Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

محترمہ زہرہ شاہد کے قتل میں ایم کیوایم کے کارکنوں محمدراشد اورزاہدعباس زیدی کو سزا سراسرظالمانہ اورانصاف کاقتل ہے ۔ڈاکٹرندیم احسان


محترمہ زہرہ شاہد کے قتل میں ایم کیوایم کے کارکنوں محمدراشد اورزاہدعباس زیدی کو سزا سراسرظالمانہ اورانصاف کاقتل ہے ۔ڈاکٹرندیم احسان
 Posted on: 8/31/2018

محترمہ زہرہ شاہد کے قتل میں ایم کیوایم کے کارکنوں محمدراشد اورزاہدعباس زیدی کو سزا سراسرظالمانہ
اورانصاف کاقتل ہے ۔ڈاکٹرندیم احسان
محترمہ زہرہ شاہد کے قتل میں عمران خان اور تحریک انصاف کی مقامی قیادت ملوث ہے ۔ڈاکٹرندیم احسان
زہرہ شاہد تحریک انصاف کی مقامی قیادت کی جانب سے پارٹی خواتین کوجنسی ہراساں کرنے کی گھناؤنی کارروائیوں
کوبے نقاب کرناچاہتی تھیں۔ڈاکٹرندیم احسان
زہرہ شاہدنے پارٹی کی خواتین کوجنسی طورپرہراساں کرنے کی شکایت عمران خان، جہانگیرترین سے ای میلز میں کی تھی۔ڈاکٹرندیم احسان
زہرہ شاہد کی صاحبزادی نے بھی اپنی والدہ کے قتل کا الزام پی ٹی آئی پرعائد کیاتھا۔ڈاکٹرندیم احسان
عمران خان اورتحریک انصاف کی مقامی قیادت نے انہیں قتل کرایااور الزام ایم کیوایم پرلگادیاگیا۔ڈاکٹرندیم احسان
اگرصحیح تحقیقات کی جائیں تو ثابت ہوجائے گاکہ ایم کیوایم کے کارکنوں کو دی گئی سزاغلط ہے۔ندیم احسان
ماضی میں بھی حکیم سعید، شکیل اوج اورامجدصابری کے قتل کاالزام ایم کیوایم پر لگایاگیالیکن وہ غلط ثابت ہوئے۔ڈاکٹرندیم احسان
ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ہنگامی وڈیوبریفنگ سے خطاب

