Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سانحہ پکاقلعہ ملک کی تاریخ کابدترین سانحہ تھا، مہاجروں کاقتل عام کسی کونظرنہیں آتا۔الطاف حسین


سانحہ پکاقلعہ ملک کی تاریخ کابدترین سانحہ تھا، مہاجروں کاقتل عام کسی کونظرنہیں آتا۔الطاف حسین
 Posted on: 5/27/2018

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پاکستان میں مہاجروں کے قتل عام کے واقعات کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنائیں۔الطاف حسین

مہاجروں کے قتل عام میں ملوث عناصر کوبین الاقوامی قوانین کے مطابق عبرتناک سزادی جائے ۔الطاف حسین
سانحہ پکاقلعہ ملک کی تاریخ کابدترین سانحہ تھا، مہاجروں کاقتل عام کسی کونظرنہیں آتا۔الطاف حسین
مہاجروں پر لعنت بھیجنے والوں پر لعنت بھیجتاہوں، ہمیں طعنے دینے والوں نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا۔الطاف حسین
ہم نے پاکستان بناکران لوگوں کوآزادی دلائی جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں خون کاایک قطرہ تک نہیں بہایا۔الطاف حسین
پاکستان ہمارے بزرگوں نے بنایاہے ، اس پر سب سے زیادہ ہماراحق ہے لیکن ہم ہی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔الطاف حسین
مہاجروں کوعلیحدہ صوبہ کی شکل میں انہیں ان کاحق دیاجائے، اب مہاجر بھی علیحدہ صوبہ چاہتے ہیں۔ الطا ف حسین
جنرل اسد درانی نے را کے سابق سربراہ کے ساتھ ملکر کتاب لکھی ،حساس معلومات بیان کیں لیکن غدارہمیں کہاجاتاہے ۔ الطاف حسین
شہیدوں کے لہو کاسوداکرنے والوں پرلعنت بھیجتاہوں جو تحریک کودفن کرنے کی باتیں کررہے ہیں اوردشمنوں سے ملے ہوئے ہیں
اپنی قوم کی بقا اور باعزت زندگی کیلئے اتحاد کامظاہرہ کریں ،ایم کیوایم یوکے ایسٹ لندن چیپٹر کے زیراہتمام افطارڈنر کے موقع پر خطاب

لندن ۔۔۔ 27 مئی 2018ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے 26 اور27 مئی 1990ء کوسانحہ پکاقلعہ کوملک کی تاریخ کابدترین سانحہ قراردیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ 1947ء سے اب تک پاکستان میں مہاجروں کے قتل عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنائیں اوران میں ملوث عناصر کوبین الاقوامی قوانین کے مطابق عبرتناک سزادی جائے ۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کی شب ایم کیوایم یوکے ایسٹ لندن چیپٹر کے زیراہتمام افطارڈنر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کے بعدسے مہاجروں کے ساتھ ہردورمیں ناانصافیاں کی گئی ہیں، مہاجروں نے قیام پاکستان کے لئے قربانیاں دیں، ملک کے ابتدائی ڈھانچے کوکھڑاکیا، لیکن بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوسلوپوائز ن دیاگیا،قائداعظم کوئٹہ کے علاقے زیارت میں مقیم تھے، طبیعت بگڑنے پر انہیں کراچی لایاجارہاتھالیکن ایک ساز ش کے تحت ان کے لئے خراب ایمبولینس بھیجی گئی جوراستے میں بندہوگئی اورقائداعظم راستے ہی میں دم توڑگئے، پھرقائداعظم کے دست راست ،ملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کوراولپنڈی میں بھرے جلسے میں گولی مارکرشہید کردیاگیا، جس کے بعد تحریک پاکستان کے تمام رہنماؤں کوایک ایک کرکے نکال دیاگیا اورپھرفوج نے ملک پر قبضہ کرلیا، جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے آوازاٹھائی توجنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح پرغداراورانڈین ایجنٹ ہونے کاانتہائی شرمناک بہتان لگایا، فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب میں حصہ لیاتو دھاندلی کرکے انہیں ہرادیاگیااورپھرانہیں بھی گھرمیں قتل کردیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1950ء میں خان لیاقت علی خان اورانڈیاکے وزیراعظم پنڈت نہروکے درمیان تاریخی معاہدہ ہواجسے ’’ لیاقت نہرو پیکٹ ‘‘ کانام دیاگیا، اس پیکٹ کے تحت پاکستان سے انڈیاواپس جانے والے ہندو جو مکانات اورجائیدادیں چھوڑکرجائیں گے وہ انڈیا سے پاکستان ہجرت کرکے آنے والوں کودی جائیں گی لیکن ہجرت کرکے سندھ آنے والے مہاجروں کو متروکہ املاک نہیں دی گئیں بلکہ انہیں خیموں میں رہناپڑا۔