Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک کے چوٹی کے آئینی و قانونی ماہرین اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کی خدمت میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے نکات


ملک کے چوٹی کے آئینی و قانونی ماہرین اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کی خدمت میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے نکات
 Posted on: 1/8/2014 1
ملک کے چوٹی کے آئینی و قانونی ماہرین اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کی خدمت میں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے نکات
جب 12 اکتوبر 99ء کو فوج کے جرنیل اور افسران زمین پر منتخب حکومت کی برطرفی کے اقدامات کررہے تھے اس وقت جنرل پرویز مشرف فضاؤں میں سفر کررہے تھے
12اکتوبر 99ء کو آئین کی عارضی معطلی کا اعلان ہوا اور ایک عبوری آئین جاری کیا گیا تو سپریم کورٹ کے جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا
پی سی او کے تحت حلف لینے والے سپریم کورٹ کے ججوں نے آئین کی کس شق کے تحت 12 اکتوبر 99ء کے اقدام کو درست اور جائز قرار دیا؟ 
کس آئین کے تحت جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کو تین سال تک کام کرنے کی اجازت دی؟
اور کس آئین و قانون کے تحت فوجی حکومت کو آئین میں ترامیم کا اختیار دیا؟
بعض سیاستداں اور آئینی و قانونی ماہرین 12 اکتوبر 99ء کے اقدام کو غیر آئینی قرار دینے کے بجائے صرف 3 نومبر 2007ء کے ایمرجنسی کے نفاذ کو آئین کی خلاف ورزی کیوں قرار دے رہے ہیں؟
کس آئین و قانون کے تحت صرف اور صرف جنرل پرویز مشرف کو ایمرجنسی کے نفاذ کا تنہا ذمہ دار ٹھہرا کر انہیں جیل میں قید کیا گیا ہے؟ 
جنرل پرویز مشرف کے باقی شریک کار جرنیلوں اور انکے اقدامات کو جائز قرار دینے والوں کو آئین کی کس شق کے تحت قید وبند کی صعوبتوں اور عدالتوں میں کیسز بھگتنے سے آزاد قرار دیا گیا ہے؟
جنرل پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلا کر پھانسی یا سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرنے والے میرے بیان کردہ دلائل کے جواب میں ٹھوس دلائل پیش کریں یا پھر اپنے مطالبات سے دستبردار ہوجائیں
لندن ۔۔۔۔8 جنوری 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے پاکستان کے باشعورعوام ، آئین اورقانون کے طالبعلموں اورخصوصاًملک کے چوٹی کے آئینی وقانونی ماہرین اورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں کومخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ لوگ جو جنرل پرویزمشرف کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا واحدذمہ دارقراردے کران پر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ چلاکرانہیں پھانسی کی سزایاسخت سے سخت سزا دینے کامطالبہ کررہے ہیں میں تاریخ کی روشنی میں چندحقائق ایسے مطالبات کرنے والوں کے علم میں لاناضروری سمجھتاہوں تاکہ وہ یا تو میرے بیان کردہ ٹھوس دلائل کے جواب میں ٹھوس دلائل پیش کریں یاپھراپنے مطالبات سے دستبردارہوجائیں۔میں نکتہ بہ نکتہ اپنے دلائل بیان کروں گا۔

پہلانکتہ ۔۔۔نکتہ نمبر1:
12اکتوبر1999ء کوایک جمہوری حکومت کوبرطرف کرکے مارشل لاء طرز کااقدام فوج کی جانب سے کیاجاتاہے۔جس لمحے پاک فوج کے جرنیلوں اورافسران نے جمہوری حکومت کی برطرفی کاآغاز کیااس وقت موجودہ ریٹائرڈچیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف ایک غیرملکی دورے سے وطن واپس آرہے تھے اور جب فوج کے جرنیل اورافسران زمین پر حکومت کی برطرفی کے تمام تر اقدامات کررہے تھے اس وقت جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف ہوائی جہاز میں سوارتھے اور فضاؤں میں سفرکررہے تھے۔

دوسرانکتہ ۔۔۔نکتہ نمبر2:
جنرل پرویزمشرف کی زمین پرآمدکے بعد فوج کے جرنیلوں کااجلاس ہواجس میں آئین کو abeyance میں ڈالنے (آئین کی عارضی معطلی) کا فیصلہ اوراعلان ہوا اورایک عبوری آئین (Provisional Constitutional Order) جاری کیاگیااور سپریم کورٹ کے ججزسے اس PCO کے تحت حلف لینے کوکہاگیا لیکن اس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعیدالزماں صدیقی ، جسٹس مامون قاضی، جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس خلیل الرحمن، جسٹس وجیہہ الدین احمد اورجسٹس کمال منصور عالم نے PCO کے تحت حلف لینے سے انکارکردیا۔

