Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بلوچستان میں فوج کشی کاسلسلہ بند کیاجائے ،بلوچستان کے مسئلے کومذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے، قائد تحریک الطاف حسین


بلوچستان میں فوج کشی کاسلسلہ بند کیاجائے ،بلوچستان کے مسئلے کومذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے، قائد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 9/16/2018
بلوچستان میں فوج کشی کاسلسلہ بند کیاجائے ،بلوچستان کے مسئلے کومذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے، قائد تحریک الطاف حسین
اپنی آزادی ،خودمختاری اورعزت کی زندگی کے لئے جدوجہدکرنے والے بلوچ غدار نہیں، الطاف حسین
غدار وہ ہیں جنہوں نے امن پسندبلوچ عوام کوریاستی مظالم کے ذریعے دیوار سے لگایاہوا ہے، الطاف حسین
بلوچستان ہمیشہ سے آزاد ریاست تھی ،بلوچ عوام کوان کا بلوچستان واپس ملنا چاہیے، الطاف حسین
اگر بلوچ عوام اپنی خوشی سے پاکستان کے ساتھ رہنا چاہیں تو ان کی مرضی ورنہ آزادی بلوچ عوام کا حق ہے، الطاف حسین
بلوچستان میں قدرتی گیس، پیٹرول اوردیگر معدنی ذخائرپرپاکستانی فوج نے قبضہ کررکھا ہے، الطاف حسین
منصوبے کی آڑمیں فوج نے پورا ملک بالخصوص صوبہ بلوچستان، چائنا کو فروخت کرڈالا ہے ، الطاف حسین
CPEC دراصل Country pack منصوبہ ہے اور اکنامک کوریڈور ، پاکستان پر چائنا کے قبضے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، الطاف حسین
اگریہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا، الطاف حسین
ہم کل بھی بلوچ عوام کے ساتھ تھے،آج بھی بلوچ عوام کے ساتھ ہیں اورہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گے، الطاف حسین
میں مظلوم قبائلی عوام سے بھی کہتا ہوں کہ الطاف حسین تمہارے ساتھ ہے ، پشتون عوام اپنے مشران کی باتوں میں نہ آئیں ، الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ بلوچ نوجوانوں کوعسکریت پسندی کاراستہ اختیار کرنے پر غدارقراردینے کے بجائے اس بات پر غورکیاجائے کہ وہ یہ راستہ اختیارکرنے پر کیوں مجبورہوئے،اپنی آزادی ،خودمختاری اورعزت کی زندگی کے لئے جدوجہدکرنے والے بلوچ غدار نہیں بلکہ غدار وہ ہیں جنہوں نے امن پسندبلوچ عوام کوریاستی مظالم کے ذریعے دیوار سے لگایاہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں فوج کشی کاسلسلہ بند کیاجائے ،بلوچستان کے مسئلے کومذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے بلوچستان کے تاریخی پس منظر کے سلسلے میں دیئے گئے چوتھے تحقیقی اور معلوماتی لیکچرکے موقع پر سوشل میڈیا کے ذریعہ بلوچ بزرگوں ، ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں ، نوجوان طلباوطالبات بالخصوص Millennials سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کا یہ خطاب پاکستان سمیت دنیا بھرمیں لاکھوں کی تعداد میں دیکھا اور سنا گیا۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ، میاں نوازشریف،میاں شہباز شریف،صاحبزادی مریم نواز، صاحبزادوں حسین نواز، حسن نواز، دیگر اہل خانہ اورمسلم لیگ ن کے رہنماؤں، کارکنوں اورہمدردوں سے دلی تعزیت کی اور بیگم کلثوم نواز کے بلند درجات کیلئے دعائیں بھی کیں۔ جناب الطاف حسین نے اپنے چوتھے لیکچر سے قبل گزشتہ تین لیکچرز کا خلاصہ بھی بیان کیااوربلوچستان کے تاریخی حقائق پر مبنی گزشتہ لیکچرز کوپسندکرنے پر بلوچ بھائیوں،ماؤں، بہنوں،بزرگوں، طلبہ وطالبات اوریوتھ کاشکریہ بھی ادا کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچوں کے حقوق کی آوازکودبانے کیلئے ان کی نسل کشی کی جارہی ہے اوربلوچ خواتین تک کوغائب کیاجارہاہے ،یہ عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان ہمیشہ سے آزاد ریاست تھی ، اگر بلوچ عوام اپنی خوشی سے پاکستان کے ساتھ رہنا چاہیں تو ان کی مرضی ورنہ آزادی بلوچ عوام کا حق ہے اوربلوچ عوام کوان کا بلوچستان واپس ملنا چاہیے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچستان پرقبضہ اورریاستی مظالم کی اصل وجوہات یہ ہیں کہ بلوچستان قدرتی وسائل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے ،وہاں تیل،گیس ،پیٹرول ،سونا اوردیگرمعدنیات کے ذخائرہیں جن پرپاکستانی فوج نے قبضہ کررکھا ہے ۔سینڈک اورریکوڈک جیسے منصوبوں کی آڑمیں بلوچستان کی دولت کوبرسوں سے لوٹاجاتارہاہے اور اب سی پیک CPEC کے نام پر بلوچستان کوچائناکے ہاتھوں فروخت کیاجارہاہے ۔ 

سی پیک (CPEC)کے نام پر بلو چستان پر قبضہ
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سی پیک یعنی ’’ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور‘‘ اربوں ڈالرز کا پروجیکٹ ہے،پاکستان کے عوام کوبے وقوف بنایاجارہاہے کہ اس منصوبہ سے پاکستان کی معاشی حالت بہترہوجائے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے منصوبے کی آڑمیں فوج نے پورا ملک بالخصوص صوبہ بلوچستان، چائنا کو فروخت کرڈالا ہے ۔CPEC دراصل Country pack منصوبہ ہے اور اکنامک کوریڈور ، پاکستان پر چائنا کے قبضے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اگریہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔ کرپٹ جرنیل اپنے مفادات کی خاطر پنجابیوں کو بھی پیک کرارہے ہیں ، جب چینی لوگ کسی گلی کے کتے کو نہیں چھوڑتے تو وہ صوبہ پنجاب کو کیسے چھوڑ دیں گے ۔ چائناقرضوں کی عدم ادائیگی پر زمبیا اور افریقہ کے ممالک پر قبضہ کرچکا ہے، پاکستان پر قبضہ کا پہلا اکھاڑا بلوچستان ہے ۔ آج الطاف حسین یہ حقائق پوری قوم کے سامنے رکھ رہا ہے ،اگر ان حقائق پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو کہیں ایسا نہ ہوکہ ساری زندگی پچھتاناپڑے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کوتجارتی منڈی نہیں بلکہ چائناکی کالونی بنایاجارہاہے،یہ ایسٹ انڈیاکمپنی کی جدید شکل ہے اورسی پیک منصوبے کیلئے چائنا کی ہرجائز اور ناجائز بات مانی جارہی ہے ،یہ منصوبہ بلوچستان میں ہے لیکن اس میں بلوچستان کے نمائندوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، ان کے اعتراضات اورتحفظات کونہیں سناگیا،بلوچوں کی مرضی اورمنشاء کے خلاف ان کے علاقوں کاسوداکرلیاگیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سب سے زیادہ حساس بات یہ ہے کہ بلوچستان کے بعض علاقے ایسے ہیں جہاں صرف چائنا کی اجارہ داری ہے، ان علاقوں میں پاکستان کی حکومت اور فوج اورانتظامیہ کی بھی کوئی عملداری نہیں ہے ،فوج کی جانب سے سی پیک کے روٹ یاسی پیک کے کسی منصوبے کے راستے میں بلوچوں کے جو بھی گاؤں یامکانات آرہے ہیں ان کاصفایا کیاجارہاہے جس کی وجہ سے لاکھوں بلوچ آئی ڈی پیز بنادیئے گئے ہیں ۔بلوچوں کی بستیوںیامکانات پر پہلے سیکوریٹی فورسز کی جانب سے حملہ کیاجاتاہے، نوجوانوں، بزرگوں، عورتوں بچوں کواٹھاکے لے جایا جاتا ہے، پھربلوچوں کے ان مکانات کولوٹ کرآگ لگادی جاتی ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ پاکستان کا کوئی کوئی ٹی وی چینل یہ دردناک مناظر نہیں دکھارہا اور نہ ہی کوئی اینکرپرسن اس موضوع پر ٹاک شو کررہا ہے۔