Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جماعت اسلامی کے رہنماء ڈاکٹر اطہر قریشی کے قتل کی تحقیقات کیلئے سینئر ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، خواجہ اظہار الحسن


جماعت اسلامی کے رہنماء ڈاکٹر اطہر قریشی کے قتل کی تحقیقات کیلئے سینئر ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، خواجہ اظہار الحسن
 Posted on: 3/20/2014
جماعت اسلامی کے رہنماء ڈاکٹر اطہر قریشی کے قتل کی تحقیقات کیلئے سینئر ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، خواجہ اظہار الحسن
ڈاکٹر اطہر قریشی جماعت اسلامی کی مجرمانہ پالیسیوں اور بین الاقوامی دہشت گرد گروپوں سے تعلقات پر سخت نالاں تھے
ڈاکٹر اطہر، جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کرنے والے تھے لیکن اس سے قبل ہی تھنڈر اسکواڈ نے انہیں بے رحمی سے قتل کر ڈالا
جماعت کے جو رہنما بھی جماعت سے الگ ہوتے ہیں انہیں تھنڈر اسکواڈ کے دہشت گرد بے رحمی سے قتل کردیتے ہیں
جماعت کے سابق نائب امیر پروفیسر غفور احمد بھی جماعت اسلامی سے علیحدگی کرنے ہی والے تھے لیکن ڈاکٹر اطہر قریشی کے بہیمانہ قتل پر خوف زدہ ہوکر انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا
جماعت اسلامی کا تھنڈر اسکواڈ گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے
کراچی۔۔۔20، مارچ2014ء
سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے تھنڈر اسکواڈ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں جماعت اسلامی کے سینئر رہنما ء ڈاکٹراطہر قریشی کے قتل کی تحقیقات کیلئے عدلیہ کے سینئر ججوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ اپنے ایک بیان میں خواجہ اظہارالحسن نے کہاکہ جماعت اسلامی کا تھنڈراسکواڈ گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور جماعت اسلامی کی مجرمانہ پالیسیوں سے متنفر افراد اس اسکواڈ کا خصوصی نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جماعت کے جو رہنما بھی جماعت سے الگ ہوتے ہیں انہیں اس تھنڈر اسکواڈ کے دہشت گرد بے رحمی سے قتل کردیتے ہیں اورجماعت کے سینئر رہنماء ڈاکٹر اطہر قریشی کا قتل اس دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ڈاکٹر اطہر قریشی جماعت اسلامی کی مجرمانہ پالیسیوں اوربین الاقوامی دہشت گرد گروپوں سے اس کے تعلقات پر سخت نالاں تھے اور اس سے علیحدگی اختیار کرنے والے تھے لیکن اس سے قبل ہی جماعت کے تھنڈر اسکواڈ نے انہیں بے رحمی سے قتل کرڈالا۔ جماعت کے سابق نائب امیرپروفیسر غفور احمد بھی جماعت اسلامی سے علیحدگی کرنے ہی والے تھے لیکن ڈاکٹر اطہر قریشی کے بہیمانہ قتل پر خوف زدہ ہوکر انہوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا تاہم وہ جماعت کی سرگرمیوں میں سے عملاً الگ ہوگئے تھے اور اپنی وفات تک انہوں نے جماعت اسلامی کی مجرمانہ سرگرمیوں اور پالیسیوں سے خود کو الگ رکھا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند برسوں میں جماعت اسلامی ، جمعیت طلباء اورالقاعدہ کے روابط میں بھی عوام کے سامنے آچکے ہیں۔ القاعدہ کے متعدد دہشت گرد ،جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے گھروں سے گرفتار ہوئے ہیں جبکہ افغانستان اورپاکستان کے کئی علاقوں میں جمعیت کے کئی دہشت گرد ڈرون حملوں میں بھی مارے جاچکے ہیں ۔ گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی اور جامعہ کراچی سے القاعدہ کے کئی اراکین جمعیت کے اراکین کے ہاسٹلز کے کمروں سے گرفتار ہوچکے ہیں ۔ خواجہ اظہارالحسن نے کہاکہ جماعت کا دہشت گردانہ کردار ، ماضی اور پالیسیاں اب کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینئر ججوں کے ذریعہ ڈاکٹر اطہرقریشی کے قتل کی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور اس قتل میں ملوث جماعتی دہشت گردوں کو قرارواقعی سزا دلوائی جائے ۔

12/9/2016 10:55:05 PM