Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کوملتوی کرنا، تحریک انصاف کے شدید سیاسی بحران اورشدید تنظیمی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔


 پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کوملتوی کرنا، تحریک انصاف کے شدید سیاسی بحران اورشدید تنظیمی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
 Posted on: 9/25/2026

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کوملتوی کرنا، تحریک انصاف کے شدید سیاسی بحران اورشدید تنظیمی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ 
جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنمااوروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اگست کے پہلے ہفتہ میں 27ستمبر کو لانگ مارچ کااعلان کیا تومجھے یقین نہیں آیا کہ لانگ مارچ کے لئے اتنی لمبی تاریخ دینا درست فیصلہ ہے؟ اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کسی قسم کی تیاری دیکھنے میں نہیں آئی اورمیں اپنی گزشتہ کئی فکری نشستوں میں عوام کے سامنے یہ سوال رکھتا رہا کہ کیا تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کولانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کادورہ کیا اوروہ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے کراچی پہنچے تو پی ٹی آئی کے اعلان اورطے شدہ پروگرام کے باوجود انہوں نے کراچی میں شاہراہ قائدین پر جلسہ مؤخرکردیا جس کے بارے میں عوام کوکچھ نہیں بتایا گیا۔ میں اپنی فکری نشستوں میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عوام سے باربار یہ سوال کرتا رہا کیا ایسی صورتحال میں لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ تاکہ وہ اس بارے میں غوروفکرکرسکیں۔ اتنی لمبی تاریخ ہونے کے باوجودتحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کی کوئی تیاری نظرنہیں آئی، دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس لانگ مارچ کوروکنے کے لئے جارحانہ اقدامات کئے جاتے رہے،عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کواغوا کرنے کے واقعات بھی ہونے لگے،اسلام آباد آنے والے راستوں کو بندکرنے کے اقدامات بھی ہوتے رہے مگراس پر تحریک انصاف کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیااوراس کی خاموشی نے ایک عجیب تناؤپیدا کردیا۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا گیااوراس پر بھی تحریک انصاف کی پوری قیادت مکمل خاموش رہی۔ 
بالآخر تحریک انصاف نے آج 27ستمبر کے لانگ مارچ کومؤخرکردیااور اعلان کیا گیا ہے کہ اب 4  اکتوبرکولانگ مارچ کیاجائے گا۔ میں سمجھتاہوں کہ لانگ مارچ کوملتوی کرنے کا فیصلہ اورتحریک انصاف کی موجودہ صورتحال اس کے شدید سیاسی بحران اورتنظیمی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔         
 میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اورہمدردوں سے سوال کرتاہوں کہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کرسوچیں کہ کیا پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کایہ طرز عمل تین سال سے جیل میں قیدعمران خان کی رہائی میں معاون ومددگار ثابت ہوگا یا انہیں طویل عرصہ تک قید میں رکھنے والوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا؟ 
 صورتحال کے حوالے سے پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے 26 نومبر2024ء کے بعد کوئی ہڑتال، احتجاج یا کسی قسم کا مؤثراحتجاج نہیں کیا گیا۔ کارکنوں کو جواحتجاجی پروگرام دیے گئے وہ قطعی بے اثرتھے، پہلے کارکنوں کو پہلا احتجاجی پروگرام دیا گیا کہ وہ چھتوں پر چڑھ کر اذان دیں،اس طرح انہیں مذہب کا چورن دیا گیا، پھر اعلان کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان بطوراحتجاج حبیب جالب کی نظم پڑھیں، پھر کہا گیا کہ احتجاج کے طورپر رات 9بجے لاٹیں بندکریں۔ بڑے عرصہ بعد27 ستمبرکو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن اسے بھی تین روزقبل ملتوی کردیا گیا۔
 ا س قسم کے فیصلے عمران خان کوبیماریوں اورمزیدلمبی قید کی طرف لے جانے کاعمل ہے۔اگر لمبی قید کے دوران عمران خان کی زندگی کوکوئی نقصان پہنچا تو کیا ہوگا؟ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کی قیادت کے پاس نہ کوئی پروگرام ہے، نہ بیانیہ ہے اورنہ ہی حکومت کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی کوئی حکمت عملی موجود ہے۔ان میں سیاسی تدبر کی کمی، مقصد کے عدم دلچسپی، فیصلوں میں بزدلی، خوف اورگھبراہٹ کا عنصر نظرآتاہے۔ اس تمام ترسیاسی کشمکش میں سب سے زیادہ نقصا ن تحریک انصاف کے ان کارکنوں کا ہورہا ہے جوجذبے سے بھرپوراورسڑکوں پر نکلنے کے لئے بے چین تھے،اب وہ شدیدمایوسی اوراضطراب کاشکارہیں۔ 
حالانکہ میں نے پی ٹی آئی والوں کومخاطب کرتے ہوئے احتجاج کے حوالے سے یہی کہا تھا کہ ” اگر ابھی نہیں توپھر کبھی نہیں“۔
اس دوران حکومت کے وزرا اوررہنماؤں کی جانب سے بھی جوبیانات دیے گئے وہ بھی افسوسناک ہیں، وفاقی وزیراطلاعات عطاء تارڑ تو ایک موقع پر تحریک انصاف پر تنقید کرتے کرتے شدت جذبات میں اتنے آگے نکل گئے کہ انہوں نے تحریک انصاف کی پختونخواہ کی قیادت کوللکارتے ہوئے پشتون قوم کوہی گالی دیدی اوریہ کہاکہ ”یہ کس مٹی کے لوگ ہیں“۔عطاتارڑجواب دیں کہ پشتون اگراس مٹی کے نہیں تو پھر کس مٹی کے ہیں؟ مجھے حیرت ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس بات کانوٹس نہیں لیا۔ 

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 472  ویں فکری نشست سے خطاب
25  ستمبر 2026ء 



9/27/2026 10:19:36 AM