Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میرے آباؤاجداد نے بنایاہے ، میں نے پاکستان کونہیں ظالمانہ نظام کومردہ بادکہاتھا۔ الطاف حسین


پاکستان میرے آباؤاجداد نے بنایاہے ، میں نے پاکستان کونہیں ظالمانہ نظام کومردہ بادکہاتھا۔ الطاف حسین
 Posted on: 6/10/2018
پاکستان میرے آباؤاجداد نے بنایاہے ، میں نے پاکستان کونہیں ظالمانہ نظام کومردہ بادکہاتھا۔ الطاف حسین
میں نے اس نظام کو مردہ باد کہاتھا جس میں لوگوں پر ظلم کیاجائے ، جہاں انصاف نہ ہو، قانون کی حکمرانی نہ ہو ۔ الطاف حسین
میں اپنے لوگوں کے لئے انصاف اوران کے حقوق مانگ رہاہوں لیکن حقوق مانگنے پر مجھے غدارکہاجارہاہے ۔ الطاف حسین
غدارمیں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جوعوام پر ظلم کررہے ہیں اورحقوق مانگنے پر انہیں ریاستی طاقت سے کچلنے پر تلے ہوئے ہیں
ہم دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ،مہاجروں کے لئے علیحدہ صوبہ لے کررہیں گے۔ الطاف حسین
ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا نام لینا جرم بنادیاگیا ہے ، وفاپرست کارکنان وعوام پرآئی ایس آئی ، فوج ، رینجرز اور پولیس نے عرصہ حیات تنگ کردیا ہے، ایسے حالات میں ایم کیوایم انتخابات میں کس طرح حصہ لے سکتی ہے؟ الطاف حسین
عوام شہیدوں کی قربانیوں کا سوداکرنے وا لے قوم فروشوں کواپنی گلیوں میں قدم نہ رکھنے دیں اوران کا سوشل بائیکاٹ کریں ۔الطاف حسین
کارکنوں اورہمدردوں سے اہم اور تفصیلی خطاب میں ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کااظہارخیال

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میرے آباؤاجداد نے بنایاہے ، میں نے پاکستان کومردہ بادنہیں کہابلکہ اس نظام کو مردہ باد کہاتھا جس میں لوگوں پر ظلم کیاجائے ، جہاں مظلوموں کے ساتھ انصاف نہ ہو، قانون کی حکمرانی نہ ہو ۔ میں اپنے لوگوں کے لئے انصاف اوران کے حقوق مانگ رہاہوں لیکن حقوق مانگنے پر مجھے غدارکہاجارہاہے ۔ غدارمیں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جوعوام پر ظلم کررہے ہیں اورحقوق مانگنے پر انہیں ریاستی طاقت سے کچلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار ہفتہ کوکارکنوں اورہمدردوں سے اپنے ایک تفصیلی اوراہم خطاب میں کیا۔ جناب الطا ف حسین کایہ تفصیلی خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے براہ راست نشرکیاگیا۔اپنے ساڑھے تین گھنٹے طویل خطاب میں جناب الطاف حسین نے قیام پاکستان کے بعدسے مختلف شعبوں میں مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں ،زیادتیوں اور حق تلفیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں مہاجروں کے قتل عام کے واقعات کوبھی بیان کیا ۔ انہوں نے ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن، حالیہ الیکشن اورمجموعی حالات کے بارے میں بھی تفصیلی اظہارخیال کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کی جدوجہدبرصغیرکے ان مسلم اقلیتی علاقوں میں چلی جوآج پاکستان میں شامل نہیں ہیں ۔ ان مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں اوروہ اپناسب کچھ چھوڑکرپاکستان ہجرت کرکے آئے ، ہجرت کے دوران ان کی ٹرینیں کاٹ دی گئیں لیکن پاکستان کے لئے اپناسب کچھ قربان کرنے والوں کوپاکستان میں برابرکے حقو ق نہیں ملے بلکہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیساسلوک کیاگیاجوآج بھی جاری ہے ۔جنرل ایوب خان نے مہاجروں کے بارے میں کہاکہ’’ مہاجروں کے لئے سمندرہے ‘‘ ۔ آج بھی فوج، رینجرز اورسرکاری ایجنسیوں کے اہلکارہمارے گھروں میں چھاپے مارتے ہیں توان کی جانب سے انتہائی نازیباسلوک کیاجاتاہے ، ہماری ماؤں بہنوں ،