آج قوم پرست عناصرکی جانب سے کہاجاتاہے کہ ہم نے مہاجروں کوسندھ میں بساکربہت بڑا احسان کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں طعنے دینے والوں نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیابلکہ انہیں ہمارااحسان مندہوناچاہیے کیونکہ ہمارے آباؤاجداد نے 20لاکھ جانیں قربان کرکے سندھ، پنجاب، سرحد،بلوچستان اورموجودہ پاکستان کے دیگرعلاقوں کے لوگوں کوسلطنت برطانیہ کی غلامی سے انہیں آزادکرایا۔ انہوں نے سوال کیاکہ اگرپاکستان نہیں بنتاتوکیاسندھی، پنجابی، بلوچ، پختون، گلگتی، بلتستانی،سرائیکی اوردیگرلوگ آزادہوتے؟ انہوں نے ہم پر احسان کیا یاہم نے ان پراحسان کیا؟ ہم نے پاکستان بناکران لوگوں کوآزادی دلائی جنہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں خون کاایک قطرہ تک نہیں بہایا۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے اپنے ہردورمیں مہاجروں پرظلم کیا، ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیں اردوزبان کے خلاف لسانی بل سندھ اسمبلی میں پیش کیاگیاجس پر ملک کے ممتاز شاعررئیس امروہوی کویہ کہناپڑا ’’ اردو کاجنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے ‘‘ ، اردوبولنے والوں نے اس پراحتجاج کیا تو لیاقت آباد میں ان پر گولیاں چلائی گئی اورکئی مہاجروں کوشہیدکردیاگیاجن کی قبریں لیاقت آباد کی مسجدشہداء میں آج بھی موجود ہیں۔بعد میں رئیس امروہوی کوبھی قتل کردیاگیا، اندرون سندھ مہاجروں کاقتل عام کیاگیا، ان کی املاک پرحملے کئے گئے اورانہیں نقل مکانی پرمجبورکردیاگیا۔ بھٹوکے دورمیں سندھ میں دیہی اور شہری کوٹہ سسٹم نافذ کرکے مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیم کے دروازے بندکردیے گئے ۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ مہاجروں کیساتھ کی جانے والی ان ناانصافیوں کے خلاف میں نے 11جون 1978ء کوآل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن بنائی توگن پوائنٹ پرہمیں تعلیمی اداروں سے نکال دیاگیا۔ہم نے مہاجروں کے حقوق کیلئے 18مارچ 1984ء کوایم کیوایم بناکر گلیوں محلوں میں جدوجہد شروع کی تومہاجروں کے قتل عام کا سلسلہ تیز کردیاگیا۔ 31اکتوبر1986ء کوسہراب گوٹھ اورمارکیٹ چوک حیدرآبادپر ایم کیوایم کے جلوسوں پر حملے کرکے بے گناہ مہاجروں کاقتل کیاگیا۔ قاتلوں کوگرفتارکرنے کے بجائے مجھے اورمیرے ہزاروں ساتھیوں کوگرفتارکرلیاگیا۔
14دسمبر1986ء کوعلی گڑھ کالونی اورقصبہ کالونی پر حملہ کرکے چھ گھنٹوں تک مہاجروں کاقتل عام کیاگیا، نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عورتوں بچوں تک کوذبح کیا گیا، گھروں کولوٹ کرآگ لگادی گئی اورلوگوں کوان جلتے ہوئے مکانات میں ڈال کرجلادیاگیا۔ یہ تاریخ کابدترین سانحہ تھاجس میں200سے زائدمعصوم وبے گناہ مہاجروں کوبیدردی سے شہیدکردیاگیالیکن کسی کو سزا نہیں دی گئی،
