Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے 8نومبر جمعرات کو ملک بھر میں عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کردیا


ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے 8نومبر جمعرات کو ملک بھر میں عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کردیا
 Posted on: 11/4/2012
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے 8نومبر جمعرات کو ملک بھر میں عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کردیا 
عوامی ریفرنڈم میں عوام سے رائے طلب کی گئی ہے کہ وہ ’’قائد اعظم کا پاکستان چاہتے ہیں یا طالبان کا پاکستان ‘‘
ایم کیوایم کی ویب سائٹ www.mqm.org پر آن لائن ووٹنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ عوام 
ایس ایم ایس سروس اور ڈاک کے ذریعہ بھی اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں 
ملک بھر کے عوام پاکستان کے روشن اور بہتر مستقبل کیلئے عوامی ریفرنڈم میں بھرپورشرکت کریں اور اپنے اپنے علاقے میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر جاکریا دیگر ذرائع سے اپنا ووٹ ضرورکاسٹ کریں 
ایم کیوایم پاکستان کو قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق لبرل ، پروگریسیو ، ترقی پسند اور تعلیم یافتہ پاکستان بنانا چاہتی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں منعقدہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی:۔۔۔(اسٹاف رپورٹر)
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرووفاقی وزیربرائے سمندرپارپاکستانیزڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاہے کہ قائدتحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم پاکستان کوقائداعظم محمدعلی جناحؒ کے وژن کے مطابق لبرل،پروگریسو،ترقی پسنداورعلم وعمل سے مالامال تعلیم یافتہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے مورخہ8نومبر 2012ء جمعرات کو ملک بھر میں بیک وقت عوامی ریفرنڈم کرانے کا اعلان کردیا ہے ، عوامی ریفرنڈم میں عوام سے رائے طلب کی گئی ہے کہ وہ ’’قائد اعظم کا پاکستان چاہتے ہیں یا طالبان کا پاکستان ‘‘۔عوامی ریفرنڈم کے سلسلے میں کراچی سمیت ملک بھر میں ہزاروں پولنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے جہاں صبح 9بجے شام 5بجے تک عوام ووٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں دوطبقات ہیں ایک وہ طبقہ ہے جوقائداعظم محمدعلی جناح ؒ کاپاکستان چاہتاہے اوردوسری طرف وہ طبقہ ہے جوپاکستان کو طالبان کاپاکستان بناناچاہتاہے۔انہوں نے پاکستان کے حکمرانوں اورتمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،کارکنوں سمیت تمام مذاہب ، عقائد اورمسالک کے ماننے والے عوام، خصوصاًملک بھرکے طلبہ وطالبات کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اب ایڈھاک ازم سے کام نہیں چلے گا،اب وقت آگیاہے کہ وہ فیصلہ کریں انہیں کس قسم کاپاکستان چاہئے کہ آیاوہ قائداعظم کا پاکستان چاہتے ہیں۔۔۔یا۔۔۔طالبان کا پاکستان چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اب جوصورتحال ملک میں سامنے آئی ہے یہ ’’اب نہیں تو ۔۔۔ کبھی نہیں والی صورتحال ہے۔وہ اتوارکو ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرزو اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ لال قلعہ گراؤنڈعزیزآبادمیں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پرمنتخب حق پرست عوامی نمائندے اورایم کیوایم کے شعبہ جات کے ارکان بھی موجودتھے۔