Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کوبچانے کیلئے ایک بااختیار اورطاقتور ’’ سچ اورمصالحتی کمیشن ‘‘ ) (Truth and Reconciliation Commission قائم کیاجائے۔الطاف حسین


 پاکستان کوبچانے کیلئے ایک بااختیار اورطاقتور ’’ سچ اورمصالحتی کمیشن ‘‘ ) (Truth and Reconciliation Commission قائم کیاجائے۔الطاف حسین
 Posted on: 10/14/2018

پاکستان کوبچانے کیلئے ایک بااختیار اورطاقتور ’’ سچ اورمصالحتی کمیشن ‘‘
) (Truth and Reconciliation Commission قائم کیاجائے۔الطاف حسین
کمیشن میں ایماندار، باکردار اورانصاف پسندججوں سماجیات اور تاریخ کے ماہرین اوراکابرین کوشامل کیاجائے 
فوجی جرنیل اپنے مظالم پر مظلوموں سے معافی مانگیں،اپنی غلطی کوتسلیم کریں اور جس کاحق ہے اسے دیں۔الطاف حسین
کمیشن بنایاگیاتومیں مہاجروں کے ساتھ ساتھ بلوچوں کوبھی سمجھاؤں گااور ملک کوبچالوں گا ۔ الطا ف حسین
میں نے پاکستان کی خاطر فوج کے ساتھ ہرموقع پر تعاون کیااورفوج سے جووعدے کئے انہیں پوراکیا۔الطاف حسین
جرنیلوں نے ہمیں انصاف دینے کے کسی بھی وعدے پرعمل نہیں کیا،ہمارے تعاون کے جواب میں ہمیشہ ہمیں ریاستی جبر کا نشانہ بنایا
ظلم دن بدن بڑھتاجارہاہے، ابھی بلوچ مزاحمتی تحریک چلارہے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہوکہ مہاجربھی مزاحمتی تحریک شروع کردیں
اپنے ہی شہریوں سے جنگ کر نے سے نقصان ہوگا، اگرواقعی پاکستان کامفادعزیزہے تویہ روش ترک کی جائے 
فوج کوبھی پنجابی فوج نہیں بلکہ قومی فوج بنائیں ، فوج میں بھی تمام علاقوں کی مساوی نمائندگی دی جائے۔ الطا ف حسین
اب یہ پالیسی ترک کرنی ہوگی کہ جوبھی فوج کے غلط اقدامات پر تنقید کرے اس کوغدار قرار دیدیا جائے۔ الطا ف حسین
چیف جسٹس ثاقب نثار پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اورپروفیسرزکوہتھکڑیاں لگانے پر سوموٹولیکرمگرمچھ کے آنسوبہارہے ہیں
چیف جسٹس نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف کوہتھکڑیاں لگانے،ان پرتشدد کرنے اورماورائے عدالت قتل کرنے پر سوموٹوکیوں نہیں لیا ؟

لندن۔۔۔ 14 اکتوبر 2018ء
ایم کیوایم کے قائدجناب الطاف حسین نے فوج کے جرنیلوں سے کہاہے کہ پاکستان کوبچانے کے لئے ایک بااختیار اورطاقتور ’’ سچ اورمصالحتی کمیشن ‘‘ 
) (Truth and Reconciliation Commission قائم کیاجائے اور اس میں ایماندار، باکردار اورانصاف پسندججوں سماجیات اور تاریخ کے ماہرین اوراکابرین کوشامل کیاجائے ۔فوجی جرنیل اپنے مظالم پر مظلوموں سے معافی مانگیں،اپنی غلطی کوتسلیم کریں اور جس کاحق ہے اسے دیں۔ انہوں نے ان خیالات کااظہارہفتہ کو اپنے اہم خطاب میں کیا۔ ان کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھرمیں براہ راست نشر کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کسی انسان کے قتل کے ساتھ ساتھ کرپشن بھی ایک غیراسلامی، غیرشرعی اورغیرقانونی عمل ہے لیکن انسان کاقتل کرپشن سے زیادہ بڑاجرم ہے کیونکہ کرپشن کاازالہ تواس طرح ہوسکتاہے کہ چوری کی ہوئی چیز یاپیسہ واپس لے لیاجائے ، قتل کاازالہ نہیں ہوسکتاکیونکہ قتل ہونیوالا واپس نہیں آسکتا۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے 22 ہزار کارکن ماورائے عدالت قتل کردیے گئے ، 70 ہزاربلوچوں کوبیدردی سے قتل کردیاگیاجبکہ 75 ہزار قبائلی پشتونوں کو بمباری اورریاستی آپریشن کے دوران قتل کردیاگیا، چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے کرپشن کے معاملے