Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری ایک انتہائی حساس موضوع ہے، الطاف حسین


چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری ایک انتہائی حساس موضوع ہے، الطاف حسین
 Posted on: 10/18/2013
ذرائع ابلاغ خصوصاً ٹی وی ٹاک شوز کے میزبانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس موضوع پر گفتگو اور تبصروں سے احتراز کریں
اس حساس معاملہ کو متنازعہ بنانے یا زیربحث لانے سے نہ صرف اس منصب بلکہ ملکی سلامتی پر مامور اداروں کی بھی توہین ہوتی ہے
میری درخواست ہے کہ اگر کچھ کہا بھی جائے تو صرف یہ کہ اس حساس منصب پر جس کی بھی تعیناتی ہو وہ سفارش ، دوستی ،
رشتہ داری اور پسند ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہو
طالبان سے مذاکرات کے حوالہ سے تمام جماعتوں نے متفقہ طورپر فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ضروری ہے کہ تھوڑا سا انتظار کرلیں
طالبان سے مذاکرات کے حوالہ سے حکومت اور عسکری اداروں پر غیرضروری دباؤ ڈالنے اور تیز گام چلانے کی کیاضرورت ہے ؟
مذاکرات میں عجلت کامظاہرہ کرکے حکومت اور عسکری اداروں کی رٹ کو زک نہیں پہنچائی جائے
حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں کے سربراہان سرجوڑ کر بیٹھیں اور وہ فیصلے کریں جو ملک اور قوم کیلئے بہترین ہوں
کوئی آپ کا ساتھ دے یا نہ دے ایم کیوایم کے لاکھوں کارکنان بھرپورطریقے سے آپ کا ساتھ دیں گے
سیاست برائے سیاست نہیں بلکہ سیاست برائے خدمت کرنا ہمارا سیاسی منشورہے
ایم کیوایم واحدجماعت ہے جس نے دہشت گردی اوربم دھماکوں کی سب سے زیادہ کھل کرمذمت کی
منتخب نمائندوں میں الطاف حسین کاکوئی بھائی بہن، بھتیجا، بھانجا نہیں البتہ تحریک کے لئے قربانی دینے والوں میں
الطاف حسین کابھائی اور بھتیجا ضرور شامل ہے
ایم کیوایم کا مقصدملک کوفلاحی ریاست بنانا، عوام کوانصاف فراہم کرنا، کرپشن، بدعنوانی، سرکاری خزانے کی لوٹ مار کاخاتمہ کرناہے
قربانی کی کھالیں جمع کرنے والے رضاکاروں کے اعزاز میں عشائیہ تقریب سے ٹیلی فونک خطاب

لندن۔۔۔18، اکتوبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری ایک انتہائی حساس موضوع ہے لہٰذا میں نہایت ادب اور احترام کے ساتھ تمام ذرائع ابلاغ خصوصاً ٹی وی ٹاک شوز کے میزبانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس موضوع پر گفتگو اور تبصروں سے احتراز کریں کیونکہ اسی میں ملک کی بہتری ہے۔طالبان سے مذاکرات میں عجلت کامظاہرہ کرکے حکومت اور عسکری اداروں کی رٹ کو زک نہیں پہنچائی جائے ، پاکستان انتہائی نازک صورتحال سے گزررہا ہے ،غیرضروری اور بے جا تبصرہ اورتنقید سے ملکی سلامتی کے اداروں کے اہلکاروں کے مورال میں بھی فرق آسکتا ہے جس کا اس وقت ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔کوئی حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں کا ساتھ دے یا نہ دے ایم کیوایم کے لاکھوں کارکنان بھرپورطریقے سے ان کاساتھ دیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے مرکزی دفترمیں قربانی کی کھالیں جمع کرنے میں کردار اداکرنے والے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ میں شریک افراد سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرخدمت خلق فاؤنڈیشن