نوجوانوں اوربزرگوں سے کہاجاتاہے کہ’’ تم لوگ ہندوستوڑے ہو، تم پاکستان کیوں آگئے، تمہاراپاکستان پر کوئی حق نہیں،تم واپس انڈیاجاؤ ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ان فوجیوں نے نہیں بلکہ ہمارے آباؤاجداد نے بنایا، ہمیں طعنے وہ لوگ دے رہے ہیں جنہوں نے تحریک آزادی کے دوران انگریزوں کی وفاداری کی،جنہوں نے قیام پاکستان کے لئے کوئی قربانی نہیں دی، جنہیں بنا بنایا پاکستان مل گیا ، آج یہ ہم مہاجروں کوغدارکہتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطرسب کچھ لٹادیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے ساز ش کے تحت بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوسلوپوائزن دے کرقتل کیا ، جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی اورانہیں زیارت سے کراچی لایاجارہاتھاتوان کے لئے ایک خراب ایمبولینس بھیجی گئی جوراستے میں خراب ہوئی اوروہ راستے میں ہی تڑپ تڑپ کرشہید ہوگئے ۔ اس کے بعد قائداعظم کے دست راست نوابزادہ خان لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں بھرے جلسے میں گولی مارکرشہیدکردیا گیا ۔جب جنرل ایوب خان نے1958ء میں ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیاتوقائداعظم کی ہمشیرہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کی آمریت کوچیلنج کیا ۔ اس پر جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح پر ملک دشمنی اوربھارت کاایجنٹ ہونے کاشرمناک الزام لگادیا۔ 1964ء کے صدارتی انتخابات میں عوام کے اصرارپر محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑاتو فوجی حکومت نے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیااورانہیں سازش کرکے ہرادیاگیا۔ چونکہ مہاجروں نے محترمہ فاطمہ جناح کاساتھ دیاتھااسلئے جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب کی سربراہی میں جشن فتح کے نام پر کراچی میں جلوس نکالاگیا اورمہاجروں کوسزادینے کے لئے مہاجربستیوں پر حملے کرائے گئے اور قتل وغارتگری کی گئی۔ اس کے بعد اسی فوجی حکومت نے ایک سازش کے تحت محترمہ فاطمہ جناح کوان کے گھرمیں قتل کردیااوراسے طبعی موت قراردیدیا۔ ان کے قتل کوچھپانے کے لئے ان کاپوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا اوران کا آخری دیدار تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی کابانی ذوالفقارعلی بھٹو جس نے اسکندرمرزاکے زمانے سے ہی اسٹیبلشمنٹ کیلئے کام کرناشروع کردیاتھااورجوجنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزیرخارجہ تھااورجنر ل ایوب خان کوڈیڈی کہتاتھا،اس نے فوج کے ساتھ ملکر1971ء میں پاکستان کودولخت کیا۔ 1970ء کے الیکشن میں سابقہ مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ نے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرلی تھی لیکن انہیں اقتدارنہیں دیاگیا بلکہ بھٹونے فوج کے کہنے پر ’’ ادھرہم ، ادھر تم ‘‘ کانعرہ لگایا۔ فوج نے بنگالیوں کی جماعت کواقتدارحوالے کرنے کے بجائے ان کے خلاف فوجی ایکشن کیا، لاکھوں بنگالیوں کاقتل عام کیا، بنگالی خواتین کی عصمت دری کی ۔ جنگ ہوئی اوربالآخر 16، دسمبر1971ء کوسقوط ڈھاکہ ہوا ، پاکستان کی 93ہزارفوج نے بھارت کی فوج کے سامنے ہتھیارڈال دیے اورسابقہ مشرقی پاکستان الگ ہوکربنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان ٹوٹنے کے اسباب جاننے کے لئے جسٹس حمودالرحمن کمیشن بنایاگیا لیکن اس کی رپورٹ سامنے نہیں آئی اورہتھیارڈالنے والی فوج کے خلاف ایکشن کرنے کے بجائے انعامات اور اعزازات سے نوازگیا، ہتھیارڈالنے ولے جنرل امیرعبداللہ خان نیازی کو’’ قوم کاغازی ‘‘ کہاگیا۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ 1950 ء میں لیاقت نہرو پیکٹ ہواتھا جس کے تحت سندھ میں ہندؤوں کی چھوڑی ہوئی متروکہ املاک پرہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کا حق تسلیم کیاگیاتھالیکن مہاجروں کویہ املاک نہیں دی گئیں بلکہ سندھی وڈیروں نے ان پر قبضہ کرکے غریب سندھیوں کو غلام بنالیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ 1972ء میں ذوالفقار بھٹو کے دورحکومت میں فوج کے کہنے پر لسانی بل پیش کیاگیا ۔ جب اردوبولنے والوں نے اس کے خلاف پرامن احتجاج کیاتوبھٹوحکومت نے ان پر گولیاں چلائیں اورکئی لوگوں کوشہیدکردیاجن کی قبریں آج بھی لیاقت آباد کی مسجد شہدا میں موجود ہیں۔اسی طرح اندرون سندھ میں بھی مہاجروں کاقتل عام کیاگیاجس کی وجہ سے اندرون سندھ سے مہاجروں کونقل مکانی کرنی پڑی۔1973ء میں بھٹوحکومت نے سندھ میں دیہی اورشہری کوٹہ سسٹم نافذ کیا۔ اس طرح شہری سندھ میں رہنے والے مہاجروں پرسرکاری ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے۔ دیہی علاقے دوسرے صوبوں میں ہیں لیکن دیہی شہری کوٹہ سسٹم کسی اورصوبہ میں پیش نہیں کیابلکہ صرف سندھ میں پیش کیاگیا۔اسی کوٹہ سسٹم کی وجہ سے آج سندھ کے سرکاری اداروں میں مہاجرڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، سندھ سیکریٹریٹ میں چپراسی سے لیکرچیف سیکریٹری تک سب 
غیرمہاجرہیں۔ جب مہاجر اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں اورعلیحدہ صوبہ کامطالبہ کرتے ہیں تومتعصب سندھی خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اورمہاجروں کے لئے علیحدہ صوبہ لے کررہیں گے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھیوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ماضی میں سندھ ، انڈیاکاحصہ تھا۔ مہاجروں کے آباواجداد نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں جانی ومالی قربانیاں دی تھیں تو پاکستان آزاد ہوا اور سندھیوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات ملی تھی ۔ سندھیوں کو بھی مہاجروں کا احسان مند ہوناچاہیے کہ ان کے آباواجداد کی قربانیوں سے سندھیوں کو آزادی ملی ہے ۔ ہم سندھ میں کسی کا حق مارنے کی بات نہیں کرتے بلکہ متروکہ املاک کی بات کرتے ہیں جو انڈیا سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجروں کا حق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کئی دہائیوں سے سندھ پر حکومت کرتی چلی آرہی ہے لیکن آج تک غریب سندھیوں کے بنیادی مسائل حل نہیں کئے گئے ، لاڑکانہ سمیت اندرون سندھ کے غریب سندھی عوام آج بھی پینے کے صاف پانی ، علاج ومعالجہ اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور غریب سندھی عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جاگیرداروں اوروڈیروں کی جماعت پیپلزپارٹی کے چنگل سے نجات حاصل کرے اورآئندہ الیکشن کا بھرپوربائیکاٹ کرے۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے سندھی مہاجریکجہتی اوربھائی چارے کے لئے اپنے گھرعزیزآبادسے سندھیوں کوایم این اے ، ایم پی اے بنایا، لاڑکانہ کے نوجوان کوسینیٹربنایا لیکن آج تک کسی قوم پرست نے لاڑکانہ سے کسی مہاجرکومنتخب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہاکہ سندھ میں سائیں جی ایم سید کے بعد کوئی لیڈرپیدانہیں ہوا، جوسامنے آیا فوج نے اسے قتل کرادیا، فوج نے آج تک سندھ میں وڈیروں کی نجی جیلوں پرچھاپہ نہیں مارا جہاں غریب ہاریوں کوغلام بناکررکھاجاتاہے، اسی طرح پنجاب، بلوچستان میں بھی جوجاگیرداراوربڑے بڑے سردار ہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی جوغریب کسانوں کو ننگاکرکے ان کے جلوس نکالتے ہیں اوران پر ظلم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غریب سندھی ہاری جب تک ان ظالم وڈیروں کے خلاف جدوجہد نہیں کریں گے وہ اسی طرح غلام بنے رہیں گے، اسی طرح مظلوم بلوچوں اورپشتونوں کو بھی اس ظلم کے خلاف اٹھناہوگا اوراپنے ظالم کوپہچانناہوگا۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ قائداعظم محمدعلی جناح کابنایاہواپاکستان تو1971 ء میں دولخت ہوگیا، موجود ہ پاکستان فوج کاپاکستان ہے ، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں بلکہ ’’ اسلامی جمہوریہ فوجستان ‘‘ ہے ،یعنی یہ فوج کاملک ہے، جوہوگا فوج کی مرضی سے ہوگا، حکومت، پارلیمنٹ،سیاست فوج کی مرضی سے چلے گی، جمہوریت بھی فوج کی ہوگی اوروہ جس کوچاہے گی اسی کی حکومت بنے گی جیسے آج فوج عمران خان کی حکومت لانے کی پوری کوشش کررہی ہے ،فوج کا کام ملک کادفاع کرناہے لیکن وہ سیاسی شخصیات، سرمایہ داروں، تاجروں، صنعتکاروں اوردیگرلوگوں پر دباؤڈال کرانہیں پی ٹی آئی میں شامل کروارہی ہے ، پی ٹی آئی کی حکومت لانے کیلئے پورے الیکشن کوانجینئرکیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی فوج نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی ، ہرجنگ میں شکست کھائی، ہتھیارڈالے،البتہ سندھ، بلوچستان اورقبائلی علاقوں میں اپنے ہی نہتے ہم وطنوں کے خلاف طاقت استعمال کی اوراپنے ہی شہروں کوفتح کرنے کی کوشش کی۔ فوج نے غیروں کی خوشنودی کے لئے اردن میں فلسطینی مسلمانوں کاقتل عام کیا، صومالیہ میں مسلمانوں کاقتل کیااورآج سعودی عرب کے کہنے پر یمن کے مسلمانوں کاقتل کررہی ہے ۔ فوج کی اکثریت کاتعلق پنجاب سے ہے اوراس فوج نے اپنے ظلم اورظالمانہ اقدامات سے پنجابیوں کوبھی بدنام کیاہے ۔ فوج کے جرنیل بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ اورافسروں سے ملاقاتیں کریں، ان کے ساتھ شرابیں پی کرانہیں حساس معلومات دیں لیکن وہ پھر بھی ملک کے وفادارٹھہریں اورالطاف حسین جوغریب ومظلوم عوام کے حقوق اورانصاف کیلئے آوازاٹھائے تواسے غدارقراردے دیاگیا،اس کی تحریروتقریر اور تصویر پر پابندی عائدکردی، اس لئے کہ وہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر جرنیل را کے سربراہوں سے ملاقات کے لئے یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ یہ ہماراکام ہے ، توپھر میں بھی سیاستدان ہوں، ایک سیاسی رہنماکی حیثیت سے میں بھی کسی امریکی، برطانوی، ہندو، یہودی کسی سے بھی مل سکتاہوں، پھرمیرے ملنے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہوناچاہیے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں بھارت کے سیاسی لیڈروں سے کہتاہوں کہ ہمارے 