لندن ۔۔۔ 31 اگست 2018ء
ایم کیوایم کے کنوینرڈاکٹرندیم احسان نے خصوصی عدالت کی جانب سے محترمہ زہرہ شاہد کے قتل میں ایم کیوایم کے کارکنوں محمدراشد اورزاہدعباس زیدی کو سزائے موت کے فیصلے کی شدیدمذمت کی ہے اوراس فیصلے کوسراسرظالمانہ اورانصاف کاقتل قراردیاہے ۔ انہو ں نے یہ بات آج ایم کیو ایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ایک ہنگامی وڈیوبریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضا اوررابطہ کمیٹی کے رکن سفیان یوسف بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ محترمہ زہرہ شاہد کاقتل اسٹیبلشمنٹ کی ایک گہری سازش کاحصہ تھاجس کامقصد ایم کیوایم کوبدنام کرنااور اس کے خلاف آپریشن کاجوازپیداکرناتھا۔عمران خان اس سازش میں برابرکاشریک ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء کی انتخابی مہم کے دوران جب عمران خان کے گرکرزخمی ہونے کاواقعہ پیش آیاتوقائدتحریک الطاف حسین نے عمران خان سے تمام ترسیاسی ونظریاتی اختلافات کے باوجود ایم کیوایم کی انتخابی سرگرمیاں معطل کردیں لیکن الیکشن کے بعد جب محترمہ زہرہ شاہد کاقتل ہواتوعمران خان نے اس قتل کے فوری بعدہی اسپتال سے اپنے وڈیوبیان میں اس قتل کاالزام ایم کیوایم اورقائدتحریک الطاف حسین پر لگادیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کا محترمہ زہرہ شاہد کے قتل سے کوئی تعلق نہیں تھا، حقیقت یہ ہے کہ محترمہ زہرہ شاہد کے قتل میں عمران خان اور تحریک انصاف کی مقامی قیادت ملوث ہے کیونکہ محترمہ زہرہ شاہد تحریک انصاف کی مقامی قیادت کی گھناؤنی کارروائیوں کوبے نقاب کرناچاہتی تھیں، انہوں نے تحریک انصاف کے مقامی رہنمانعیم الحق اوردیگر مقامی قیادت کی جانب سے پارٹی کی خواتین کوجنسی طورپرہراساں کرنے کی شکایت عمران خان، جہانگیرترین سے اپنی ای میلز میں کی تھی۔ اپنی ای میلز میں انہوں نے اس بات کوبے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ بتایاتھاکہ جن خواتین کوجنسی طورپر ہراساں کیاگیاہے وہ اس بات کو میڈیاپرلاناچاہتی ہیں لیکن انہوں نے اس کوروکاہے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے اس بات کانوٹس نہیں لیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی تیارکردہ سازش کے تحت محترمہ زہرہ شاہد کوقتل کرادیااوراس کاالزام ایم کیوایم پر لگادیاگیا۔ وڈیوبریفنگ میں ایک نجی ٹی وی کے ایک ٹاک شوکی وہ کلپ بھی دکھائی گئی جس میں اینکرنے محترمہ زہرہ شاہد کی وہ ای میلز پیش کیں اورتحریک انصاف کے رہنماجہانگیرترین سے محترمہ زہرہ شاہدکی ان ای میلز کے حوالے سے سوالات بھی کئے لیکن جہانگیرترین ان سوالات کے جوابات نہ دے سکے اوربات کوادھرادھرگھمانے کی کوشش کرتے رہے ۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ محترمہ زہرہ شاہد کی صاحبزادی نازیہ حسین نے بھی فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں صاف اورواضح الفاظ میں اپنی والدہ کے قتل کا الزام پی ٹی آئی پرعائد کیاتھا۔محترمہ زہرہ شاہد کی صاحبزادی نے 2015ء میں پی ٹی آئی کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر منعقد کی گئی تقریب میں عمران خان کی جانب سے ایک لڑکی کوزہرہ شاہد کی بیٹی کے طورپرپیش کرنے پر بھی شدیدحیرت کااظہارکیاتھااوربتایاتھا کہ وہ لڑکی جسے پیش کیاگیاوہ نہ توخودہیں ، نہ ان کی بہن ہیں اوریہ سراسرجھوٹ ہے ۔