میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ کراچی کے نوجوان میر رضا علی شہید کے سفاکانہ قتل کانوٹس لیتے ہوئے درندہ صفت قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کریں اور قاتلوں کو گرفتارکروائیں۔ کسی ماں کے بیٹے کوسفاکی سے قتل کرکے اس کی گود اجاڑنااورکسی باپ کا سہارا چھیننا ایک گھناؤنا اور وحشیانہ عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ میں فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ میررضا شہید جن کے خاندان کے گھرکا چراغ گل کردیا گیا، اس کے گھر کادورہ کرکے اہل خانہ سے خود اس وحشیانہ قتل کے بارے میں تمام معلومات لیں،ان کاغم بانٹیں اوراگر آپ اپنی انتہائی مصروفیات کے سبب وہاں نہ جاسکیں تو اپنے کسی معتمد اوربااثرشخصیت کووہاں بھیجئے جوآپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میر رضا شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کرے، ان سے واقعہ کی تفصیل معلوم کرے اورقاتلوں کی گرفتاری کے لئے حکومت اورانتظامیہ کے حکام کوہدایات جاری کرے۔ میررضا شہید کے اہل خانہ کوپولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی سیکوریٹی واپس لینا بھی شرمناک ہے، انہیں فی الفور سیکوریٹی فراہم کی جائے۔
حکومت سندھ اور پولیس کی جانب سے میررضا شہید کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کارخ موڑنے اوراس بہیمانہ قتل کوخودکشی ثابت کرنے کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں۔ قتل کی پہلی ایم ایل او رپورٹ میں ہی بغیرمعائنہ کئے اسے خودکشی قراردیا گیا، پولیس افسران کی جانب سے بھی یہی کہاجاتا رہا کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے۔ اب بھی قاتلوں کوگرفتارکرنے کے بجائے عوام کوبیوقوف بنانے کے لئے طرح طرح کے ڈرامے کئے جارہے ہیں۔ میں پھریہ کہتاہوں کہ اس کھلے قتل کو خودکشی قراردینے اورجھوٹی ایم ایل او رپورٹ بنانے والے کوپکڑا جائے توقاتل خودپکڑے جائیں گے، یاپھرمجھے اختیارات دیدیں، ہم قاتل پکڑکردکھادیں گے۔
میں میررضاعلی شہید کے بہیمانہ قتل کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے جین زی کودل کی گہرائیوں سے زبردست شاباش اورخراج تحسین پیش کرتا ہوں جومیررضا شہید کوانصاف دلانے اورقاتلوں کی گرفتاری کے لئے مستقل مظاہرے کررہے ہیں۔ میں جین زی سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ میررضاشہید کے اہل خانہ کی حفاظت کے لئے سیکوریٹی کے فرائض انجام دینے کے لئے اپنے آپ کوپیش کریں۔ میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی میررضاشہید کے اہل خانہ کوانصاف دلانے کے لئے جوکرسکتے ہیں وہ ضرورکریں اوران کے ساتھ بھرپوریکجہتی کامظاہرہ کریں تاکہ کسی اوربے گناہ بچے کے ساتھ ایسانہ ہوسکے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 454 ویں فکری نشست سے خطاب
23 اگست 2026ء