آباؤاجداد صدیوں سے آپ کے ساتھ ہندوستان میں رہتے آئے تھے،لیکن آج ہم پرظلم ہورہاہے توبھارت کاکوئی لیڈرمہاجروں پرہونے والے ظلم پر آواز نہیں اٹھارہاہے،ان کے اسی متعصبانہ رویہ کی وجہ سے پاکستان بنا، اس رویہ کوبدلاجائے اوراپنے بھائیوں پر ہونے والے مظالم پر آوازبلند کی جائے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھ سے کہاجاتاہے کہ آپ نے پاکستان مردہ باد کانعرہ کیوں لگایا؟ انہوں نے کہاکہ مجھ سے مردہ باد کاسوال کرنے والے پہلے مجھے بتائیں کہ ہمارا قصور کیاہے؟ کس جرم میں ہمارا قتل عام کیاگیا؟ میرے 22ہزار ساتھیوں کوکس جرم میں ماورائے عدالت قتل کردیاگیا؟ میرے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین کوکس جرم میں گرفتارکرکے سفاکی سے شہیدکیاگیا؟ بزرگ فلاسفرڈاکٹرحسن ظفرعارف کوکس جرم میں گرفتارکرکے تشدد کرکے قتل کیاگیا؟ہم پر تو اس قدرظلم کیاگیاکہ ہمارے نوجوانوں اوربزرگوں کو شہیدوں کے جنازے تک دفنانے کی اجازت نہیں دی گئی اورخواتین کونمازہ جنازہ اداکرکے جنازوں کو کاندھادیناپڑا۔ جب نوجوانوں کوبیدردی اورسفاکی سے قتل کیاجائے گا، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جائیں گی اورانکے گھروالوں کوانصاف نہیں ملے گا توپھر میں اس بات پر زندہ باد کیسے کہوں؟ انہوں نے کہاکہ پاکستان میرے آباؤاجداد نے بنایاہے ، میں نے پاکستان کومردہ بادنہیں کہابلکہ اس نظام کو مردہ باد کہاتھا جس میں لوگوں پر ظلم کیاجائے ، جہاں مظلوموں کے ساتھ انصاف نہ ہو، قانون کی حکمرانی نہ ہو ۔ میں اپنے لوگوں کے لئے انصاف اوران کے حقوق مانگ رہاہوں لیکن حقوق مانگنے پر مجھے غدارکہاجارہاہے ۔ غدارمیں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جوعوام پر ظلم کررہے ہیں اورحقوق مانگنے پر انہیں ریاستی طاقت سے کچلنے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، جنرل قمرباجوہ اوردیگر جرنیلوں کے نام لے لے ان سے معافی مانگی، انہیں خطوط لکھے لیکن میری فریادوں کوسننے کے بجائے مجھے غدارکہاجاتاہے ۔ 
جناب الطا ف حسین کہاکہ بعض ٹی وی اینکرزاورتجزیہ نگار اکثرکہتے ہیں کہ جن پولیس والوں نے کراچی میںآپریشن کیاانہیں ایم کیوایم والوں نے ماردیا۔یہ الزام سراسر جھوٹاہے ، میں نے کبھی نوجوانوں کوکسی کومارنے کی تعلیم نہیں دی لیکن اگرکسی کوانصاف نہیں ملااوران کے کسی گھر کے فرد نے انصاف نہ ملنے پر کسی کوپولیس والے کوماراتو الزامات لگانے والوں کویہ سوچناچاہیے کہ اس نے ایساکیوں کیا اگر اسے انصاف مل جاتاتووہ قانون ہاتھ میں کیوں لیتا؟ انہوں نے کہاکہ قرآن میں بھی ہے کہ قتل کابدلہ قتل، ہاتھ کابدلہ ہاتھ، کان کابدلہ کان۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں بدنام زمانہ پولیس افسر راؤ انوار نے اپنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ وہ ایک غریب انسان تھا لیکن ایم کیوایم کے کارکنان فاروق پٹنی اور اس کے ساتھیوں کے پولیس مقابلے میں قتل کے انعام کے طورپر پیپلزپارٹی کی حکومت نے انہیں جو خطیر رقم دی تھی اس رقم سے اس نے اسلام آباد میں گھرخریدا تھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ فاروق پٹنی اور دیگرتین کارکنان کو بھی راؤ انوار نے ماورائے عدالت قتل کیاتھا۔ فاروق پٹنی اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ہمراہ اپنی سسرال گئے تھے تاکہ اپنی حاملہ بیوی کو دیکھ سکیں لیکن مخبری ہوگئی ، نہ صرف ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتارکیاگیا بلکہ فاروق پٹنی کی اہلیہ شازیہ فاروق کو بھی تشددکا نشانہ بناتے ہوئے گرفتارکرکے اڈیالہ جیل میں قیدکردیا اور فاروق پٹنی کی بیٹی کی ولادت اڈیالہ جیل میں ہی ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ یہ کیساانصاف ہے کہ انصاف مانگنے والے جیلوں میں اذیتیں برداشت کررہے ہیں اور سینکڑوں بے گناہوں کاقاتل راؤ انوار اپنے گھرمیں عیش سے رہ رہاہے اسلئے کہ راؤ انوارنے فوج اورآصف زرداری کے کہنے پرسینکڑوں مہاجروں کاقتل عام کیا ، مرتضیٰ بھٹوکوقتل کیا ۔ اسی کے ذریعے بینظیرکے قتل کے گواہ خالد شہنشاہ اوربلال شیخ کو قتل کرایاگیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بینظیربھٹوکاقتل ایک سازش کے تحت کیاگیا، بینظیرکی شہادت کے بعد پیش کی جانے والی وصیت بھی جعلی ہے کیونکہ بینظیربھٹو ایک پڑھی لکھی اورسمجھدار خاتون تھیں، وہ اگرکوئی وصیت تیارکرتیں تواسے اپنے بچوںیاوکلاء کے حوالے کرتیں لیکن دعویٰ کیاگیاکہ انہوں نے وصیت گھر کی نوکرانی کے پاس رکھوائی تھی ۔ یہ سب پیپلزپارٹی پرقبضہ کرنے کی سازش تھی۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثاراسپتالوں کے دورے کررہے ہیں، میں انہیں اللہ اوررسول ؐ کاواسطہ دیتاہوں کہ وہ نچلی عدالتوں،جیلوں، تھانوں اورسرکاری حراستی مراکز کا دورہ کریں جہاں برسوں سے لوگ جھوٹے مقدمات اورالزامات میں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں اوران کے اہل خانہ انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اوران 
کی فریاد سننے والاکوئی نہیں ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مہاجروں پر ظلم ہورہاہے ، پشتونوں، بلوچوں اوریگرمظلوموں پر ظلم ہورہاہے ، لہٰذا اب قوم کے نوجوانوں کو اس ظلم کے خلاف آگے آناہوگاکیونکہ قوم کامستقبل اب نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ عدالت نے میری تحریر وتقریر پرچھ ماہ کیلئے پابندی عائد کی تھی لیکن یہ پابندی آج کے دن تک ختم نہیں کی گئی ہے ، عدالت میں میرا مقدمہ لڑنے والی عاصمہ جہانگیرصاحبہ کو قتل کردیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ عاصمہ جہانگیرفوج کی غلط پالیسیوں کے خلاف کھل کرآوازبلندکرتی تھیں انہیں بھی سازش کے تحت قتل کرایاگیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی کہ عاصمہ جہانگیر کے قتل کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی پاکستان بھیجی جائے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سینکڑوں لاپتہ افراد کی پٹیشنیں عدالتوں میں داخل ہیں مگرعدالت کی جانب سے آج تک نہ تو کسی لاپتہ کارکن کو بازیاب کرایاگیااورنہ ہی پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیاگیا۔