اس موقع پر محترمہ زہرہ شاہدکی فیس بک اورٹیوئیٹرکی یہ پوسٹ بھی پیش کی گئیں۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ یہ تمام حقائق اس بات کوثابت کرتے ہیں کہ محترمہ زہرہ شاہد کے قتل سے ایم کیوایم کاکوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ قتل ایک گہری سازش کاحصہ تھا، ایک طرف تومحترمہ زہرہ شاہدپی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے پارٹی کی خواتین کوجنسی طورپر ہراساں کرنے کے حقائق کومنظر عام پرلاناچاہتی تھیں اسی لئے انہیں قتل کرکے انہیں راستے سے ہٹادیاگیااوراس کاالزام ایم کیوایم کی قیادت پرلگاکراسے بدنام کیاگیااوراس کے بے گناہ کارکنوں کوگرفتارکرکے ان پر تشددکرکے اپنی مرضی کے بیانات لے کرآج خصوصی عدالت سے انہیں سزادلوادی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی اس سزا کی شدیدمذمت کرتے ہیں اوراسے سراسرظالمانہ اورانصاف کاقتل قراردیتے ہیں۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر ایم کیو ایم کے خلاف اس طرح کی سازشیں پہلے بھی کرچکے ہیں، 1995ء میں عمران خان اورحمیدگل نے پاکستان کے ممتازفلاحی وسماجی رہنماعبدالستارایدھی پر دباؤڈالاگیاکہ وہ بینظیرحکومت کے خاتمہ کے لئے ان کی مددکریں، انہوں نے انکارکیاتوقتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ عبدالستارایدھی ان دھمکیوں کے باعث ملک چھوڑکر لندن چلے آئے تھے، انہوں نے لندن آکر میڈیاکو اس بارے میں ساری تفصیلات سے آگاہ کیااوریہ بیان دیاکہ مولاناصلاح الدین کی طرح انہیں بھی قتل کردیا جاتا اوراس کاالزا م ایم کیوایم پر لگادیاجاتا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کی کرمنلائزیشن پالیسی کے تحت ایم کیوایم کو بدنام کرنے اوراس کاامیج خراب کرنے کے لئے اس سے قبل بھی اس طرح کے کئی الزامات ایم کیوایم پرلگائے جاچکے ہیں۔1992ء میں فوج کی جانب سے ایم کیوایم پر جناح پورکاجھوٹاالزام لگایاگیا لیکن پھرآئی ایس پی آر کی جانب سے اسے واپس لیاگیااوربریگیڈیئر امتیاز نے خودمیڈیاپر بیان دیاکہ جناح پورکانقشہ سب ایک ڈرامہ تھا۔اسی طرح 1992ء میں بھی ایم کیوایم کے رہنماؤں اورکارکنوں پر میجرکلیم کے اغوااورتشددکاجوجھوٹاالزام لگاکرخصوصی عدالت سے جوسزادلوائی گئی وہ الزام بھی ہائیکورٹ میں غلط ثابت ہوا اور ایم کیوایم کے رہنماؤں اورکارکنوں کوباعزت بری کیاگیا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے مزیدکہاکہ محترمہ زہرہ شاہد کی طرح 1998ء میں کراچی میں ممتازسماجی شخصیت حکیم سعید کوقتل کرکے اس کاالزام ایم کیوایم کے کارکنوں پر لگادیاگیااورخصوصی عدالتوں سے ایم کیوایم کے کارکنوں کوسزابھی دلوائی گئی لیکن جب معاملہ ہائیکورٹ میں گیاتووہ سب جھوٹ ثابت ہوااورایم کیوایم کے کارکنوں کوباعزت بری کیاگیا، سپریم کورٹ نے بھی ایم کیوایم کے کارکنوں کوبری کرنے کافیصلہ برقراررکھا۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح پاکستان کے ممتازصوفی قوال امجدصابری کابہیمانہ قتل کرکے اس کاالزام بھی ایم کیوایم پر تھوپنے کی کوشش کی گئی ، ایم کیوایم کے کئی کارکنوں اورذمہ داروں کوگرفتار کیا گیا ، ان پر سرکاری حراست میں تشددکرکے قتل کااعتراف کرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی غلط ثابت ہوااوراس قتل میں کالعدم تنظیم کے دہشت گردملوث نکلے جنہیں گزشتہ دنوں پھانسی کی سزاد ی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسی طرح جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹرشکیل اوج کے قتل کاالزام بھی ایم کیوایم کے کارکنوں پر لگایاگیا جبکہ ان کے بیٹے نے ثبوت وشواہد کے ساتھ پولیس وسرکاری ایجنسیوں کوبتایاکہ ان کے والد کے قتل میں مذہبی انتہاپسند عناصر ملوث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ سارے واقعات اس بات کاثبوت ہیں کہ ایم کیوایم پر الزام لگاکراسے بدنام کیاجاتاہے ، محترمہ زہرہ شاہد کاقتل بھی ایسی ہی سازش کاحصہ تھا۔ اگرصحیح تحقیقات کی جائیں توساراسچ کھل کرسامنے آجائے گااورثابت ہوجائے گاکہ ایم کیوایم کے کارکنوں کواس کیس میں دی جانے والی سزاانصاف کاقتل ہے ۔ 
*****



11/12/2018 4:23:57 PM