پر توبہت مقدمات میں ایکشن لیاہے لیکن ہزار وں انسانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات پرخاموشی اختیارکررکھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جھوٹے ، بے ایمان اور دھوکے بازہیں اور کسی ملک کی بدنصیبی اس سے بڑھ کرکیاہوسکتی ہے کہ اس ملک کا چیف جسٹس جھوٹا، بے ایمان اور دھوکہ باز ہو۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کرپشن کے الزام میں نوازشریف کو قید اورنااہلی کی سزادیدی گئی، ان کی بیٹی مریم نوازکوبھی زبردستی سزادے کرجیل بھیج دیاگیااوراب ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف کوبھی جیل بھیج دیاگیا جبکہ دیگروہ بڑے بڑے لوگ جنہوں نے اربوں روپے کے قرضے لیکرمعاف کرائے گئے اور جائیدادیں بنائیں انہیں سزا نہیں دی گئی،دوسری جانب عمران خان جس کے ہاں بغیرنکاح کے بیٹی پیداہوئی اسے چیف جسٹس ثاقب نثارنے صادق اورامین قراردیدیا، کیا یہ انصاف کا دوہرامعیارنہیں ہے ؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرمجاہد کامران اوردیگراساتذہ کوخردبرد کاالزام لگا کر گرفتار کیا گیا اور انہیں ہتھکڑیاں ڈال کرلے جایاگیا،استادوں کی تذلیل کی گئی جبکہ 400 افرادکے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسرراؤ انوار جسے چیف جسٹس نے بہادر کاخطاب دیا تھا اسے شاہانہ اندازمیں پولیس پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں لایاگیا۔اسے جب بھی عدالت میں پیش کیا گیا ، بغیر ہتھکڑی کے لایاگیا جو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس نے کچھ دنوں قبل خود پنجاب کے اساتذہ اور ماہرین کی کس قدربے عزتی کی جوپاکستان کی محبت میں بیرون ملک سے اپنی خدمات پیش کرنے پاکستان آئے تھے اورآج پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگانے پر وہ مگرمچھ کے آنسوبہارہے ہیں ، یہ چیف جسٹس کی عیاری اورمکاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ممتازفلاسفراورجامعہ کراچی کے سینئراستادپروفیسرڈاکٹرحسن ظفرعارف کو 2016ء میں رینجرزنے گرفتارکرکے بہیمانہ سلوک کیا ،انہیں سرکاری ٹارچرسیلوں میں اذیتیں دی گئیں،کئی ماہ جیل میں قیدرکھا،عدالت میں ہتھکڑیاں ڈال کرلایاگیا، کئی ماہ بعد عدالت سے ضمانت پر رہاہوئے توگزشتہ سال8دسمبر2017ء کوگرفتارکرکے آئی ایس آئی کے خفیہ سیل میں رکھ کر دو روز تک تشددکیاگیااورپھر 14جنوری 2018ء کوانہیں ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس ثاقب نثارجوآج پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اورپروفیسرزکوہتھکڑیاں لگانے پر سوموٹولیکرمگرمچھ کے آنسوبہارہے ہیں وہ جواب دیں کہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف کوکس جرم میں گرفتارکیاگیاتھا؟ انہیں ہتھکڑیاں کیوں لگائی گئیں؟چیف جسٹس نے ڈاکٹرحسن ظفرعارف کوہتھکڑیاں لگانے،ان پرتشدد کرنے اورماورائے عدالت قتل کرنے پر سوموٹوکیوں نہیں لیا ؟ اگرچیف جسٹس نے پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف کے ماورائے عدالت قتل کی پہلے تحقیقات نہیں کیں تووہ اب اس کی تحقیقات کرائیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آرمی چیف جنر ل قمرباجو ہ نے نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل پر ان کے والد سے ہاتھ میں ہاتھ رکھ کروعدہ کیاتھاکہ انہیں انصاف دلائیں گے ، پھرجنرل قمرباجوہ نے نقیب محسود کے قاتل راؤ انوار کوسزاکیوں نہیں دلائی؟اس کی رہا ئی کانوٹس کیوں نہیں لیا؟ ڈاکٹرحسن ظفر عارف کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کیوں نہیں کرائی؟ جنرل قمرباجوہ آرمی چیف کی حیثیت سے آئی ایس آئی اورایم آئی سے پوچھے کہ جنرل راحیل شریف اورجنرل بلال اکبر نے ایم کیوایم کے کارکن آفتاب احمدکے دوران حراست ماورائے عدالت قتل کااعتراف کیاتھااوریہ یقین دلایاتھاکہ اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، پھراس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ انہوں نے کہاکہ یہ قانون ہے کہ کوئی بھی فوجی جنرل یاسرکاری افسر ریٹائرمنٹ کے دوسال بعد تک کہیں اورملازمت نہیں کرسکتا،پھرجنرل راحیل شریف نے سعودی عرب میں اتحادی فوج کی سربراہی کی ملازمت کس قانون کے تحت حاصل کی ؟ جنرل قمرباجوہ نے جنرل راحیل شریف اورفوج کے ان افسروں کوسعودی عرب سے واپس کیوں نہیں بلایا جو یمن کے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں؟میرا گھرنائن زیروجو غریب ومظلوم لوگوں کامرکز ہے، جہاں 300سے زائد لوگ روزانہ تین وقت کھانا کھایا کرتے تھے، اس پر تالہ کیوں لگایاگیا؟ خورشیدبیگم میموریل ہال پر تالہ کیوں لگایاگیا؟ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں آپریشن کے نام پرمہاجروں کوکچلاجارہاہے،فوج نے بلوچستان پر قبضہ کیااوراب بلوچستان کے علاقوں کوچین کوفروخت کیاجارہاہے، بلوچوں کوان کے علاقوں سے بیدخل کیاجارہاہے، بلوچ اپنی آزادی اورحقوق کے لئے آوازبلندکررہے ہیں توان بلوچوں کوقتل کیاجارہاہے، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی ہیں، مختلف علاقوں سے بلوچوں کی اجتماعی قبریں برآمد ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ظلم دن بدن بڑھتاجارہاہے، ابھی بلوچ مزاحمتی تحریک چلارہے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہوکہ مہاجربھی آزادی کے لئے مزاحمتی تحریک شروع کردیں لہٰذابلوچوں اورمہاجروں کاقتل عام بند کیاجائے ، ظلم بند کیاجائے ، نائن زیروکو کھولا جائے اور انصاف کا نظام قائم کیاجائے ۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے پاکستان کی خاطر فوج کے ساتھ ہرموقع پر تعاون کیا، ہرموقع پرصلح کی اورفوج سے جووعدے کئے انہیں پوراکیا لیکن فوج کے جرنیلوں نے ہمیں انصاف دینے کے لئے جوکسی بھی وعدے پرعمل نہیں کیا،ہمارے تعاون اورخیرسگالی کے جواب میں ہمیشہ ہمیں ظلم اورریاستی جبر کا نشانہ بنایاگیا، میرے ہزاروں ساتھیوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا، میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کوسفاکی سے شہید کردیاگیا، حالانکہ مجھے شرعی اعتبارسے اپنے بھائی اوربھتیجے کے قتل کابدلہ لینے کاحق ہے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میراقصوریہ ہے کہ میں نے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اپنے ظرف وضمیرکاسودانہیں کیا، میں نے سرکاری ایجنسیوں سے پیسے لینے سے انکارکیا،آئی ایس آئی کے بریگیڈیئرامتیازابھی حیات ہیں، انہوں نے ٹی وی انٹرویوزکے ذریعے قوم کے سامنے خوداس حقیقت کااعتراف کیاکہ میں 1988ء میں آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل حمیدگل کی ہدایت پر پیسے لے کرالطاف حسین کے پاس گیالیکن انہوں نے پیسے لینے سے انکارکردیا۔ اسی طرح 1990ء میں بھی جب جنرل اسلم بیگ آرمی چیف اورجنرل اسددرانی ڈی جی آئی ایس آئی تھے ، اس وقت بریگیڈیئرحامد میرے پاس پیسے لیکرآئے تھے ، میں نے تب بھی پیسے لینے سے انکارکردیاتھا،اسی لئے مجھ پر اپنے ہی وطن کی زمین تنگ کی گئی، میری جماعت کے خلاف 199ء میں فوجی آپریشن شروع کیاگیاجوآج تک جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ میںآج ایک بارپھر پورے خلوص کے ساتھ فوج کی جانب دوستی کاہاتھ بڑھاتاہوں اورفوج کے جرنیلوں سے کہتاہوں کہ ابھی بھی وقت ہے ،آؤ اپنے مظالم پر مظلوموں سے معافی مانگو ، اپنی غلطی کوتسلیم کرواورپاکستان کوبچانے کے لئے ایک بااختیار، خودمختار اورطاقتور Truth and Reconciliation Commission قائم کیا جائے، اس میں ایماندار، باکردار اورانصاف پسندججوں،سماجیات اور تاریخ کے ماہرین اوراکابرین کوشامل کیاجائے ،اپنی غلطیوں کوتسلیم کیاجائے ، ان کا ازالہ کیاجائے ، جن کے ساتھ ظلم ہواہے ان کے ساتھ انصاف کیاجائے ، جس کاحق ہے اسے دیاجائے، پاکستان کوبچانے اوراس کومستحکم کرنے کیلئے ریاستی طاقت کااستعمال بندکیاجائے کیونکہ اپنے ہی شہریوں سے جنگ کر نے اورلڑنے سے مزیدنقصان ہی ہوگا، اگرواقعی پاکستان کامفادعزیزہے تویہ روش ترک کی جائے اوراپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اگرایساکیاگیاتومیں مہاجروں کے ساتھ ساتھ بلوچوں کوبھی سمجھاؤں گااور ملک کوبچالوں گا ۔ انہوں نے کہاکہ عوام بلاوجہ فوج کے مخالف نہیں ہوتے،آپ فوج کوبھی پنجابی فوج نہیں بلکہ قومی فوج بنائیں اورجس طرح سینیٹ میں چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی ہے اسی طرح فوج میں بھی تمام علاقوں کی مساوی نمائندگی دی جائے ۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمارے ملک میں قانون کادہرامعیارہے، مسلم لیگ ن کے رہنماحنیف عباسی کی سزاکے موقع پر راولپنڈی میں عوام کی جانب سے فوج مردہ باد۔۔۔آئی ایس آئی مردہ باد۔۔۔ اور ۔۔۔یہ جودہشت گردی ہے ۔۔۔اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ کے نعرے لگائے گئے لیکن کسی کے خلاف کوئی مقدمہ یاکارروائی نہیں ہوئی ۔ جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی فوج ،اسٹیبلشمنٹ اورآئی ایس آئی کے بارے میں کھل کرآج وہی باتیں کی ہیں جومیں نے کیں لیکن ان کے گھرپر کوئی تالہ نہیں لگا، ان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیاگیاجبکہ مجھ پر پورے ملک میں مقدمات قائم کردیے گئے ، میرے گھرپر تالہ لگادیا گیا اورمیری تقریرپر پابندی عائد کردی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ پالیسی ترک کرنی ہوگی کہ جوبھی فوج کے غلط اقدامات پر تنقید کرے اس کوغدار قرار دیدیا جائے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہماری ماؤں بہنوں اوربزرگوں نے 9دسمبرکویوم شہداکے موقع پر اپنے شہداکی یادگارپر فاتحہ خوانی کے لئے جانا چاہاتوان پر گنیں تانی گئیں، تشددکیاگیا،گرفتاریاں کی گئیں لیکن فیض آبادپردھرنا دینے والوں کودہشت گردی،جلاؤگھیراؤ اورتوڑپھوڑ کے باوجود ان کے ساتھ نہ صرف نرمی اختیارکی گئی بلکہ ڈی جی رینجرز پنجاب نے ان کے گرفتارشدگان میں رہائی کے وقت پیسے بھی تقسیم کئے ، قانون کایہ دوہرامعیارختم کیا جانا چاہیے ۔ جناب الطا ف حسین نے ایک بارپھراعلان کیاکہ جب بھی نائن زیروکھولاگیاتواس کو وہی کارکنان وذمہ داران سنبھالیں گے جو22 اگست 2016ء سے ثابت قدم اوروفاداررہے ہیں۔ انہوں نے ریاستی جبر اور تمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود ثابت قدم رہنے والے کارکنوں، ماؤں بہنوں ، بزرگوں اوریوتھ کوسلام تحسین پیش کیااوربچوں کواپناپیارپیش کیا۔ 
*****


11/20/2018 12:02:42 PM