Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں پاکستان کا نہ کل مخالف تھا نہ آج ہوں ،مجھے یزیدی پاکستان نہیں حسینی پاکستان چاہئے جہاں ظلم نہ ہو۔الطاف حسین


میں پاکستان کا نہ کل مخالف تھا نہ آج ہوں ،مجھے یزیدی پاکستان نہیں حسینی پاکستان چاہئے جہاں ظلم نہ ہو۔الطاف حسین
 Posted on: 10/4/2018
میں پاکستان کا نہ کل مخالف تھا نہ آج ہوں ،مجھے یزیدی پاکستان نہیں حسینی پاکستان چاہئے جہاں ظلم نہ ہو۔الطاف حسین
پاکستان کو بچانے کیلئے پنجاب کے عوام کو میدان میں آنا ہوگا، پنجابی عوام کو امن ڈر اور خوف کی چادر کو اتا ر نا ہوگا 
میں سچ اور حق کی خاطر جدوجہد کر رہا ہوں،میں تمام مظلوموں کے لئے حقوق اورانصاف چاہتاہوں
جو نظریہ حق اور سچ پر مبنی ہو اس میں سچائی کی طاقت ہوتی ہے اوروہ نظریاتی پابندیوں اورجغرافیہ کی حدود سے آزادہوتاہے
میں 40 برسوں سے حق پرستی کی جدوجہد کررہا ہوں ،میری ہمت ، حوصلہ اور عزم آج بھی جوان ہے
ایم کیوایم کے دور میں کراچی میں امن قائم تھا، آج ڈکیتی،لوٹ مار،بچوں کے اغوااور جرائم روز کا معمول بن چکے ہیں
جرائم کی وارداتیں کرنے والے سب غیرمقامی ہیں ،انہیں رینجرز ،فوج اورپولیس کی سرپرستی حاصل ہے 
پشتون تحفظ موومنٹ کو عوامی مقبولیت مل رہی تھی لیکن پشتون رہنماؤں کو ایوانوں کی سیٹیں دیکر پشتونوں کی تحریک کو ختم کردیاگیا
اپنے حقوق کی جدوجہدکرنے والے بہادر بلوچ حریت پسندوں کو سلام تحسین پیش کر تا ہوں اوران بہادروں کی قدرکرتاہوں،
وقت آگیاہے کہ سب مظلوم قومیں ظلم وجبر کے خاتمے اوراپنے حقوق کے لئے مشترکہ جدوجہدکاآغازکریں۔ الطاف حسین
لندن ۔۔۔ 4اکتوبر 2018ء
ایم کیوایم کے بانی قائدجناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کا نہ کل مخالف تھا نہ آج ہوں لیکن مجھے یزیدی پاکستان نہیں حسینی پاکستان چاہئے جہاں ظلم نہ ہوبلکہ انسانوں کوکسی بھی امتیازکے بغیران کے حقوق حاصل ہوں۔پاکستان کو بچانے کیلئے پنجاب کے عوام کو میدان میں آنا ہوگا، پنجاب میں جاگیر دارنہ نظام اور جاگیر وں کے مظالم کے باعث عام غریب پنجابی بھی بولنے کی جرات نہیں رکھتا لیکن ایک نہ ایک دن پنجابی عوام کو امن ڈر اور خوف کی چادر کو اتا ر نا ہوگا ۔انہوں نے ان خیالات کااظہارآج صبح کارکنوں سے اپنے ہنگامی خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین کاخطاب پاکستان اوراوورسیزیونٹوں میں براہ راست سناگیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بعض اوقات قوموں پر گزرنے والے حالات طے شدہ وقت کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتے ہیں یا پھر انہیں اپنے مشن و مقصد ، کاز اور نظریہ کیلئے وقت کی پابندیوں سے آزا د ہونا پڑتا ہے۔ ہر دور میں کسی نظریہ کے ماننے والے کسی بھی مذہب، مسلک، قوم یا قومیت کے ہوسکتے ہیں، کسی بھی علاقے یاملک کے ہوسکتے ہیں ۔ جو نظریہ حق اور سچ پر مبنی ہو اس میں سچائی کی طاقت ہوتی ہے اوروہ نظریاتی پابندیوں کی حدود سے آزادہوتاہے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہر انسان کا اپنا ایک ذاتی نظریہ ہوتا ہے ، اگر نظریہ کی سچائی ہو تو پھروہ نظریہ عقیدے، مسلک یا جغرافیائی پابندیوں کی حدود اور رکاوٹیں عبور کر کے گھر گھر پہنچ جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ نیوٹن نے کشش ثقل کانظریہ پیش کیا، آر شمیدس نے نظریہ پیش کیاکہ ہرچیز وزن و حجم رکھتی ہے۔اسی طرح ایڈیسن نے الیکٹرون کانظریہ پیش کرکے بلب ایجاد کیا۔