Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ میری جان شدیدخطرے میں ہے،قائد تحریک الطاف حسین


 Posted on: 5/1/2020 1
 ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ میری جان شدیدخطرے میں ہے،قائد تحریک الطاف حسین
میرے قتل کو حادثہ، ذاتی دشمنی یاکوئی اور رنگ دیا جاسکتا ہے لیکن وہ قتل عمد ہی ہوگا
چائنا کوآزادی ملے 71 سال اور امریکہ کو ڈھائی سو سال ہوگئے ہیں تو چائنا ایٹمی اور
 معاشی میدان میں امریکہ سے آگے کیسے بڑھ گیا؟
کسی بھی ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے منظم ،محنتی اورمخلص قیادت کی ضرورت ہوتی ہے
یوٹیوب پر اپنا ذاتی چینل بنایا تاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم دیا ہے وہ اس چینل کے ذریعے لوگوں میں منتقل کرسکوں
میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں پوری دنیا کو وہ راز دے جاؤں جو آج تک کوئی آشکارنہیں کرسکا ہے
میرے یوٹیوب چینل کے اعلان کے بعد نیشنل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی 
 جمعرات کو ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ڈاکہ زنی کی واردات ہوگئی 
کوئی اہم وڈیوز ، حساس کاغذات اورفائلیں اپنے ساتھ لے گیا تاکہ لندن میں مجھ پر قائم مقدمہ کو صحیح ثابت کیاجاسکے
الطاف حسین نے اسٹیبلشمنٹ کی کسی بھی مدد کے بغیر ایم کیوایم کو ملک کی تیسری بڑی جماعت بنادیا
 ایم کیوایم کے غریب نوجوان ارب پتی بن گئے ، الطاف حسین نے اپنے خاندان کے بجائے دوسروںکو مضبوط بنایا
 انسان جو بات باربار سنتا رہتاہے تواس کی تصدیق کے بجائے محض سننے کے بعد یقین کرلیتا ہے
 دیگرممالک میں پیدا ہونے والے پنجابی بچے بھی گھریلو تربیت کے باعث ایم کیوایم اور الطاف حسین کو دہشت گرد سمجھتے ہیں
اگر میں مارا جاؤں تو مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا جہاں کہیں بھی رہو میرے نظریے کے مطابق کام کرتے رہنا
 برطانیہ، امریکہ ،کینیڈا، ساؤتھ افریقہ ، جرمنی ، بیلجئم،آسٹریلیا اور دیگر اوورسیز یونٹوں کے ذمہ داران سے ٹیلی فون پر خطاب


متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کارکنان وعوام کو سچائی سے آگاہ کرنے کی پاداش میںکسی بھی وقت میری جان جاسکتی ہے، انتہائی ذمہ داری سے بتارہا ہوں کہ میری جان شدید خطرے میں ہے اورمیرے قتل کو حادثہ، ذاتی دشمنی یاکوئی اور رنگ دیا جاسکتا ہے لیکن وہ قتل عمد ہی ہوگا۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ شب برطانیہ، امریکہ ،کینیڈا، ساؤتھ افریقہ ، جرمنی ، بیلجئم ،آسٹریلیااور دیگر اوورسیز یونٹوں کے ذمہ داران سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب کرونا وائرس کی وباء پھیلنے لگی تو اس سے متعلق ہر خبرتوجہ سے سنی جاتی رہی کہ کتنے ممالک میں کتنے افراد کورونا وائرس سے متاثرہوئے ، کتنے افراد ہلاک ہوئے، کس ملک میں کیا کیا اقدامات کیے جارہے ہیں،حفاظتی اقدامات ، سماجی 
