Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی اورحیدرآباد میں منظم سازش کے تحت آئی ایس آئی کی سرپرستی میں فسادات کرائے گئے،الطاف حسین


کراچی اورحیدرآباد میں منظم سازش کے تحت آئی ایس آئی کی سرپرستی میں فسادات کرائے گئے،الطاف حسین
 Posted on: 6/10/2018
کراچی اورحیدرآباد میں منظم سازش کے تحت آئی ایس آئی کی سرپرستی میں فسادات کرائے گئے،الطاف حسین
ان فسادات میں مہاجروں کاقتل عام کیاگیالیکن اب تک کسی ایک بھی واقعہ کے ذمہ داروں کوسزانہیں دی گئی
اینکرپرسن اور تجزیہ نگارایم کیوایم پرتوبہتان تراشیاں کرتے ہیں لیکن مہاجروں پر مظالم اورسانحات کا تذکرہ نہیں کرتے
قائدتحریک الطاف حسین کا ہفتہ کوکارکنوں اورہمدردوں سے تفصیلی اوراہم خطاب 
1986ء کے سانحہ علی گڑھ، سانحہ حیدرآباد، پکاقلعہ آپریشن ، مہاجربستیوں پر حملو ں اور قتل عام کے واقعات کی تفصیلات بیان کیں

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ کراچی اورحیدرآباد میں ایک منظم سازشی منصوبے کے تحت آئی ایس آئی کی سرپرستی میں لسانی فسادات کرائے جاتے رہے ہیں ،ان فسادات میں مہاجروں کاقتل عام کیاگیالیکن اب تک کسی ایک بھی واقعہ کے ذمہ داروں کوسزانہیں دی گئی۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار ہفتہ کوکارکنوں اورہمدردوں سے اپنے ایک تفصیلی اوراہم خطاب میں کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے 1986ء کے سانحہ علی گڑھ، سانحہ حیدرآباد، پکاقلعہ آپریشن ، دیگرمہاجربستیوں پر حملو ں اور مختلف ادوارمیں مہاجروں کے قتل عام کے واقعات کی تفصیلات بیان کیں۔ جناب الطاف حسین نے تاریخی حوالے بیان کرتے ہوئے کہاکہ مجھے 31، اکتوبراور یکم نومبر1986ء کی درمیانی شب حیدرآبادسے کراچی آتے ہوئے گھگھرپھاٹک پردوسری مرتبہ گرفتارکیاگیا تھاکیونکہ میں سانحہ سہراب گوٹھ 31 ، اکتوبر1986ء کے بعد کراچی اورحیدرآباد میں لسانی فسادات کی سازش کو ناکام بناناچاہتا تھالیکن مجھے گرفتارکرکے جیل میں قید کردیا گیا ،میں نے جیل سے اے این پی کے رہنماء خان عبدالولی خان کو خط لکھاجس کی گواہی اسفندیارولی دے سکتے ہیں، ہماری مشترکہ کوششوں سے پٹھان مہاجر فسادات کی سازش ناکام ہوئی لیکن مظلوم عوام کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری رہا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آئی ایس آئی کی تیارکردہ سازش کے تحت 12، دسمبر1986ء کو فوج کی جانب سے سہراب گوٹھ میں منشیات فروشوں کے خلاف نام نہاد آپریشن کیاجاتاہے اور یہ پروپیگنڈہ کیاجاتا ہے کہ یہ آپریشن ایم کیوایم کے مطالبے پر کیاجارہا ہے ، اس آپریشن کے دوران فوج کوسہراب گوٹھ سے اسلحہ اور منشیات کچھ نہیں ملا پھر اس کا بدلہ لینے کے نام پرڈرگ مافیا کے مسلح دہشت گردوں کے ذریعے قصبہ کالونی اورعلیگڑھ کالونی پرحملہ کرایاگیا۔یہ حملہ پہاڑیوں پرقائم پختون آباد یوں سے کیا گیا،حملہ کے دوران خواتین کی عصمت دری کی ، گھروں کو نذرآتش کیا اور معصوم بچوں سمیت سینکڑوں مہاجروں کو شہید وزخمی کردیا۔ اس حملہ کے بعد آئی ایس آئی نے یہ پروپیگنڈہ کیاکہ مہاجروں پر پٹھانوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں کراچی میں ہنگامے پھوٹ پھڑے اورلوگوں نے اشتعال میں گاڑیوں کو نذرآتش کیا۔اسی طرح 1987ء میں ناظم آبادکے علاقے جلال آباد، ڈرگ کالونی ، ملیر، شاہ فیصل کالونی ،گرین ٹاؤن ، گولڈن ٹاؤن، ماڈل کالونی، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی ، نارتھ کراچی اورشہرکی دیگرمہاجربستیوں پر بھی منشیات فروشوں کے ذریعہ مسلح حملے کرائے گئے جن میں درجنوں مہاجروں کوشہیدوزخمی کیا گیا اورگھروں کوآگ لگادی گئی تاکہ مہاجرپٹھان فسادات کی آگ بھڑکائی جاسکے ۔ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن کو جھٹلایا نہیں