کے نگراں سابق سینیٹر احمدعلی،فاؤنڈیشن کے دیگرٹرسٹی حضرات، رابطہ کمیٹی کے ارکان ،منتخب نمائندے اور ایم کیوایم کے مختلف شعبہ جات کے ارکان بھی موجود تھے۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت ملک کے ذرائع ابلاغ میں دواہم موضوعات زیربحث ہیں جن میں ایک نئے آرمی چیف کی تقرری ہے جبکہ دوسرا یہ ہے کہ آیا طالبان سے مذاکرات کیے جائیں یا جنگ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری ایک انتہائی حساس موضوع ہے لہٰذا میں نہایت ادب اور احترام کے ساتھ تمام ذرائع ابلاغ خصوصاً ٹی وی ٹاک شوز کے میزبانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس موضوع پر گفتگو اور تبصروں سے احتراز کریں کیونکہ اسی میں ملک کی بہتری ہے ۔ اس حساس معاملہ کو متنازعہ بنانے یا زیربحث لانے سے نہ صرف اس منصب بلکہ ملکی سلامتی پر مامور اداروں کی بھی توہین ہوتی ہے ۔میری درخواست ہے کہ اگر کچھ کہا بھی جائے تو صرف یہ کہ اس حساس منصب پر جس کی بھی تعیناتی ہو وہ سفارش ، دوستی ، رشتہ داری اور پسند ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہو۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جہاں تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے موضوع کا تعلق ہے تو اس سال 9،ستمبر کو اس معاملہ پر ایک کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوچکی ہے جس میں شریک تمام چھوٹی بڑی جماعتوں نے متفقہ طور پر یہ طے کیا تھا کہ ملک کو انتشار سے بچانے اور امن وامان کے قیام کیلئے طالبان سے مذاکرات کیے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ اب جبکہ تمام جماعتوں نے متفقہ طورپر یہ فیصلہ کرلیا ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس حوالہ سے تھوڑا سا انتظار کرلیں۔ آخر حکومت اور عسکری اداروں پر غیرضروری دباؤ ڈالنے اور تیز گام چلانے کی کیاضرورت ہے ؟انہوں نے کہاکہ جو جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ حکومت جلد سے جلد مذاکرات شروع کرے وہ اپنا ایک اجلاس کرکے اس حوالہ سے اپنی تجاویز اور سفارشات حکومت کے حوالہ کردیں کیونکہ یہ انتہائی پیچیدہ اور حساس معاملہ ہے ۔ حکومت اور عسکری اداروں کو مذاکرات کے حوالے سے بہت سے امور پر نگرانی رکھنی ہے ۔ہمیں عجلت کامظاہرہ کرکے حکومت اور عسکری اداروں کی رٹ کو زک نہیں پہنچانی چاہیے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت ملک انتہائی نازک صورتحال سے گزررہا ہے ، اقتصادی ومعاشی صورتحال کے حوالہ سے ملک تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت انتہائی تیزی سے گرتی جارہی ہے ،ملک کو درجنوں دیدہ ونادیدہ چیلنجز کا سامنا ہے ، دہشت گردی کا عفریت ہمیں ڈس رہا ہے ۔ اختلاف رائے یقیناًہم سب کا جمہوری وآئینی حق ہے لیکن موجود ہ نازک حالات کا تقاضا ہے کہ خدارا ان حالات میں حکومت اور عسکری اداروں کی رٹ کو داؤپر نہ لگایا جائے اور حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں کی رٹ کو زک نہ پہنچائی جائے ۔غیرضروری اور بے جا تبصرہ اورتنقید سے ملکی سلامتی کے اداروں کے اہلکاروں کے مورال میں بھی فرق آسکتا ہے جس کا اس وقت ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔جناب الطاف حسین نے حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں کے سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ سرجوڑ کر بیٹھیں اور وہ فیصلے کریں جو ملک اور قوم کیلئے بہترین ہوں ۔ کوئی اورآپ کا ساتھ دے یا نہ دے ، خداکی قسم ایم کیوایم کے لاکھوں کارکنان آپ کا بھرپورطریقہ سے ساتھ دیں گے۔
جناب الطاف حسین نے تقریب کے شرکاء کو عید کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ حالات کے سبب گمنام کارکنان،ہمدردوں، ماں ، بہن ، بیٹی اور بزرگ نے جس جوش وجذبے اورہمت وحوصلے سے قربانی کی کھالیں جمع کرنے میں کردارادا کیا ہے اس پر میں انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ صوبہ خیبرپختونخوا میں صوبائی وزیرقانون سمیت متعدد افراد کی شہادت ، درجنوں افرادکے زخمی ہونے اور بچیوں کے ایک اسکول کو بارود سے اڑانے کے المناک واقعات کے علاوہ مجموعی طورپر ملک کے چاروں صوبوں میں امن وامان کی صورتحال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر رہی۔ اس کا سہرا انتظامیہ ، رینجرز ،پولیس اورقانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سرجاتا ہے، میں قیام امن کیلئے دن رات محنت کرنے پرڈی جی رینجرز، پولیس کے آئی جی ، ڈی آئی جیز، اہلکاروں،سیکوریٹی ایجنسیوں کے افسران اورجوانوں کا شکریہ ادا کرتاہوں اورانہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے عیدالاضحی کے ایام میں قربانی کے جانوروں کی آلائشیں اٹھانے اور صحت وصفائی کے انتظامات بہتر بنانے پر بلدیہ عظمیٰ کے افسران

اورعملے کے ارکان کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم دعوے نہیں کرتے بلکہ عمل پریقین رکھتے ہیں،کوئی بھی قدرتی سانحہ یاحادثہ ہو،خدمت خلق فاؤنڈیشن نے ہرموقع پر متاثرین کی بلاامتیازمددکی، آزادکشمیرکی وادیاں اوروہاں کے عوام آج بھی اس کی گواہی دیتے ہیں اورزلزلہ متاثرین کیلئے اس فلاحی ادارے کی خدمات کوکوئی بھی ذی شعور فراموش نہیں کرسکتا۔ ہماراسیاسی منشوربھی یہی ہے کہ سیاست برائے سیاست نہیں بلکہ سیاست برائے خدمت اوربلاامتیازرنگ ونسل، زبان، فرقہ ، جنس سب کی بلاامتیازخدمت ہے۔ ہماراسیاسی فلسفہ بھی یہی ہے کہ ملک کی خدمت، ملک کے استحکام کیلئے جدوجہدکرنا اور ہرکڑے وقت میں ملک کی سلامتی کیلئے کام کرنا، اس کیلئے تیاررہنااورکارکنوں کو تیارکرنا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ گزشتہ دنوں ملک میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے، مساجد، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات پر بموں سے حملے ہوئے ، بچیوں کے اسکول بموں سے اڑائے جاتے رہے،ایسے میں ایم کیوایم واحدجماعت ہے جس نے اس دہشت گردی کی سب سے زیادہ کھل کرمذمت کی۔ایم کیوایم واحدجماعت ہے جودوغلی یامنافقانہ سیاست نہیں کرتی بلکہ حق پرستانہ سیاست کرتی ہے۔ایم کیوایم کافلسفہ حقیقت پسندی اورعملیت پسندی ہے ،اس کی سیاست کانچوڑ یہ ہے کہ ملک کوفلاحی ریاست بنانا، عوام کوانصاف فراہم کرنا، کرپشن، بدعنوانی، سرکاری خزانے کی لوٹ مار کاخاتمہ کرنا، غریب ومتوسط طبقہ کے پڑھے لکھے، دیانتدار، فرض شناس افراد کی حکومت قائم کرنا اورملک میں ایسافلاحی وجمہوری نظام لاناہے جہاں رشتوں ، دوستی یاری، پسندناپسندکی بنیادپر فیصلے نہ ہوں،کسی بھی حکومتی یاسرکاری یاغیرسرکاری پوزیشن پر تقرری اقرباپروری کی بنیادپرنہیں بلکہ میرٹ کی بنیادپر کی جائے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1988ء سے 2013ء تک ایم کیوایم نے کتنے ہی الیکشن میں حصہ لیا ، کتنے ہی ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز،وفاقی وصوبائی وزراء اورمشیر بنے، الیکشن کیلئے جتنے بھی ٹکٹ دیے گئے وہ میرٹ کی بنیادپر دیئے گئے ،ان میں ایک بھی الطاف حسین کاکوئی بھائی بہن، بھتیجا، بھانجا نہیں تھاالبتہ تحریک کے لئے قربانی دینے والوں میں الطاف حسین کابھائی اور بھتیجا ضرور شامل ہیں ۔انہوں نے ایم کیوایم کے تمام منتخب نمائندوں کوتلقین کی کہ وہ عوام کی بلاامتیازخدمت کریں اورلوگوں کے مسائل حل کرنے کی بھرپورکوشش کریں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم دشمن قوتوں اورمخالفین نے سازشیں اور کوششیں کیں کہ اس دفعہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کیلئے کھالیں جمع کرنے کے عمل کو ناکام بنایا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایم کیوایم دشمنوں کی تمام سازشیں ناکام ہوگئیں ، تحریک کے پرعزم اور حوصلہ مند ساتھیوں کی کاوشیں کامیاب ہوئیں اور ملک بھر کے عوام نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال خدمت خلق فاؤنڈیشن کو سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر قربانی کے جانوروں کی کھالیں عطیہ کیں۔ جناب الطا ف حسین نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیاکہ بلدیاتی انتخابات خواہ کسی بھی نظام کے تحت کرائے جائیں ، اگر اس نظام پر ایم کیوایم کو تحفظات بھی ہوں تب بھی ایم کیوایم اس نظام کی مخالفت کے باوجود بلدیاتی انتخابات میں ہرقیمت پر حصہ لے گی اور آئندہ بلدیاتی انتخابات میں پورے ملک سے حق پرست امیدوار نامزد کرے گی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ خدمت خلق فاؤنڈیشن ایک فلاحی ادارہ ہے جو غریب اور مستحق بیواؤں ، طلباوطالبات اور یتیم بچوں کی نہ صرف ان کی ضرورت کے مطابق مدد کرتا ہے بلکہ ماہانہ بنیادوں پر ان کاوظیفہ مقررکرکے بھی مدد کرتا ہے ۔ اسی طرح اس ادارے کے تحت شہداء کے لواحقین ، بیواؤں اور بچوں کی کفالت اور ان کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے سلسلے میں بھی مدد کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خدمت خلق فاؤنڈیشن ، قدرتی آفات ، سانحات اورحادثات میں دکھی انسانیت کی مدد میں پیش پیش ہے ، جہاں جہاں بھی زلزلہ ، سیلاب ، طوفان یاکوئی اور حادثہ پیش آئے اس ادارے کے رضاکار، ڈاکٹرزاور پیرامیڈیکل اسٹاف غذائی اجناس اور ادویات کے ہمراہ متاثرین کی ہرممکنہ مددکرتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس وقت خدمت خلق فاؤنڈیشن ، ملک کا واحد فلاحی ادارہ ہے جو ہرموقع پر مصائب ومشکلات کا شکار عوام کی بڑھ چڑھ کر مدد کرتا ہے ۔




























12/8/2016 5:57:13 PM