارہ سے اپنی چھتری تلے میدان میں اتارنے کے منصوبے بنارہی ہے
میں ایسی قیادت پر لعنت بھیجتاہوں جومجھے ان ضمیرفروشوں کے صدقے ملے
میرے لئے میرے وہ مفلوک الحال کارکنان بہت عظیم ہیں جنہوں نے مفلسی  اوربے بسی میں بھی اپنے ظرف وضمیرکاسودانہیں کیااورآج بھی اپنی وفاپرقائم ہیں
جب نائن زیروکھلے گاتومیرے باوفاساتھی ہی کھولیںگے ، کسی ضمیرفروش شخص کے قدم نائن زیروپر نہیں پڑیںگے، کارکنان کسی بھی قسم کی افواہوںمیں نہ آئیں
 انشاء اللہ حق ہی فتح پائے گااورباطل مٹ جائے گا۔
 ا یم کیوایم کے کارکنوں کے اجلاس سے فون پر خطاب

لندن  …  12نومبر 2021ئ
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان معاشی طورپرتباہ ہوگیاہے ، جرنیلوںنے ملک کوکھوکھلا کردیاہے، پاکستان اب موجودہ وفاق کے ذریعے نہیںچلایاجاسکتالہٰذا پاکستان کے صوبوںسندھ ، بلوچستان ، پختونخوا، گلگت  بلتستان کوآزادکردیاجائے ، آزادی کے بعد انہیں کس طرح رہناہے اس کافیصلہ ان پر چھوڑدیاجائے ۔ انہوںنے یہ بات ا یم کیوایم کے کارکنوںسے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اورججوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات  پربھی تفصیلی اظہار خیال کیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور 16دسمبر 2014ء کو پیش آیاجس میں اسکول کے بچوں اور اساتذہ کاسفاکانہ قتل عام کیاگیا۔سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ چیف جسٹس گلزار احمد اورججوں کوسانحہ اے پی ایس کاخیال آج کیوں آیا؟آج ہی وزیراعظم عمران خان کوکیوںطلب کیاگیا؟ جب یہ سانحہ ہوااس وقت نوازشریف کی حکومت تھی اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف اورڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیرالاسلام تھا۔ موجودہ چیف جسٹس گلزاراحمدسے پہلے جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تھاجس نے عمران خان کے بنی گالہ کے ناجائز محل جوکہ کئی ایکڑزمین پرقبضہ کرکے بنایا گیا تھا، اسے پیسے لیکر ریگولرائزکردیا، اسی طرح جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آبادکے غیرقانونی طورپربنائے گئے ایک رہائشی ٹاوراوردیگرغیرقانونی تعمیرات کوریگولرائز کردیاجبکہ اسی جسٹس ثاقب نثار نے کراچی میں قانونی ،جائز اورلیز شدہ مکانوں، دکانوں، بستیوں اور عمارتوں کو ناجائز قرار دیکرمسمارکرنے کاحکم دیا۔ جن کے پاس اپنی املاک کی قانونی لیز موجود تھی، جو باقاعدگی سے پانی، بجلی، گیس کے بل ادا کرتے تھے ۔ ہزار وںمکانات، دکانوںاورعمارتوںکوگرادیاگیا۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزاراحمد نے حال ہی میںنسلہ ٹاور کوبھی غیرقانونی قراردیکروہاں کے مکینوںکوبیدخل کرکے نسلہ ٹاورکوبم سے اڑانے کاحکم دیا۔جسٹس گلزاراحمدنے بنی گالہ اوراسلام آباد کے غیرقانونی ٹاورکوبم سے اڑانے کاحکم کیوں نہیں دیا؟انہوںنے کہاکہ جسٹس گلزاراحمدسانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والے بچوں کا ذکر توبہت کررہے ہیں لیکن انہیںکراچی میں بے گھرہونے والے خاندانوںاورنسلہ ٹاور کوبیدخل کئے جانے والے بچوں کاکوئی احساس کیوں نہیں ہے؟ نسلہ ٹاورکے مکینوں نے اپنی پوری زندگی کی کمائی سے سرچھپانے کی یہ جگہ لی تھی لیکن چیف جسٹس گلزاراحمد نے سفاکانہ حکم دیتے ہوئے نسلہ ٹاور کے مکینوںکامعاشی قتل کرتے ہوئے انہیں گھرسے بے گھرکردیا۔ ایسے بے رحم اورسفاک چیف جسٹس کو آج اے پی ایس کے شہیدبچوںکاخیال کیسے آیا؟کراچی میںفوج کے غیرقانونی پیٹرول پمپس، شادی ہال ، شاپنگ مالز اور کمرشل پلازے قائم ہیں، دفاعی مقاصد کے لئے دی گئی زمینوںکوفوج کاروباری مقاصدکے لئے استعمال کررہی ہے، چیف جسٹس نے فوج کی ان غیرقانونی املاک کوبم سے اڑانے کا حکم کیوں نہیں دیا؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس گلزاراحمدنے دوران سماعت عمران خان سے سوال کیاہے کہ سانحہ اے پی ایس کس نے ہونے دیا؟ اس سوال کاجواب عمران توکیااس کی پوری جماعت نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کابچہ بچہ جانتاہے کہ پاکستان میں کسی بھی چیز کے ہونے دینے یا نہ ہونے دینے کااختیار صرف اورصرف فوج اوراس کی ایجنسیوں کوحاصل ہے۔ کیاہوناچاہیے، کیسے ہونا چاہیے، کس کے خلاف کرناہے، کیسے کرناہے، کس کواقتدارمیں آناچاہیے، کس کواقتدارمیں نہیں آنا چاہیے، اس کا فیصلہ آرمی چیف، کورکمانڈرز، آئی ایس آئی کے چیف اور جرنیل کرتے ہیں۔ اگرچیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزاراحمدکاضمیر جاگ گیاہے اوران میں ہمت ہے تووہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اورسابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیرالاسلام کونوٹس جاری کرکے بیرون ملک سے بلائیںاور ان سے پوچھیں کہ سانحہ اے پی ایس کیسے ہوا۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ بات سامنے آچکی ہے کہ سانحہ اے پی ایس فوج نے کرایا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کا دوسراسوال تھاکہ سانحہ اے پی ایس کے وقت پورا سیکوریٹی سسٹم کہاں تھا؟ اس سوال کاجواب یہ ہے کہ پوراسیکوریٹی سسٹم گھرپرتھاکیونکہ انہیں ان کی ہائی کمان کی جانب سے کہہ دیا گیا تھاکہ وہ گھروں پر رہیں ، اس روز صرف انہی کوگھرسے نکلنے کاحکم تھاجنہیں آرمی پبلک اسکول پشاورمیں جاکر بچوں اور اساتذہ کا قتل عام کرناتھا۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں فوج نے ہمیشہ چوکیداری کے نام پرچوری کی ہے ۔ وزیراعظم سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے اس سوال پر کہ '' آپ مجرموںکومذاکرات کی ٹیبل پر لے آئے '' جناب الطاف حسین نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اگرچیف جسٹس میں کوئی شرم وغیرت ہوتووہ بتائیںکہ جب تحریک لبیک نے فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دیا تھا،اس وقت ان سے معاہدہ کس نے کیا تھا ؟اس معاہدے پر بطورضامن فوج کے کس جرنیل کے دستخط تھے؟جب چندروزقبل تحریک لبیک نے دوبارہ مارچ کیاتو آرمی چیف جنرل قمرباجوہ نے ایک مفتی کوسامنے رکھ کرجومعاہدہ کرایا ، چیف جسٹس نے اس معاہدے کانوٹس کیوں نہیں لیا؟ٹی ایل پی کے گزشتہ دھرنے کی طرح اس مارچ کے دوران بھی کئی پولیس والوںکوتشددکرکے قتل کردیاگیاجبکہ سینکڑوںکوبری طرح زخمی کردیاگیا۔ اگرچیف جسٹس میں واقعی جرات ہوتی تووہ اس کانوٹس لیتے اورمعاہدہ کرنے والے فوجی جرنیلوںاورمفتی کوگرفتارکرنے کاحکم دیتے ۔ اسی طرح فیض آباد دھرنے کے موقع پر تشددمیںملوث افراد میں کھلے عام رقم تقسیم کرنے والے ڈی جی رینجرز پنجاب فوجی جرنیل کوبھی گرفتارکرنے کاحکم دیتے۔ مجرموںکومذاکرات کی ٹیبل پر کون لایاہے، اس کاسوال چیف جسٹس کووزیراعظم سے نہیں بلکہ آرمی چیف جنرل قمرباجوہ اورآئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید سے کرنا چاہیے تھا۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم سے توکہاہے کہ وہ اس بات کاپتہ لگائیںکہ ڈرون حملوں میں لوگ کیوں مارے گئے اورا س کاذمہ دار کون ہے، لیکن کیاچیف جسٹس کونہیں معلوم کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ دار فوج ہوتی ہے۔ اگرچیف جسٹس کویہ بھی معلوم نہیں ہے توبہترہے کہ وہ اپنامنصب چھوڑدیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کایہ سوال ہے کہ سانحہ اے پی ایس کے وقت ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاںکہاں تھیں؟اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاںایم کیوایم کے خلاف آپریشن کرنے،مہاجروں ، سندھیوں، بلوچوںاورپختونوں کوکچلنے میں لگی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس نے وزیراعظم سے سوال کرتے ہیںکہ جنرل راحیل شریف اوردیگراعلیٰ افراد پر مقدمہ قائم ہوا یا نہیں؟ تو چیف جسٹس بتائیںکہ کیا کوئی بھی وزیراعظم آرمی چیف یاآئی ایس آئی چیف کے خلاف مقدمہ قائم کرسکتاہے؟ چیف جسٹس وعظ کررہے ہیںکہ کارروائی اوپرسے ہونی چاہیے ، تواوپرتوفوج ہوتی ہے ، کیافوج کے خلاف پاکستان میں کوئی کارروائی کرسکتاہے ؟چیف جسٹس وزیراعظم سے توسوال کررہے ہیںکہ حکومت نے فوج اورایجنسیوں کے خلاف کیا کارروائی کی ، کیاچیف جسٹس نے جنرل قمرباجوہ اورجنرل فیض حمید سے بلاکرپوچھاکہ انہوں نے جنرل راحیل شریف اور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیر کے خلاف کیا کارروائی کی ؟ فوج نے ملک توڑدیا، فوج نے دس لاکھ بنگالیوںکوقتل کردیا، پانچ لاکھ معصوم بنگالی ماؤں بہنوںکی عصمتیں تارتارکیں، حمودالرحمن کمیشن رپورٹ میں سارے حقائق درج ہیںلیکن حمودالرحمن کمیشن رپورٹ پرعمل نہیں کیاگیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی فوج نہتے شہریوںپرتوگولیاں چلاتی ہے، ان کے خلاف طاقت استعمال کرتی ہے لیکن جہاں سامنے اسلحہ بردار آجائیں تو وہاں نہیں لڑتی ۔ نوازشریف کے دور میں جنرل راحیل شریف نے طالبان اورمذہبی انتہاپسنددہشت گردوںکے خلاف ضرب عضب شروع کرنے کااعلان کیا، ہم نے فوج کی سپورٹ لیکن فوج نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا۔ نوازشریف کے دورمیں ہی فوج نے کہاکہ ہم جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریںگے، ا س کے لئے نیشنل ایکشن پلان بنایاگیا اور اس پلان کو منظورکرانے کے لئے پارلیمنٹ میںموجود تمام سیاسی ومذہبی جماعتوںکااجلاس کیاگیا۔ میں نے واضح الفاظ میں اس خدشے کااظہارکردیاتھاکہ یہ ایکشن جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ ایم کیوایم کے خلاف ہوگا، جیسے 1992ء میں فوج نے کہاتھاکہ ہم 72بڑی مچھلیوں کے خلاف آپریشن کریںگے جن میںڈاکوؤں، اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے پتھاریدارشامل ہوںگے لیکن آپریشن ایم کیوایم کے خلاف کیاگیا۔ اسی طرح 2014ء میں بھی جب حکومت نے سیاسی جماعتوں کااجلاس کیاتوہمارے پاس وفاقی وزرا ء اورآئی ایس آئی والوں کے فون آنے لگے کہ ایم کیوایم بھی ا س نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کرے۔ جنرل راحیل شریف نے قسمیں کھائیںکہ ایم کیوایم کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا،فاروق ستاراور رابطہ کمیٹی کے بعض لوگ بھی ان کی قسموں میںآگئے اوربالآخر نیشنل ایکشن پلان پر دستخط ہوگئے ۔ اس کے بعدوہی ہوا کہ جو  1992میں ہواتھاکہ آپریشن کالعدم مذہبی انتہاپسند تنظیموں کے بجائے ایم کیوایم کے خلاف شروع ہوگیا،ریاستی آپریشن کے خلاف آواز اٹھانے پر ستمبر 2015ء میں لاہورہائیکورٹ کے ذریعے میری تقریرپر پابندی لگادی گئی، ایم کیوایم کے کارکنوں کاماورائے عدالت قتل شروع کردیاگیا، ایم کیوایم کے کارکنوںکوپکڑ پکڑکرجبری گمشدہ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، لاپتہ کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ملناشروع ہوگئیں، ہم نے اس ظلم وبربریت کے خلاف پرامن احتجاج کرتے ہوئے 17اگست 2016ء کوبھوک ہڑتال شروع کی، انصاف کے لئے دہائیاں دیں لیکن کسی نے ایک نہ سنی،میرے کارکنوں کی حالت غیرہونے لگی، بالآخر ان حالات سے تنگ آکرمیں نے پاکستان کو مردہ باد کہہ دیا۔ میرجرم اتنابڑانہیں تھاکہ اس کی پاداش میں ہم پرفوج کشی کردی جائے ، ہمارے مرکزنائن زیروپر تالہ لگادیاجائے ، ہمارے دفاترکومسمارکردیاجائے اورہمارے ہزاروںلوگوںکو پکڑکرقید کردیاجائے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے بھی تہیہ کرلیاہے کہ اب ہمیں بھی یہ ذلت کی زندگی گوارا نہیں ہے، اب مہاجروںکوبے زمینی کاطعنہ نہیں دیاجاسکے گا، سندھ ہماری دھرتی ماں ہے، چاہے کتناہی ظلم کرلیاجائے ، ہم سندھ دھرتی کوفوج کے قبضہ سے آزادکرائیںگے، میری تقریر، بیانات حتیٰ کہ تصویراورنام لینے تک میڈیاپرپابندی لگادی گئی لیکن وہ الطاف حسین کی محبت کوعوام کے دلوںسے نہیں نکال سکتے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میراآج بھی یہی کہناہے کہ انگریزوں نے ایک سازش کے تحت ہندوستان کوتقسیم کیاتھا، ہندومسلم فسادات کرائے ، ہمارے بزرگ مذہب کے نام پر بیوقوف بن گئے،ہندوستان میں اپناگھربار، حویلیاں، جاگیریں، جائیدادیں، آباؤاجداد کی 