آج دنیابھرمیں عیسائی ہو، یہودی ہوہندو ہوں ،مسلمان ہو ،پارسی ہو ،بدھ مت کا ماننے والا ہو ، دیوبندی ہو بریلوی ہو ہندومت کا ماننے والا ہو گرونانک کا ماننے والا ہو یا پھر کوئی بھی مذہبی سوچ و فکررکھنے والاہو سب ہی بلب کی روشنی سے استفادہ کررہے ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ذولفقار علی بھٹوجوبظاہراپنے آپ کوبہت سوشلسٹ اورپروگریسو کہلاتاتھالیکن اس نے احمدیوں کو کافر قرار دے کراسے آئین کا حصہ بنادیا ۔میراسوال یہ ہے کہ جب آپ نے احمدیوں کوکافرقراردیدیاتوپھرکیاآپ  کامذہب یہ اجازت دیتاہے کہ 
اسے قتل کر دو، اس کے بچوں کو قتل کر دو اوران کی عورتوں کا اٹھا لیکر لے جاؤ؟ کیا قرآن میں اس کادرس دیاگیاہے؟ کیاسنت نبوی ؐ میں اس کادرس ہے ؟ حضورﷺنے جنگیں لڑی ہیں لیکن آپؐ نے لڑنے سے پہلے صحابہ کرامؓ کو در س دیا کہ فتح کرتے وقت درختوں کو مت کاٹنا ، بوڑھوں کو قتل مت کرنا ، عورتوں کو اور بچوں کو قتل نہیں کرنا ۔ بدقسمتی سے ہمارے علمائے سو مال سو غنیمت کی مثال دے کر اسے جائز قراردیدیں گے کہ عورتوں کو اٹھا لو، لڑکیوں کو اٹھا لو ،بچیوں کو بھی اٹھا لواور انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناؤ، یہ جائز ہے ایسی تمام حادیث واقعات غلط ہیں، غلط ہیں، غلط ہیں۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ آئی ایس آئی نے سعودی عرب سے مال دولت لے کر پاکستان کو مذہب کانام لے کر ٹکڑوں ٹولیوں میں تقسیم کر دیا ۔ پاکستان کی ISIاور فوج کے پیدا کر دہ گرو ہ جو سلفی مسلک ،سعودی عرب سے ملک میں نافذ کر نا چاہتے ہیں، انہوں نے ملک میں شیعوں کا قتل جائز قرار دے دیا،جو احمد یوں ،یہودیوں، عیسائیوں کے ساتھ ساتھ شیعوں، بریلویوں اوردیگرمسالک کے ماننے والوں کے
قتل کوجائز سمجھتے ہیں۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بعض لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ پٹھانوں کیلئے کیوں آواز اٹھاتے ہیں، بلوچوں کیلئے کیوں آواز اٹھا تے ہیں ، سندھیوں کیلئے کیوں اٹھا تے ہیں ،،ہزار ے وال اور گلگتیوں کیلئے آواز کیوں اٹھاتے ہیں جبکہ کوئی مہاجروں کے لئے آواز نہیں اٹھاتا۔میں سچ اور حق کی خاطر جدوجہد کر رہا ہوں،میں تمام مظلوموں کے لئے حقوق اورانصاف چاہتاہوں، میں احمدیوں ،سکھوں ،ہندؤں اور عیسائیوں کیلئے بھی آواز اٹھاتا ہو ں ۔ میں نے نہ صرف شیعہ سنی جھگڑا ختم کیابلکہ میں تو عیسائی مسلمان جھگڑا بھی ختم کرانا چاہتا ہوں ،یہودی مسلمان جھگڑا بھی ختم کرانا چاہتا ہوں میں تو ہندو مسلم جھگڑا بھی ختم کرانا چاہتا ہوں ،میں تو ہر مذہب کا جھگڑا ختم کرانا چاہتا ہوں اس لئے کہ میں قرآن مجید میں موجود اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’لکم دینکم ولی دین ‘‘ ، یعنی ’’ تمہار ا دین تمہارے ساتھ، میرا دین میرے ساتھ ‘‘ ۔ میں قرآن مجید کے اس فرمان پریقین رکھتاہوں کہ ’’ لااکراہ فی الدین ‘‘ ، یعنی ’’ دین میں کوئی جبر نہیں ‘‘ ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجیدمیں کہاگیا ہے کہ کسی پر ظلم مت کرو اور کسی کا ظلم وجبرمت برداشت کرو، نہ کسی کا بے جا قتل کرو۔ اگر کوئی طاقت ، دولت اور   انہوں نے کہاکہ آج کراچی اورپاکستان کے دیگرشہروں میں معصوم بچوں کو اغواء کرکے سفاکی سے قتل کیاجارہا ہے ،یہ بچے بھی کسی کے جگر گوشے تھے ، ان بچوں کے والدین کادکھ درد آپ کو بھی محسوس کرنا چاہیے اور اس ظلم کے خلاف ہرسطح پر آواز حق بلند کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ میں 40 برسوں سے حق پرستی کی جدوجہد کررہا ہوں اور میری عمر بڑھتی جارہی ہے لیکن میری ہمت ، حوصلہ اور عزم آج بھی جوان ہے ، میں کسی خوف کا شکارنہیں ہوں اورمیرے بہت دشمن ہیں لیکن آج بھی میری خواہش ہے کہ مجھے موت آئے تو شہادت کی موت آئے اور حسین ؑ کے نام کی لاج رکھ سکوں ۔ انہوں نے کہاکہ آپ اپنی جانیں بچانے کیلئے اپنا گھربار چھوڑ کربیرون ملک آئے تھے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنی قوم اورآنے والی نسلوں کیلئے میدان عمل میں کردار اداکریں اور یاد رکھیں ظالم سب سے زیادہ بزدل ہوتا ہے ۔ 
۔ انہوں نے کہاکہ سفاک قاتلوں نے بزدلی کامظاہرہ کرتے ہوئے 72 سالہ بزرگ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو بہیمانہ تشددکا نشانہ بناکر قتل کردیا ، اسی طرح ہزاروں ساتھیوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جاچکاہے ، ہمیں اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ر ہنی چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو اینکرپرسنز، سیاسی ودفاعی تجزیہ نگار ، کالم نگار مجھے بھارت اور را کا ایجنٹ قراردیتے ہیں وہ یہ بتائیں کہ انہوں نے آج تک سیتا وائٹ سے بغیرنکاح پیدا ہونے والی عمران خان کی بیٹی ٹیریان جیڈ کے حوالہ سے کسی ٹاک شو میں ، کسی مباحثہ میں ذکرکیوں نہیں کرتے۔ سچائی کو جان بوجھ کر چھپانے والے صحافتی بددیانتی کررہے ہیں۔ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو جھوٹی باتیں کرنے کے بجائے صحافت کا پیشہ چھوڑ دیتا ،کوئی اور پیشہ اختیار کرلیتا لیکن قلم کی حرمت کاسودا ہرگزنہیں کرتا۔ انہوں نے کہاکہ جو ذاتی مفادات کی خاطر قلم کی حرمت فروخت کردے وہ غیرت مند کہلانے کا مستحق نہیں ہوسکتا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرقوم کے غداروں نے شہیدوں کے لہو کا سودا کرکے مہاجراتحاد کو نقصان پہنچایا ، ان کے مفاد پرستانہ عمل کی وجہ سے آج آرمی چیف جنرل قمرباجوہ ، آئی ایس آئی اورفوج بڑے فخر سے کہتی ہے کہ ہم نے ایم کیوایم کو ختم کرکے کراچی میں امن قائم کردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ ایم کیوایم 

کے دور میں کراچی میں امن قائم تھا چوری ،ڈکیتی یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بند ہوگئی تھیں لیکن آج یہ جرائم روزکا معمول بن چکے ہیں اور وارداتیں کرنے والے سب کے سب غیرمقامی ہیں جن کا اس شہر سے کوئی تعلق نہیں ہے ،انہیں رینجرز ،فوج اوررینجرز ہائیڈرنٹ چلارہی ہے اوربجری کے ٹرک بیچ رہی ہے ۔

اورپولیس کی سرپرستی حاصل ہے ۔ شہر میں ڈکتیاں ، زمینوں پر قبضے ،چائنا کٹنگ اوردیگرکی سرپرستی کے ساتھ ساتھ فوج 
انہوں نے کہاکہ الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرہ لگایااور میں نے اپنی غلطی تسلیم کی لیکن میرے گھر پر تالا ڈال دیاگیا جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ( PTM)نے کھلے عام نعرے لگائے کہ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے فوجی وردی ہے‘‘ ، انہوں نے فوج کومغلظات بکیں لیکن کسی ایک پختون کے خلاف بھی غداری کا مقدمہ نہیں بنایاگیااورنہ ہی کسی ایک کے گھر پرتالا ڈالا گیا۔پشتون تحفظ موومنٹ کو عوامی مقبولیت مل رہی تھی لیکن پشتون رہنماؤں کو ایوانوں کی سیٹیں دیکر پشتونوں کی تحریک کو ختم کردیا گیا ۔
