Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

انسانی فطرت اورتاریخ کا تعلق (حصہ اوّل)


 انسانی فطرت اورتاریخ کا تعلق   (حصہ اوّل)
 Posted on: 6/29/2026

انسانی فطرت اورتاریخ کا تعلق  
(حصہ اوّل)
………………………………………………

انسانی فطرت (Human Nature) کیا ہوتی ہے؟
انسانی فطرت کا اظہار سوچ سمجھ کر بھی کیاجاتا ہے اوربغیرسوچے سمجھے بھی کیاجاتاہے۔مثال کے طورپر اگر آپ کسی ریسٹورنٹ میں نہاری کھانے کے ارادے سے جاتے ہیں اورریسٹورنٹ میں مینوکارڈ دیکھ کر آپ کاارادہ تبدیل ہوجاتا ہے اور آپ نہاری کے بجائے کسی اورڈش کا آرڈردے دیتے ہیں۔ اسی طرح والدین اپنے بچوں کو یہی تربیت دیتے ہیں کہ وہ گھرسے باہر کھیلنے کودنے جائیں، اسکول کالج جائیں اور کوئی آپ سے بدتمیزی کرے، گالم گفتارکرے تو آپ جواب میں گالم گلوچ سے گریز کریں، کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کریں کیونکہ گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑا کرنا شریفوں کا کام نہیں ہوتا۔سعادت مند بچے اپنی گھریلوتربیت اور والدین کی تعلیمات کی روشنی میں پوری کوشش کرتے ہیں کہ محلے یا تعلیمی اداروں میں کسی سے لڑائی جھگڑا اور گالم گلوچ نہ کریں۔ ہرمحلے، اسکول، کالج اوریونیورسٹی میں کچھ شرارتی لڑکوں کا ایسا ٹولہ ہوتا ہے جنہیں شریف طلباء سے بلاوجہ چھیڑخانی کرنے اورانہیں تنگ کرنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے، وہ شریف بچوں پر اپنا دھونس جمانے کیلئے کسی کے سر سے ٹوپی چھین لیتے ہیں یا کوئی اورچیز چھین لیتے ہیں، ان کے پاس چاقو چھری اور دیگر ہتھیار بھی ہوتے ہیں توگھریلو تعلیم وتربیت کے باعث سعادت مند بچے کوشش کرتے ہیں کہ پیار محبت سے اپنی چیز واپس لے لیں مگر شرارتی لڑکے ان کے ساتھ غنڈہ گردی کرتے، انہیں مغلظات بکتے اوردھمکیاں دیتے ہیں۔ایسی صورت میں انسانی فطرت مختلف طریقے سے ردعمل کرتی ہے، کچھ بچے غنڈہ گردی سے بچنے کیلئے خاموشی سے اپنا راستہ لیتے ہیں،صبرکرلیتے ہیں اور کچھ بچے بحث ومباحثے پر اترآتے ہیں۔
 چیزوں کوپسندکرنے میں بھی انسانی فطرت کادخل ہوتاہے۔ مثال کے طورپرباغیچے میں طرح طرح کے پھول ہوتے ہیں،جب کوئی فرد باغیچے میں جاتاہے تو انسانی فطرت کے مطابق ہرفرد اپنی اپنی پسند کے مطابق پھول کو پسند کرتا ہے، کسی کو گلاب کے پھول پسند ہوتے ہیں اورکوئی چنبیلی کے پھول پسند کرتا ہے۔ اسی طرح ہرانسان کی پسند الگ الگ ہوتی ہے،اسی طرح رنگوں کامعاملہ ہے، کسی کوسیاہ رنگ پسند ہوتا ہے اور کسی کوسفید رنگ اچھا لگتا ہے، کسی کوکوئی اوررنگ پسند ہوتاہے لیکن اگر آپ کسی سے دریافت کریں کہ اسے فلاں رنگ کیوں پسند ہے تو شایدکوئی بھی اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ کسی شاپنگ سینٹر میں چند افراد شرٹ خریدنے جائیں توکوئی سیاہ رنگ کی شرٹ، کوئی سفید رنگ کی شرٹ، کوئی بلیواورکوئی ڈارک بلیو کلر کی شرٹ پسند کرتا ہے لیکن جب ان سے یہ سوال کیاجائے کہ آپ نے فلاں رنگ کی شرٹ کیوں پسند کی ہے تو وہ اس کا جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں کیونکہ انسان اپنی فطرت کے مطابق رنگ (Clour) پسند کرتا ہے۔ انسانی فطرت ایک جیسی نہیں ہوتی اوراگرانسان کو اپنی پسند ناپسند کااختیار دیاجائے توہرانسان کی فطرت ایک دوسرے سے مختلف ہوگی لیکن اس کے باوجود کچھ فطری چیزیں جیسے پیاس لگنے، بھوک لگنے یانیند آنے کا تعلق انسان کی فزیالوجی، بائیولوجی اورانسانی جسم کے سیل کی طلب سے ہوتا ہے۔لہٰذا یہ طے شدہ بات ہے کہ انسان کی فطرت ہوتی ہے اورہرانسان میں انسانی جبلت(Human Instinct)، خواہش اورپسند ناپسند ہوتی ہے۔ انسانی فطرت کے مطابق کوئی فرد لڑائی جھگڑا پسند نہیں کرتا اور دوسرا فرد لڑائی جھگڑا پسند کرتا ہے، بعض ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک وہ کسی سے لڑائی نہ کریں ان کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایاجائے یا ان کے ساتھ ناانصافی کی جائے تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں، اندرہی اندر کڑھتے رہتے ہیں لیکن لڑائی جھگڑے کی طرف نہیں جاتے جبکہ بہت سے لوگوں کو لچھے دار باتیں پسند ہوتی ہیں جبکہ بہت سے لوگ لچھے دار گفتگو اورخوشامدی رویہ پسند نہیں کرتے۔ 
میرا اکثر سوشل میڈیاپر مختلف براڈ پر جانے کااتفاق ہوتا رہتا ہے وہاں فوجی جرنیلوں کے نام لیکر فحش مغلظات دی جاتی ہیں اور بلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ میں فلاں جرنیل کا ایسا کردوں گا ویسا کردوں گا جبکہ وہ پاکستان سے ہزاروں میل دور بیٹھے ہوتے ہیں۔ میراسوال یہ ہے کہ جنہیں آپ صبح شام گالیاں دیتے ہیں اور مرنے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں تو اس قسم کے کھوکھلے دعوے، دھونس دھمکیوں اور گالم گلوچ سے اُن فوجی جرنیلوں کی صحت پر کیااثرپڑتا ہے؟جولوگ ٹک ٹاک پر فخریہ دعوے کرتے ہیں کہ میں نے فلاں فلاں جرنیل کے پرخچے اُڑادیئے جب ان سے کہاجائے کہ ہم آپ کو ٹکٹ دیتے ہیں آپ پاکستان جاکر جوکہہ رہے ہیں وہ کرکے دکھائیں تو وہ پاکستان نہ جانے کیلئے نہ صرف حیلے بہانے بنائے گا بلکہ ایسی آفر کرنے والوں کو ہی برابھلا کہنا شروع کردے گا۔ایسی گالم گلوچ اور کھوکھلے دعوے ان کے قول وفعل کاتضاد ظاہر کرتے ہیں۔
قول وفعل کایہ تضاد الطاف حسین کی پیش کردہ فلاسفی ”حقیقت پسندی اورعملیت پسندی“ (Realism and Practicalism)کے پیمانے پرپورا نہیں اترتا۔
جب سے انسانی تاریخ لکھی گئی اوروہ آج تک محفوظ ہے تو لوگ اسے پڑھ کرآج سے ایک ہزار سال قبل کے واقعات کو جان بھی سکتے ہیں اورسمجھ بھی سکتے ہیں۔ انسانی جبلت اورانسانی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ انسان اپنی شرم گاہ چھپاتا ہے، جب کپڑا ایجاد نہیں ہوا تھا اس وقت بھی انسان درختوں کے پتوں اور جانوروں کی کھالوں سے اپنی شرم گاہ چھپاتا تھا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ جہاں انسانی فطرت ہوگی وہ انسانی تاریخ سے جڑی ہوگی یعنی انسانی فطرت اورتاریخ کا ہمیشہ سے گہرا تعلق رہا ہے۔
