Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم یاتوطاقتوراورخودمختارصوبہ لیں گے یاآزادمہاجرر یاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی ،الطاف حسین


ہم یاتوطاقتوراورخودمختارصوبہ لیں گے یاآزادمہاجرر یاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی ،الطاف حسین
 Posted on: 10/8/2018

ہم یاتوطاقتوراورخودمختارصوبہ لیں گے یاآزادمہاجرر یاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی ،الطاف حسین
بلوچستان کوبھی آزادکرناہوگا، ہم آزاد بلوچستان کے حامی ہیں۔ الطاف حسین
ہم انصاف مانگ رہے ہیں توہماری بات سننے کے بجائے ہمیں ریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الطاف حسین
اگرفوج بے گناہ مہاجروں اوربلوچوں کاقتل عام کرنے لگے تواس کوکیسے زندہ باد کہا جائے گا ۔ الطاف حسین 
پنجاب کے عوام اگر مہاجروں اوربلوچوں پر ریاستی مظالم کے خلاف باہرنہ نکلے تو وہ بھی ظلم میں برابرکے شریک تصورکئے جائینگے
میں نے پاکستان مردہ باد، پاکستان کونہیں بلکہ ملک میں جاری اس دہرے نظام کومردہ باد کہاتھا۔ الطاف حسین
نوازشریف حکومت کاتختہ دیگرجرنیلوں نے الٹاتھالیکن صرف پرویزمشرف کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے کیونکہ وہ مہاجر ہیں ڈاکٹرقدیر نے پاکستان کوایٹمی قوت بنایا لیکن انہیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کرپھینک دیاگیا اور ساراکریڈٹ ایک پنجابی
ڈاکٹر ثمرمند کودیدیاگیا ، کیایہ تعصب نہیں؟
ہم اپنے حقوق سے محروم ہیں اورہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیساسلوک کیاجارہاہے، یہ ظلم ہے ، ناانصافی ہے۔ الطاف حسین
جب تک الطاف حسین اوراس کاایک ایک سچا ساتھی زندہ ہے،ظلم وناانصافی کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی۔ الطا ف حسین
لندن میں اپنی 65ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ ’’ یوم تجدیدوفا ‘‘ کے اجتماع سے فکرانگیز خطاب 



