Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم نے رینجرز کی جانب سے میڈیاپرپیش کئے جانے والے خودساختہ ’’ ساؤتھ افریقہ نیٹ ورک‘‘ کے اصل حقائق جاری کردیے


ایم کیوایم نے رینجرز کی جانب سے میڈیاپرپیش کئے جانے والے خودساختہ ’’ ساؤتھ افریقہ نیٹ ورک‘‘  کے اصل حقائق جاری کردیے
 Posted on: 12/17/2018
ایم کیوایم نے رینجرز کی جانب سے میڈیاپرپیش کئے جانے والے خودساختہ ’’ ساؤتھ افریقہ نیٹ ورک‘‘ 

کے اصل حقائق جاری کردیے 
رینجرز کی جانب سے میڈیاکوجاری کی گئی تصاویر میں جن افراد کو اسلحہ کی نمائش کرتے ہوئے دکھایاگیاہے اورانہیں
ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ یونٹ کا کارکن ظاہر کیا گیا ہے ، وہ کبھی بھی ایم کیوایم کے کارکن نہیں رہے
ا ن افراد کے بارے میں جمع کی گئی تفصیلی معلومات کے مطابق ان مسلح افرادکے نام رانازاہد، علی بھٹی، علی ارشد اور عتیق بلا ہیں
ان تمام افراد کاتعلق پنجاب سے ہے ، یہ ساؤتھ افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور قتل،
اغوابرائے تاوان، اسمگلنگ اور دیگرمجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں 
میڈیا رپورٹ میں جس شجاع الدین بوبی کا زکرکیاگیااسے 28جولائی 2018ء کو ایم کیوایم سے خارج کیاجا چکا ہے 
جوافرادایم کیوایم کے سرے سے کارکن ہی نہیں ہیں، اب انہیں بھی ایم کیوایم کاکارکن قرار دے کر، ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کو
ایم کیوایم سے جوڑاجا رہا ہے۔ڈاکٹرندیم احسان 
ایم کیوایم کے کنوینر ڈاکٹرندیم احسان کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ اہم وڈیوبریفنگ سے خطاب
 
