Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کالے آرڈی نینسوں کے ذریعے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ، خلیج کو گہرا کیاجارہا ہے جسے پاٹنا مشکل ہوجائے گا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی


کالے آرڈی نینسوں کے ذریعے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ، خلیج کو گہرا کیاجارہا ہے جسے پاٹنا مشکل ہوجائے گا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
 Posted on: 12/22/2013
کالے آرڈی نینسوں کے ذریعے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ، خلیج کو گہرا کیاجارہا ہے جسے پاٹنا مشکل ہوجائے گا، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
کراچی ، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں ہمیں آبادی کی بنیاد پر مساوی حصہ دیاجائے ، حیدر عباس رضوی 
اپوزیشن جماعتوں کی پٹیشن پرعدلیہ سیاہ بلدیاتی نظام پر حق و انصاف کا فیصلہ دے ، رکن رابطہ کمیٹی ڈاکٹر صغیر احمد 
کیا پی پی پی نے سیاہ قانون کے تحت سندھ کی انتظامی تقسیم کی بنیاد رکھ دی ہے، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فیصل سبزواری 
تمام اپوزیشن جماعتوں نے سندھ ہائی کورٹ میں سیاہ قانون کو چیلنج کردیا ہے، عدلیہ کالعدم قرار دے ،خواجہ اظہار الحسن 
سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں ، رہنمامسلم لیگ ن عبد الرزاق راہیمو 
پیپلزپارٹی من مانے اقدامات اور حلقہ بندیاں کرکے سندھ کے عوام میں تفریق پیدا کررہی ہے ، رکن سندھ اسمبلی ہیر سوہو 
کراچی پریس کلب کے سامنے لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈی نینس کے خلاف ایم کیوایم کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب
کراچی ۔۔۔22، دسمبر2013ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام آج کراچی پریس کلب کے سامنے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے خلاف پرامن اور بھر پور احتجاجی مظاہرہ ہوا ۔ احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان ، حق پرست ارکان سینیٹ ، قومی وصوبائی اسمبلی کے علاوہ بزرگوں، نوجوانوں اور خواتین نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر شرکاء کا جوش و خروش قابل دید تھا ۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم ، ایم کیوایم کے جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013کے خلاف مذمتی کلمات اور ایم کیوایم کے حق میں نعرے تحریر تھے ۔احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ فضا ء میں بلند کرکے پرجوش انداز میں سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے خلاف ’’نامنظور ،نامنظور ، غنڈہ گردی نہیں چلے گی کے نعرے لگائے اور بلدیاتی آرڈی نینس کو یکسر مسترد کردیا ۔بلدیاتی نظام میں ترمیمی آرڈی نینس کے خلاف نعرے بازی کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ میں شہری آبادی 60فیصد اور دیہی آبادی 40فیصد ہے ، ایم کیوایم کسی بھی صورت میں سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈی نینس 2013ء کے سیاہ قانون کو نہیں مانے گی ، کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ایم کیوایم انتخابات کا بائیکاٹ کردے لیکن ان پر ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم انتخابات میں حصہ لیں گے کیونکہ ہم نے حصہ نہیں لیا تو کوئی بھی نہیں لے سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ کالے آرڈی نینسوں کے ذریعے سندھ کی تقسیم کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ، خلیج کو گہرا کیاجارہا ہے جسے پاٹنا مشکل ہوجائے گا ۔ شہر کراچی سندھ کے بجٹ کا 99فیصد دیتا ہے ، اگر یہ دینا بند کردیا جائے تو جس ایوان میں یہ کالا قانون پاس کیا ہے اس ایوان میں لائٹ جلانے کیلئے بھی پیسے نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتیں نہ ہوں تو جمہوریت نامکمل ہے ،آئین کا آرٹیکل 140Aبلدیاتی حکومت کے حوالے سے کہتا ہے کہ یہ مالی ، سیاسی ، انتظامیہ طور پر خود مختار ہوں گی اور ہم نے قسم کھائی ہے کہ جب تک بلدیاتی حکومتیں مالی ، سیاسی ، انتظامی طور پر خود مختارنہیں ہوتی ہم اسے نہیں مانے گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم آگے کی جانب اس وقت تک چلتے رہیں گے جب تک یہ سیاہ قانون جل نہ جائے ، یہ شہر اس کے بیٹے اوربیٹیاں قائد تحریک الطاف حسین کو چاہنے اور ماننے والے ہیں انہیں کوئی آپریشن اور جبر ، ناانصافی اور ظلم جناب الطاف حسین سے الگ نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کامطالبہ بھی ہمارا ہے ، لیکن ہمارے مطالبے پر صحیح روح کے مطابق عمل نہ ہوا اور فیصلے روڈ پر آکر کرنے پر مجبور ہوئے تو ضرور کریں یہ جدوجہد کا اختتام نہیں آغاز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے کارکنان و عوام پاکستان اور اس کے آئین و قانون سے محبت کرتے ہیں اور آج یہ ایک سیاہ قانون کی میت کو دفنانے اور جنازہ اٹھانے کیلئے یہاں جمع ہیں ، یہ اجتماع ابھی روکا ہوا ہے اور اگر اسے چلنے کا کہا گیاتو وہ اسمبلی بلڈنگ بھی جاسکتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم کسی سے ٹکرانا نہیں چاہتے لیکن اگر اصولوں پر بات آجائے تو ٹکرانا ضروری ہے ، متحدہ قومی موومنٹ سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت ہے ، یہ اس پر لازم ہے کہ جن لوگوں کا وہ مینڈیٹ رکھتی ہے ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اگر ایوانوں میں فیصلہ نہیں ہورہا ہے تو سڑکوں پر آکر کرے ، اگر فیصلہ ووٹ نے نہیں کیا تو فیصلہ پھر روڈ پر ہوگا۔ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کے رکن حیدرعباس رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا احتجاج ایم کیوایم اور سندھ کے عوام کی جانب سے کالے قانون کے خلاف ہے جو جبر کا نظام بلدیاتی اداروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ، سندھ کے غیور اورجمہوریت پسند عوام ظلم کے خلاف اس نظام اور قانون کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جو کہتے ہیں کہ اکثریت جسے منظور کرے وہی قانون ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ دیہی اکثریت جو نمائندوں کی ہو اور عوام کی اکثریت نہ ہو تو وہ اکثریت قرار نہیں دی جاسکتی ، اگر سندھ میں ایماندرانہ مردم شماری کرالی جائے تو پوری دنیا کو اندازہ ہوجائے گا کہ کون اکثریت میں اور کون اقلیت میں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سندھ کے بیٹے ہیں اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ ہم سے سندھ دھرتی چھین لے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ سندھ کے بیٹے کی حیثیت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی ، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں ہمیں آبادی کی بنیاد پر مساوی حصہ دیاجائے ۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر صغیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی ، قائد تحریک الطاف حسین کے مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی سازش کررہی ہے ، سندھ کے عوام سندھ حکومت کی اس سازش کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سیاہ قانون کے ذریعہ من مانے فیصلے اور مکروہ عزائم پورے کرنا چاہتی ہے ، سندھ کے عوام اس آمرانہ ، ظالمانہ اور سیاہ قانون کو مسترد کرتے ہیں ۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فیصل سبزواری نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013عوام کے حقوق پر ڈاکہ ہے ، ایم کیوایم عام آدمی کے حقوق کی سیاست کرتی ہے اور اس سیاست پر ہمیں فخر ہے ، ہمارا حتجاج اس لئے ہے کہ یہاں نافذ کیا گیا قانون ظالمانہ اور سیاہ ہے اس قانون کے تحت صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کے سوائے کوئی سیاہ بلدیاتی نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہوا اورجن جماعتوں نے ہماری آواز میں آواز ملائی ہے ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ نہوں نے کہا کہ ہم آئین کے تحت بلدیاتی نظام چاہتے ہیں اور حکومت سیاہ قانون کے نفاذ کے ذریعے آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے ۔سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں اکثریت کی بنیاد پر عوام کے حقوق غصب کرنا آمریت ہے ، حکومت سندھ طاقت کے بل پر غریب و متوسط طبقہ کے عوام کو حقوق سے محروم اور سندھ کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں نے سندھ ہائی کورٹ میں اس سیاہ قانون کو چیلنج کردیا ہے ، ہمیں عدالتوں سے انصاف کی امید ہے اور ہمیں یقین ہے کہ عدلیہ عوام کے حقوق غصب کرنے والے قانون کو کالعدم قرار دے گی ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عبدا لرزاق راہیمو نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے تحت سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے خلاف احتجاجی ریلی کی مسلم لیگ ن کی جانب سے بھر پور حمایت کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اندرون سندھ میں بھی انتخابات سے قبل دھاندلی کا سلسلہ شروع کردیا ہے ، ڈسٹرکٹ تھر پار کر میں پی پی پی کے رکن سندھ اسمبلی کے بھائی کو دس روز قبل ڈسٹرکٹ میں اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا ہے ۔ہم اس ایکٹ اورسندھ میں حلقہ بندیوں کو مسترد کرتے ہیں اور اس ایکٹ کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں ۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر سوہو نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام حکومت سندھ کے غیر جمہوری اقدامات پر سراپا احتجاج ہیں ، پیپلزپارٹی من مانے اقدامات اور حلقہ بندیاں کرکے سندھ کے عوام میں تفریق پیدا کررہی ہے اور سندھ کے عوام اس کھلی ناانصافی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔

12/2/2016 10:41:00 PM