لندن ۔۔۔ 8 اکتوبر 2018ء
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں انصاف کادوہرامعیارہے جوناقابل قبول ہے ، ہم یاتوطاقتوراورخودمختارصوبہ لیں گے یاآزادمہاجرر یاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی ، بلوچستان کوبھی آزادکرناہوگا، ہم آزاد بلوچستان کے حامی ہیں۔انہوں نے ان خیالات کااظہار اتوارکولندن میں اپنی 65ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ ’’ یوم تجدیدوفا ‘‘ کے اجتماع سے اپنے فکرانگیز خطاب میں کیا۔ اجتماع لندن کے علاقے ایجویئر میں واقع وی آئی پی لاؤنج میں منعقد کیاگیا جس میں سینکڑوں افرادنے شرکت کی ۔جناب الطا ف حسین نے ایم کیوایم کے خلاف جاری ریاستی آپریشن، بلوچستان کی سنگین صورتحال اورپاکستان کے مجموعی حالات کے بارے میں تفصیلی اظہارخیال کیا ۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے دنیابھرمیں براہ راست نشربھی کیاگیا جسے سوشل میڈیاکے ذریعے لاکھوں افراد نے دیکھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جوگھرآپ اپنے خون پسینے اور محنت سے بنائیں اوراس پر کوئی دوسرابندوق کی نوک پر قبضہ کرلے توایسے گھرسے کیافائدہ کہ گھرآپ بنائیں اوراس کے مزے وہ اڑائیں جنہوں نے اس کیلئے خون کاایک قطرہ تک نہ دیاہو۔ انہوں نے کہاکہ حقوق مانگنے سے نہیں ملتے بلکہ حقوق چھیننے ہوں گے اوراس کیلئے طاقت استعمال کرنی ہوگی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمیں یہ طعنہ دیاجاتاہے کہ میں نے پاکستان مردہ بادکانعرہ کیوں لگایا، جولوگ یہ طعنہ دیتے ہیں اگران کے بچوں کوگرفتارکرکے تشددکرنے کے بعد اس کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جائیں، بہنوں بیٹیوں کی بے حرمتی کی جائے، انہیں بھی بالوں سے پکڑکوگھسیٹتے ہوئے حراست میں لے لیا جائے توآپ کیا کہیں گے؟ہماری بہنیں،بیٹیاں یادگارشہداپر فاتحہ پڑھنے کے لئے عزیزآبادگئیں تورینجرزاہلکاروں نے انہیں تشددکانشانہ بنایا، ان پر گنیں تان لیں، صرف نوجوانوں کوہی گرفتارنہیں کیاگیابلکہ عورتوں اوربچوں تک کو گرفتارکیاگیا۔اس موقع پر ان واقعات کی تصویریں اوروڈیوبھی بڑی اسکرین پر دکھائی گئیں۔ جنہیں دیکھ کرماحول سوگوارہوگیا۔ جناب الطاف حسین نے سوال کیاکہ کیاہمارے ملک کے فوجیوں اورپولیس اہلکار وں کی جانب سے اس قسم کا سلوک کیاجاناچاہیے؟یہ سب ظلم وستم دیکھ کرہم کس طرح پاکستان زندہ بادکہیں؟ ہم نے 20لاکھ جانوں کانذرانہ دے کرپاکستان بنایالیکن ہمیں برابرکا پاکستانی سمجھنے اورہمارے جائزحقوق دینے کے بجائے ہردورمیں ہمیں ریاستی مظالم کانشانہ بنایاگیا، ہمارے 22ہزارنوجوانوں ماورائے عدالت قتل کردیے گئے ۔ ایم کیوایم کے 72سالہ بزرگ رہنما اورپاکستان کے ممتازفلاسفراوراستادپروفیسرڈاکٹرحسن ظفرعارف،جنہوں نے لاکھوں طلبہ کوپڑھایافوج، رینجرزنے 13جنوری 2018ء کوانہیں حراست میں لیااوررات بھرتشددکانشانہ بناکرماورائے عدالت قتل کردیاگیا، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلندکرے۔ انہوں نے کہاکہ فوج اور پولیس شہریوں کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے یاان کے قتل عام کے لئے ؟اگرفوج معصوم وبے گناہ مہاجروں اوربلوچوں کاقتل عام کرنے لگے تواس کوزندہ باد کہا جائے گایاوہ مردہ باد کہلانے کے مستحق ہوگی؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ کل شہبازشریف کونیب عدالت میں پیش کیاگیا تو بڑی تعداد میں لوگ پولیس کی بکتربندپر چڑھ گئے، پولیس نے ان پر نہ کوئی لاٹھی چارج کیا، نہ کوئی گولی چلی،نہ کوئی گرفتاری ہوئی،مسلم لیگ ن کے مردوں اور عورتوں کو احتجاج کاپوراحق دیاگیالیکن ہمارے نوجوان اورخواتین کراچی میں اے آر وائی نیوز کے دفترپر احتجاج کرنے گئیں کہ خدارا جھوٹی خبریں نشر نہ کریں توان پر پولیس اوررینجرز نے فائرنگ کی، انہیں تشددکانشانہ بنایا، ان کی فائرنگ سے ایم کیوایم کاایک جواں سال کارکن شہیدہوگیا۔آخر یہ دوہرا معیار کیوں ؟تحریک لبیک نے احتجاج اوردھرنے کی آڑ میں اسلام آباد،لاہور اورپنجاب کے مختلف شہروں میں پولیس ، عام شہریوں اورمیڈیاپر حملے کئے، پولیس اسٹیشنوں اور دیگر سرکاری ونجی املاک اورمیڈیاکی گاڑیوں کوآگ لگائی اوردہشت گردی کابازارگرم کیالیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے ان کے گرفتار شدگان کونہ صرف فی الفوررہاکیابلکہ رینجرز کے ڈی جی نے ان میں پیسے تقسیم کئے لیکن ہماری مائیں بہنیں، بیٹیاں اورنوجوان یادگارشہداپر فاتحہ پڑھنے کے لئے گئے تو ان پر گنیں تانی گئیں، گولیاں چلائی گئیں اورانہیں گرفتارکیاگیا، آخر یہ دوہرامعیارکیوں ہے؟ تحریک لبیک کے خادم رضوی نے چیف جسٹس کانام لے کرکھلی کھلی گالیاں دیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ دوسروں کوبات بات پر توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ، یہ دہرا معیارکیوں ہے؟ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان میں انصاف کادوہرامعیار ہمیں ناقابل قبول ہے ،ہم انصاف مانگ رہے ہیں توہماری بات سننے کے بجائے ہمیں ریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم یاتوطاقتوراورخودمختارصوبہ لیں گے یاآزادمہاجرر یاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی۔انہوں نے بلوچستان میں بلوچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کازکرکرتے ہوئے کہا کہ فوج غریب بلوچوں کودہشت گرد قرار دے کر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے، بلوچ نوجوانوں،حتیٰ کہ عورتوں تک کوپکڑکرلاپتہ کیاجارہے، غریب بلوچوں کی زمینوں پرقبضہ کیا جارہا ہے ، مہاجروں کی طرح بلوچوں کے بھی قبرستان بھردیے گئے ہیں، فوج کویہ ظلم بندکرناہوگااور بلوچستان کو آزادکرناہوگا، ہم آزاد بلوچستان کے حامی ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح آپ نوازشریف اورشہبازشریف کیلئے سڑکوں پر نکلے،اگر اسی طرح آپ مہاجروں اور بلوچوں کے قتل عام اوران پر ریاستی مظالم کے خلاف باہرنہ نکلے تو آپ بھی مہاجروں اور بلوچوں کے قتل عام میں برابرکے شریک تصورکئے جائیں گے۔ 


جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے پاکستان مردہ باد، پاکستان کونہیں بلکہ ملک میں جاری اس دہرے نظام کومردہ باد کہاتھاجس میں وڈیرے جاگیردار اور بااثر لوگوں کے لئے الگ قانون ہواورغریبوں کے لئے الگ قانون ہو۔میں چاہتاہوں کہ پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ ووڈیرانہ نظام ختم ہو، بے لگام سرمایہ دارانہ نظام ختم ہو، ہرکسی کوبلاامتیازرنگ ونسل وزبان ومذہب یکساں حقوق حاصل ہوں اورسب کوبرابرکاپاکستانی سمجھاجائے ۔ ہرپاکستانی خواہ وہ مسلمان ہو،ہندوہو، عیسائی ہو، سکھ ہو،پارسی ہو،خواہ اس کاتعلق کسی بھی فقہ، مسلک یامذہب سے ہو، سب کوپاکستان میں رہنے کاحاصل ہو، اسی طرح احمدیوں کوبھی پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان میں رہنے سہنے اورجینے کا پورا حق ملناچاہیے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ یہ دوہرامعیارہے کہ نوازشریف تو چور ہولیکن عمران خان جس کے بارے میں لاس اینجلس عدالت کافیصلہ موجودہے کہ وہ ناجائزبچی کاباپ ہے ،اس کوصادق اورامین قراردیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میںآئین وقانون، عدالت حکومت سب کچھ فوج کی جیب میں ہوتاہے ، وہ جسے چاہیں پاک صاف قراردیدیں اورجسے چاہیں نااہل اور غدارقراردیدیں۔انہوں نے کہاکہ بیشتر سیاسی شخصیات ، اینکرزاورتجزیہ نگار کی جانب سے کہاجاتاہے کہ پرویزمشرف نے نوازشریف کاتختہ الٹا لہٰذا انہیں پاکستان واپس لایاجائے اورغداری کے مقدمے میں سزادی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت تویہ ہے کہ جب 12 اکتوبر1999ء کو نوازشریف حکومت کا تختہ الٹاگیاتواس وقت پرویزمشرف تو طیارے میں تھے، حکومت کاتختہ تودیگرجرنیلوں نے الٹاتھالیکن اس اقدام میں شریک کسی بھی دوسرے جنرل کانام نہیں لیاجاتا ،اسلئے کہ پرویزمشرف مہاجر ہیں، یہ دوہرامعیاراورتعصب نہیں توکیاہے؟ایٹمی سائنسداں ڈاکٹرقدیر جنہوں نے پاکستان کوایٹمی قوت بنایا انہیںقید کیاگیااورانہیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کرپھینک دیاگیا اور ساراکریڈٹ ایک پنجابی ثمرمند کودیدیاگیا ، یہ تعصب نہیں ہے توکیاہے؟جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم نے پاکستان بنانے کیلئے 20 لاکھوں کی قربانی دی، پاکستان کی خاطراپنے گھربار، جائیدادیں، بزرگوں کی یادگاریں،سب کچھ چھوڑ دیا لیکن پاکستان میں ہم ہی اپنے حقوق سے محروم ہیں اورہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیساسلوک کیاجارہاہے، یہ ظلم ہے ، ناانصافی ہے اور جب تک الطاف حسین اوراس کاایک ایک سچا ساتھی زندہ ہے،ظلم وناانصافی کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی۔ جناب الطا ف حسین نے حاظرین سے اپیل کی کہ وہ تحریک کوجاری رکھنے اورقوم کے مصیبت زدہ لوگوں کی مددکے لئے حسب توفیق عطیات ضروردیں۔ 

*****










12/18/2018 5:23:18 AM