جاسکتا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جب پختونوں نے مہاجرپٹھان فسادات کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے آپس میں امن کمیٹیاں قائم کیں اور لسانی فسادات کے خاتمے کیلئے عملی جدوجہد کا آغاز کردیا تو آئی ایس آئی نے کراچی کا امن تباہ کرنے کیلئے پنجابی پختون اتحاد (پی پی آئی) بناکر مہاجربستیوں پرحملے کرانے شروع کردیئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس طرح کراچی اورحیدرآبادمیں ’’لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کی تحت‘‘ لسانی فسادات کرائے گئے جبکہ حقیقتاً مہاجروں اور پختونوں کا آپس میں کوئی جھگڑانہ کل تھا اورنہ ہی آج ہے ۔ پختون اورمہاجرنہ ایک دوسرے کے دشمن تھے ، نہ ہیں اوران شاء اللہ نہ کبھی ہوں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سازشی عناصریہ بھی پروپیگنڈہ کررہے ہیں کہ مہاجروں نے سندھ میں علیحدہ صوبہ بنایاتو پختونوں کااقامہ یا ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن بات ہے ۔سندھ کے شہری علاقوں پرمشتمل علیحدہ صوبہ قائم ہواتواس صوبہ میں رہنے والے پختون، سندھی، بلوچ، پنجابی، سرائیکی ،کشمیری، ہزاروال اوردیگر قومیتوں کے لوگوں کو بھی مہاجروں کی طرح برابری کی بنیاد پرحقوق میسرہوں گے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسی طرح 30 ستمبر1988ء کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام کیاگیا، 10گاڑیوں میں سوارجدید اسلحہ سے لیس جرائم پیشہ عناصر نے آدھے گھنٹے تک حیدرآباداورلطیف آبادمیں بے گناہ مہاجروں پر اندھادھند گولیاں برسائیں اور تین سو سے زائد مہاجروں کو سفاکی سے قتل کردیا۔ بے نظیربھٹو کی حکومت کے دور میں سانحہ پکاقلعہ حیدرآبادرونما ہوا۔ 26/27 مئی1990ء کو جب شہرمیں کرفیونافذ تھا اور جگہ جگہ چوکیاں قائم تھیں ،اس وقت اندرون سندھ کی جیلوں سے ڈاکوؤں کو شہرمیں لاکرانہیں پولیس کی وردیاں پہنائی گئیں ، پکاقلعہ کا محاصرہ کرکے لوٹ مار اورقتل وغارتگری کرائی گئی ۔ جب مہاجرخواتین ہاتھوں اورسروں پر قرآن مجید اٹھاکر ریاستی مظالم بند کرنے کی دہائیاں دینے کیلئے باہرنکلیں تو سفاک اہلکاروں نے ان پرگولیاں برسائیں اور سینکڑوں خواتین شہید وزخمی ہوئیں۔
جناب الطاف حسین نے کراچی میں منظم منصوبہ بندی کے تحت کرائے جانے والے مہاجروں کے قتل کے ایک اورواقعہ کاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ 1990ء میں، میں اپنے آپریشن کے سلسلے میں لندن گیاتھا، 22، اگست1990ء کو جب میں لندن سے وطن واپس لوٹ رہا تھا تو کراچی میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے ، ایک موجودہ اینکرپرسن جواس وقت پیپلزپارٹی کی طلبا تنظیم کاسرگرم رکن تھا اس کی سربراہیں میں پیپلزپارٹی کے دہشت گردوں نے ایم کیوایم کے استقبالیہ کیمپوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 30 سے زائد کارکنان شہید اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تمام تر فسادات اورقتل وغارتگری اورمظالم کے باوجود ایم کیوایم کو ختم نہیں کیاجاسکا اور ایم کیوایم کی عوامی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتارہا تو آئی ایس آئی نے ایم کیوایم کو اندر سے نقصان پہنچانے کی سازش تیارکی اور ایم کیوایم کی صفوں سے لوگوں کوخریدا، ان جرائم پیشہ عناصر کو اسلحہ، تربیت اورپیسہ فراہم کیا ۔ 19، جون 1992ء کوان حقیقی دہشت گردوں کو فوجی ٹرکوں میں بٹھاکر کراچی لایاگیا اورایم کیوایم کے کارکنوں کے قتل اوردفاترپرقبضوں کا کھلا لائسنس دیا گیا۔ جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں نے ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو گولیاں مارکرشہید کردیا ۔حقیقی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ بدنام زمانہ پولیس افسران نے بھی ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کیا اور سینکڑوں کارکنان لاپتہ کردیئے۔ ۔جناب الطاف حسین نے نوجوان طلباوطالبات بالخصوص Millennials کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اندازہ لگائیں کہ کس کس طرح بانیان پاکستان کی اولادوں پر مظالم ڈھائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ27، دسمبر2007ء کو بے نظیربھٹو کوراولپنڈی میں قتل کردیاجاتا ہے لیکن بے نظیرکے قتل کابدلہ لینے کیلئے پیپلزپارٹی کے مسلح جیالے کراچی اورحیدرآبادمیں حملہ آور ہوتے ہیں، 27 سے لیکر29دسمبرتک تینوں دن کراچی ، حیدرآباداور سندھ کے دیگرشہروں میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی، مہاجروں کی املاک، فیکٹریاں، گاڑیاں اور ایم کیوایم کے دفاترنذرآتش کیے گئے ، فیکٹریوں اورملوں کو لوٹ کرنذرآتش کیاگیا،سینکڑوں افراد کو فیکٹریوں میں زندہ جلادیاگیا، فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی بے حرمتی کی گئی، تین دنوں میں 1200 گاڑیاں نذرآتش کی گئیں جبکہ ہزاروں گاڑیوں کو نقصان 