ہرتعلیمی ادارے میں کوئی ایک بدمعاش گروپ ہوتا ہے اور پاکستان کے تعلیمی اداروں میں تھنڈراسکواڈ کے نام سے اسلامی جمعیت طلباء کا بدمعاش گروپ ہوتا تھا جوآج تک موجود ہے۔ تعلیمی اداروں میں جمعیت کے لوگ ایک طرف توقرآن واحادیث کادرس دیاکرتے تھے لیکن تعلیمی اداروں کے اساتذہ اورطلباوطالبات اچھی طرح واقف ہیں کہ جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے لوگ اسلامی تعلیمات کے برعکس طلباوطالبات سے کیسا رویہ اختیار کرتے رہے ہیں، کیا کسی یونیورسٹی کے چانسلر اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی اوربدمعاشی رکوانے میں کامیاب ہوئے؟ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر پرویز ہود بھائی کے ساتھ جمعیت کے غنڈوں نے بدتمیزی اوربیہودگی کی انتہاء کردی تھی لیکن یونیورسٹی کے اساتذہ اور ہزاروں طلباء نے پرویز ہود بھائی کاتحفظ نہیں کیا، وہ سب کے سب اس لئے خاموش ہوگئے کہ اگر وہ پرویز ہود بھائی کو بچانے کی کوشش کریں گے تو تھنڈراسکواڈ کے غنڈے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنائیں گے لہٰذا کسی نے ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کو بچانے کا رسک نہیں لیا۔ 
تعلیمی اداروں کے وائس چانسلرز اور اساتذہ کے اختیارات محدود ہوتے ہیں لیکن وزارت تعلیم کا محکمہ موجود ہے جوریاست کاحصہ ہے، اس کاوفاقی وزیرہوتا ہے جس کے پاس ریاست کی طاقت ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹرپرویز ہودبھائی کے خلاف بیہودگی اورغنڈہ گردی کا واقعہ رپورٹ ہوگیااورمیڈیا میں اس واقعہ کی خبرنشروشائع ہوگئی تووفاقی وزیرتعلیم کااصولی طورپر فرض تھا کہ اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے اور تعلیمی اداروں میں غنڈہ گردی کرنے والوں کو سزا دلواتے لیکن ہوا یہ کہ ریاست حکم جاری کیا کہ جمعیت کے غنڈہ عناصر کو گرفتارکیاجائے لیکن ریاستی ادارے جمعیت کے تھنڈراسکواڈ کے غنڈہ عناصر کو پکڑنے کے بجائے ان کے ظلم کا نشانہ بننے والے طلباء کو 
پکڑنا شروع کردیا۔ریاست ایک یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر ڈاکٹرپرویز ہود بھائی جیسی معزز ومحترم شخصیت کو تحفظ نہ سکے تو عام طلباوطالبات کو کیاتحفظ حاصل ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیمی ادارے میں اسلامی جمعیت طلباء کے تھنڈراسکواڈ کی غنڈہ گردی کا سلسلہ جاری ہے اس میں ریاست بلاواسطہ یا بلواسطہ اس بدمعاش گروپ کی حمایت کررہی ہے۔ 

غلامی کاتصور:
 انسانی فطرت کا تاریخ سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے، ایک زمانہ تھاکہ انسانی فطرت غلام بن کرکام کرنے کو تیار رہا کرتی تھی اورآج کی تاریخ میں انسان غلامی کی زندگی گزارنے کیلئے تیار نہیں ہیں، پہلے امریکہ، برطانیہ اورپورے مغرب میں غلام ہواکرتے تھے آج پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں غلامی کاتصورنہیں ہے۔اسی طرح دنیا کے تمام مذاہب میں غلامی کاتصور نہیں ہے سوائے مذہب اسلام کے، کیا دین اسلام نے غلام بنانے کے عمل کوحرام قراردیا ہے؟
جیسا کہ میں کہاکہ انسانی فطرت اور تاریخ کا ایک بہت گہرا تعلق رہا ہے، اگرامریکہ،برطانیہ اورمغربی ممالک کی تاریخ کا مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ پہلے وہاں غلاموں سے 16،16 گھنٹے محنت ومشقت کاکام لیاجاتا تھا۔ آج امریکہ میں بظاہر غلامی کادور ختم ہوچکا ہے۔ غلامی کے خلاف جدوجہد کرنے پر مارٹرلوتھر کنگ کوقتل کردیا گیا لیکن انہوں نے غلامی سے آزادی کا جوچراغ روشن کیاتھا وہ بالآخرکامیاب ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی فطرت غلامی کے عمل کو پسند نہیں کرتی، انسان کی فطرت ہے کہ وہ غلامی برداشت نہیں کرتا، اپنے ساتھ امتیازی سلوک قبول نہیں کرتا اورغلامی، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔
انسانی فطرت میرٹ کے قتل کو بھی پسند نہیں کرتی،صوبہ پنجاب کے طلباوطالبات غورکریں کہ اگر وہ انٹرمیں 70 فیصد نمبرحاصل کرنے کے بعد میڈیکل یا انجینئرنگ میں داخلے کیلئے میرٹ پرپورے اترتے ہوں لیکن میرٹ کا قتل کرکے کسی تھرڈ کلاس نمبرلینے والے پنجابی لڑکے یالڑکی کو داخلہ دے دیا جائے تو ان کے دل پر کیاگزرے گی؟
پاکستان میں ملاؤں کی جانب سے غریبوں سے کہاجاتا ہے کہ اگر انہیں ایک وقت کی روٹی مل رہی ہے انہیں اس پر اللہ کا شکرادا کرنا چاہیے لیکن جب کوئی غریب کہتا ہے کہ آپ کے گھر پر دعوت میں ہرقسم کے پکوان پک رہے ہیں اور بچا ہوا کھانا پھینکا جارہاہے تو مولوی کہتا ہے کہ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہے نوازے اور جسے چاہے فقیربنادے، یہ ملا حضرات جہاد کے نام پر غریبوں کے بچوں کو افغانستان اور کشمیرمیں مرواتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو امریکہ، برطانیہ اورمغربی ممالک میں تعلیم کیلئے بھیجتے ہیں۔ہرانسانیت پسند فرد کافرض ہے کہ وہ ایسے ملاؤں سے نجات حاصل کرے۔ 
وقت بدلتا ہے تو تاریخ، ادوار، رسومات اورروایات بھی بدلتی ہیں، فرسودہ روایات ترک ہوتی ہیں اور اچھی روایات اپنائی جاتی ہیں۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جیسے جیسے تاریخ آگے بڑھتی ہے انسان کی فطرت بدلتی رہتی ہے۔
آئندہ فکری نشست میں بھی انسانی فطرت اور تاریخ کے گہرے تعلق کو بیان کیاجائے گا۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 423 ویں فکری نشست سے خطاب
27، جون 2026
https://youtu.be/1IjZNgSMQ8s?si=LshN1HwVNzKor-sB

6/30/2026 11:22:50 AM