انہوں نے مزید کہاکہ جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کوعدالت نے عمرقید کی سزا سنائی توصوبہ پنجاب کے عوام نے’’ فوج مردہ باد‘‘ اور ’’آئی ایس آئی مردہ باد‘‘ کے نعرے لگائے لیکن نہ تو کسی کے خلاف ملک دشمنی کامقدمہ قائم کیاگیااور نہ ہی پنجاب کے کسی فرد کے گھر پر تالا ڈالا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح غریب سندھیوں کے حقوق کیلئے کوئی لیڈرشپ نہیں ہے اور جئے سندھ کے افراد آئی ایس آئی کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنی 40 سالہ جدوجہد کے دوران کبھی مہاجروں کے حقوق کا سودا نہیں کیا،الطاف حسین چالیس سال بعد عمر کے اس حصے میں کرپٹ جرنیلوں کے ہاتھوں اپنے ظرف وضمیرکا نہ توسودا کرے گا، نہ بکے گا اورنہ ہی جھکے گا۔
میں اپنے ظرف وضمیرکا سودا کرکے اپنے والد نذیر حسین مرحومؒ ، اپنی والدہ محترمہ خورشید بیگم مرحومہ ؒ ،اپنے دادا مفتی شہرآگرہ حضرت حافظ رمضان علیؒ اور ناناحضرت حافظ رحیم بخش ؒ کانام ہرگز بدنام نہیں کروں گا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں غریب پنجابیوں اورفوجی سپاہیوں کے خلاف نہیں بلکہ فوج کے کرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں، میں پاکستان کا نہ کل مخالف تھا نہ آج ہوں ، میںیزیدی پاکستان نہیں چاہتا بلکہ حسینی پاکستان چاہتا ہوں۔پنجاب میں جاگیر دارانہ نظام اور جاگیرداروں کے مظالم کے باعث عام پنجابی ظلم کے خلاف بولنے کی جرات نہیں رکھتا لیکن ایک نہ ایک دن پنجابی عوام کو امن ڈر اور خوف کی چادر کو اتا ر نا ہوگا ۔جناب الطاف حسین نے بچوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پرگہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بچانے کیلئے خاموشی سے اپنے اپنے علاقوں میں چوکیداری نظام قائم کریں اور24گھنٹے کی ڈیوٹیاں دیکر بچوں کے اغواء کی وارداتوں کو ناکام بنائیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے انصاف کی کوئی امید نہیں ہے
کیونکہ جو نوازشریف کو غدار قراردے اور مستند زانی عمران خان کو صادق وامین قراردے ایسے چیف جسٹس سے انصاف کی امیدکیسے کی جاسکتی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح میں نے بلوچوں کی تاریخ بیان کی اسی طرح میں طلباء کو مہاجروں کی تاریخ پربھی لیکچر کا آغاز کرنے والا ہوں اور پھر میں بتاؤں گا کہ فوج نے 1947سے لیکر آج تک ایک بھی جنگ نہیں جیتی ، انہوں نے غریب مہاجروں کومارا، غریب بلوچوں کو مارا، غریب پشتونوں اور سندھیوں کومارا،انہوں نے ہمیشہ اپنے ہی شہریوں سے جنگ کی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اپنے حقوق کی جدوجہدکرنے والے بہادر بلوچ حریت پسندوں کو سلام تحسین پیش کر تا ہوں اوران بہادروں کی قدرکرتاہوں، میں حق کی جدوجہدمیں اپنی جانیں قربان کرنے والے بلوچوں اور مہاجر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اورتمام مظلوموں سے یہی کہتا ہوں کہ اب صرف باتیں کرنے کاوقت نہیں بلکہ عمل کا وقت ہے،وقت آگیاہے کہ سب مظلوم قومیں ظلم وجبر کے خاتمے اوراپنے حقوق کیلئے مشترکہ جدوجہدکاآغازکریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ رابطہ کمیٹی کے اراکین اس کڑے اورمشکل وقت میں آج بھی میرے ساتھ کھڑے ہیں، میں انہیں سلام تحسین پیش کر تا ہوں اوردعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں وفاداراورثابت قدم رکھے اورانہیں صحت وتندرستی عطافرمائے۔
*****



10/15/2018 9:43:49 AM