اس موقع پر بلوچوں کے گاؤں اورمکانات کو نذرآتش کیے جانے والے واقعات کی وڈیو کلپ بھی دکھائی گئی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان ریاستی مظالم کے خلاف بلوچوں میں غصہ قطعی فطری ہے ، ان میں اس قدر غم وغصہ پایاجاتاہے کہ اب بلوچ نوجوان بھی ان مظالم کاسلسلہ بندکروانے کے لئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔اس موقع پر ایک بلوچ نوجوان کی شہادت پر اس کی بہن کی گفتگو کی وڈیو کلپ دکھائی گئی۔ جناب الطاف حسین نے گلوگیر ہوتے ہوئے کہاکہ میں بلوچ ماؤں اوربہنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جواپنی غیرت وحمیت کیلئے اپنے پیاروں کو قربان کررہی ہیں اورحریت پسندی کے اس جذبے سے اوورسیز ممالک میں مقیم مہاجروں کو سبق سیکھنا چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچ قوم کے نوجوانوں نے مسلسل ظلم کے خلاف عسکریت پسندی کاراستہ اختیارکیا توانہیں غدارقراردیاجارہاہے ،ارباب اختیار کوچاہیے کہ حریت پسند بلوچوں کو غدارقراردینے کے بجائے اس بات پر غورکیاجائے کہ وہ یہ راستہ اختیارکرنے پر کیوں مجبورہوئے ۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہاکہ اپنی آزادی ،خودمختاری اورعزت کی زندگی کے لئے جدوجہدکرنے والے بلوچ غدار نہیں ہیں بلکہ غدار وہ ہیں جنہوں نے امن پسندبلوچ عوام کوریاستی مظالم کے ذریعے دیوار سے لگایاہے۔ جناب الطاف حسین نے کاکہ ایم کیوایم نے 
بلوچوں کے حقوق کے لئے ہمیشہ آوازاٹھائی اوران پر ہونے والے ریاستی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور بلوچستان کے حقوق کے معاملے پر بلوچ رہنماؤں کے ساتھ ہمیشہ دوستی اوراحترام کارشتہ رہا۔ جب 1989ء میں بینظیربھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئی تومیں اس تحریک میں نواب اکبربگٹی کے ساتھ شریک رہا اوراس کے بعد بھی چھوٹے صوبوں کے حقوق کے معاملے پر ان کے ساتھ میرا تعلق اوررابطہ رہا۔ 2000ء میں بلوچستان کے رہنماؤں سردار عطاء اللہ مینگل اورمحمودخان اچکزئی سے لندن میں طویل ملاقاتیں رہیں،عطاء اللہ مینگل صاحب اورمحموداچکزئی صاحب ایم کیوایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ بھی تشریف لائے۔ان سے طویل ملاقاتوں میں بلوچستان کے مسئلہ کے حل،بلوچستان اورچھوٹے صوبوں کے حقوق کے حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیاگیا، چھوٹے صوبوں کے حقوق کے معاملے کواٹھانے کے لئے ایم کیوایم نے 17ستمبر2000ء کو لندن میں ایکٹن ٹاؤن ہال میں ایک بڑااجتماع منعقد کیا۔جس میں سردارعطاء اللہ مینگل، محمودخان اچکزئی، سندھ سے سائیں جی ایم سید کے صاحبزادے امدادمحمدشاہ مرحوم نے شرکت کی ۔اس تاریخی اجتماع کی قراردادوں میں بلوچستان اورچھوٹے صوبوں کے حقوق کاایشوبنیادی نکتہ تھا، اس میں ہم نے مطالبہ کیاتھاکہ بلوچستان اورچھوٹے صوبوں کی معدنیات اورتمام وسائل پران کاحق تسلیم کیاجائے، انہیں اس کی مکمل رائلٹی دی جائے اوردفاع، خارجہ اورخزانہ کے علاوہ تمام اختیارات صوبوں کومنتقل کئے جائیں۔ان قراردادوں کی تیاری کے لئے سردارعطاء اللہ مینگل اورمحمودخان اچکزئی سے طویل ملاقاتیں رہیں۔اس موقع پر مذکورہ قراردادکا عکس بھی دکھایاگیا۔