ڈاکٹرفاروق ستارنے کہاکہ پاکستان اندرونی وبیرونی خطرات سے دوچار ہے ، ایک جانب شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں سے پاکستان کی خودمختاری پر سوالیہ نشان لگائے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں مذہبی انتہاء پسندی، دہشت گردی اور قتل وغارتگری کے واقعات سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ مذہبی انتہاء پسند ، مساجد، امام بارگاہوں، بزرگ ہستیوں کے مزارات ، بچوں اور بچیوں کے اسکولوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنارہے ہیں، فوجی تنصیبات پر مسلح حملے کررہے ہیں اور مسلح افواج ، رینجرز، پولیس اور ایف سی کے جوانوں کو سفاکی سے قتل کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین ،پاکستان کے واحد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے کئی برس قبل ہی پاکستان بھر کے عوام کو ملک میں مذہبی انتہاء پسندی اور طالبانائزیشن سے آگاہ کردیا تھالیکن بدقسمتی سے سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں ، بعض دانشوروں ، اینکرپرسنز اور صحافیوں نے جناب الطاف حسین کے خدشات کوسنجیدگی سے لینے کے بجائے ان کا مذاق اڑایا اور یہ بہتان تراشی کی کہ جناب الطاف حسین ، عوام کو خوف زدہ کررہے ہیں جبکہ آج سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے یہ کہاگیا ہے کہ کراچی میں طالبان کی موجودگی کو سنجیدگی سے لیا جائے اورطالبان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر ثابت ہوگئی ہے کہ جناب الطاف حسین کے خدشات درست تھے۔ڈاکٹرفاروق ستارنے کہاکہ موجودہ دور جدید علوم اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ا س دور میں جو قومیں اور ممالک علم کے زیورسے آراستہ ہیں وہی ترقی کی منازل طے کررہے ہیں اور جو قومیں علم کی دولت سے محروم ہیں وہ ترقی یافتہ ممالک کی خیرات اور امداد کی محتاج بن کر رہ گئی ہیں۔ قرآن مجید اور سرکاردوعالم ؐ کی تعلیمات میں بار بارحصول علم کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے اورایک حدیث مبارکہ کے مطابق علم حاصل کرنا مرداورعورت پر لازم قراردیا گیا ہے ، لیکن بدقسمتی سے طالبان دہشت گرد ، اسلام کی آڑ میں نہ صرف دہشت گردی اور قتل وغارتگری کررہے ہیں بلکہ پاکستان کے عوام کو بالخصوص طالبات کو حصول علم سے روکنے کیلئے گھناؤنے اور سفاکانہ ہتھکنڈے بھی استعمال کررہے ہیں۔مورخہ 9، اکتوبر2012ء کو طالبان دہشت گردوں نے سوات میں قوم کی بیٹی ملالہ یوسف زئی اور دیگر دو طالبات کائنات اور شازیہ کواس وقت فائرنگ کرکے شدید زخمی کردیا جب وہ اسکول سے اپنے گھر جارہی تھیں۔ دہشت گردوں کی اس سفاکانہ اور بزدلانہ کارروائی پر پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی اور پاکستان کے عوام 1965ء سے زیادہ متحد ہوکر اس دہشت گردی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح کس قسم کا پاکستان چاہتے تھے اس کااندازہ 11، اگست1947ء کو دستورساز اسمبلی سے ان کی تاریخی صدارتی تقریر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو تھیوکریٹک ریاست نہیں بلکہ ایسی لبرل، سیکولر اور پروگریسیو ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں تمام مذاہب، مسالک اور فقہوں کے ماننے والوں کو اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے اورعبادت کرنے کی مکمل آزادی ہواورانہیں زندگی کے ہرشعبہ میں مساوی حقوق میسر ہوں لیکن طالبان دہشت گردوں پر مشتمل ایک طبقہ اپنے فرسودہ اورغیرشرعی نظریات وعقائد دوسروں پر زبردستی مسلط کرکے قائداعظم کے وژن کو مسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ طبقہ ، پاکستان میں خواتین کے حقوق پامال کررہا ہے ، ان پرسرعام کوڑے برسارہا ہے، انہیں جانوروں کی طرح باندھ کر سفاکی سے سنگسارکررہا ہے، بچیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے کیلئے اسکولوں کو بموں سے اڑارہا ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں کو کافرقراردیکر ان کے گلے کاٹ رہا ہے، پاکستان کے آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کررہا ہے حتیٰ کہ معصوم بچیوں پر قاتلانہ اور بزدلانہ حملے کررہا ہے ۔ اب یہ پاکستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس قسم کے پاکستان کے حامی ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ ایم کیوایم ،پاکستان کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ایک جمہوری ، لبرل، سیکولراورپروگریسیو ریاست بنانا چاہتی ہے اورپاکستان میں ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتی ہے جہاں بلاامتیاز رنگ ونسل،زبان، قومیت، عقیدہ، مسلک اورمذہب سب کی جان ومال اورعزت وآبروکا تحفظ ہو۔اورملالہ یوسف زئی سمیت دیگر طالبات پر طالبان دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے کے بعد پاکستان کے عوام نے جس طرح اتحاد ویکجہتی کامظاہرہ کیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان بھر کے عوام بھی اپنے وطن میں علم کافروغ، مذہبی رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی جان ومال کاتحفظ چاہتے ہیں۔ پاکستان بھر کے عوام طالبان دہشت گردوں کے من گھڑت نظریات اور خیالات سے ہرگز متفق نہیں ہیں اور وہ مذہب کی آڑ میں ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ڈاکٹرفاروق ستارنے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام مورخہ 8، نومبر2012ء بروز جمعرات کو ملک بھرمیں بیک وقت عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کیا جائے گا جس میں عوام سے رائے طلب کی جائے گی کہ وہ کس قسم کا پاکستان چاہتے ہیں ؟ آیاوہ قائداعظم کا پاکستان چاہتے ہیں یا طالبان کا پاکستان۔عوامی ریفرنڈم کے سلسلے میں کراچی سمیت ملک بھر میں ہزاروں پولنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے جہاں عوام آزادانہ طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔عوامی ریفرنڈم کیلئے ووٹنگ کا سلسلہ صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔اس سلسلے میں ایم کیوایم کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں بیلٹ پیپر شائع کرائے گئے ہیں جوکہ ملک بھر میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر دستیاب ہونگے ۔ریفرنڈم کے عمل کی نگرانی اورووٹوں کی گنتی ریٹائرڈ ججوں، سینئر وکلاء ، سینئر صحافیوں ، دانشوروں اور دیگرمعززین پر مشتمل ریفرنڈم کمیشن کرے گااوریہی کمیشن ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان کرے گا۔ایم کیوایم کی جانب سے ریفرنڈم کمیشن کے ارکان کے ناموں اور دیگر تفصیلات کا اعلان اگلی پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔انہوں نے بتایاکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کے علاوہ ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کیلئے ایم کیوایم کی ویب سائٹ www.mqm.org پر آن لائن ووٹنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ عوام ایس ایم ایس سروس کے ذریعہ بھی اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاک کے ذریعہ بھی اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں اور ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروعزیزآباد کے پتے 494/8 عزیزآباد کراچی پر ارسال کرسکتے ہیں۔ مزید معلومات کیلئے ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروعزیزآباد کے ٹیلی فون نمبرز 021-3631 3690 - 021-3632 9900 پر رابطہ کیاجاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ صوبہ سندھ ، صوبہ پنجاب، صوبہ خیبرپختونخوا، صوبہ بلوچستان ، آزادکشمیر ،گلگت اور بلتستان کے عوام اپنے اپنے شہروں میں ایم کیوایم کے زونل دفاترکے ٹیلی فون نمبروں پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں جن کی فہرست منسلک ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان آج طرح طرح کے مسائل کاشکارہے ، ہم پاکستان کو ان مسائل سے نکالناچاہتے ہیں،ایم کیوایم کایہ ریفرنڈم مسائل کاشکارملک میں نئی روح پھونک کراسے نہ صرف اپنے پیروں پرکھڑاکرنے میں مددگارثابت ہوسکتاہے بلکہ اسے غیرملکی امداد اوربھیک سے نجات دلاکراسے ایک خودمختارملک بنانے کی جانب گامزن کرسکتاہے۔