فاصلے ، صفائی ستھرائی کاخیال رکھنا غرض اس حوالے سے اتنی باتیں آنے لگیں کہ آہستہ آہستہ کرونا وائرس کے بارے میں خبریں جاننے کی جو تڑپ ابتداء میں تھی وہ نہیں رہی۔اب ہمارے لئے نیوز یہ ہے کہ فلاں ملک میں ویکسین تیارکی جارہی ہے ، فلاں ملک میں ویکسین بن گئی ہے اورفلاں ملک میں ویکسین کے تجربات کیے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے بھی اتنی خبریں آنے لگیں کہ پھر لوگوںکی دلچسپی ختم ہوگئی ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے چائنا اورامریکہ کی جانب سے ایک دوسرے کو ذمہ دارٹھہرایا جارہا ہے یکم ، اکتوبر 1949ء کو چائنا، ری پبلک آف چائنا بن کر ابھرا جبکہ امریکہ ڈھائی سو سال پہلے آزاد ہوا اور 1776ء میں یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ بنا تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چائنا ایٹمی طاقت اور معاشی میدان میں امریکہ سے آگے کیسے بڑھ گیا؟اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی وخوشحالی کیلئے منظم ،محنتی اورمخلص قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنی ذات کے بجائے ملک وقوم کی ترقی پر یقین رکھتی ہو۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں سوائے الطاف حسین کے کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں ہے جس نے غریب ومتوسط طبقہ سے جنم لیا اورسیاسی پس منظر نہ رکھنے کے باوجود ایک منظم تحریک بنائی جس کے نظم وضبط کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور عام لوگوں کے ذریعے ہفتہ صفائی منانے کی مثالیں دیتی ہے۔ الطاف حسین ، پاکستان کا واحد لیڈر ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ کی کسی بھی مدد کے بغیر ایم کیوایم کو ملک کی تیسری بڑی جماعت بنادیا۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ طبقہ اس سچائی کو کتنا تسلیم کرتا ہے ؟اور تمام ترمثبت اقدامات کے باوجود ایم کیوایم اورالطاف حسین کے بارے میں عام تاثر کیا پیش کیاجاتارہا ہے؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ انسانی نفسیات ہے کہ انسان جو بات باربار سنتا رہتاہے ، الفاظ کی تبدیلی کے بعد وہی بات باربار دہرائی جاتی رہے تو انسان اس بات کی تصدیق کرنے کے بجائے یقین کرلیتا ہے، جب کسی فرد یا جماعت کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کیاجاتا رہے اوریہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تو لوگ اس الزام کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ اس پر یقین کرلیتے ہیں ۔ مثال کے طورپر آپ کسی بھی پنجابی کے گھر چلے جائیں ، انکے بچوں سے بات کریں اور ان سے ایم کیوایم اورالطاف حسین کے بارے میں دریافت کریں تو وہ انہیں دہشت گردکہیں گے ، بھتہ خوری اور بوری بند لاش کے الزامات عائد کریں گے۔ حالانکہ وہ ایم کیوایم اورالطاف حسین کے بارے میں جانتے تک نہیں ہوں گے، آپ امریکہ ، برطانیہ یا دیگر مغربی ممالک میں پیدا ہونے والے پنجابی بچوں سے بات کریں گے تو معلوم ہوگا کہ انہیں صرف ایک ہی کلمہ پڑھایا گیاہے کہ ایم کیوایم دہشت گرد جماعت ہے اور الطاف حسین دہشت گرد لیڈر ہے ۔نہ انہیں ایم کیوایم کے قیام کے اسباب کا علم ہوگا، نہ ایم کیوایم کے اغراض ومقاصد سے وہ واقف ہوں گے اور نہ ہی وہ الطاف حسین کی سیاسی جدوجہد،غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی، موروثی سیاست کے خاتمے، مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورکرپشن فری سوسائٹی کے قیام کے حوالے سے سوچ وفکر سے واقف ہوں گے لیکن مسلسل منفی پروپیگنڈوں کے باعث ان کے ذہن میں ایم کیوایم اورالطاف حسین کے خلاف ایک منفی امیج پیدا کردی گئی ہے۔ اس حقیقت کو دنیا جانتی ہے کہ ایم کیوایم کی جدوجہد میں الطاف حسین یا اس کے بہن بھائیوں نے کوئی عہدہ نہیں لیا ، ایم کیوایم میں شامل ہونے والے غریب نوجوان ارب پتی بن گئے اوراپنے اپنے خاندان کو نوازنے لگے لیکن الطاف حسین نے اپنے خاندان کے بجائے دوسروںکو مضبوط بنایا، کسی کو وفاقی وصوبائی وزیرومشیر بنانے ،سینیٹ ، قومی یاصوبائی اسمبلی کا رکن بنانے، میئر وڈپٹی میئر بنانے کیلئے ایک پیسہ تک نہ لیا اور آج صورتحال یہ ہے کہ الطاف حسین کو اپنے ساتھیوں سے ایک ایک ڈالر کیلئے کہنا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں مجھے تین مرتبہ گرفتارکرکے بدترین ذہنی وجسمانی تشدد کا نشانہ بنایاگیا ، طرح طرح کے لالچ دیئے گئے اورجب کوئی بھی حربہ مجھے میری جدوجہد سے باز نہ رکھ سکا تواسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی میری جان لینے کے درپے آگئی اورمجھے ساتھیوں کے بے حد اصرار پر لندن آنا پڑالیکن میں نے اپنے نظریہ اور سوچ وفکر سے انحراف نہیں کیا اورمیں نے عوام کو سچائی سے آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جوکہ آج کے دن تک جاری ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ نشستوںمیں ، میں نے ساتھیوں کو کرونا وائر س کی وباء سے آگاہ کیا تھا اور اس موضوع پر لیکچر دیا تھا۔اسی طرح میں نے لاکھوں کی تعداد میں معلوماتی اورفکر ی لیکچرز دیے لیکن افسوس کہ ان لیکچرز کو کتابی شکل نہ دی جاسکی جس پر میں نے یوٹیوب پر اپنا ذاتی چینل بنایا اورآپ سے درخواست کی کہ اس چینل کو زیادہ سے زیادہ سبسکرائب کریں تاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم دیا ہے وہ اس چینل کے ذریعے لوگوں میں منتقل کرسکوں اور جن لوگوں کو میرے فلسفیانہ، تاریخی، معاشی ، سماجی اور مذہبی لیکچرز میں دلچسپی ہو وہ ان لیکچرز کو نہ صرف سن سکیں بلکہ اس پر کتابیں بھی لکھ سکیںکیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں پوری دنیا کو وہ راز دے جاؤں جو آج تک کوئی آشکارنہیں کرسکا ہے ۔انہوںنے کہاکہ میں نے 27، اپریل کواپنے یوٹیو ب چینل کا اعلان کیا تھا اورساتھیوں سے درخواست کی کہ میرے تاریخی لیکچرزپرمشتمل  VHS  کیسٹیں اگر کسی کے پاس ہوں تو براہ کرم اس کی CD بناکر کسی طرح انٹرنیشنل سیکریٹریٹ بھیج دیں ۔انہوںنے مزید کہاکہ زندگی اورموت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے , میرے یوٹیوب چینل کے اعلان کے بعد گزشتہ روز جمعرات کو ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ڈاکہ زنی کی واردات ہوگئی اورکوئی مرکزی دروازہ (Main door)توڑ کر اہم وڈیوز ، حساس کاغذات اورفائلیں اپنے ساتھ لے گیا تاکہ لندن میں مجھ پر قائم مقدمہ کو صحیح ثابت کیاجاسکے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ لندن میں مجھ پرقائم مقدمہ جھوٹا ہے اور یہ سچ میں پھانسی کے پھندے پر بھی بولوں گا لہٰذا ایک بات آپ سب کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ کسی وقت بھی میری جان جاسکتی ہے اورمیرے قتل عمد کو حادثہ، ذاتی دشمنی یاکوئی اور رنگ دیا جاسکتا ہے، اگر میں مارا جاؤں تو مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا جہاں کہیں بھی رہو میرے نظریے کے مطابق کام کرتے رہنا ۔
٭٭٭٭٭



7/11/2020 7:36:17 PM