پہنچایاگیا،پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے اوربعض کو گرفتاربھی کیاگیا لیکن جب قائم علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے نہ صرف گرفتارشدگان کو رہاکرایابلکہ تمام مقدمات بھی ختم کرادیئے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ نسل پرست پنجابی اینکرپرسنز اور تجزیہ نگارہمیشہ سانحہ 12 ، مئی اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا تذکرہ کرتے ہیں اوران المناک واقعات میں ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی گھناؤنی کوشش کرتے ہیں ، ایم کیوایم کو بدنام کرنے کیلئے اسکے خلاف بہتان تراشیاں کرتے رہتے ہیں اورمہاجروں کے خلاف خوب بکواس کرتے ہیں لیکن کسی بھی اینکرپرسن یا سیاسی ودفاعی تجزیہ نگارکی جانب سے مہاجروں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم اورسانحات کا تذکرہ نہیں کیاجاتا۔گزشتہ روز ہی ایک متعصب اینکرپرسن نے کہاکہ کراچی
میں آپریشن میں حصہ لینے والے 250 پولیس افسران کے قتل کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس اینکرپرسن کی جانب سے بھی 27 دسمبر2007ء کو بے نظیربھٹو کے قتل کے بعد درجنوں فیکٹریوں کو نذرآتش کرکے محنت کشوں کو زندہ جلادیاگیا اس ظلم کا تذکرہ کبھی نہیں کیاجاتا۔ انہوں نے کہاکہ جواینکرز فوج کے ایجنٹ ہیں وہ سیاہ کوسفید کہتے ہیں اورجو سچ کہتے ہیں ان اینکرز، صحافیوں، بلاگرزکوملک چھوڑنے پرمجبورکردیاگیا، میں ایسے حق پرستوں کوسلام پیش کرتاہوں۔ 

*****

10/16/2018 2:17:07 PM