اس ریفرنڈم کے ذریعہ پاکستان بھر کے عوام وطن عزیز پر بری نظرڈالنے والوں پر واضح کرسکتے ہیں کہ سچے محب وطن پاکستانی اپنے وطن کی بقاء وسلامتی اور ترقی وخوشحالی کیلئے متحد ومنظم ہیں اورپاکستان پر بری نظررکھنے والوں کوپہلے سچے پاکستانیوں کوختم کرناہوگاتب وہ پاکستان کی طرف بری نظرڈال سکتے ہیں۔ ایم کیوایم کا عوامی ریفرنڈم انتہائی اہمیت کاحامل ہے،اس کے ذریعے ملک کی تقدیرکافیصلہ ہوگا،اس ریفرنڈم میں پڑھے لکھے نوجوان،طلبہ وطالبات اور ملک سے سچی محبت کرنے والے تمام محب وطن عوام بتائیں گے کہ وہ کیساپاکستان چاہتے ہیں۔انہوں نے پاکستان بھر کے عوام ، دانشوروں، وکلاء، ڈاکٹروں ، انجینئروں، اساتذہ، دانشوروں ، صحافیوں ، کالم نگاروں ،علمائے کرام، تاجروں ، صنعتکاروں، سول سوسائٹی ، این جی اوز کے نمائندوں،محنت کشوں ، ہاریوں اور کسانوں بالخصوص نوجوان طلبا وطالبات سے پرزور اپیل کی کہ وہ پاکستان کے روشن اور بہتر مستقبل کیلئے اس عوامی ریفرنڈم میں بھرپورشرکت کریں اور اپنے اپنے علاقے میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر جاکریا دیگر ذرائع سے اپنا ووٹ ضرورکاسٹ کریں ۔بعدازاں انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہاکہ اب جو صورتحال ملک میں سامنے آئی ہے وہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں کی صورتحال ہے ، اب پاکستان کے حکمراں ہوں ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے آئینی و ریاستی ادارے ہوں اب ہم سب کو اور پاکستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا اب کوئی تھرڈ آپشن نہیں ہے کہ ہم مزید ایڈہاک ازم سے کام لیں ، مصلحتوں اور منافقت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ پاکستان میں دو طرح کے طبقات ہیں واضح تقسیم ہوگئی ہے ایک طبقہ پاکستان کو طالبان کا اور دوسرا قائدا عظم کا پاکستان بنانا چاہتا ہے ۔ایک اورسوال کے جواب میں ڈاکٹرفاروق ستارنے کہاکہ اے این پی یا دیگر سیاسی جماعتیں پاکستانی قوم کا حصہ ہیں اور یہ ایک بہت بڑا قومی ایشو ہے اس پر قومی اتفاق رائے کی جتنی آج پاکستان کو ضرورت ہے شاہد سے پہلے نہیں تھی ، ہم نے تمام سیاسی جماعتوں ، سیاسی کارکنوں اور ہر خاص و عام سے اپیل کی ہے کہ علیحدہ علیحدہ کی بات نہیں یہ ریفرنڈم ملک کی بقاء و سلامتی کا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان کو قائد اعظم کے ویژن کے مطابق ایک لبر ل ، ترقی پسند پروگریسو پاکستان چاہتی ہے ، تعلیم و علم کا فروغ چاہتی ہے ، خواتین ، بچوں اور غیر مسلموں کے حقو ق کا تحفظ ، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم ااہنگی قائم کرنا چاہتی ہے اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر ہم پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کی پالیسی پر گامزن رہیں گے ۔ بعدازاں ڈاکٹرفاروق ستارنے ہفتہ کو حیدرآباد میں ایم کیوایم کے ناظم جلیل الرحمن کے بہیمانہ قتل اور شہادت کی بھر پور مذمت بھی کی اورکہاکہ اس سے قبل بوہری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا کراچی میں بھی بوہری کیونٹی کے افرراد کو نشانہ بنایا گیا ۔ڈاکٹرفاروق ستارنے صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف ، وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور وزریاعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے پرزورمطالبہ کیاکہ وہ جلیل الرحمن سمیت تمام افراد کے قتل کی تحقیقات کرائی جائے ، بوہری ، آغاخانی برادری سمیت تمام برادریوں اور اقلیتوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیاجائے ۔ 
 

12/10/2016 8:38:05 AM