پاکستان کے چوٹی کے فلاسفر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے قاتل آج تک قانون کی گرفت سے محفوظ ہیں لیکن نسل پرست اینکرپرسنز اور تجزیہ نگاروں کی جانب سے کبھی ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کے ماورائے عدالت قتل کا تذکرہ نہیں کیا جاتا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 444سے زائد افرادکے ماورائے عدالت قتل میں ملوث راؤ انوار کو وی آئی پی پروٹوکول دیاجاتا ہے اورہزاروں طلباوطالبات کو زیورعلم سے آراستہ کرنے والے عظیم پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو گرفتارکرکے انکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی جاتی ہیں ، سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کیلئے ان پر شدیددباؤ ڈالاجاتا ہے اور الطاف حسین کا ساتھ چھوڑنے سے صاف انکارکرنے پر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو تشددکا نشانہ بناکر شہید کردیا جاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے نوجوان طلباوطالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی طاقت کا ناجائز کرکے مہاجروں کے انسانی حقوق بری طرح پامال کیے جارہے ہیں ، مہاجروں کو آئینی ، قانونی اورجمہوری حقوق سے محروم کیاجارہا ہے ،وفاپرست کارکنان وعوام پر عرصہ حیا ت تنگ کردیاگیا ہے، آج بھی فوج، آئی ایس آئی ، رینجرز اورپولیس گھرگھر چھاپے ماررہی ہے لیکن میرا آج بھی عزم ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں مہاجروں سمیت تمام مظلوم قومیتوں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھوں گااورظالم وجابرقوتوں کے آگے ہتھیارہرگز نہیں ڈالوں گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مردم شماری، حلقہ بندیاں اورالیکشن فوج کی نگرانی میں ہورہے ہیں ، مہاجروں کو حق نمائندگی سے محروم رکھنے کیلئے اس مرتبہ بھی مردم شماری میں دھاندلی کی گئی ہے اورساڑھے تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہرکی دوکروڑ آبادی چھپادی گئی ہے، من پسند حلقہ بندیاں کرکے شہریوں کے مینڈیٹ پرڈاکہ ڈالاجارہا ہے لیکن مہاجرقوم کے غدار کمالو گروپ، پی آئی بی اوربہادرآباد ٹولہ مہاجرقوم اورآنے والی نسلوں کے مستقبل کے خلاف اس گھناؤنی سازش میں آئی ایس آئی اوردیگرمہاجردشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان پر عملاً فوج کی حکومت ہے ، پاکستان کی فوج دنیا کی واحد فوج ہے جوبراہ راست کاروباربھی کرتی ہے ، جس کی اپنی کوکاکولاکمپنی ہے ، گھی ،سیمنٹ، شوگراورفرٹیلائزر کی فیکٹریاں ہیں، ڈیری کے کاروبار ہیں، عسکری بنک سنا تھا اوراب عسکری گوشت بھی آگیاہے ۔ پورے ملک میں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ، پورا ملک فوجستان بناہوا ہے ، ملک کے اہم ادارے بشمول عدلیہ اور صحافت فوج کے ماتحت ہیں ، اگریہی حال رہا عوام کو باتھ روم جانے اورپانی پینے بھی فوج کی مرضی سے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کہاگیا ہے کہ الیکشن کی مانیٹرنگ کیلئے غیرملکی مبصرین پاکستان نہیں آئیں گے لیکن میں واضح کردوں کہ عالمی مبصرین پاکستان ضرورآئیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین اورایم کیوایم کو غدار قراردیاجاتا ہے ، جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کریں توجائز ہے ، الطاف حسین ان سے رقم لینے سے انکارکردے تو غدار قراردیاجاتا ہے اور جو ان جرنیلوں سے رقم لے لے وہ محب وطن قراردیاجاتا ہے ۔ جنرل اسد درانی اپنی کتاب میں بتائیں کہ اسامہ بن لادن کا پتہ امریکیوں کو کس نے دیا تووہ جائز ہے اور الطاف حسین حقائق بیان کرے تو وہ ناجائز قراردیاجاتا ہے ۔ فوج نے پاکستان دولخت کردیاوہ محب وطن ہے ، فوج کی جانب سے سیاسی جماعتیں بنانے بگاڑنے کا عمل جائز ہے ، 