ڈاکٹرشازیہ خالد زیادتی کیس:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ بلوچستان میں جب جب کوئی بھی ظلم و زیادتی کاواقعہ ہوا۔ ایم کیوایم نے اس پر احتجاج کیا۔ 3جنوری 2005ء کو جب ڈیرہ بگٹی میں ایک بلوچ بیٹی ڈاکٹرشازیہ کے ساتھ زیادتی کاواقعہ پیش آیاتو ایم کیوایم نے اس پر شدیداحتجاج کیا، جب ڈاکٹر شازیہ خالد کی جان کوخطرہ لاحق ہواتومیں نے ذاتی کوششیں کرکے انہیں لندن بلوایااوران کامعاملہ انسانی حقوق کے اداروں تک پہنچایا۔ ایم کیوایم کے ہر اجتماع اورہرموقع پر میں نے بلوچستان میں کی جانے والی زیادتیوں اورمظالم کے خلاف آوازاٹھائی اور اپنے ہرخطاب میں ببانگ دہل ہمیشہ یہ کہتارہا کہ بلوچستان میں فوج کشی کاسلسلہ بند کیاجائے ،بلوچستان کے مسئلے کومذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے ۔2005ء میں جنرل پرویزمشرف کے دورمیں بھی فوج، بلوچستان میں آپریشن کرنے کافیصلہ کررہی تھی، ایم کیوایم اس وقت مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل تھی لیکن میں نے اس پرسخت احتجاج کیااورحکومت کومتنبہ کیاکہ اگر بلوچستان میں کوئی آپریشن کیاگیا تو ایم کیوایم ، حکومت سے باہر آجائے گی ۔ ایم کیوایم کے اس واضح الٹی میٹم کی وجہ سے اس وقت اسٹیبلشمنٹ کوبلوچستان میں آپریشن کافیصلہ واپس لیناپڑا ۔کئی مواقع پر بلوچستان میں فوجی آپریشن کے معاملے پرمیری جنرل پرویز مشرف سے فون پر سخت تلخی ہوئی اور میرے اصولی مؤقف پر نواب اکبربگٹی کے تعریفی بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ 11جنوری 2006ء کوڈیرہ بگٹی میں فوج کی بمباری اور 12افراد کی شہادت کے واقعہ پر ایم کیوایم نے احتجاج کیا ۔ نواب اکبر بگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی نے رابطہ کرکے وہاں ہونے والے مظالم کی تفصیلات بتائیں جبکہ میرانواب اکبربگٹی سے بھی کئی بار رابطہ ہوا جس پر ایم کیوایم نے ڈیرہ بگٹی کے واقعہ اوروہاں بلوچ عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیلات اکھٹا کرنے اورانہیں دنیا کے سامنے لانے کے لئے ایک ’’ فیکٹس فائنڈنگ مشن ‘‘ بلوچستان بھیجنے کااعلان کیا۔ تمام معاملات طے ہونے کے بعد یہ فیصلہ ہواکہ فیکٹس فائنڈنگ مشن 24جنوری 2006ء کوکراچی سے بلوچستان کے دورے پر روانہ ہوگاجس میں مختلف سیاسی جماعتوں، قومی وبین الاقوامی این جی اوزاور پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سمیت 70 سے 80 افراد شامل ہوں گے۔ پروگرام کے مطابق یہ مشن ڈیرہ بگٹی، سوئی ، کوہلو اوربلوچستا ن کے دیگر علاقوں کادورہ کرے گا تاکہ وہاں کے متاثرین سے مل کر ان کے بیان کردہ حقائق کی روشنی میں بلوچستان کے عوام پر ہونے والے مظالم کوقوم کے سامنے 
رکھ سکیں۔اس سلسلے میں قافلے کاروٹ بھی طے ہوچکاتھا۔انہوں نے مزید کہاکہ وفاقی حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں کی جانب سے فاروق ستار سے کہاگیا کہ آپ توحکومت کے اتحادی ہیں، یہ مشن بلوچستان کیوں بھیج رہے ہیں اور’’ آپ کیاوہاں ہمارے کپڑے اتارنے جارہے ہیں ‘‘۔ فاروق ستار نے یہ بات مجھے بتائی تو میں دوٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ چاہے کوئی بھی نتیجہ نکلے ہم یہ مشن بلوچستان ضرور بھیجیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ فیکٹس فائنڈنگ مشن بلوچستان بھیجنے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔ 23جنوری کی شام تک لاہور، اسلام آباد اوردیگرشہروں سے وفد کے ارکان کراچی میں ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپر پہنچ چکے تھے۔صبح اس مشن کوبلوچستان روانہ ہوناتھا۔ اچانک اکبربگٹی صاحب کے داماداورجمہوری وطن پارٹی کے ترجمان آغا شاہد بگٹی نے ایم کیوایم کے رہنماؤں کو فون کرکے منع کردیا کہ آپ فیکٹس فائنڈنگ مشن نہ بھیجیں۔شاہد بگٹی نے یہ تاویل پیش کی کہ بگٹی قبائل کے سردارایم کیوایم کے وفد کے اس دورے سے خوش نہیں ہیں۔ہم نے انہیں قائل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن آغا شاہد بگٹی اس بات پر بضدرہے کہ ایم کیوایم یہ مشن بلوچستان نہ بھیجے اوراگرآپ نے یہ مشن بھیجاتوہم اس میں کسی بھی قسم کاتعاون نہیں کریں گے اورآپ کی اپنی ذمہ داری ہوگی جس کی وجہ سے ہم نے فیکٹس فائنڈ نگ مشن کا دورہ منسوخ کردیا۔جناب الطاف حسین نے بلوچ عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ان حقائق سے آپ کو آگاہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں نے ہمیشہ بلوچوں اوردیگرمظلوم قومیتوں کے حقوق کی آواز بلند کی اوران پرڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اپنا بھرپورکردار ادا کیااور یہ حقیقت ہے کہ مجھ سے زیادہ بلوچوں کے حق میں آواز بلند کرنے والا پورے پاکستان میں کوئی سیاسی رہنما نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 3،اپریل 2009ء کو جب بلوچ رہنماؤں غلام محمد بلوچ ،لالہ منیراورشیرمحمد بلوچ کوتربت سے گرفتارکرنے کے بعد گولیاں مارکرشہید کیاگیا ۔توا س ظلم کے خلاف 12، اپریل 2009ء کو ایم کیوایم کے تحت کراچی میں ملین مارچ کیا، ملک بھرمیں تاریخی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کے احتجاجی مظاہروں کی وڈیوکلپ اور تصاویر بھی دکھائی گئیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں آج بھی اپنے ہر خطاب،ہربیان میں بلوچ عوام کے لئے آوازاٹھاتاہوں اوربلوچوں کامعاملہ اقوام متحدہ اورعالمی فورم پر اٹھانے کے سلسلے میں اپنا بھرپورکردار ادا کررہا ہوں۔میں نے اپنے ساتھیوں کویہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ اقوام متحدہ یاجس بین الاقوامی فورم پر جائیں وہاں مہاجروں کے ساتھ ساتھ بلوچوں پر ہونے والے مظالم کابھی ذکرکریں ۔جناب الطاف حسین نے بلوچ بزرگوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، نوجوانوں اورطلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہم کل بھی بلوچ عوام کے ساتھ تھے،آج بھی بلوچ عوام کے ساتھ ہیں اورہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گے اوربلوچ عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف آوازاٹھاتے رہیں گے۔ 

پشتون تحفظ موومنٹ (PTM):
جناب الطاف حسین نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ فوج نے دوبارہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف مظالم کا سلسلہ شروع کردیا ہے ، پشتون رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں ، ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ، پشتونوں کو گرفتارکرکے غائب کیاجارہا ہے ۔ آخر غریب پشتونوں کا کیاقصور ہے؟ انہوں نے کہاکہ میں مظلوم قبائلی عوام سے بھی کہتا ہوں کہ الطاف حسین تمہارے ساتھ ہے ، پشتون عوام اپنے مشران کی باتوں میں نہ آئیں ، یہ فوج کے ایجنٹ ہیں ، قبائلی عوام کے قتل اور انہیں گرفتارکرکے فروخت کرنے میں ملوث رہے ہیں ، پختونوں کو اپنے حقوق خود لینے ہوں گے ، اگر پشتون عوام اپنے مشران کے چکر میں رہے تو یہ پشتون رہنماؤں کو قتل کراکر اس کا پیسہ لیتے رہیں گے ، پشتونوں کو اس گلے سڑے نظام سے بغاوت کرنی ہوگی۔
*****

9/24/2018 9:57:40 PM