Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آج پنجاب کے لوگ بھی فوج اورآئی ایس آئی کے خلاف کھل کربات کررہے ہیں اوراس کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔الطاف حسین


آج پنجاب کے لوگ بھی فوج اورآئی ایس آئی کے خلاف کھل کربات کررہے ہیں اوراس کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 7/23/2018

سرکاری ایجنسیوں کے بارے میں جوباتیں میں چالیس سال سے کہتارہاآج پورا پاکستان کہہ رہاہے۔الطاف حسین
جب میں فوج ، آئی ایس آئی اورسرکاری ایجنسیوں کے غلط اقدامات پرتنقید کرتاتھا تومجھے پنجاب کے لوگ غداراورملک دشمن کہتے تھے
آج پنجاب کے لوگ بھی فوج اورآئی ایس آئی کے خلاف کھل کربات کررہے ہیں اوراس کے خلاف نعرے لگارہے ہیں۔الطاف حسین
ایم کیوایم کے ہزاروں اسیرکارکنوں کی عدالتیں ضمانتیں نہیں کرتیں لیکن راؤانوار کو عدالت نے ضمانت منظورکرکے رہاکردیا
راؤ انوار کے پیچھے بھی وردی ہے، فوج اورآئی ایس آئی ہے ۔ عدالتیں فوج کے بوٹ کے نیچے دبی ہوئی ہیں ۔الطاف حسین
میرے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں اورپھرکہاجائے کہ آپ دوڑ کیوں نہیں رہے ہیں،کیایہ اصولی بات ہے؟الطاف حسین 
الیکشن سے قوم کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں، قوم کی بقاء اوراس کے حقوق کے لئے ہمیں عملی جدوجہدکرنی ہوگی۔الطاف حسین
وقت کاتقاضہ ہے کہ ہم ذاتی مفاد کے بجائے قوم کے اجتماعی مفادکیلئے کریں اور اپنی ذاتی اناکوچھوڑکرقوم کی اجتماعی انا کو فوقیت دیں
الیکشن کابائیکاٹ کریں،25جولائی کو گھروں میں بیٹھیں، اس دن چھٹی منائیں۔الطاف حسین
اگر رینجرز،پولیس زبردستی کرے اورجان کے خطرے کے پیش نظرووٹ ڈالنے کیلئے جانابھی پڑے توبیلٹ پیپرخراب کردیں
ایم کیوایم جرمنی کے زیراہتمام فرینکفرٹ میں منعقدہ اجتماع سے فون پر خطاب

لندن ۔۔۔ 23 جولائی 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں فوج ، آئی ایس آئی اورسرکاری ایجنسیوں کی غلط پالیسیوں اوراقدامات پرتنقید کرتاتھا تومجھے پنجاب کے لوگ غداراورملک دشمن کہتے تھے لیکن آج پنجاب کے لوگ بھی فوج اورآئی ایس آئی کے خلاف کھل کربات کررہے ہیں اوراس کے خلاف نعرے لگارہے ہیں، سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں جوباتیں میں چالیس سال سے کہتارہاآج وہ پورا پاکستان کہہ رہاہے۔انہوں نے یہ بات ایم کیوایم جرمنی کے زیراہتمام فرینکفرٹ میں منعقدہ اجتماع سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں کارکنوں اورہمدردوں نے شرکت کی جن میں نوجوانوں اوربزرگوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی شرکت کی ۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں کئی بر سوں سے بتاتارہاہوں کہ آئی ایس آئی اوردیگر سرکاری ایجنسیاں پاکستان کی سیاست میں ملوث ہیں، وہ ملک کے سیاسی معاملات پر اثر انداز ہورہی ہیں،یہ ایجنسیاں سیاسی جماعتوں کوبنانے، بگاڑنے ، لانے ہٹانے میں ملوث ہیں ، عدالتیں بھی ان سرکاری ایجنسیوں کے دباؤ میں ہیں، میری ان باتوں پر مجھے غداراورملک دشمن کہاجاتارہالیکن کل اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار سے اپنے خطاب میں کھل کرکہہ دیاکہ آئی ایس آئی والے عدالت پر دباؤ ڈال رہے ہیں، ساری گڑبڑآئی ایس آئی کررہی ہے، عدالت کوڈکٹیشن دے رہی ہے ۔ سول گورنمنٹ کے تمام لوگ بظاہرحکومت کے ماتحت ہوتے ہیں لیکن اصل میں وہ ہدایات فوج سے لیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہائیکورٹ کے ایک حاظر سروس جج کی جانب سے آئی ایس آئی کاباقاعدہ نام لیکر اس طرح کے حقائق بیان کرنا،نہایت انتہائی اہم ہے ، کل تک جب میں یہ باتیں کرتاتھاتومیری بات پرتوجہ دینے کے بجائے ہرپنجابی مجھے گالی دیتاتھاکہ یہ فوج کے خلاف ہے، یہ فوج اورآئی ایس آئی کے خلاف غلط بات کررہاہے، یہ انڈین ایجنٹ ہے ، جوفوج 
اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کرے گاوہ ملک دشمن ہوگالیکن مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کوعمرقید کی سزادیے جانے کے بعد پنڈی اورپنجاب کے دیگرشہروں میں کل بھی لوگوں نے سڑکوں پر ’’آئی ایس آئی مردہ باد ‘‘ ۔۔۔ ’’ خلائی مخلوق مردہ باد ‘‘ ۔۔۔ ’’ فوجی غنڈہ گردی نامنظور ‘‘ ۔۔۔ ’’ یہ جودہشت گردی ہے ، اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ ۔ کے نعرے لگائے اورآج بھی یہ نعرے لگے ۔ ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب میں یہ نعرے مہاجروں، پشتونوںیا بلوچوں نے نہیں بلکہ پنجابیوں نے لگائے ہیں۔ لوگ آج سمجھ رہے ہیں کہ کل تک جومیں کہتاتھاوہ سچ کہتاتھا۔ جومیں چالیس سال سے کہتارہاآج وہ پورا پاکستان کہہ رہاہے۔ انہوں نے حاظرین کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کواللہ تعالیٰ نے الطاف حسین کی شکل میں سچ بولنے والاایک قائد عطافرمایا۔میری پالیسیوں اور اقدامات پر سوال کرنے والوں کوچاہیے کہ وہ اس بات پر غورکریں کہ آج پنجاب کے لوگ فوج، آئی ایس آئی اورفوجی جنتا کے خلاف جو نعرے لگارہے ہیں ، یہی تومیں نے بھی کہاتھاکہ جہاں فوج ،رینجرز اورسرکاری ایجنسیاں بے گناہ لوگوں کاماورائے عدالت قتل کریں، انہیں پکڑ کرغائب کردیں، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکیں، جو72سالہ پروفیسرڈاکٹر حسن ظفر عارف تک کونہ بخشیں اورانہیں بھی حراست میں لیکرتشددکرکے سفاکی سے شہیدکردیں،ایساظلم کرنے والوں کوزندہ باد کس طرح کہاجاسکتا ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے ہاں انصاف کاعالم یہ ہے کہ بدنام زمانہ پولیس افسرراؤانوارنے 13جنوری کوجب پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو شہید کیا،اسی روزراؤ انوار نے نقیب اللہ محسود اوراس کے ساتھیوں کوبھی شہید کیا۔ اسی راؤ انوار نے ایم کیوایم کے متعددکارکنوں سمیت 400سے زائد بے گناہ لوگوں کوجعلی پولیس مقابلوں کے نام پر قتل کیا۔ اس کابیان ریکارڑ پر ہے کہ اس نے بینظیربھٹوکے دورحکومت میں کراچی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کارکن فاروق پٹنی اوراس کے ساتھیوں کوایئرپورٹ پرماورائے عدالت قتل کیا،تواس کے انعام کے طورپر بینظیرحکومت کی جانب سے اس کوجو بھاری رقم ملی تھی اس سے اس نے پہلا مکان خریداتھا۔ یہ صرف ایک شخص کاقاتل نہیں بلکہ 400سے زائدمعصوموں کاقاتل ہے ۔ ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکن آج تک لاپتہ ہیں، ہزاروں کارکن مختلف جیلوں میں قیدہیں، عدالتیں ان کی ضمانتیں نہیں کرتیں لیکن راؤانوارجوقاتلوں کاسردارہے ،اس کی عدالت نے صرف ضمانت ہی منظورنہیں بلکہ رہاکردیااورآج وہ رہاہوکرگھوم رہاہے، اس لئے کہ راؤ انوار کے پیچھے بھی وردی ہے، فوج اورآئی ایس آئی ہے ۔ عدالتیں فوج کے بوٹ کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہم قوم کی بقاء اوراس کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں،یہ جنگ آسان نہیں، پاکستان میں مہاجروں کااللہ اورا پنے مہاجروں کے سوااورکوئی نہیں ہے، ہم اپنی ماں بہن بیٹیوں کی باعزت اورآزاد زندگی چاہتے ہیں، ہمیں علیحدہ صوبہ دے کرمکمل اختیاردیناہوگا اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو ہم نے پاکستان بنایا، جب وہ ہمیں قبول نہیں کررہاتوہم بھی اپنے لئے ایک اورآزاد وطن بنانے کی جدوجہدکاآغاز کردیں گے۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایالیکن بانیان پاکستان کی اولادوں کوہی جائز حقوق سے محروم رکھاجارہاہے ۔انہوں نے مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کازکرکرتے ہوئے کہاکہ،آپ سندھ سیکریٹریٹ چلے جائیے ، وہاںآپ کو ایک مہاجرنہیں ملے گا، پورے سندھ کی بیوروکریسی، پولیس اور انتظامیہ کودیکھ لیجئے ،آپ کواس میں ایک مہاجر بھی نہیں ملے گا، کوٹہ سسٹم کے نام پر سرکاری ملازمتوں کی طرح مہاجروں پراعلیٰ تعلیم کے دروازے بھی بندہیں، مردم شماری میں کراچی کی آبادی تین کروڑسے ایک کروڑ 40لاکھ کردی گئی، آدھے مہاجرمائنس کردیے گئے ،اتنی دھاندلی دنیامیں کہیں ہوہی نہیں سکتی،حلقہ بندیاں ایسی کی گئی ہیں کہ تمام شہری علاقوں کوگوٹھوں اوردیہی علاقوں سے ملادیاگیاہے تاکہ مہاجرنمائندے کامیاب نہ ہوسکیں۔انہوں نے کہاکہ کیایہ سب کچھ مہاجروں کے ساتھ کھلی ناانصافی نہیں ہے؟انہوں نے سوال کیاکہ اس کھلی ناانصافی پر کمالوٹولہ کہاں ہے؟ فاروق ستارکہاں ہے؟ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر مارٹن کوارٹرز، کلیٹن کوارٹرز ، جہانگیر روڈاورایف سی ایریا کے مکینوں کوانکے گھروں سے غیرقانونی طورپر بیدخل کیاجارہاہے ، جبکہ میں نے کئی سال قبل ہی برسوں کی کوششوں کے بعد ان علاقوں کے لوگوں کومالکانہ حقوق دلادیے تھے،جسے ثاقب نثار نے کینسل کرکے ان کی بیدخلی کے احکامات دیدیے ہیں۔ اس پر فاروق ستارٹولے اورکمالوٹولے نے کونسااحتجاج کیا؟ مردم شماری اورحلقہ بندیوں میں مہاجروں کے ساتھ جوکھلی ناانصافی
اورزیادتی کی گئی اس پر کمالوٹولے اورفاروق ستارٹولے نے کونسی آواز اٹھائی؟آج کراچی میں پانی، بجلی ، گیس نہیں ہے، شہریوں کے لئے آنے والاپانی فوج کے کنٹونمٹ علاقوں میں جارہاہے ،لوگ پانی کی بوندبوند کوترس رہے ہیں لیکن یہ کمالو اوربہادرآبادوالے منرل واٹرپیتے ہیں، انہوں نے آئی ایس آئی کے ہاتھوں قوم سے جوغداری کی ہے اس کی قیمت انہیں مل رہی ہے ، یہ لوگ عیش کررہے ہیں، انہوں نے پوری قوم کی یونٹی کابیڑا غرق کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ
کمالوٹولے اوربہادرآباد ٹولے کے لوگوں سے پوچھوکہ یہ کل تک چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے، آج بڑے بڑے بنگلوں میں کیسے رہ رہے ہیں، کل تک ان کے پیروں میں پہننے کے لئے چپل نہیں ہوتی تھی ، آج یہ کروڑوں روپے کی مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، آخر ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ جبکہ میں نے آج کے دن تک نئی گاڑی نہیں لی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ماضی میں پاکستان میں رابطہ کمیٹی کے ارکان شہیدوں کے لواحقین،لاپتہ اوراسیرساتھیوں کی خبرگیری کرنے کے بجائے بدعنوانیوں، مال واسباب بنانے اورذاتی مفادات میں لگ گئے تومیں نے ان کی سرزنش کی کہ آپ کوقوم کازرہ برابر بھی احساس نہیں لیکن ان ضمیرفروشوں نے اپنی غلطیاں تسلیم کرنے اوراپنی اصلاح کرنے کے بجائے تحریک کے دشمنوں سے ہاتھ ملالیا، انہوں نے تحریک اورقوم سے غداری کی،تحریک کے نظریہ اور شہیدوں کے لہو کاسوداکرلیا اورآج قوم کوغلام بنانے کے عمل میں قوم کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ بائیکاٹ نہ کریں، بائیکاٹ کرنے سے دشمن جیت جائے گا،انہوں نے کہاکہ دشمن غدار سے زیادہ بہترہے، دشمن سے بات ہوسکتی ہے لیکن غدار سے بات نہیں ہوسکتی۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ دوسال سے نائن زیروبندہے، دوسوآفس بلڈوزکردیے گئے، آفسوں پر تالا،جونوجوان جئے الطاف حسین کانعرہ لگادے تو پورے علاقے کامحاصر ہ کرکے گرفتاریاں کی جاتی ہیں، کل بھی گلشن اقبال کے علاقے میں گرفتاریاں کی گئیں، ان حالات میں الیکشن میں کس طرح حصہ لیاجاسکتاہے؟اگر ان حالات میں ہم الیکشن میں حصہ لینے کافیصلہ بھی کرتے توکہاں آفس قائم کرتے؟،کارنرمیٹنگ کیسے کرتے؟ جب الطاف حسین کانام لینے ، نعرہ لگانے کی اجازت نہیں ہے توانتخابی مہم کیسے چلاتے؟انہوں نے کہاکہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں اورپھرکہاجائے کہ آپ دوڑ کیوں نہیں رہے ہیں،کیایہ اصولی بات ہے؟ میں دوڑسکتاہوں لیکن پہلے میرے ہاتھ پاؤں توکھولو۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے 1987ء سے ہرالیکشن میں حصہ لیا،اسمبلیوں میں گئے، پیپلزپارٹی،آئی جے آئی، مسلم لیگ ن،بینظیر، نوازشریف، زرداری سے معاہدے کئے، مسلم لیگ ق سے معاہدے کئے لیکن کسی نے معاہدے پرعمل نہیں کیا، سب نے جھوٹے وعدے کئے ۔ ان الیکشن سے ہمارے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قوم کی بقاء اوراس کے غصب شدہ حقوق کے لئے ہمیں عملی جدوجہدکرنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ آپ بلوچوں اور پشتونوں کودیکھئے ، اپنی قوم کی بقاء کے لئے دیگرقوموں کے لوگ مزاحمت کررہے ہیں، میدان عمل میں آکرجدوجہدکررہے ہیں ، ہمارے ہزاروں ساتھی شہید ہوگئے مگرہم انہیں بھول گئے اوراپنی زندگی میں مگن ہوگئے ۔ وقت کاتقاضہ ہے کہ ہم ذاتی مفاد کے بجائے قوم کے اجتماعی مفادکے لئے کریں اور اپنی ذاتی اناکوچھوڑکرقوم کی اجتماعی انا کو فوقیت دیں اورقوم کی بقاء اوراس کے حقوق کے لئے آگے آکرجدوجہدمیں حصہ لیں۔اپنے اپنے شہروں میں ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بات کریں،انہیں اپنی قوم پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کریں اورریاستی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ اورعالمی اداروں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کریں۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع کے شرکاء سے کہاکہ آپ پاکستان میں رہنے والے اپنے اپنے رشتہ داروں کوکہیں کہ وہ الیکشن کابائیکاٹ کریں،اس دن گھروں میں بیٹھیں، اس دن چھٹی منائیں، اگراس روز رینجرز،پولیس زبردستی کرے اورجان کے خطرے کے پیش نظرووٹ ڈالنے کے لئے جانابھی پڑے توبیلٹ پیپرخراب کردیں ۔اس موقع پر انہوں نے فوجی الیکشن کابائیکاٹ ، آئی ایس آئی کے الیکشن کا بائیکاٹ، غداروں پر لعنت کے نعرے بھی لگائے ۔ اس موقع پر ایم کیوایم جرمنی کے آرگنائزر افضال حسین نے بھی خطاب کیا۔ 
*****

12/11/2018 8:17:24 AM