30ستمبر1988ء کوسرکاری ایجنسیوں نے جیلوں سے جرائم پیشہ قوم پرست عناصرکونکالااورانہیں اسلحہ اورگاڑیاں دے کران سے حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام کرایاگیا، کئی گاڑیوں میں سواران درندہ صفت دہشت گردوں نے حیدرآبادکے مختلف علاقوں میں داخل ہوکردکانداروں، راہ چلتے معصوم نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اوربچوں پر اندھادھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں تقریباً 300 مہاجرشہیدہو گئے ، حیدرآبادکوخون میں نہلادیاگیا لیکن کسی قاتل کو سزا نہیں دی گئی ۔ یہ قتل عام سرکاری ایجنسیوں کی سازش کا حصہ تھاکیونکہ جب یہ قتل عام ہوااس وقت حیدرآبادمیں فوج ، رینجرزاورپولیس کی چوکیاں تھیں لیکن حملے کے وقت ان تمام چوکیوں سے فورسز کوہٹالیاگیاتھا اور کوئی مہاجروں کوبچانے اورحملہ آوروں کوپکڑنے نہیں آیا۔ 
26مئی 1990ء کو بینظیر بھٹوکی حکومت کے دورمیں ایک بارپھرمہاجروں کوسبق سکھانے اوران کاقتل عام کرنے کیلئے حیدرآبادمیں سانحہ عظیم برپا کیا گیا ، پیپلزپارٹی کی حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکرسازش تیارکی، پکاقلعہ میں آپریشن کرنے کے نام پرلاڑکانہ،دادو اور اندرون سندھ کے دیگرعلاقوں سے پولیس حیدرآبادلائی گئی ، اس کے ساتھ ساتھ جیلوں سے ڈاکوؤں کونکال کرانہیں پولیس کی وردیاں پہناکرلایاگیا ، پکاقلعہ کامحاصرہ کیاگیا،گھروں اور دکانوں کو لوٹاگیااورفائرنگ کرکے کئی بے گناہ مہاجرنوجوانوں اوربزرگوں کوشہیدکردیاگیا، اس آپریشن کے دوران علاقے کی پانی، بجلی اورگیس کی سپلائی بند کردی گئی ۔ دودن تک جاری رہنے والے محاصرے پر جب پکاقلعہ کی مہاجرمائیں بہنیں اپنے سروں پر قرآن مجید رکھ کرباہرنکلیں اورانہوں نے پولیس کو قرآن کاواسطہ دے کرمحاصرہ ختم کرنے کی دہائیاں دیں لیکن ان کے سروں اورسینوں کے نشانے لے کر ان پر بھی بیدریغ گولیاں چلائیں گئیں جس کے نتیجے میں درجنوں مائیں بہنیں شہیدہوگئیں، ان کے جنازے تک دفنانے کیلئے قبرستان لیجانے نہیں دیے گئے جس کی وجہ سے ان شہداکوپکاقلعہ کے احاطے میں ہی سپردخاک کرنا پڑا۔26 اور27 مئی 1990ء کودوروزتک مہاجروں کایہ قتل عام اورظلم وبربریت کاسلسلہ جاری رہالیکن اس کھلے ظلم پرکسی کوکوئی سزانہیں دی گئی ۔ 
جناب الطاف حسین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی کہ پاکستان میں 1947ء سے اب تک مہاجروں کے قتل عام کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنائیں اوران میں ملوث عناصر کوبین الاقوامی قوانین کے مطابق عبرتناک سزادی جائے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیاجوحکومتوں کی تبدیلی کے باوجود 10سال تک جاری رہا۔ اس دوران ہزاروں مہاجرنوجوانوں کوفوج اورپولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلوں کے نام پر بیدردی سے شہیدکردیاگیا۔ سینکڑوں لاپتہ کردیے گئے ۔ 2013ء سے ایک مرتبہ پھرمہاجروں کے خلاف ریاستی آپریشن شروع کردیاگیا، سوسے زائد مہاجرنوجوانوں کوماورائے عدالت قتل کردیاگیا، ہزاروں کو گرفتار کیا گیا، ہزاروں آج بھی سندھ کی مختلف جیلوں میں جھوٹے مقدمات میں قیدہیں جبکہ سینکڑوں آج بھی لاپتہ ہیں۔اس دوران ایم کیوایم کے بزرگ رہنمااورملک کے ممتازپروفیسرڈاکٹرحسن ظفرعارف کوبھی سرکاری ایجنسیوں نے گرفتارکرکے تشددکانشانہ بنانے کے بعد بیدردی سے شہیدکردیا اوران کی لاش کوابراہیم حیدری کے علاقے میں لے جاکرپھینک دی ۔انہوں نے کہاکہ جس روز کراچی میں نقیب اللہ محسودکو ماورائے عدالت قتل کیاگیااسی روز ڈاکٹر حسن ظفر عارف کوبھی ماورائے عدالت قتل کیاگیالیکن چیف جسٹس سپریم کورٹ نے نقیب اللہ محسود کے قتل پر توسوموٹو لیالیکن ڈاکٹرحسن ظفر عارف کے قتل پر کوئی نوٹس نہیں لیا، کیایہ انصاف ہے ؟ کیااس ملک اس طرح چلاکرتے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ حضرت علیؓ کاقول ہے کہ حکومتیں کفر سے قائم رہ سکتی ہیں لیکن ظلم سے قائم نہیں رہ سکتیں، جس ملک میں انصاف نہ ہو وہ ملک قائم نہیں رہتے، ہماراملک پہلے ہی ٹوٹ چکاہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ میں علیحدہ صوبہ کی بات کی گئی ہے تووزیراعلیٰ سندھ مہاجروں پر لعنت بھیج رہے ہیں ،پیپلزپارٹی کاایک اوررہنما کہتا ہے کہ لفظ مہاجرایک گالی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں پر لعنت بھیجنے والوں پر لعنت ہو۔مہاجروں پرظلم ڈھانے والے ذوالفقارعلی بھٹو پرلعنت ہو۔ انہوں نے حاظرین سے سوال کیاکہ کیالفظ مہاجرگالی ہے ؟ مہاجر کالفظ توقرآن مجیدمیں ہے، مہاجرتوتاجدارمدینہ حضوراکرم ﷺ بھی تھے ، پھرکیسے لفظ مہاجر کو گالی قراردیاجاسکتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ مہاجروں سے تعصب رکھنے والے کہتے ہیں کہ خودکومہاجرکہنے والوں کوواپس جاناہوگا، انہوں نے واپس وہ جاتا ہے جوپناہ گزین ہوتاہے ، ہم مہاجرہیں اورجوکہیں ہجرت کرجاتے ہیں وہ واپس نہیں جاتے ۔انہوں نے کہاکہ مہاجروں پر آج بھی کوٹہ سسٹم کے تحت سرکاری ملازمتوں کے دروازے بندہیں، ہمیں ہمارے حقوق دینے کے بجائے ہماراقتل عام کیاجاتاہے ، ہمیں ریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاہے ، ہمیں غداراورملک دشمن قراردیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ میراجرم یہ ہے کہ میں نے سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں اپناسودانہیں کیا، میرے پاس بریف کیس اورصندوق بھر بھر کر پیسے لائے گئے لیکن میں نے انکارکردیا، مجھے گرفتارکرکے تشددکانشانہ بنایاگیالیکن میں نے جھکنے سے انکارکردیااورآج تک مہاجروں کے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہدکررہاہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ حال ہی میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے انڈیاکی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کے ساتھ ملکر ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے بہت سارے اہم واقعات اورحساس معلومات بیان کی ہیں اوراس بات کابھی انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کواسامہ بن لادن کے پاکستان میں ہونے کی اطلاع فوج کے ایک کرنل نے دی اوراس کے عوض کئی ملین ڈالر حاصل کئے ۔ انہوں نے کہاکہ ان انکشافات کے بعد بھی غدارہمیں کہاجاتاہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان ہمارے بزرگوں نے بنایاہے ، اس پر سب سے زیادہ ہماراحق ہے لیکن ہم ہی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ مہاجروں کوعلیحدہ صوبہ کی شکل میں انہیں ان کاحق دیاجائے، اب مہاجر بھی علیحدہ صوبہ چاہتے ہیں۔ جناب الطا ف حسین کی بات کی تمام حاظرین نے ہاتھ اٹھاکرتائیدکی ۔انہوں نے حاظرین سمیت تمام مہاجروں سے بھی کہاکہ وہ دوسروں سے سبق حاصل کریں اوراپنی قوم کی بقا اوراس کی باعزت زندگی کیلئے اتحاد کامظاہرہ کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں تحریک کے شہیدوں کے لہو کاسوداکرنے والوں اورقوم کی پیٹھ میں چھراگھونپنے والوں پرلعنت بھیجتاہوں جوآج تحریک کودفن کرنے کی باتیں کررہے ہیں اوردشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے سانحہ پکاقلعہ کے شہدا کوخراج عقیدت پیش کیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ ان شہیدوں کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ مہاجروں کوبھی باعزت زندگی اوران کے حقوق دلادے ۔ 
*****























6/19/2018 7:15:17 PM