قبریں، بزرگوں کے مزارات، سب کچھ چھوڑکرپاکستان آگئے لیکن ہمیں یہاں تسلیم نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان نہیں بلکہ فوجستان اورپنجابستان ہے، فوج، سول ملٹری بیوروکریسی اورتمام شعبوںمیں صرف پنجاب کی اکثریت ہے ، فوج بھی میں بھی 95 فیصد پنجاب سے تعلق رکھنے والے افسران وجوان ہیں، یہ فوج پورے ملک کی نہیں، یہ نیشنل آرمی نہیں بلکہ صرف پنجاب کی فوج ہے جو پاکستان کانہیں بلکہ پنجاب کے مفادات کاتحفظ کرتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمدکی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان کوئی چھوٹاملک نہیں ہے، یقیناپاکستان ایک بڑاملک ہے ، ایٹمی طاقت ہے لیکن یہ ملک معاشی طورپرتباہ ہوگیاہے، فوجی جرنیلوں نے اسے کھوکھلا کردیا ہے۔چیف جسٹس کواگر ملک کے لوگوںسے واقعی ہمدردی ہے تو ایک بار پاکستان کی خاطر سوموٹو لیں اوراعلان کریںکہ یہ ملک دیوالیہ ہوگیاہے،اب موجودہ وفاق کے ذریعے اسے نہیں چلایا جاسکتالہٰذا پاکستان کے صوبوںسندھ ، بلوچستان ، پختونخوا، پنجاب ،گلگت  بلتستان کوآزادکردیاجائے ، آزادی کے بعد ان علاقوں کے لوگوںکو کس طرح رہناہے اس کافیصلہ ان پرچھوڑدیاجائے ۔اگرچیف جسٹس گلزار احمد ایساکردیتے ہیں توہم بھی ان کے بارے میں کہے گئے القابات واپس لیکران سے 
معافی مانگ لیںگے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان ایک غیرفطری ملک ہے، اسی لئے یہ1971ء میں پہلے ہی ٹوٹ چکاہے، اب باقیماندہ بھی غیرفطری ہے، اس غیرفطری ملک کوآج نہیںتوکل تقسیم ہوناہے، لہٰذا کل انسانوں کے قتل عام کے نتیجے میں ملک تقسیم ہو،اس سے بہترہے کہ اسے بغیرقتل وغارت کے پرامن طریقے سے تقسیم کردیاجائے اورپھر سب جیواورجینے دو کے عالمی اصولوں کے تحت ایک دوسرے کی آزادی کا احترام کرتے ہوئے امن وآشتی کے ساتھ رہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اسٹیبلشمنٹ کوبتادیناچاہتاہوں کہ تم یہ سمجھ رہے ہوکہ ایم کیوایم ختم ہوگئی ہے ، اس کے کارکنوں اورہمدردوں نے الطاف حسین کاساتھ چھوڑدیاہے ، تویہ تمہاری غلط فہمی ہے ، ایم کیوایم کے سچے کارکنان اور میرے چاہنے والے کروڑوں عوام آج بھی میرے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دیگرضمیرفروش ٹولے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میںناکام ہوگئے تو اسٹیبلشمنٹ ایم کیوایم سے بیوفائی کرنے والے بعض نام والوں کو دوبارہ سے اپنی چھتری تلے میدان میں اتارنے کے منصوبے بنارہی ہے اورعوام کوگمراہ کرنے کے لئے یہ تک کہاجارہاہے کہ ایسے لوگوںکومیدان میں لاکر پھران کے ذریعے الطاف حسین کوبھی لے ا ئیںگے۔ انہوںنے کہاکہ انہیں میں نے بنایا، میں ایسی قیادت پر لعنت بھیجتاہوں جومجھے ان ضمیرفروشوں کے صدقے ملے۔میرے لئے میرے وہ مفلوک الحال کارکنان بہت عظیم ہیں جنہوں نے مفلسی ، فاقہ کشی اوربے بسی میں بھی اپنے ظرف وضمیرکاسودانہیں کیااورآج بھی اپنی وفاپرقائم ہیں۔ وقت ، وقت کی بات ہے، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا، وقت آئے گاجب نائن زیروکھلے گاتومیرے یہی باوفاساتھی کھولیںگے اورنائن زیروپرکسی ظرف وضمیر کا سودا کرنے والے کسی ضمیرفروش شخص کے قدم نہیں پڑیںگے۔انہوں نے کارکنوںسے کہاکہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوںمیں نہ آئیں، ہمارا جوبھی قدم ہوگا، وہ عزت کے ساتھ ہوگا،ہمیشہ حق ہی فتح پاتاہے اورباطل مٹنے کے لئے ہوتاہے۔ انشاء اللہ حق ہی فتح پائے گااورباطل مٹ جائے گا۔ 
جئے مہاجر…جئے سندھ 
سداجئے
٭٭٭٭٭



11/29/2021 10:11:57 AM