غداروں کے ٹولے بنانا جائز ہے ، فوج کے افسران تاجروں اورصنعتکاروں کو فون کرکے دھمکیاں دیکر عمران خان اورکمالو کورقوم دلوائے تو وہ جائز ہے اورایم کیوایم چندہ جمع کرے تو وہ ناجائز ہے۔ ڈی ایچ اے یا کراچی کے دیگر علاقوں کی قیمتی زمینیں کوڑیوں کے مول فروخت کی جارہی ہے ، اسی طرح پانی کے ٹینکراورہیروئن کے کاروبارمیں بھی رینجرز اورفوج ملوث ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ الیکشن آرہے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ فوج کی جانب سے ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپر تالاڈال دیاگیاہے ، خورشیدبیگم سیکریٹریٹ اور ایم پی اے ہاسٹل بند ہے ، کراچی اور سندھ کے مختلف شہروں میں ایم کیوایم کے مسمارکیے جاچکے ہیں ، خواتین تک کو یادگارشہدائے حق جانے اور فاتحہ خوانی کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ، یوم شہدائے حق منانے والی خواتین پر رینجرزکے اہلکار بندوقیں تان لیتے ہیں ، ان پر آنسوگیس ، لاٹھی چارج اور فائرنگ کرتے ہیں اور کسی کو بھی یادگارشہدائے حق اور شہداء قبرستان جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرکے مہاجروں کے بنیادی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے ۔ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا نام لینا جرم بنادیاگیا ہے ، وفاپرست کارکنان وعوام پرآئی ایس آئی ، فوج ، رینجرز اور پولیس نے عرصہ حیات تنگ کردیا ہے، ایسے حالات میں ایم کیوایم انتخابات میں کس طرح حصہ لے سکتی ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مجھے وفاپرست ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں ، نوجوانوں بالخصوص Millennials طلباوطالبات سے امید ہے کہ وہ اپنے نظریاتی بھائی اورباپ کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے ، 1993ء کی طرح آئندہ الیکشن کا بھی مکمل بائیکاٹ کریں گے، 25، جولائی کو اپنے گھروں میں اس طرح رہیں گے کہ سندھ کے پولنگ اسٹیشنوں میں قبرستان کا سناٹا چھاجائے گا اور شہیدوں کے لہوسے غداری کرنے والے ضمیرفروشوں کو اپنے علاقوں میں نہیں آنے دیں گے ۔جناب الطاف حسین نے حیدرآباد کے وفاپرست عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ قوم کے غداروں نے مہاجروں کے مینڈیٹ کا سودا کیااورسندھ اسمبلی میں اپنے نظریاتی باپ الطاف حسین کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت سزائے موت کا مطالبہ کیا ، اب الیکشن کے موقع پر یہ ایک مرتبہ پھر آپ کی گلیوں میں ووٹوں کی بھیک مانگنے آئیں توآپ ان قوم فروشوں کواپنی گلیوں میں قدم نہ رکھنے دیں اور مہاجرقوم اورشہیدوں کی قربانیوں کا سوداکرنے والے غداران قوم کا سوشل بائیکاٹ کریں ۔انہوں نے کہاکہ میں اورمیرے وفاپرست ساتھی شدیدترین مالی مشکلات کے باوجود شہیدوں ، اسیروں اورلاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کی بھرپورمدد کررہے ہیں اور جب تک ہماری زندگی ہے ہم ان کی مددکرتے رہیں گے ۔

*****

10/17/2018 5:20:04 PM