لندن ۔۔۔ 17 دسمبر 2018ء
ایم کیوایم کے کنوینرڈاکٹرندیم احسان نے کہاہے کہ رینجرزکی جانب سے میڈیاپرپیش کئے جانے والے ساؤتھ افریقہ کے جرائم پیشہ عناصرکاایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس حوالے سے ٹی وی چینلز پرپیش کی جانے والی خبریں سراسرجھوٹ، من گھڑت اورایم کیوایم کے خلاف جاری میڈیاٹرائل کاحصہ ہیں ۔ انہوں نے یہ بات سوشل میڈیاکے ذریعے ایک اہم وڈیوبریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے دیگرارکان بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ جب سے ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن جاری ہے اس وقت سے ایم کیوایم کوبدنام کرنے کے لئے اس کے خلاف میڈیاپرجھوٹی اورمن گھڑت خبریں دی جارہی ہیں اوراس کامیڈیاٹرائل کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ رینجرزاورسرکاری ایجنسیوں کی جانب سے ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ یونٹ کے حوالے سے جو تازہ ترین رپورٹ میڈیاکوجاری کی گئی ہے وہ سراسرسرجھوٹ ، من گھڑت اور ایم کیوایم کے خلاف سازشوں میں مصروف سر کاری ایجنسیوں کے متعصب عناصر کے ذہن کی اختراع ہے ۔انہوں نے کہاکہ رینجرزاورسرکاری ایجنسیوں کی جانب سے میڈیاکوجاری کی گئی تازہ ترین رپورٹ میں ساؤتھ افریقہ کے کچھ جرائم پیشہ افراد کے نام اورتصویریں میڈیاکوجاری کی گئی ہیں اوران کو ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ یونٹ کا کارکن قراردیاگیاہے تاکہ ان جرائم پیشہ عناصر کوایم کیوایم سے نتھی کرکے ان کے گھناؤنے جرائم کوایم کیوایم کے سر تھوپاجاسکے۔ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر پیش کی جانے والی تصاویر میں جن افراد کو مختلف انداز سے اسلحہ کی نمائش کرتے ہوئے دکھایاگیاہے اورانہیں ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کا کارکن ظاہر کیا گیا ہے ، ہم نے ا ن افراد کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کی ہیں جس کے مطابق ان مسلح افرادکے نام رانازاہد، علی بھٹی، علی ارشد اور عتیق بلا ہیں، ان عناصر کا کبھی بھی ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں رہا، ان تمام افراد کاتعلق پنجاب سے ہے ، یہ ساؤتھ افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے ہیں ،یہ جرائم پیشہ افرادساؤتھ افریقہ میں قتل، اغوابرائے تاوان، اسمگلنگ اوردیگرمجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔یہ جرائم پیشہ افراد ایک کرمنل ریکارڈرکھتے ہیں اورساؤتھ افریقہ کی پولیس کوجرائم کی مختلف واردتوں میں مطلوب ہیں۔ ان میں سے بعض افرادکوتوان کے جرائم کی وجہ سے سزائیں بھی ہوچکی ہیں۔ان جرائم پیشہ افراد نے اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کوسماجی لبادہ پہنانے کے لئے ’’ پاکستان ساؤتھ افریقہ یوتھ ایسوسی ایشن ‘‘ قائم رکھی ہے ،رانازاہداس تنظیم کاچیئرپرسن ہے اوراس میں ان مذکورہ افراد کے علاوہ دیگرجرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں۔ رانازاہد اوراس کے جرائم پیشہ گروہ کے دیگر افراد ساؤتھ افریقہ میں پاکستان ہائی کمیشن کی تقاریب میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں، ان کی تصاویر ساؤتھ افریقہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر نجم الثاقب اورہائی کمیشن کے دیگراعلیٰ حکام کے ساتھ ریکارڈپر موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جرائم پیشہ افراد سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی حمایت میں بھی مہم چلاچکے ہیں جس کے پوسٹربھی ریکارڈپر موجود ہیں۔ڈاکٹرندیم احسان نے بتایاکہ سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے میڈیاکوجاری کردہ رپورٹ میں جس شجاع الدین بوبی کا زکرکیاگیااسے 28جولائی 2018ء کو ایم کیوایم سے خارج کیاجا چکا ہے جس کاباقاعدہ اعلامیہ میڈیاکوجاری کیاگیاتھا جوایم کیوایم کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اب اس کا ایم کیوایم سے کوئی تعلق نہیں اورایم کیوایم ا س کے کسی بھی قسم کے عمل کی ذمہ دار نہیں ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ جن افرادکا ایم کیوایم سے کبھی بھی کسی قسم کاکوئی تعلق نہیں رہا، جوافرادایم کیوایم کے سرے سے کارکن ہی نہیں ہیں، اب انہیں بھی ایم کیوایم کاکارکن قرار دے کر، ان کی مجرمانہ سرگرمیوں کو ایم کیوایم سے جوڑاجا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ ایک مضبوط اوورسیزیونٹ ہے، قائدتحریک الطاف حسین کاقلعہ ہے جوکسی بھی قسم کی غلط سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ جس طرح ساؤتھ افریقہ کے جرائم پیشہ افراد کو ایم کیوایم سے جوڑدیاگیاہے اسی طرح چند روزقبل رینجرز نے پی ایس پی ٹولے انیس بلڈرکوایم کیوایم کاکارکن بناکرپیش کیاجبکہ انیس بلڈرپی ایس پی ٹولے کاذمہ دارہے اورحالیہ الیکشن میں اس نے اورنگی ٹاؤن سے پی ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑاتھا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ رینجرز کی جانب سے عزیزآباد سے اسلحہ برآمد کرنے کاجودعویٰ کیاگیاہے وہ انتہائی مضحکہ خیزہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 22 اگست 2016 ء سے عزیزآبادکاپوراعلاقہ رینجرز کے قبضہ اورکنٹرول میں ہے ، وہاں کے تقریباًتمام گھروں میں رینجرز کئی بارتلاشی لے چکی ہے ، وہاں ہرآنے جانے والی کی تلاشی لی جاتی ہے، جہاں کسی دوسرے علاقے کاکوئی فرد نہیں جاسکتا، حتیٰ کہ وہاں رہنے والوں کی بھی چیکنگ کی جاتی ہے ، پھریہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی وہاں جاکراسلحہ چھپا دے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی عزیزآباد سے ایک ٹنکی سے اسلحہ کابہت بڑاذخیرہ برآمد کرنے کاڈرامہ رچایا گیاتھا، کئی دن تک میڈیاپر اس کاشورکیاگیااور کئی روزتک ایم کیوایم کامیڈیاٹرائل کرنے کے بعد جب معاملہ عدالت میں گیاتوپولیس ورینجرز کی جانب سے اس کیس کوخودہی بندکرنے کی درخواست کی گئی۔ اب ایک بارپھر عزیزآبادسے اسلحہ کے ذخائر برآمدکرنے کا نیاڈراما رچایاگیاہے جس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ڈرامہ بھی ماضی کے ڈراموں کاتسلسل ہے جس کامقصد ایم کیوایم کو بدنام کرناہے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ کراچی کے تمام داخلی راستوں اور شہرمیں جگہ جگہ رینجرز کی چوکیاں موجود ہیں لہٰذا یہ سوال رینجرزکے حکام سے پوچھاجاناچاہیے کہ ان کے ہوتے ہوئے کراچی میں اسلحہ کیسے آرہا ہے؟اور کہاں سے آرہاہے کیونکہ کراچی میں اسلحہ کی کوئی فیکٹری نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی مضحکہ خیزالزام بھی لگایاگیاہے کہ برآمدہونے والے اسلحہ کے ذریعے ایم کیوایم ایک لمبی جنگ کی تیاری کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ پانچ سال سے ایم کیوایم کے خلاف جوآپریشن کیاجارہاہے اس کے دوران ایم کیو ایم کے مرکزنائن زیروسمیت اس کے تنظیمی دفتروں اورکارکنوں کے گھروں پر ہزاروں چھاپے مارے گئے لیکن کسی ایک بھی چھاپے میں پولیس یارینجرزپر ایک کنکر تک نہیں ماراگیاجواس بات کاثبوت ہے کہ ایم کیوایم پرلگایا جانے والا الزام سراسرجھوٹ، بہتان اورلغوہے جس کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جھوٹی ، من گھڑت رپورٹوں اوراسلحہ کے ڈراموں کے ذریعے ایم کیوایم کے کارکنوں اورقائدتحریک الطاف حسین کی کردارکشی بندکی جائے ۔ 
*****






























9/23/2019 7:10:16 AM