Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں نے کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی بات نہیں کی ہے ، الطاف حسین


میں نے کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی بات نہیں کی ہے ، الطاف حسین
 Posted on: 3/20/2014
میں نے کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی بات نہیں کی ہے ، الطاف حسین
زاہداخترکیس میں سپر یم کورٹ کافیصلہ موجودہے کہ سرکاری ملازم کو حکام بالا کے غیر قانونی احکامات کو نہیں ماننا چاہیے
اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہاگیاہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو صدر مملکت کے غیر قانی احکامات تسلیم نہیں کرنے چاہیے تھے
پنجاب میں گورنرراج نافذ کیاگیاتو میاں نوازشریف نے خودایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے پنجاب کی پولیس اورسیکورٹی فورسز سے کہاتھا کہ وہ وفاقی حکومت کے غیرقانونی احکامات نہ مانیں 
1977ء میں پی این اے کی تحریک کے دوران لاہورمیں فوج کو مجمع پر گولی چلانے کاحکم ملا لیکن فوج کے افسران نے لوگوں پر گولی چلانے کے حکم کو ماننے سے انکار کردیاتھا
سابقہ دور حکومت میں کیری لوگر بل کے معاملہ پر فوج کی قیادت نے باقاعدہ بیان کے ذریعہ اپنی تشویش کا اظہارکیا جس پر حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑی
سابقہ حکومت نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا تو فوج نے اس کی مخالفت کی جس پر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لیا 
میں نے تاریخ کے حوالے سے کہاتھا کہ جس جس معاشرے میں کرپشن اور ناانصافی عروج پر پہنچ گئی وہاں اس ملک کی فوج کے کسی فرد نے اس ظلم و جبر کے خلاف انقلاب بر پا کیا
تاریخ کے حوالے سے ایک مثال دینے پر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ میں فوج کی مداخلت کی حمایت کر رہا ہوں ؟
استحصالی طبقہ میرے خلاف زہراگل رہاہے۔قائدتحریک الطاف حسین کااجلاس سے خطاب
لندن۔۔۔19، مارچ2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں نے نہ غیر آئینی با ت کی ہے اور نہ ہی غیر قانونی بات کی ہے، میری تقریر ریکارڈ پر موجود ہے اس کا ایک ایک جملہ اور ایک ایک لفظ اگر غورسے سنا جائے تو ہرفرد اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کہی ہے ۔میں نے صاف اور واضح الفاظ میں یہ کہا ہے کہ اگرحکومت اداروں یاحکام کوایساحکم دے جوآئین ، قانون، تہذیب اورملک کے مفادکے خلاف ہوتو اداروں کے حکام کوایسے احکامات نہیں ماننے چاہئیں اور ماضی میں متعدد بار ایسا ہوچکا ہے جس کی مثالیں موجو د ہیں ۔وہ نائن زیروپر اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے اس حوالے سے عدالتی فیصلوں کی مثالیں پیش کر تے ہوئے کہا کہ زاہد اختر بنام حکومت پنجاب کے کیس میں سپر یم کورٹ کے فیصلے PLD 1995میں کہاگیاہے کہ قانو ن کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ایک سرکاری ملازم کو اپنے حکام بالا کے غیر قانونی احکامات کو نہیں ماننا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اصغر خان بنا م جنرل اسلم بیگ (پی ایل ڈی 2013ء سپریم کورٹ نمبر 1)مقدمہ میں واضح طو رپر تسلیم کیا گیا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو صرف قانونی احکامات ماننے چاہئے تھے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو صدر پاکستان کے غیر قانی احکامات تسلیم نہیں کرنے چاہئیں ، باوجود اس کہ صدر پاکستان مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں ،بصورت دیگر غیر قانونی احکامات بجالانے والے افسران اپنے فعل کے ذاتی طورپر ذمہ دار ہوں گے ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ دورحکومت میں جب پنجاب میں گورنر راج نافذ کیاگیاتو میاں نوازشریف صاحب نے خود ایک جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے پنجاب کی پولیس اورسیکورٹی فورسز سے کہاتھا کہ وہ وفاقی حکومت کے غیرقانونی احکامات نہ مانیں جس پر ایک پولیس اہلکارنے بھرے جلسے میں اسٹیج پر آکر اپنی بیلٹ اتارکر نواز شریف صاحب کودیدی تھی اور نوازشریف صاحب نے اس پولیس اہلکار کوخراج تحسین پیش کیاتھا۔اسی طرح1977ء میں PNA کی تحریک کے دوران پنجاب اسمبلی کے سامنے قومی اتحاد کا جلسہ ہورہا تھا، فوج کو حکم ملا کہ مجمع پر گولی چلائیں لیکن فوج نے لوگوں پر گولی چلانے کے حکم کو ماننے سے انکار کردیاتھااور کئی فوجی افسران جن میں کرنل اور بر یگیڈئر بھی شامل تھے نے اپنی بیلٹیں اتار کر پیش کردی تھیں اور احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں کیری لوگر بل کے معاملہ پر بھی فوج کی قیادت نے کورکمانڈر ز کا اجلاس کرکے باقاعدہ بیان کے ذریعہ اپنی تشویش کا اظہار کیا جس پر حکومت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑی ۔اسی طرح جب سابقہ حکومت نے آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا تو فوج نے اس کی مخالفت کی جس پر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ملک اورمسلح افواج کاپہلے ہی بہت نقصان ہوچکا اور ایک محب وطن کی حیثیت سے میں یہ قطعی نہیں چاہوں گا کہ ہم آج کسی بھی ایسے معاملے میں شامل ہوں جس کے نتائج ملک نسل در نسل بھگتتا رہے ۔انہوں نے کہا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جس جس معاشرے میں کرپشن اور ناانصافی عروج پر پہنچ گئی وہاں اس ملک کی فوج کے کسی فرد نے اس ظلم و جبر کے خلاف انقلاب بر پا کیا ۔ میں نے تاریخ سے صرف ایک مثال دی تھی ،فوج کو دعوت نہیں دی تھی ،تاریخ کے حوالے سے ایک مثال دینے پر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ میں فوج کی مداخلت کی حمایت کر رہا ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ تاریخ صرف شیریں ہی نہیں بلکہ تلخ بھی ہوتی ہے ، یہ کہا ں لکھا ہے کہ آپ تاریخ کے میٹھے میٹھے حصوں کو تو سامنے لائیں لیکن کڑوے حصوں کو تھوک دیں ؟ انہوں نے کہا کہ استحصالی طبقہ کو تو میر ی باتیں بر ی لگ رہی ہیں لیکن غریب ومتوسط طبقہ کے عوام اور محب وطن طبقات کو میری باتیں پسند آرہی ہیں ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی پاکستان کو ان امتحانات میں سرخ رو کرے جن سے وہ گزر رہا ہے اور اسے قائم و دائم رکھے ۔ 



12/6/2016 4:22:30 AM