تیسرانکتہ ۔۔۔نکتہ نمبر3:
اس وقت سپریم کورٹ وہائیکورٹ کے جن ججز نے PCO کے تحت حلف لیا ان میں جسٹس ارشادحسن خان، جسٹس افتخارمحمدچوہدری، جسٹس بشیر جہانگیری، جسٹس شیخ ریاض احمد، جسٹس عبدالرحمان اورجسٹس چوہدری محمدعارف شامل تھے ۔

چوتھانکتہ ۔۔۔نکتہ نمبر4:
12اکتوبر1999ء کوجب اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویزمشرف کو ان کے عہدے سے برطرف کیا اورآئین کے تحت حاصل اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کوترقی دیتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائزکرنے کاتحریری حکم جاری کیا اور انہیں چیف آف آرمی اسٹاف کی وردی اوربیجز لگائے لیکن جی ایچ کیوکے جرنیلوں اورکورکمانڈرز نے وزیراعظم کے ان احکامات کو ماننے سے صاف انکارکردیا۔جب 12اکتوبر99ء کوجنرل پرویزمشرف اوردیگرجرنیلوں نے آئین کی صریحاً خلاف ورذی کرتے ہوئے حکومت کاتختہ الٹا،آئین پاکستان کومعطل کیااوروزیراعظم کوحراست میں لیا تو لیفٹنٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کوبھی گرفتار کرلیا گیا 

پانچواں نکتہ۔۔۔نکتہ نمبر5:
آئینی وقانونی ماہرین اورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاراس بات کاکیاجواب دینا پسند کریں گے کہ وہ سپریم کورٹ کے جن جج صاحبان نے جنرل پرویزمشرف کے PCO کے تحت حلف اٹھایاانہوں نے آئین کی کس شق کے تحت 12 اکتوبر1999ء کے اقدام کودرست اورجائزقراردیا؟کس آئین کے تحت جنرل پرویزمشرف کی فوجی حکومت کو تین سال تک کام کرنے کی اجازت دی؟ اور کس آئین وقانون کے تحت فوجی حکومت کوآئین میں ترامیم کااختیاردیا؟

چھٹانکتہ۔۔۔نکتہ نمبر6:
آج بعض سیاستداں،قانون داں اورآئینی ماہرین 12 اکتوبر1999ء کومنتخب حکومت کاتختہ الٹنے اور آئین کومعطل کرنے کے اقدام کو غیرآئینی قراردینے کے بجائے صرف 3نومبر2007ء کے ایمرجنسی کے نفاذکوآئین کی خلاف ورذی کیوں قراردے رہے ہیں؟ اوروہ 12 اکتوبر99ء کے فوجی اقدام کوقابل معافی یاجائز کس طرح قراردے رہے ہیں؟

ساتواں نکتہ۔۔۔نکتہ نمبر7:
ملک میں جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان اورجنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذکرکے آئین کی صریحاً خلاف ورذی کی لیکن ان میں سے کسی ایک جنرل کوبھی ایک گھنٹہ تو کجا ایک سکینڈ کیلئے بھی کسی جیل میں قید نہیں رکھا گیا۔یہاں یہ وضاحت کرناضروری ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دورحکومت میں نہ صرف اس وقت کی منتخب حکومت اوراسمبلیوں کوبرطرف کیا گیا اور منتخب وزیراعظم کو گرفتار کیا گیابلکہ منتخب وزیراعظم کوپھانسی پر لٹکابھی دیاگیا جبکہ دوسری طرف جنرل پرویزمشرف نے اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف کو عدالت سے سزاہونے کے باوجود نہ صرف معاف کیا بلکہ میاں نوازشریف کوانکے پورے خاندان ،نوکروں، خانساماؤں اوردرجنوں صندوقوں سمیت سعودی عرب جانے کی اجازت دیدی۔

جناب الطا ف حسین نے کہا کہ میراتمام آئینی و قانونی ماہرین اورسیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں سے سوال ہے کہ وہ میرے ایک ایک نکتہ کا وضاحت اوردلائل کے ساتھ جواب دیدیں کہ کس آئین اور قانون کے تحت صرف اورصرف جنرل پرویزمشرف کوایمرجنسی کے نفاذ کا تنہا ذمہ دار ٹھہرا کر انہیں جیل میں قید کیا گیا ہے؟ ۔۔۔اوراس اقدام میں انکے باقی شریک کار جرنیلوں اور ان کے اقدامات کو جائز قرار دینے والوں کوآئین کی کس شق کے مطابق قیدوبند کی صعوبتوں اور عدالتوں میں کیسز بھگتنے سے آزاد قرار دیا گیا ہے؟جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں آخرمیں آئین وقانون کے تمام ماہرین سے سوال کرتا ہوں کہ وہ میرے بیان کردہ ان نکات کا آئین، قانون اور لاجک(logic) کی روشنی میں جواب دیں تومیں ان کا مشکور ہوں گا۔

12/3/2016 3:48:32 PM